ہندوستان کا سفر
Al-Risala, July 1999, pp. 24–28
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسافر دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر ہے۔ اس کو کلکتہ جانا ہے۔ وہ پلیٹ فارم پر ایک گاڑی دیکھتا ہے اور وہ بلا تحقیق اس پر بیٹھ جاتا ہے۔ ٹرین روانہ ہوتی ہے۔ مسافر خوش ہے کہ وہ اپنی منزل کی طرف جا رہا ہے۔ مگر جب ٹرین اپنے آخری اسٹیشن پر پہنچتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ امرتسر کی طرف جانے والی ٹرین تھی نہ کہ کلکتہ کی طرف جانے والی ٹرین۔ اب مسافر پھر یہی کرتا ہے کہ وہ درستی تحقیق کے بغیر ایک اور ٹرین پر بیٹھ جاتا ہے۔ مگر دوبارہ یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک اور غیر مطلوب منزل پر پہنچ جاتا ہے کیوں کہ یہ ٹرین بمبئی کی طرف جارہی تھی نہ کہ کلکتہ کی
اس قسم کا سفر بظاہر سفر دکھائی دیتا ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ سفر بے منزل جو مسافر اس طرح سفر کرے وہ کبھی اپنی منزل پر نہیں پہنچے گا، خواہ وہ اپنی ساری عمر ٹرینوں میں گزارتا رہے۔
بد قسمتی سے ہندوستان میں یہی صورت پیش آئی ہے۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان آزاد اب ہم اس پوزیشن میں ہو گئے کہ ہم خود اپنے فیصلہ کے تحت ہندوستان کی اعلیٰ تعمیر کر سکیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے لیڈر قوم کو غلط ٹرینوں پر بٹھاتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچاس سال سے زیادہ مدت تک سفر کرنے کے باوجود ہندوستان اپنی مطلوب منزل تک نہ پہنچ سکا۔ آزادی کے بعد ہمارے لیڈروں نے قوم کو جس ٹرین پر بٹھایا اس کو ایک لفظ میں سوشلسٹ اکسپریس کہا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ملک کے پورے اقتصادی اور سماجی ڈھانچہ کو بدل دیا گیا۔ ملک کی تمام سرگر میاں حکومتی عہدہ داروں کے کنٹرول میں دنے دی گئیں۔ انگریزوں نے اپنی دوسو سالہ حکومت کے درمیان صرف پانچ سو قانون بنائے تھے۔
ملکی حکمرانوں نے چالیس سال کے اندر پانچ ہزار سے زیادہ قانون بنا ڈالیے۔ اس کے نتیجہ میں ملک میں وہ چیز قائم ہو گئی جس کو راج گوپال آچاری نے لائسنس پر مٹ راج کہا تھا۔ اس نئے نظام کے تحت ہماری آزادی ایک نئی اور شدید تر پابندی میں تبدیل ہو گئی۔ ایک کارخانہ لگانا ہے تو ضروری ہو گیا کہ وہ پچاس سرکاری کھڑیوں پر کھڑا ہو اور کلیرنس کے لئے بر سوں اس دفتر سے اس دفتر تک دوڑتا رہے۔ نام نہاد لیسر قوانین کا نتیجہ یہ ہوا کہ ، جے آرڈی ٹاٹا کے الفاظ میں، ایک صنعت کار اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے مگر وہ اپنے ایک ورکر کو نکال نہیں سکتا۔ اس نام نہاد سوشلسٹ نظام کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کی اقتصادی سرگرمیوں سے کمپٹیشن ختم ملک کے بازار غیر معیاری سامانولی سے بھر گئے۔ سرکاری اہل کاروں کے بڑھے ہوئے اختیارات کی بنا پر کرپشن اتنا بڑھا کہ کوئی بھی چھوٹایا بڑا کام رشوت کے بغیر انجام پانا ناممکن ہو گیا۔ نام نہاد نیشنلائزیشن کے نتیجہ میں سرکاری ملازموں کی ایک عظیم فوج تیار ہو گئی جس کو یہ یقین تھا کہ وہ کام کرے یا نہ کرے مہینہ کے آخر میں بہر حال اس کو تنخواہ مل جائے گی ۔ اس مصنوعی نظام نے، ایک سنیئر صحافی کے الفاظ میں، پوری ہندوستانی قوم کو کاہل(lethargic) بنا دیا، وغیرہ وغیرہ۔ آزادی کے بعد ہمارے لیڈروں نے قوم کو سوشلسٹ اکسپریس پر سوار کیا تھا۔ خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ملک تیزی سے اعلیٰ ترقی کی طرف جار ہا ہے ۔ مگر چالیس سال کے بعد جب اس سفر کی منزل آئی تو یہ حالت ہوئی کہ ملک انگریزی دور سے بھی زیادہ برے حال میں مبتلا ہو چکا تھا۔ ہندوستان اپنی آبادی اور اپنے رقبہ کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا ملک ہے۔ مگر ترقی کے جدید معیار کے مطابق آج وہ دنیا کا ۱۳۸ واں ملک شمار کیا جاتا ہے۔ جب کہ اسی مدت میں سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے چھوٹے چھوٹے ملک ہم سے بہت زیادہ آگے جا چکے ہیں۔
