Al-Risala · January 1999

سوال و جواب

Al-Risala, January 1999, pp. 33–43

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ اسلام دور جدید کا خالق ہے۔ انگریزی میں بھی اس نام سے چھپ چکی ہے ۔ Islam creator of the modern age لیکن میں نے مریم جمیلہ صاحبہ کا ایک تبصرہ پڑھا جس میں وہ لکھتی ہیں کہ اسلام دور جدید کا خالق نہیں ہے بلکہ اسلام دور جدید کا انتخاب ہے :

Islam is not the creator of modern age, but the option of modern age یہ بات انھوں نے اپنی کتاب Islam and the west میں لکھی ہے۔ اس کے جواب میں کیا کہتے ہیں (ابرار آئی رفعت، سورت)

یہ بات درست ہے کہ اسلام دور جدید کا انتخاب (choice) ہے۔ سائنٹفک مذہب چاہتا ہے، اور ایسا مذہب صرف اسلام ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی بلاشبہ درست ہے کہ اسلام جدید سائنسی دور کا خالق ہے۔ مریم جمیلہ صاحبہ کو اس معاملہ میں غلط فہمی شاید اس لئے ہوئی کہ انھوں نے یہ سمجھ لیا کہ میں ڈائرکٹ معنوں میں یہ بات کہتا یعنی ڈائرکٹ طور پر اسلام دور جدید کا خالق ہے۔ مثلاً یہ کہ کار اور ہوائی جہاز کی ٹکنلا لو جی قرآن نے دی ہے۔ مگر یہ میرا کہنا نہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ اسلام دور جدید کا خالق ہے تو میں اس کو بالواسطہ مفہوم (indirect sense) میں کہتا ہوں۔ اسلام کا مقصد اصلاً شرک کو ختم کرنا اور توحید کو قائم کرنا تھا۔ مگر مشرکانہ ذہن کا خاتمہ جدید سائنس کے آغاز کا سبب بن گیا۔ جیسا کہ میں نے اپنی کتاب (اسلام دور جدید کا خالق) میں دکھایا ہے کہ

قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں مشرکانہ عقائد کا غلبہ تھا۔ اس مشرکانہ عقیدہ نے نیچر ور شپ پیدا کی اور نیچر ور شپ نیچر کی تحقیق میں رکاوٹ بن گئی۔ اسلامی انقلاب کے ذریعہ اس ذہنی رکاوٹ (mental block) کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے نتیجہ میں تاریخ میں نیچر کی آزادانہ تحقیق کا عمل شروع ہوا جو بالآخر جدید سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ مسلمانوں کا یہ دعوی ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ جس کی کئی دلیلیں پیش کی جاتی ان میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے قرآن نے جن چیزوں کے بارے میں مجمل اشارے کئے تھے وہ تمام اشارات حالیہ سائنسی انکشافات کے نتیجہ میں صحیح ثابت گویا کہ ثابت شدہ سائنس اور قرآن کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔ دوسری طرف دیگر مذاہب سے متعلق قومیں (یہود ونصاری) بھی اپنی اپنی مقدس کتابوں کے بارے میں یہی دعویٰ کرتی ہیں۔ اور یہ قومیں بھی اپنی کتابوں کے حق میں سائنسی تصدیقات موجود ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا قرآن کے دعوے میں ایسی کوئی وجہ امتیاز ہے جو اس کو دوسرے دعاوی سے الگ کرتی ہو (ابرار رفعت،

قدیم آسمانی کتابوں میں اگرچہ تحریف ہوئی ہے اور ان میں انسانی کلام شامل ہو گیا تاہم ان میں اب بھی ایسے کچھ اجز موجود ہیں جو خدائی الہام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اجزائیں ایسی باتیں ہیں جو بعد کو دریافت ہونے والی سائنسی حقیقتوں سے مطابقت رکھتی مگر اسی کے ساتھ ان میں انسانی کلام کا جو حصہ ملا ہوا ہے اس کا معاملہ اس سے مختلف

