Gandhi sacrificed by fanaticism
Al-Risala, July 1999, pp. 11–15
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہی واقعہ ہندوستانی تاریخ کے دونوں دوروں کے درمیان حد فاصل بن گیا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ملکی آزادی کی جدوجہد کو ہندوؤں اور مسلمانوں کی متحدہ کوشش نے کامیاب بنایا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں ایک طرف مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو جیسے بہت سے ہندو لیڈر ہیں جو آزادی کی تحریک میں بھر پور طور پر شامل ہیں ۔ مسلمانوں کی بڑی بڑی شخصیتیں بھی اس تحریک کی اگلی صف میں شریک ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر مختار احمد انصاری، حکیم اجمل خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا حسین احمد مدنی، خان عبد الغفار خاں، وغیرہ۔ آزادی کی پوری جد و جہد میں ہندو مسلمان دونوں اسی طرح مل کر قربانیاں دیتے رہے۔ یہاں تک کہ یہ جدوجہد اپنی تکمیل تک پہنچ گئی۔
مگر آزادی (۱۹۴۷) کے بعد اچانک ایک بالکل مختلف منظر دکھائی دیتا ہے۔ کے سامنے قومی تعمیر کے لئے جدوجہد کرنے کا مسئلہ تھا۔ مگر اس دو نمبرے مرحلہ میں مسلمان اچانک الگ تھلگ دکھائی دیتے ہیں۔ آزادی کے بعد ملکی تعمیر کے لئے دوبارہ ایک لمبی اور متحدہ کوشش در کار تھی مگر یہ متحدہ کوشش وجود میں نہ آسکی۔ آزادی سے پہلے جو ہندو اور مسلمان باہم مل کر کام کر رہے تھے۔ وہ آزادی کے بعد نہ صرف الگ ہوئے بلکہ ان کے درمیان وہ تباہ کن سلسلہ شروع ہو گیا جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، ہماری قومی جدوجہد کے دوسرے مرحلہ کا ناکام رہنا سب سے زیادہ اسی بنا پر ہوا ہے۔ نئے دور کی تعمیری جدوجہد کے لئے دوبارہ متحدہ کوشش درکار تھی۔ چونکہ اس دوسرے مرحلہ میں متحدہ کوشش وجود میں نہ آسکی اس لئے قدرتی طور پر وہ ناکام
یہ المیہ کیوں پیش آیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ غالباً یہ ہے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے جو مشترک جدوجہد جاری ہوئی اس میں ہندوؤں کی طرف سے زیادہ تر سیکولر لوگ شریک تھے۔ ہندو اپنے مزاج کی بنا پر اپنے مذہب یا اپنے مخصوص مذہبی رسوم کو اجتماعی معاملات میں داخل نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی اجنبیت حائل نہیں ہوتی تھی۔ دونوں کھلے دل کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتے تھے اور کسی توحش کے بغیر مل کر کام کرتے یہ ’’سیکولر کلچر‘‘ بنیادی طور پر دونوں فرقوں کے درمیان اتحاد کی طاقتور کڑی بنا رہا۔ آزادی کے بعد جب مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا گیا تو اس کے بعد ہندوؤں کا وہ طبقہ ابھرنا شروع ہو گیا جو سیکولرزم کے بجائے ہندتو میں یقین رکھتا تھا۔ یہ لوگ ابتدا میں اتنے محدود تھے کہ آزادی کے بعد جب پہلی پارلیمنٹ بنی تو اس میں ان کے صرف دو ممبر شامل ہو سکے جو جن سنگھ کے ٹکٹ پر کامیاب ہو کر آئے تھے۔ یہ تعداد دھیرے دھیرے بڑھتی رہی یہاں تک کہ ۱۹۹۸ میں وہ اس پوزیشن میں ہو گئے کہ نئی دہلی کی مرکزی حکومت پر قبضہ حاصل کر لیں۔ ابتدا میں یہ لوگ صرف محدود دائرہ میں اپنا اثر رکھتے تھے مگر دھیرے دھیرے ان کے اثرات ہندو سماج کے بڑے طبقہ تک پھیل گئے۔
