Al-Risala · July 1999

تباہ کن ذہنیت

Al-Risala, July 1999, pp. 19–22

By Maulana Wahiduddin Khan

پندرہ سال پہلے ہندوستانی ٹی وی پر رامائن اور مہابھارت کے سیریل تفصیل سے دکھائے اس زمانہ میں ایک ہندو تاجر نے مجھ سے کہا کہ یہ سیریل جو دکھائے جارہے ہیں وہ کوئی معمولی چیز نہیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ ہندوستانی سماج میں ایک نیا تہذیبی انقلاب آگیا ہے۔ مگر نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔ رامائن اور مہابھارت کے سیریل ختم ہونے کے بعد ہی عملی طور پر ایک بالکل مختلف منظر سامنے تھا۔ ملک کے قدیم کلچر کی طرف دعوت دینے والی اس رنگین فلم کو بظاہر لوگوں نے دلچسپی کے ساتھ دیکھا۔ مگر اس کے بعد پورے ملک نے نہایت اطمینان کے ساتھ مغرب سے آنے والے جدید کلچر کو اختیار کر لیا۔ ہندی زبان کے بجائے انگریزی زبان لوگوں کے ذہنوں پر چھاگئی۔ نئی نسل نمستے اور نمسکار کے بجائے ہائے اور ہیلو کہنے لگی۔ جیرہ کو چھوڑ کر لوگ کوکا کولا پر ٹوٹ پڑے ۔ دور درشن سے زیادہ کیبل ٹی وی دیکھا جانے لگا۔ نوجوان یہ خواب دیکھنے لگا کہ وہ کسی نہ کسی طرح امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں پہنچ جائے، مغربی کمپنیوں کے لئے ملک کے دروازے کھول دئے گئے ۔ بھارت کی روایتی تہذیب کی اہمیت لوگوں کی نظر میں گھٹ گئی۔ اس کے بجائے وہ جدید مغربی تہذیب کو زیادہ بڑی چیز سمجھنے لگے، وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ خود میرے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعہ سے معلوم ہوتی ہے۔ جس زمانہ میں رامائن سیریل دکھائے جارہے تھے میرے ایک پڑوسی ہندو نے مجھے اس کو دیکھنے کی ترغیب میں نے کہا کہ میرے پاس ٹی وی نہیں ہے۔ انھوں نے دعوت دی کہ میں ان کے گھر پر آؤں اور کم از کم اس کا ایک سیریل دیکھوں۔

اس کے مطابق میں ایک روز شام کو ان کے گھر پہنچا۔ ٹی وی کھولا گیا اور ہم دونوں اس کے سامنے بیٹھ کر اس دن آنے والا سیریل دیکھنے لگے۔ میں نے دیکھا کہ اس میں عجیب و غریب

قسم کے خارق عادت مناظر دکھائے جا رہے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کو کھڑا کر کے اس کی کمر کے پاس تلوار ماری جاتی ہے۔ تلوار اس کے جسم کو کاٹتی ہوئی دوسری طرف نکل جاتی ہے مگر اس کا جسم دوبارہ جڑ جاتا ہے اور وہ شخص بدستور زندہ کھڑا رہتا ہے۔

میرے ہندو میزبان جو ایک مغربی ملک سے اعلیٰ سائنسی تعلیم حاصل کر کے آئے تھے انھوں نے ان عجیب و غریب مناظر کی وضاحت کرتے ہوئے کسی قدر معذرت خواہانہ انداز میں کہا : مولانا صاحب، یہ مائتھالوجی ہے۔ یہ کوئی واقعی تاریخ نہیں۔