اس دوسرے جز میں واضح طور پر ایسی مثالیں موجود ہیں جن کی تصدیق سائنسی دریافتوں سے نہیں ہوتی۔ اس طرح دوسری مقدس کتابوں میں دونوں قسم کے اجزا پائے جاتے ہیں، مطابق بھی اور غیر مطابق بھی۔ مگر قرآن کی صفت یہ ہے کہ وہ پورا کا پورا محفوظ الہام کی حیثیت رکھتا ہے، وہ انسانی ملاوٹ سے مکمل طور پر پاک ہے اس لئے قرآن پورا کا پورا سائنسی حقیقتوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ جو چیز دوسری مقدس کتابوں میں صرف جزئی طور پر پائی جاتی ہے وہ قرآن میں کلی طور پر موجود ہے یہی اس معاملہ میں قرآن کا امتیازی وصف اس معاملہ کی تفصیلی مثالیں راقم الحروف کی کتابوں (مثلاً عظمت قرآن وغیرہ) میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

آج کل ہمارے یہاں یہ ذکر زوروں پر ہے کہ آپ نے وندے ماترم کہنا مسلمانوں کے لئے جائز کر دیا ہے۔ اگر یہ جائز ہو تو اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کو ہندوؤں کے بہت قریب لادے گا۔ دشمنی ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔ لیکن اگر مسلمان زمین کی وندنا کر سکتا ہے تو پھر ہمالہ، گنگا، سرسوتي، گائے وغیرہ کی وندنا کیوں نہیں کر سکتا۔ اور اگر کر سکتا ہے تو پھر شرک کیا ہے (شاکر وارث۔

وندے ماترم کی شرعی نوعیت کے بارے میں میری رائے وہی ہے جو دوسرے علماء کی رائے ہے۔ اس معاملہ میں جو غلط فہمی پیدا ہوئی اس کی ذمہ داری اردو کی زرد صحافت پر اس موضوع پر میرے آرٹیکل کا عنوان یہ تھا۔ وندے ماترم: اشویانان اشو۔ اخبار والوں نے اس کو بدل کر "وندے ماترم، جائز یا نا جائز" بنا دیا۔ اس بدلے ہوئے عنوان

کی بنا پر لوگوں نے یہ سمجھا کہ میں وندے ماترم کو جائز بتا رہا ہوں۔ حالانکہ اصولی اعتبار سے اس کے جائز ہونے کا کوئی سوال نہیں اور نہ میں نے کبھی ایسا کہا۔ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ اس معاملہ کو عوامی احتجاج کا اشو نہ بنایا جائے۔ کیونکہ اس طرح کے معاملات میں عوامی احتجاج صرف الثانیجہ پیدا کرتا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں وندے ماترم کو لازمی ٹھہرانا دستور کے خلاف ہے۔ مجھے اس سے اتفاق ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ دستوری نزاع کا فیصلہ جلسوں اور تقریروں کے اسٹیج پر نہیں ہوتا۔ اس کے فیصلہ کا مقام عدالت ہے۔ اس معاملہ میں ہمیں چاہئے کہ ہم ایک طرف متبادل اسکول قائم کریں اور دوسری طرف اپنی جد وجہد کے لئے عوامی مظاہرہ کے بجائے عدالتی طریقہ اختیار کریں۔ گویا کہ میرا اختلاف نفس مسئلہ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ طریق کار کے بارے میں ہے۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں کسی اقلیت کے لئے مظہراتی طریقہ ہمیشہ ناکام ہوگا۔ اور عدالتی طریقہ ہمیشہ کامیاب۔ مظاہراتی طریقہ میں فیصلہ کن چیز تعداد یہاں اقلیتی گروہ اپنی عددی کمی کی بنا پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس کے بر عکس عدالتی طریقہ میں سارا انحصار دلیل پر ہوتا ہے اس لئے جو گروہ حق پر ہو اس کی کامیابی یقینی بن جاتی ہے گویا کہ ایک صورت میں فیصلہ کی بنیاد ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے اور دوسری صورت میں فیصلہ کی بنیاد فریق ثانی کے ہاتھ میں۔ وندے ماترم ابھی تو لازم نہیں ہے۔ لیکن اگر اس کو لازم کیا جائے تو اس کو چیلنج کرنے کی صحیح جگہ عدالت ہے نہ کہ عوامی اسٹیج قرآن میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔ نماز پڑھنے کا نہیں تو موجودہ پڑھی جانے والی نماز کن احکامات کی روشنی میں پڑھی جارہی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز قائم کرنے کا مطلب نظم و نسق درست کرنا ہے اور یہ کہ سجدہ کا مطلب تعمیل حکم ہے یہ کہاں تک درست ہے (محمد بدر الدین شمیم، ناگپور)