۱۹۴۷ سے پہلے جب ہندو اور مسلمان اجتماعی مواقع پر ملتے تھے تو دونوں سیکولر آداب کے تحت ملتے تھے۔ اس بنا پر دونوں کے درمیان کوئی کشیدگی پیدا نہیں ہوتی تھی۔ دور میں یہ ہوا کہ مسلمان اگر کسی اجتماعی پروگرام میں جاتے تو وہاں ان کو ملاقات کے وقت
مصافحہ کرنے کے بجائے دونوں ہاتھ جوڑ کر پر نام کرنے کا ماحول ملتا تھا۔ پروگرام کا آغاز وندے ماترم کے گیت یا سرسوتی دیوی کی وندنا سے ہوتا تھا۔ اسی طرح پروگرام کے شروع میں ہندورسم کے مطابق دیا جلا کر اس کا شبھ آرمبھ کیا جاتا تھا یا سنسکرت اشلوک پڑھے جاتے تھے۔ کی بہت سی چیزیں ہیں جو نئے دور کے اجتماعی مواقع پر بھارتیہ سنسکرتی کے نام پر شامل
اس قسم کی تمام چیزیں خواہ دھرم کے نام پر کی جائیں یا سنسکرتی کے نام پر، بہ حال میں وہ مسلمانوں کے لئے صرف دوری کا سبب بن سکتی تھیں، اور واقعہ میں ایسا ہی ہوا۔ اس قسم کے تمام رسوم یا اس طرح کے تمام کلمات قدیم مشرکانہ عقائد پر مبنی ہیں۔ خواہ ان کا کوئی بھی خوبصورت نام دیا جائے مگر ان کے مبنی بر شرک ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمان چونکہ ایک خدا کو مانتے ہیں، اس لئے ان کا موحدانہ مزاج اس قسم کے پروگراموں میں شرکت کے لئے ایک مستقل روک بن گیا۔ ان کے لئے نا ممکن ہو گیا کہ وہ ایسے اجتماعی مواقع پر کھلے دل سے شریک ہو سکیں جس میں بھارتیہ سنسکرتی کے نام پر ان مشرکانہ رسوم کو ادا کیا جا رہا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آزادی سے پہلے قومی جدوجہد کی جو گاڑی اپنے دو پہیوں (ہندو اور مسلمان) کے ذریعہ چل رہی تھی، وہ اب بڑی حد تک صرف ایک پہیہ (ہندو) کے ذریعہ چلنے مگر جیسا کہ معلوم ہے، کوئی گاڑی جس کے دو پہیوں میں سے ایک پہیہ نکال دیا جائے وہ کھڑی تو ہو سکتی ہے مگر اپنے راستہ پر تیز رفتاری کے ساتھ چل نہیں سکتی۔ چنانچہ قانون فطرت کے تحت ہماری قومی تعمیر کی گاڑی بھی چلتے چلتے اچانک ٹھہر گئی۔ قومی تعمیر کا سارا منصوبہ ناکام ہو کر رہ گیا۔
اب بیسویں صدی کے خاتمہ پر آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے جب کہ ہند و لیڈر شب یہ جان لے کہ دونوں فرقوں کی متحدہ کوشش کے بغیر ملک کی حقیقی تعمیر ممکن نہیں۔
تعمیر کے معاملہ میں ان حضرات کے سامنے جن دو کے درمیان انتخاب (option) ہے وہ یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جدوجہد یا مسلمانوں کے بغیر جدوجہد۔ بلکہ ان کے لئے اصل انتخاب دوسری صورتوں کے درمیان ہے، اور وہ ہے۔ مسلمان کے ساتھ جدوجہد یا سرے سے جدوجہد ہی نہیں۔