سوشلسٹ اکسپریس پر سفر کرنے کے بعد ہمارے لیڈروں کو محسوس ہوا کہ وہ غلط ٹرین پر بیٹھ گئے تھے۔ اب ملک میں ایک نئی لیڈر شپ زور پکڑنے لگی ہے۔ عرف عام کے مطابق اس نئی لیڈر شپ کو ہند تو لیڈر شپ کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے زور و شور کے ساتھ یہ کہنا شروع کیا کہ
آزادی کے بعد جن لیڈروں کے ہاتھ میں ملک کی قسمت آئی انھوں نے قوم کو غلط ٹرین پر بٹھادیا ہم کو دووٹ دو تاکہ ہم صحیح ٹرین کے ذریعہ تمہارے ترقیاتی سفر کو جاری کر سکیں۔ ان کے رہ تھ اندولن سے بہت سے لوگ متاثر ہوگئے۔ یہاں تک کہ ۱۹۹۸ تک کے آغاز میں انھیں یہ موقع ملا کہ وہ ملک کی سیاسی قیادت پر قبضہ کرلیں۔
ان نئے لیڈروں نے ہندوستان کو جس نئی ٹرین پر سوار کیا اس کو ایک لفظ میں ہندو تو اکسپریس کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ قوم کو ہندو تو اکسپریس پر بٹھایا اور اس کو فل اسپیڈ کے ساتھ چلادیا۔ مگر صرف ایک سال کے تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ ہندو تو اکسپریس کا سفر اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہے جتنا کہ سوشلسٹ اکسپریس کا سفر ثابت ہوا تھا۔ سوشلسٹ اکسپریس کے سفر نے ملک کو اقتصادی اعتبار سے تباہ کیا تھا۔ ہندو تو اکسپریس کے سفر میں مزید نقصان یہ ہوا کہ اعلیٰ انسانی قدریں (human values) بھی تباہ ہو کر رہ گئیں۔ یہ ہندو تو لیڈر شپ راہ روپشت بہ منزل کی ایک مثال ہے۔ وہ آگے کی طرف سفر کرنے کے نام پر قوم کو پیچھے کی طرف دوڑانا چاہتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اقبال احمد سہیل مرحوم نے کہا تھا :
آگے ہے قدم پیچھے ہے نظر جاتا ہے کہاں جاتے ہیں کدھر مبہم ہے یہاں خود سمت سفر نیرنگ زمانہ کیا کہیے ہندو تو لیڈر شپ کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ وہ اس کمزوری کی شکار ہے جس کو انگریزی میں کنڈیشنڈ تھنکنگ کہا جاتا ہے، یعنی لگے بندھے ذہن کے تحت سوچنا۔ تقریباً سو سال پہلے شری گر گول والکر اور ڈاکٹر ہیڈ گواڑ جیسے ماضی پرست لوگوں نے اپنے محدود ذہن کے تحت انہیں جو سبق دیا تھا وہی ان کو معلوم ہے۔ ان کی سوچ بس اسی کے دائرہ میں چلتی ہے۔ ایسے لوگ صرف یہی کر سکتے ہیں کہ ترقی کے نام پر وہ ملک کو پیچھے دھکیل دیں۔ بدقسمتی سے انھوں نے اپنے محدود اقتدار کے زمانہ میں یہی کارنامہ انجام دیا ہے۔
نام نہاد ہند تو ایجنڈا کیا ہے، وہ ملک کو ماضی کے اندھیرے میں دھکیلنے کا دوسرا نام ہے۔ مفروضات یا تو ہمات کے ذریعہ ملک کے ان مسائل کو حل کرنا ہے جن کے لئے سائنٹفک سوچ اور حقیقت پسندانہ جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔
مثال کے طور پر یہ ہند تو لیڈر شپ عجیب و غریب طور پر یہ سمجھتی ہے کہ اسکول کے بچے اگر روندے ماترم جیسے گیت روزانہ صبح کو گائیں یا ریڈیو اور ٹی وی پر ایک پیشہ ور گلوکار اس کو گا کر سنائے تو ملک میں نیشنل اسپرٹ پیدا ہو جائے گی۔ حالانکہ یہ تصور خوش فہمی کی حد تک بے بنیاد ہے۔ صرف یہ حقیقت اس مفروضہ کی تردید کے لئے کافی ہے کہ پچھلی نصف صدی سے یہ گانے اتنی زیادہ بار گائے گئے ہیں کہ شاید ملک کا کوئی بھی شخص نہیں جس کے کانوں تک یہ آواز نہ پہنچی ہو۔ اس کے باوجود نیشنل اسپرٹ کے اعتبار سے ہماری قوم دیوالیۃ پن کی حد تک خالی ہو چکی ہے۔ ماترم گانے والوں سے لے کر اس گیت کو سننے والوں تک تقریبا ہر ایک کی آج یہ حالت ہے کہ ذاتی مفاد اور ملک کے مفاد میں ٹکراؤ ہو تو وہ بلا تکلف ذاتی مفاد کی خاطر ملک کے مفاد کو نظر انداز کر دیوے گاو دیش بھکتی کے ان گیتوں نے عملاً قوم کو صرف خویش بھکت بنایا ہے۔ نہ کہ دیش بھکت۔ حقیقت یہ ہے کہ گیتوں اور بھاشڑوں کے ذریعہ کبھی کسی قوم میں دیش بھکتی یا نیشنل اسپرٹ پیدا نہیں ہوتی۔ اس معاملہ میں عربی کا یہ مثل صادق آتا ہے کہ: الناس علی دین یعنی لیڈر لوگ جو روش اپناتے ہیں اسی روش کو عوام بھی اختیار کر لیتے ہیں۔ تقریباً تمام لیڈر کرپشن کلچر کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ نا ممکن ہے کہ عوام محض گیتوں کی بنیاد پر اس کے علاوہ کسی اور کلچر کو اپنائیں ۔ اس معاملہ میں سب سے پہلے خود مسٹر لیڈر کو حقیقی معنوں میں مسٹر کلین بننا پڑے گا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ملک میں صحت مند روایات حقیقت یہ ہے کہ صاف ستھر ایڈمنسٹریشن ہی صاف ستھر سماج بناتا ہے۔ جو لیڈر خود بھرشٹا چار میں ڈوبے ہوئے ہوں وہ بھرشٹاچار سے آزاد سماج کبھی نہیں بنا سکتے۔ اسی طرح ہند تو لیڈر شپ کے ایجنڈے میں اور جو چیزیں ہیں، وہ بھی ملکی تعمیر کے اصل
مسئلہ سے غیر متعلق ہیں، انگریزی کی جگہ ہندی اور سنسکرت لانا، مسجد توڑنا اور مندر بنانا، دستور کی سیکولر دفعات کو ختم کرنا، علیحدہ پرسنل لا کی جگہ یکساں سول کوڈ نافذ کرنا، ہند ستانیوں کے لئے انڈین کے بجائے ہندو کا لفظ رائج کرنا، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کی تمام باتیں صرف کٹر پن کی ان کا کوئی بھی تعلق ملک کے وسیع تر قومی مفاد سے نہیں۔
ہند تو ایجنڈا کے علم بردار ایک بے حد اہم حقیقت سے ناواقف ہیں، وہ یہ کہ ہند تو ایجنڈے کے راستہ کی رکاوٹ ملک کا کوئی فرقہ یا گروہ نہیں ہے۔ بلکہ اس ایجنڈے کا اصل مخالف وقت کا عالمی سیلاب ہے۔ آج پوری کی پوری دنیا ہند تو سے مختلف ایک اور سماج کی طرف جا رہی اس نئے عالمی سماج میں ہند تو کا کوئی مقام نہیں۔ حتی کہ اگر نئے عالمی افکار کے نئے سیلاب کو نظر انداز کر کے اپنے ملک میں ایک علیحدہ جزیرہ بنانا چاہیں تو گلوبل ویلج کے اس دور میں وہ کبھی بننے والا نہیں۔ ایسی کوئی کوشش ایک چلتے ہوئے ہاتھی کی دم میں پتنگ باندھنے کے ہم معنی ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ایسی پتنگ کبھی ہاتھی کی دم میں نہیں بندھتی بلکہ وہ ہوا میں اڑ کر رہ جاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ سوشلسٹ اکسپر لیس یا ہند توا اکسپر لیس دونوں میں سے کوئی بھی ملک کو اس کی منزل پر پہنچانے والی نہیں۔ ہم کو ہماری منزل مقصود تک جو ٹرین پہنچائے گی وہ صرف تعمیر اکسپر لیس ہے نہ کہ کوئی اور اکسپر لیس۔
تعمیر اکسپر لیس سے میری مراد یہ ہے کہ ملک میں تعلیم کو عام کیا جائے۔ فرقہ وارانہ نفرت کی باتیں ختم کی جائیں۔ سیاست میں ووٹ بینک بنانے کی پالیسی کو ترک کیا جائے۔ سے بھر شٹا چار کا خاتمہ ہو۔ حکومت اپنی پوری طاقت کو استعمال کر کے ملک میں بہترین انفراسٹرکچر وجود میں لائے۔ مذہب کو سیاست سے الگ رکھ کر لوگوں کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ میں جس مذہب کو چاہیں اختیار کریں، اور قومی پالیسی کو تمام تر سیکولر زم یا عمومی مفاد کی بنیاد پر قائم دنیا کے جس ملک نے بھی ترقی کی ہے، اس نے اسی تعمیری منصوبہ کو اختیار کر کے ترقی ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے بھی اس کے سوا کوئی اور دوسرا طریقہ نہیں۔