صلّی کا مطلب نماز پڑھنا نہیں ہے بلکہ نماز ادا کرنا ہے۔ اسی طرح اقام کا مطلب نافذ کرنا نہیں ہے بلکہ حسن وخوبی کے ساتھ انجام دینا ہے۔ اس طرح اقام کا مطلب بھی وہی ہے جو صلّی کا مطلب ہے۔ البتہ اقام کے لفظ میں اہتمام کے ساتھ ادائیگی کا مفہوم شامل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر علمی اعتراض ہے۔ قرآن میں نماز کا حکم صرف اقام کے لفظ کے ساتھ نہیں آیا ہے بلکہ مختلف الفاظ کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً صلّی، حافظ، ان الفاظ کے لغوی معنی میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے۔ مگر سب کا مشترک مفہوم یہ ہے کہ نماز کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کیا جائے۔ قرآن میں اقام کے سوا جن الفاظ کے ساتھ نماز کا حکم آیا ہے ان میں سے کچھ کے حوالے یہ ہیں: القیامہ ۳۱، العلق ۱۰، الکوثر ۲، المعارج ۲۲، المدثر ۴۲، النساء ۱۰۲، البقره ۲۵، البقره ۱۵۳ البقره ۲۳۸ وغیرہ۔ بار بار نماز کا ذکر لفظ اقامت کے بغیر آیا ہے۔ تاہم صل کا مطلب بھی عین وہی ہے جو اقُم الصلاۃ کا ہے۔ اقامت کا لفظ دراصل برائے وضاحت ہے ۔ اسی طرح قرآن میں دوسرے وضاحتی الفاظ بھی آئے ہیں مثلاً محافظت یا خشوع وغیرہ۔ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو پوری پابندی کے ساتھ اور ظاہر و باطن کے اعتبار سے اس کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادا کیا جائے۔ نماز کو اس کے ظاہر اور اس کے باطن دونوں کے اعتبار سے انجام یہی مطلب ہے نماز کی اقامت کا۔ نماز ثابت شدہ طور پر ایک عبادتی فعل ہے۔ اسلام میں نظم و نسق اور احکام کی تعمیل بھی ہے۔ مگر ان چیزوں کا حکم دوسری آیات سے نکلتا ہے نہ کہ نماز کی آیات سے۔ قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ جن آیتوں میں اقامت کا لفظ آیا ہے وہاں بھی نماز قائم کرنے کا حکم ہے نہ کہ کچھ اور قائم کرنے کا۔ اس لئے ان آیتوں میں بھی

نماز ہی کی اقامت ، بالفاظ دیگر نماز کی کامل ادائیگی مراد ہوگی نہ کہ نماز کے سوا کسی اور خود ساختہ چیز کی اقامت یا ادائیگی۔