کسی سماج کی ذہن سازی یا کردار سازی حقیقی کیریکٹر کے ذریعہ ہوتی ہے نہ کہ افسانوی کیریکٹر لوگ کسی افسانوی کہانی کو دلچسپی کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں یا اسکرین پر دیکھ کر اس سے وقتی طور پر محظوظ ہو سکتے ہیں۔ مگر اس کا یہ اثر نہیں ہو سکتا کہ اس سے ان کی سوچ بدل جائے یا ان کے عمل میں افسانوی کیریکٹر ایک خیالی کیریکٹر ہوتا ہے اور ایک خیالی کیریکٹر کسی کے لئے عملی سبق کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

راما ئن اور مہا بھارت کے سیریل محض مائتھالوجی پر مبنی تھے۔ اس کے برعکس مغرب سے آنے والا کلچر ایک حقیقی واقعہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ لوگوں کے اوپر مائتھالوجی پر بنی فلمی کہانی کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ حقیقت پر مبنی مغربی کلچر کی طرف ٹوٹ پڑے ۔

ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں میں سائنسی مزاج (scientific tempre) نہیں۔ پنڈت نہرو نے اپنے اس قول میں شاید انہیں لوگوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو سائنسی دور میں مائتھالوجی کی بنیاد پر ملک کی تعمیر کرنا چاہتے پنڈت نہرو نے درست طور پر یہ سمجھا تھا کہ اس قسم کی کوشش ہمارے ملک کو صرف پیچھے کی طرف لے جائے گی وہ آگے کی طرف لے جانے والی نہیں۔ اس قسم کی کوشش گویا ایک خلاف زمانہ حرکت (anachronism) ہے۔ اور خلاف زمانہ حرکت کبھی کسی کو فائدہ نہیں دے سکتی۔ میں ایک طبقہ ہے جس کو یہ اصرار ہے کہ تمام اسکولوں میں سرسوتی دیوی کی تصویریں لگائی جائیں

اور سرسوتی کی وندنا کی جائے ۔ ان کا خیال ہے کہ سرسوتی کو چونکہ علم کی دیوی مانا جاتا ہے اس لئے ایسا کرنے سے اسکولوں اور کالجوں میں علم کو فروغ حاصل ہو گا۔ مگر یہ سراسر خوش فہمی ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ 50 سال سے بھی زیادہ مدت سے سرسوتی دیوی کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے مگر ابھی تک ملک میں علمی ذوق یا سائنسی ذہن پیدا نہ ہو سکا۔ کوئی حقیقی ذوق صرف حقیقی کردار کے ذریعہ پیدا ہو سکتا ہے نہ کہ افسانوی کردار کے ذریعہ ۔

اسی طرح اس طبقہ کے ہندوؤں نے سوچا کہ اگر ایودھیا میں بابری مسجد کو ڈھا کر وہاں رام مندر بنا دیا جائے تو ملک میں ایک انقلاب آ جائے گا۔ ملک کی تاریخ صحیح رخ پر سفر کرنے لگے گی۔ بھی محض ایک خوش فہمی ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

ایودھیا میں بابری مسجد کا بننا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ ثابت شدہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ مغل بادشاہ بابر (وفات ۱۵۳۰) کے گورنر میر باقی نے ۱۵۲۸ میں ایودھیا کی یہ مسجد تعمیر کی۔ چونکہ وہ بابر کے زمانہ میں بنی تھی اس لئے وہ بابری مسجد کے نام سے مشہور ہو گئی۔ اس کے مقابلہ میں رام مسلمہ طور پر ایک افسانوی شخصیت ہیں۔ وہ کوئی تاریخی شخص (historical figure) نہیں۔ جب رام خود کوئی تاریخی شخصیت نہیں تو ان کی جنم بھومی بھی یقینی طور پر ایک غیر تاریخی قصہ ہے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو یہ واقعہ ہوا کہ مذکورہ ذہن رکھنے والے لوگوں نے بابری مسجد کو ڈھا کر وہاں رام مندر کے نام پر ایک مندر خالص علمی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ہندوستان کی تاریخ کا وہ بد قسمت دن تھا جب کہ ایک افسانوی دلیل کے ذریعہ ایک تاریخی حقیقت کو رد کر دیا گیا۔

جن لوگوں نے ایسا کیا وہ اس کو تاریخ کی تصحیح کا نام دیتے ہیں مگر زیادہ درست طور پر وہ تاریخ کا قتل تھا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بظاہر پتھر کا ایک ڈھانچہ ڈھایا گیا مگر حقیقت کے اعتبار سے دیکھے تو اس دن تاریخی مزاج اور سائنسی ذہن کو ڈھا دیا گیا۔ اور کسی ملک کے لئے یقینی طور پر اس سے زیادہ تباہ کن بات اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس کے عوام کے اندر سے تاریخی ذوق کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اس معاملہ کا ایک اور پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو مذکورہ پہلو سے کم اہم نہیں بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے وہ غالباً مذکورہ پہلو سے بھی زیادہ سنگین ہے۔

ہندوستان کا دستور مکمل طور پر ایک سیکولر دستور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کی نیشنل لائف کو مذہب سے الگ رکھا جائے گا۔ نیشنل سرگرمیوں کو سیکولر بنیادوں پر قائم کیا جائے گا۔ مذہب کا تعلق ہے تو مذہب کے معاملہ میں ہر شخص یا گروہ کو آزادی ہو گی کہ وہ اپنے نجی دائرہ میں جس مذہب پر چاہے عمل کرے۔ ملک کے ابتدائی معماروں کا یہ فیصلہ نہایت درست تھا کہ ملک کے اجتماعی نظام کو سیکولر بنیادوں پر قائم کیا جائے۔ موجودہ حالات میں ہندوستان کے لئے سیکولر نظام سے بہتر کوئی نظام نہیں ہو سکتا۔

مگر یہ دستور ہند کی اسپرٹ کے سراسر خلاف ہوگا کہ اقلیتوں کے مذہب کو تو ملک کی اجتماعی زندگی سے خارج کر دیا جائے لیکن اکثریتی فرقہ کے مذہب کو کسی ایک یادو سری نام پر اجتماعی زندگی میں شامل رکھا جائے۔ اس قسم کی دہری روش ملک میں منافقانہ فضا پیدا کرے گی اور قانون کے احترام کا مزاج یکسر ختم کر دے گی۔ قومی زندگی کو صالح بنیاد پر قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دستور اور قانون میں جو طے کیا جائے اس پر جیسا ہے ویسا (as it is) عمل کیا جائے۔

ایک طرف سیکولرزم اور مساویانہ حقوق کا نام لیتا اور دوسری طرف کسی ایک فرقہ کے مذہب کو نیا نام دے کر اس کو دوسرے فرقوں پر مسلط کرنا دو عملی کی روش ہے اور اس قسم کی روش پورے ملک میں لا قانونیت (lawlessness) کی ذہنیت پیدا کر دے گی۔ ایسے حالات میں یہ نا ممکن ہو جائے گا کہ ملک میں کوئی تعمیری معاشرہ قائم کیا جا سکے۔

ملک کے تمام سنجیدہ لوگ یہ مانتے ہیں کہ اس وقت ہماری سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ یہاں اقدار پر مبنی سماج (value based society) قائم ہو۔ اس قسم کے سماج کو بنانے کی پہلی شرط یہ ہے کہ ملک کے با اختیار لوگوں میں امانت داری (honesty) پائی جاتی ہو۔ لفظی طور پر ایک بات لکھنا اور عملی زندگی میں بلا اعلان کسی اور بات کو رائج کرنا ایک کھلی ہوئی بد دیا نتی (dishonesty) ہے۔ جس سماج کے با اختیار طبقے میں بددیانتی کا مزاج ہو وہاں کبھی بھی اقدار پر مبنی سماج قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اور جو سماج اخلاقی اقدار (moral values) سے خالی ہو وہ یقینی طور پر ہر دوسری بھلائی سے بھی خالی ہوگا۔

Printed page