تعمیر ہند
Al-Risala, July 1999, pp. 29–37
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان اپنے رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے ملکوں میں تیسرا سب سے بڑا ملک لیکن ترقی کے جدید معیار کے اعتبار سے وہ دنیا کے ملکوں میں ۱۳۸ ویں نمبر پر شمار کیا جاتا شہری سہولتوں کے اعتبار سے وہ دبئی اور سنگاپور جیسے انتہائی چھوٹے ملکوں سے بھی بہت پیچھے ہندوستان کا یہ حال اس وقت ہے جب کہ اس کی آزادی پر ۵۰ سال سے بھی زیادہ مدت گزر چکی ہے ۔
اس صورت حال کے بے شمار نقصانات ہیں۔ انھیں میں سے ایک بہت بڑا نقصان یہ ہے کہ ملک کے بہترین دماغ بڑی تعداد میں باہر چلے جا رہے ہیں ۔ ہر نوجوان یہ چاہنے لگا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح باہر کے ترقی یافتہ ملکوں میں پہنچ جائے کیوں کہ ہندوستان میں رہ کر وہ ان ترقیاتی سہولتوں کو حاصل نہیں کر پا تا جو دور جدید کے ایک ترقی یافتہ ملک کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ ترقی کی دوڑ میں ہندوستان اس قدر پیچھے کیوں ہے۔ غالباً اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں ابھی تک وہ چیز نہ آسکی جس کو جواہر لال نہرو نے نیشنل انٹیگریشن کا نام دیا تھا۔ یعنی ملک کے مختلف گروہوں کے درمیان وہ اتحاد جو اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ مختلف گروہ یکجہتی کے ساتھ مل کر کام کریں۔
ہندوستان کے مختلف گروہوں میں سے دو گروہ سب سے بڑے ہیں۔ ہند واور مسلمان۔ انھیں دونوں گروہوں کے اتحاد پر ملک کے مجموعی اتحاد کا انحصار ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد ہو تو گویا کہ سارا ملک متحد ہو گیا۔ اور اگر ان دو بڑے گروہوں میں اتحاد نہ ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک اختلاف و انتشار کا شکار رہے گا اور جو ملک اس طرح داخلی بے اتحادی کا شکار رہے وہ کبھی ترقی کے اعلیٰ درجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی اس اہمیت کو مہاتما گاندھی نے نہایت گہرائی کے ساتھ محسوس کیا تھا۔ چنانچہ ۱۹۴۷ میں جب ملک آزاد ہوا تو انھوں نے اس کو اپنی زندگی کا واحد مشن بنا لیا کہ ملک کے دونوں فرقے مل جل کر رہنے لگیں۔ اس وقت انھوں نے اپنے تاریخی الفاظ میں کہا تھا کہ اس ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو امن کے ساتھ اور مل جل کر رہنا ہوگا ورنہ میں اس کوشش میں اپنی جان دے دوں گا۔
Hindus and Musalmans should learn to live together in peace and amity. Otherwise, I should die in the attempt. (P 449)
ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اسی خاص مقصد کے لئے نیشنل انٹیگریشن کونسل بنائی۔ اس کے بعد اس مقصد کے لئے بے شمار کوششیں کی جاتی رہیں جن کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مگر ۵۰ سال سے بھی زیادہ مدت گزرنے کے باوجود اس مقصد میں ابھی تک شاید ایک فی صد بھی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ ہندو مسلم تعلقات کا معاملہ بدستور ایک بعید خواب بنا ہوا ہے۔ اور اسی کے ساتھ ملک کی مطلوب ترقی بھی۔