ہمارے علمی حلقہ کے ایک دوست کا اصرار ہے کہ آپ سے ایک سوال معلوم کیا وہ یہ کہ ان کے ایک دوست جو کبھی آپ کے بہت قریب رہا کرتے تھے۔ ان کا آپ کے بیت الخلا میں جانے کا اتفاق ہوا اور انھوں نے آپ کے بیت الخلا میں بخاری شریف کور کھا ہوادیکھا۔ ایسے مقام پر بخاری شریف کا پایا جانا ان کے لئے نفرت کا سبب بن اور وہ آپ سے دوری اختیار کر گئے۔ اور ہمارے علمی حلقہ میں سبھی اس تعلق سے وضاحت چاہتے ہیں کہ آیا یہ ایک حقیقت ہے یا پھر آپ کی دشمنی میں ایک غلط بات اڑا دی گئی ہے (محسن احمد، حیدر آباد)

یہ صحیح ہے کہ میرے مطالعہ کے کمرہ سے ملحق باتھ روم میں ایک الماری پر کچھ جلدیں رکھی ہوئی ہیں۔ مگر یہ جلدیں صحیح البخاری کی نہیں ہیں بلکہ وہ اخبار کی جلدیں ہیں۔ اور جدید طرز کے ایک صاف ستھرے باتھ روم کی ایک الماری میں کسی اخبار کی جلدیں رکھنے میں یقینی طور پر کوئی حرج نہیں۔ صحیح البخاری میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : آیا کم الظن فان الظن اکذب الحدیث) فتح الباری بشرح النووی ٤٩٦/١٠) یعنی تم لوگ گمان سے بچو کیوں کہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ آپ کے دوست نے خود صحیح البخاری کی اس روایت پر عمل نہیں کیا۔ انھیں چاہئے تھا کہ باتھ روم میں رکھی ہوئی جلد کو کھول کر دیکھتے یا مجھ سے اس کی بابت پوچھتے۔ ایسا نہ کر کے انھوں نے صرف گمان کی بنیاد پر

ایک بے بنیاد رائے قائم کی اور اس کو پھیلانا شروع کر دیا۔ یہ نہ صرف ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ہے بلکہ وہ حدیث کے الفاظ میں ایک قسم کا کذب ہے۔

الرساله اکتوبر ۹۸ صفحہ ۴۳ پر قولی دعوت و فعلی دعوت کے جواب میں آپ نے فعلی دعوت کی نفی کی ہے۔ جب کہ قرآن سے فعلی دعوت ثابت ہے ۔ مثال کے طور پر سورہ القلم کی یہ آیت انك لعلى خلق عظیم (محسن احمد، حیدر آباد)

الرساله کی عبارت آپ نے غور سے نہیں پڑھی ، ورنہ اس میں پوری بات موجود فعل بلاشبہ مطلوب ہے۔ مگر فعل یا کردار آدمی کی ذاتی ذمہ داری ہے نہ کہ دعوت کی آپ نے قرآن کی جس آیت کا حوالہ دیا ہے اس سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ مفسر ابن کثیر نے لکھا ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ تبلیغ کے لئے عمل شرط نہیں ہے۔ عمل بلاشبہ ایک شخص کی لازمی ذمہ داری ہے اور اس کے ترک پر اس سے یقیناً باز پرس مگر یہ کہنا صحیح نہیں کہ دعوت کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جو پورے معنوں میں باعمل بن چکا ہو (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر ۱/ ۸۵) دریائے سندھ کے اس پار جو لوگ بستے ہیں ان کو خود مسلم فاتحین نے ہندو کہا تھا۔ اس کے مطابق، ہمارا کہنا ہے کہ بھارت میں بسنے والے تمام لوگ ہندو ہیں۔ کے اعتبار سے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلمان ۔ پھر آپ لوگ اپنے آپ کو ہندو کہلانے کو کیوں برا مانتے ہیں (نشانت کمار، نئی دہلی)