اس پیچیدہ مسئلہ کا حل کیا ہے۔ وہ حل یہ ہے کہ برادران وطن کی ہندو لیڈر شپ بھی اسی طریقہ کو اختیار کرے جس کو اس سے پہلے ان کی سیکولر لیڈر شپ نے اختیار کیا تھا۔ چیز جس کو وہ بھارتیہ سنسکرتی کہتے ہیں، اس کو مکمل طور پر اجتماعی پروگراموں اور سرگرمیوں سے الگ کر دیا جائے۔ اگر وہ چاہیں تو اپنے ذاتی دائرہ میں اس کو اختیار کر سکتے ہیں مگر اجتماعی دائرہ کے تمام مواقع سے مکمل طور پر اس کو حذف کر دیا جائے۔ یہی واحد تدبیر ہے جس کے ذریعہ دوبارہ اس ہندو مسلم مشترک جدوجہد کو زندہ کیا جا سکتا ہے۔ جس نے پہلے مرحلہ میں ہماری قومی جدوجہد کو کامیاب کیا تھا اور جو دوسرے مرحلہ میں بھی ہماری قومی جدوجہد کی کامیابی کی واحد ضمانت ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی سماج میں اتحاد ہی تمام ترقیوں کا واحد ضامن ہے۔ سماج کے تمام طبقات مل کر کام کرتے ہیں اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ ان کے درمیان وہ متحدہ کوشش وجود میں آئے جو کسی بھی بڑے کام کے لئے ضروری ہے۔
یہ فطرت کا قانون ہے، یہ تاریخ کا فیصلہ ہے۔ اور ہم جتنی جلد اس حقیقت کو جان لیں اتنا ہی اچھا ہے۔ اس حقیقت سے بے خبری یا اس کا عدم اعتراف ایک ایسی تباہ کن غلطی ہو گی جس کو ہماری اگلی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
اس بات کی وضاحت کے لئے یہاں میں ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں۔ دھلی میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو ہیں۔ وہ لمبی مدت تک ایک بڑی کمپنی میں بزنس منیجر کے طور پر کام کرتے
اپنے پچیس سالہ تجربہ اور مطالعہ کی بنیاد پر انہوں نے بزنس مینجمنٹ کے موضوع پر ایک کتاب (۳۱۶ صفحات) انگریزی میں لکھی جس کا نام انتظامی افکار (Management Thoughts) میں نے یہ کتاب دیکھی ہے وہ بلاشبہ ایک کامیاب کتاب ہے اور ہر قسم کے لوگوں کے لئے بہترین تجارتی گائیڈ ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۹۱ میں چھپی۔ مصنف نے اس کو دھلی کی بک فیئر میں رکھا مگر وہاں وہ بہت کم تعداد میں فروخت ہو سکی۔ اتنی کامیاب اور قابلِ مطالعہ کتاب بک فیئر میں ناکام کیوں رہی، اس کی وجہ صرف ایک تھی۔ وہ یہ کہ انہوں نے ٹائئٹل پر کتاب کے نام کے نیچے ہندو دیوتا گنیش کی رنگین تصویر بنائی۔ یہ تصویر ٹائٹل کے تقریباً تین چوتھائی حصہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو شخص بھی ان کے اسٹال پر آتا وہ کتاب کا ٹائٹل دیکھ کر آگے بڑھ جاتا۔ گنیش جی کی تصویر کو دیکھ کر وہ یہ سمجھتا کہ یہ شاید ہندو مائٹھالوجی سے متعلق کوئی کتاب ہے۔ پر چند مذ ہبی ہندو ہی اس کتاب سے دلچسپی لے سکے، بقیہ لوگ اس کے ظاہر کو دیکھ کر ہی اس سے بے رغبت ہو گئے اور اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔
اس واقعہ کا علم مذکورہ ہندو کے ایک مسلمان دوست کو ہوا۔ مسلمان نے اس مسئلہ پر غور کیا اور مذکورہ ہندو مصنف کو یہ مشورہ دیا کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں کتاب کے اس ٹائٹل (گردپوش) کو بدل دوں۔ ہندو مصنف نے اجازت دینے دی۔ اس کے بعد مذکورہ مسلمان پبلیشر نے صرف یہ کیا کہ اس مجلد کتاب کے لئے ایک نیا گرد پوش چھپوا یا۔ اس نئے گرد پوش پر صرف کتاب کا نام (Management Thoughts) جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے حسبِ قائدہ مصنف کا نام تھا۔ گردپوش کے بقیہ حصہ پر انہوں نے کچھ تجارتی اقوال لکھ دیئے جو اس کتا ب سے لئے گئے تھے۔ مثال کے طور پر :