کیا وجہ ہے کہ اتنا زیادہ ضروری مقصدی لمبی کوشش کے باوجود بھی تک حاصل نہ کیا اس کی وجہ میرے نزدیک صرف ایک ہے، اور وہ ہے ایک ممکن چیز کو ناممکن طریقہ سے حاصل کرنے کی کوشش۔ ہوا سے آکسیجن کا حصول ہر آدمی کے لئے پوری طرح ممکن ہے۔ اگر کوئی شخص آکسیجن کو اپنی ناک کے بجائے کان کے ذریعہ لینا چاہے تو یہ انتہائی ممکن چیز بھی اس کے لئے ناممکن ہو جائے گی۔
کوئی سماج، خواہ وہ ایک کلچر کا سماج ہو یا کئی کلچر کا سماج، اس میں ہمیشہ کچھ چیزیں لوگوں کے درمیان مشترک ہوتی ہیں۔ اور کچھ غیر مشترک ۔ یہ فطرت کا ایک لازمی تقاضہ ہے۔ در اصل انھیں دونوں تقاضوں کے درمیان ہم آہنگی کا فارمولا تلاش کرنے کا نام ہے۔ فارمولا کے حصول یا عدم حصول پر اس معاملہ کا انحصار ہے۔
۱۹۴ سے لے کر اب تک اس رخ پر کی جانے والی کوششوں کی ناکامی کا اصل سبب یہی ہے کہ حقیقی اتحاد کا کوئی فارمولا ابھی تک دریافت نہ کیا جاسکا۔ اور جو فار مولا دریافت کیا گیا وہ سرے سے قابلِ عمل ہی نہ تھا۔
اس سلسلہ میں سب سے پہلا فارمولا وہ ہے جس کی پشت پر مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بھگوان داس، ونوبا بھاوے جیسے بڑے بڑے لوگوں کے نام ہیں۔ اس فارمولے کو مختصر الفاظ میں مہاتما گاندھی نے اس طرح بیان کیا تھا۔ رام رحیم ایک ہے۔ ان لوگوں نے یہ سمجھا کہ مذہبوں کا الگ الگ ہونا یہی علیحدگی کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اگر تمام مذہبوں کو ایک ثابت کر دیا جائے تو یہ اختلاف اپنے آپ مٹ جائے گا۔ اور لوگوں کے اندر وہ جذباتی ہم آہنگی پیدا ہو جائے گی جو مطلوب ہے۔
مگر یہ نظریہ اصل مسئلہ کا معصومانہ حد تک کمتر اندازہ تھا۔ ان حضرات نے یہ کہا کہ مختلف مذاہب کی چند منتخب تعلیمات کو لے کر یہ سمجھ لیا کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ مگر مطالعہ کا یہ طریقہ یقینی طور پر غیر سائنٹفک ہے۔ کسی مذہب کے بارے میں کوئی رائے اس کی مجموعی تعلیمات کی روشنی میں قائم کی جائے گی نہ کہ صرف منتخب تعلیمات کی روشنی میں۔ مجموعی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہندوازم اور اسلام میں کھلا ہوا اختلاف
مثلاً ہندو مذہب میں حقیقت اعلیٰ کے بارے میں وحدتِ وجود (monism) کا تصور ہے اور اسلام میں توحید (monotheism) کا۔ ہندوازم میں خدا کی تجسیم یا اوتار کا تصور ہے اور اسلام میں خدا کے فرستادہ پیغمبر کا تصور۔ ہندو مذہب میں انسانی زندگی کے بارے میں آواجمن کا تصور ہے اور اسلام میں پہلی ہی موت کے بعد جزاو سزا کا تصور، وغیرہ۔ اعتقادیات کا یہ فرق اتنا زیادہ بنیادی ہے کہ اگر مذکورہ فارمولے کو اتحاد کا وسیلہ سمجھا جائے تو مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان کبھی اتحاد ممکن نہ ہوگا۔
اور ان کے جیسے دوسرے لوگوں نے اتحاد کا جو فارمولا وضع کیا اس کو ایک لفظ میں باہمی اعتراف (mutual recognition) کا فارمولا کہا جا سکتا ہے۔ مگر یہ فارمولا حقیقت پر مبنی نہیں، اس لئے وہ قابلِ عمل بھی نہیں۔