ہندوستان یا بھارت اس وقت مسلم فاتحین کے زیر حکومت نہیں ہے۔ بعد یہاں کا سیاسی اور سماجی نظام دستور ہند کے تحت چل رہا ہے۔ اس دستور میں اس ملک کے تمام باشندوں کو انڈین بتایا گیا ہے۔ چنانچہ پاسپورٹ وغیرہ میں اس ملک کا ہر رہنے والا اپنے آپ کو انڈین لکھتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا کہ اس ملک کے تمام باشندوں کی نیشنلٹی ہندو ہے دستور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اگر کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کے تمام بسنے والوں کو ہندو کہا جائے تو ان کو سب سے پہلے دستور ہند میں ترمیم کر کے اس کی متعلقہ دفعات کو بدلنا چاہئے۔ موجودہ حالت میں اس قسم کا مطالبہ کرنا دستور ہند کے خلاف ہے، اس لئے کسی کو ایسا کہنے کا حق ہی نہیں۔

حال ہی میں ہوئے بہار شریف میں فرقہ وارانہ ہندو مسلم فسادات کی خاص وجہ یہ تھی کہ ہندو نے دُرگا کی مورتی کو لے کر مسلم محلہ میں آگئے اور اشتعال انگیز نعرہ لگانے کہ مسلمان ہندوستان کے غدار ہیں، مسلمان پاکستانی ایجنٹ ہیں، ان کو ہندوستان سے مار اس موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے تھا (شاہ فیصل، ویآؤ نالندہ )

اس سوال کا جواب پیشگی طور پر خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے دے دیا ہے۔ انھیں کے الفاظ میں یہ ہے: امیتوا الباطل بالصمت عنہ (باطل کو ہلاک کرو اس سے چپ رہ کر) مذکورہ قسم کے مسائل کا بہترین حل یہ ہے کہ ان کے بارے میں خاموشی اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اعراض سے یہ مسئلہ صرف دو منٹ کے نعرہ پر ختم ہو جاتا

ہے اور جب مسلمان اس طرح کے مواقع پر خاموشی کے بجائے جوابی اقدام کا طریقہ اختیار کریں تو غیر ضروری طور پر وہ برا انجام سامنے آجاتا ہے جو بہار شریف اور بھاگلپور جیسے مقامات پر پیش آیا۔

جہاد کشمیر کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے۔ یہ کوئی اسلامی تحریک بھی ہے یا نہیں (پیر محمد امین ترہگام، کشمیر)

میرے علم کے مطابق یہ اور اس قسم کی دوسری مسلح تحریکیں قومی لڑائی ہیں نہ کہ اسلام میں جہاد (بمعنی قتال) کوئی انفرادی یا جماعتی عمل نہیں ہے۔ وہ مکمل طور پر ریاست کا ایک عمل ہے۔ فقہ کا ایک متفقہ مسئلہ ہے کہ : الرحیل للامام۔ یعنی کسی قوم کے خلاف جنگ کا اعلان کرنا حاکم کا کام ہے۔ اس قسم کی موجودہ جنگیں حکومتوں کی طرف سے نہیں لڑی جارہی ہیں بلکہ انفرادی اشخاص بطور خود یہ لڑائی لڑرہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ مزید یہ کہ کوئی مسلم حکومت اگر اس قسم کی کسی تحریک کو خفیہ مدد پہنچائے تو اس بنا پر وہ اسلامی جہاد نہیں ہو جائے گا۔ اس حکومت کو کھلے طور پر اس کا اعلان کرنا پڑے گا۔ اعلان کے بغیر خفیہ جنگ چھیڑ نا بذات خود جائز نہیں۔

نفاذ اسلام کی تحریکیں موجودہ دور میں کیوں ناکام ہورہی ہیں (پیر محمد امین، ترہگام، کشمیر) اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ اسلامی قانون کے نفاذ کی تحریک چلانے والے رہنما،

