سفر بے منزل
Al-Risala, July 1999, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
یکم جنوری ۲۰۰۰ کو دنیا کے تمام ملک اکیسویں صدی میں داخل ہو جائیں گے۔ تا ہم یہ داخلہ ہر ملک کے لئے یکساں نہ ہوگا۔ کچھ ملکوں کے لئے اکیسویں صدی میں داخلہ ترقیاتی دور میں داخلہ کے ہم معنی ہوگا۔ اور کچھ ملک وہ ہوں گے جن کے لئے یہ داخلہ صرف کیلنڈر بدلنے کے ہم کاغذی اعتبار سے وہ اپنے یہاں اکیسویں صدی کی گنتی لکھیں گے مگر حقیقت کے اعتبار سے ابھی وہ صرف بیسویں صدی میں ہوں گے یا اس سے بھی پیچھےـ بد قسمتی سے ہندوستان ان ملکوں میں شامل ہو گا جو صرف کیلنڈر کے معنوں میں اکیسویں صدی میں داخل ہوں گے۔ ترقیاتی معیار کے اعتبار سے وہ اکیسویں صدی کے معیار سے بہت پیچھے ۵۰ سال پہلے ہندوستان میں جو بڑے بڑے لیڈر ابھرے انھوں نے کہا تھا کہ ہماری جدوجہد کا نشانہ ہر ہندوستانی کی آنکھ کے آنسو پونچھنا ہے۔ مگر پر شور ہنگاموں کے باوجود آج ہم دیکھتے ہیں کہ نتیجہ بالکل بر عکس نکلا، رونے والی آنکھوں میں اتنا زیادہ اضافہ ہو گیا ہے کہ اب ایسی آنکھ کو ڈھونڈنا مشکل ہے جو رونے سے بچی ہوئی ہو۔
اس بھیانک ناکامی کا راز کیا ہے۔ اس کا راز ایک لفظ میں صحیح سمت میں سفر نہ کرنا ہے۔ پچھلے طویل دور میں ہمارے لیڈر تعمیر و ترقی کے نام پر پر شور ہنگامے کرتے رہے۔ مگر شاید وہ حرکت (motion) اور سمت (direction) کا فرق نہیں سمجھتے تھے۔ انھوں نے خوبصورت ناموں سے کچھ سر گر میاں جاری کر کے یہ سمجھ لیا کہ وہ اپنی منزل مقصود کی طرف سفر کر رہے ہیں۔ حالانکہ منزل کی طرف سفر صرف وہ ہے جو منزل کی سمت میں ہو۔ صحیح رخ کے بغیر حرکت وقت اور طاقت کا ضائع کرنا ہے نہ کہ منزل کی طرف سفر کرنا۔
اب آخری وقت آگیا ہے کہ عمل کی صحیح سمت کا تعین کر کے صحیح رخ پر اپنی کوششوں کو
جاری کیا جائے ۔ اس کے بغیر کوئی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