مذہب ایک مقدس عقیدہ کا نام ہے، مذہب میں ترمیم ممکن نہیں اس لئے ہمیں مذہب کو جیسا ہے ویسا (as it is) ہی ماننا ہوگا، ہمیں سماجی اتحاد کا ایک ایسا فارمولا دریافت کرنا ہو گا جو مذہب ہی تبدیلی کے بغیر قابلِ عمل اور قابلِ اختیار ہو۔
خوش قسمتی سے یہ قابلِ عمل فارمولا پیشگی طور پر ہمارے یہاں موجود ہے۔ دوسرے فارمولے کو مختصر طور پر باہمی احترام (mutual respect) کا فارمولا کہا جا سکتا ہے۔ جن ترقی یافتہ ملکوں (مثلاً امریکہ اور کناڈا) کے سماج میں اختلافات کے باوجود مذہی جھگڑے نہیں ہیں وہاں اسی دوسرے فارمولے کو اختیار کر کے ان جھگڑوں کو ختم کیا گیا ہے۔ ان ملکوں میں بھی مختلف مذاہب کے لوگ موجود ہیں۔ مگر وہاں انھوں نے غیر ضروری طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ میرا اور تمہارا مذہب ایک ہے۔ اس کے بجائے انھوں نے انگریزی مثل کے مطابق، اس اصول کو استعمال کیا کہ آؤ، ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ ہمارے درمیان اختلاف ہے: Let us agree to disagree یہ فارمولا کوئی انوکھا فارمولا نہیں۔ یہ فطرت کے اٹل اصول پر مبنی ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دنیا کے ہر شعبہ میں تعدد کا اصول ہے نہ کہ توحد کا۔ اسی حقیقت کا اعتراف شری گروگولو اگر نے اپنے ایک انٹرویو میں ان الفاظ میں کیا تھا کہ فطرت یکسانیت سے نفرت کرتی ہے (nature abhors uniformity) سوامی وویکا نند نے بھی اس حقیقت کا اعتراف اس طرح کیا کہ انھوں نے کہا کہ مذہبوں کے اختلاف کو مٹانا ممکن نہیں اس لئے تم کو ایسا کرنا چاہئے کہ ایک کی پیروی کرو اور کسی سے نفرت نہ کرو (follow one,and hate none)
اسی فطری اصول کو اہل مغرب نے اختیار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے درمیان فوراً ہی سماجی اتحاد قائم ہوگیا۔ اور وہ ترقی کی طرف تیزی سے سفر کرنے لگے۔ اگر وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ میرا اور تمہارا مذہب ایک ہے تو اس کے بعد ان کے یہاں جو چیز آتی وہ باہمی اتحاد نہ ہوتا بلکہ باہمی جھگڑا ہوتا۔ اور پھر وہ بھی اسی طرح ایک پس ماندہ ملک بنے رہتے جیسا کہ ہمارا ملک ہندوستان ہے۔
اختلاف فطرت کا ایک اٹل اصول ہے۔ اختلافات کو ختم کرنا کسی کے لئے بھی ممکن اس لئے سماجی اتحاد کا قابلِ عمل فارمولا صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے ۔ جو لوگ اختلاف کو مٹا کر اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں وہ حقیقت سے لڑرہے ہیں۔ حقیقت سے لڑ کر جیتنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔
اس سلسلہ میں دوسرا فارمولا وہ ہے جو گرو و گولوالکر اور ان کے ہم خیال لوگوں نے پیش انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف گروہوں کے درمیان اتحاد صرف اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ ان کے اندر سچی حب الوطنی (patriotism) پیدا کی جائے۔ بجائے خود یہ بات درست ہے کہ حب الوطنی کا جذبہ کسی ملک کے باشندوں کے لئے اتحاد کا نہایت طاقتور ذریعہ ہے۔ حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے جو فارمولا گرو و گولوالکر اور ان کے جیسے لوگوں نے پیش کیا وہ دوبارہ ایک نا قابلِ عمل فارمولا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نصف صدی سے زیادہ مدت تک اس کی لفظی دھوم مچانے کے باوجود عملاً وہ کسی بھی درجہ میں کامیاب نہ ہو سکا۔ گرو و گولوالکر اور ان کے ہم خیال لوگوں کا کہنا ہے کہ سچا محب وطن صرف وہ ہو سکتا ہے جو ملک (بھارت) کو مقدس سمجھے۔ ان کے نزدیک ہندو اس ملک کو مقدس سمجھتے ہیں اس لئے وہی سچے محب وطن ہیں۔ مسلمان اپنے عقیدۂ توحید کی بنا پر کسی ملک کو مقدس نہیں سمجھتے اس لئے وہ سچے محب وطن نہیں بن سکتے۔ اس مسئلہ کا حل انھوں نے یہ بتایا کہ مسلمانوں کو بھی اسی معنی میں محب وطن بنایا جائے جس معنی میں ہندو محب وطن ہیں۔ اس کے بغیر ملک میں حب الوطنی کی صحیح
فضا پیدا نہیں ہو سکتی۔
یہ نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ وہ ایک خود ساختہ مفروضہ پر قائم ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ اپنی ماں سے محبت صرف ہندو کر سکتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنی ماں کو ایک مقدس دیوی کے روپ میں دیکھتا ہے۔ مسلمان چونکہ اپنی ماں کو مقدس دیوی نہیں سمجھتا اس لئے وہ ماں سے محبت بھی نہیں کر سکتا۔ یہ بات بلاشبہ غلط ہے۔ اس لئے کہ ماں سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر لازمی طور پر ہوتا ہے، خواہ وہ ایک مذہب کو ماننے والا ہو یا دوسرے مذہب کو ماننے والا۔ ماں سے محبت پیدا کرنے کے لئے اس کی ضرورت نہیں کہ کوئی شخص اس کے بیٹے اور بیٹی کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرے کہ تمہاری ماں ایک مقدس دیوی ہے۔ تک اس کو مقدس دیوی نہیں مانو گے، تم اس سے محبت بھی نہیں کر سکو گے۔
ٹھیک یہی معاملہ وطن کا ہے۔ وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر انسان میں لازمی طور پر ہوتا ہے۔ کسی آدمی کا نظریہ یا مذہب خواہ کچھ بھی ہو، وہ پیدائشی طور پر مجبور ہے کہ جہاں وہ پیدا ہوا اور جہاں وہ پلا بڑھا ہے، اس سے وہ محبت کرے۔ یہ محبت اپنے آپ آدمی کے دل میں ہوتی ہے، اس کے لئے کسی بیرونی کوشش کی ضرورت نہیں۔
دنیا میں تقریبا دو سو ملک پائے جاتے ہیں۔ ہر ملک کے لوگ اپنے ملک سے محبت کرتے یہاں تک کہ جب ذاتی انٹرسٹ اور ملکی انٹرسٹ میں ٹکراؤ ہو تو وہ اپنے انٹرسٹ کو پیچھے رکھتے ہیں اور ملکی انٹرسٹ کو آگے۔ حالانکہ ان میں سے کسی بھی ملک کے باشندے اپنے ملک کو دیوی دیوتا کا درجہ نہیں دیتے۔ یہی حب الوطنی کا عالمی اصول ہے۔ ہمیں بھی اسی اصول کو اختیار ہندوستان میں حب الوطنی کا کوئی الگ جزیرہ نہیں بنا سکتے۔ اس قسم کی غیر حقیقی کوشش ملک کو تباہ تو کر سکتی ہے مگر ملک کی ترقی میں وہ ہرگز معاون نہیں ہو سکتی۔ اسی نظریہ کو کچھ لوگوں نے ایک خوبصورت نام دیا ہے جس کو وہ کلچرل نیشنلزم کہتے
یہ لوگ ہندوستان کے اکثریتی فرقہ کے کلچر کو ملکی کلچر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملک کے تمام باشندوں کے لئے ضروری ہے کہ اس کلچر کو اختیار کریں ورنہ ملک میں نیشنل اسپرٹ پیدا نہیں ہو