ایک قدیم مثل کے مطابق ، گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا چاہتے ہیں ۔ نفاذ شریعت کے سلسلہ میں پہلا کام یہ ہے کہ سیاسی تحریک چلانے سے پہلے فکری تحریک چلائی جائے ۔ لوگوں کی ذہنی اصلاح کر کے ان کے اندر قبولیت کا مادہ پیدا کیا جائے ۔ اور جب لوگوں میں قبولیت کا مادہ پیدا ہو چکا ہو اس کے بعد قانون کا نفاذ کیا جائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے عرب میں یہی تدریجی طریقہ اختیار فرمایا ۔ موجودہ زمانہ کا نام نہاد انقلابی طریقہ اسلامی طریقہ وہ مارکس اور لینن کی تقلید ہے نہ کہ پیغمبر اسلام کی تقلید ۔ موجودہ قسم کی ہنگامہ آرائیوں سے نہ اسلامی قانون نافذ ہوا ہے اور نہ وہ آئندہ کبھی نافذ ہو سکتا ہے ۔ اس قسم کی تحریکیں اسلام کی خدمت نہیں ہیں بلکہ وہ صرف اسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ ہیں۔ اسلام کا پولیٹیکل سسٹم کیا ہے ۔ اسلام میں ریاست کا ہیڈ کس طرح مقرر کیا جائے اگر شورٹی کے ذریعہ صدر ریاست کا انتخاب ہو تو اس انتخاب کا طریقہ کیا ہے۔ کے مسلمانوں میں اس معاملہ میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ جو مسلمان جس ملک سے یہاں آئے ہیں وہ اپنے ہی ملک کے رائج اسلامی تعبیر کے مطابق اس کا جواب دیتے ہیں ۔ میں صحیح بات کیا ہے ۔ (ڈاکٹر غنی خاں ، میامی ، امریکہ )

اس معاملہ میں اسلام میں کوئی واحد متعین طریقہ نہیں ہے ۔ قرآن یا حدیث میں سیاسی معاملات کے بارے میں صرف بنیادی یا اساسی تعلیمات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ اسلام میں چار خلیفہ کو معیاری مانا گیا ہے۔ مگر چاروں کے معاملہ میں انتخاب کا طریقہ الگ الگ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سیاسی سسٹم کا معاملہ نماز جیسا نہیں ہے۔

ایک معلوم اور متعین طریقہ ہے مگر ٹھیک اسی طرح سیاست کا کوئی واحد مقرر سسٹم نہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام میں سیاسی معاملات کے بارے میں کافی آزادی دی گئی ہے۔ قرآن و حدیث سے سیاست کے بنیادی اصول کو لے کر ہم اپنے حالات کے لحاظ سے اس کا آزادانہ نقشہ بنا سکتے ہیں۔ جب تک اسلام کی کسی تعلیم کی کھلی خلاف ورزی نہ ہو حالات کی مطابقت سے بنایا ہوا ہر ڈھانچہ اسلامی ڈھانچہ ہوگا۔

ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے خلاف کتاب اس لئے لکھی کہ انھوں نے آپ کے اعتراضات کا جواب نہیں دیا۔ لیکن آپ نے بھی تو ایسا ہی آپ کے خلاف تنقیدیں چھپتی ہیں مگر آپ ان کا جواب نہیں۔ (محمد خالد ندوی) ایک صورت یہ ہے کہ معترض خط کی صورت میں براہ راست اپنا اعتراض لکھ کر دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنا اعتراض یا تنقید اخبار اور رسالے میں شائع علماء اسلام کا مسلک یہ ہے کہ وہ براہ راست کئے گئے اعتراض کا جواب تو دیتے ہیں مگر چھپنے والے اعتراض کے بارے میں زیادہ تر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ میرا مسلک بھی مولانا مودودی کو میں نے کتاب چھپنے سے پہلے اپنے اعتراض لکھ کر بذریعہ ڈاک بھیجے تھے مگر اصرار کے باوجود انھوں نے جواب نہیں دیا۔ اس بنا پر دونوں معاملہ یکساں خط کے ذریعہ موصول ہونے والے اعتراض کا جواب میں ہمیشہ دیتا ہوں۔ ہوئے مضمون کا جواب صرف اس وقت دیتا ہوں جب کہ وہ سب و شتم نہ ہو بلکہ اس میں واقعہ کوئی قابل وضاحت نکتہ موجود ہو۔

Printed page