یہ نظریہ بھی سراسر غیر علمی اور غیر فطری ہے۔ وہ دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں اور نہ ہندوستان میں اس کو قائم کیا جاسکتا ہے۔
قومیت یا نیشن ہڈ کا تعلق صرف ہندوستان سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام ملکوں سے اس کا ایک متفقہ عالمی نظریہ ہے۔ ہمیں بھی اس معاملہ میں وہی اصول اختیار کرنا ہے جو عالمی سطح پر رائج ہے۔ اس معاملہ میں ہم خود ساختہ طور پر کوئی علیحدہ اصول اختیار نہیں کر سکتے۔ تمام قوموں کے متفقہ اصول کے مطابق، قومیت یا نیشن ہڈ کی بنیاد وطن (motherland) پر اسی اصول پر تمام دوسرے ملکوں میں قومیت کی تشکیل ہوئی ہے۔ ان ملکوں کے باشندوں میں نیشنل اسپرٹ پوری طرح موجود ہے۔ حتی کہ شاید ہندوستانیوں سے بہت زیادہ۔ گلوبل ولیج اور اقوام متحدہ کے اس دور میں ہم اپنا کوئی علیحدہ سیاسی گھروندا نہیں بنا سکتے۔ اور اگر بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے لئے پیشگی طور پر مقدر ہے کہ وہ ناکام ہو کر رہ جائے۔ اس نظریہ کے ماننے والوں کی کوشش یہ ہے کہ وہ ملک کے تمام باشندوں کو سرسوتی دیوی کی وندنا کرائیں اور اسکول کے تمام طلبہ کو وندے ماترم کے گیت میں شامل کریں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح اس کلچرل نیشنلزم کو لانے میں مدد ملے گی جس کے بغیر ان کے نزدیک ہندوستان میں قومیت کی تشکیل ممکن نہیں۔ یہ بھی بلاشبہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے۔ مثال کے طور پر سرسوتی کو علم کی دیوی سمجھا چنانچہ کہا جاتا ہے کہ سرسوتی کی وندنا سے علم اور تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس کی کامل تردید کرتے ہیں۔ ہندوستان میں سرسوتی کا گیت پچاس سال سے بھی زیادہ مدت سے گایا جارہا ہے۔ مگر یہاں ابھی تک کوئی قابل لحاظ علمی ترقی نہ ہو سکی۔ اس کے برعکس دور جدید کے
وہ ممالک جن کو ترقی یافتہ ممالک کہا جاتا ہے وہاں کے اسکولوں اور تعلیم گاہوں میں کسی علم کی دیوی کا گانا نہیں گایا جاتا۔ پھر بھی وہ، ہم سے اتنا زیادہ آگے ہیں کہ ہم شاید ان کے پیچھے بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرسوتی یا وندے ماترم مذہبی عقیدہ کی چیزیں ہیں۔ ان کا دنیوی شعبوں سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی شخص یا گروہ ذاتی عقیدہ کے طور پر ان کو اختیار کر سکتا ہے مگر وسیع تر اجتماعی زندگی میں ان کو داخل کرنا اور تمام لوگوں پر ان کو نافذ کرنے کی کوشش کرنا غیر فطری بھی ہے اور نا ممکن بھی۔ اس طرح کی کوشش کا کوئی فائدہ تو نہیں ہوگا، البتہ جھگڑوں میں اضافہ کر کے اصل مطلوب مقصد کا حصول مزید دشوار ہو جائے گا۔
اگر ہم ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتے ہیں تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ مذہبی عقیدہ کو لوگوں کا انفرادی معاملہ قرار دے کر ہر ایک کو اس کی آزادی دے دی جائے۔ جہاں تک اجتماعی معاملات کا تعلق ہے اس کو سیکولر بنیاد پر قائم کیا جائے۔ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں نے اسی اصول کو اختیار کر کے ترقی کی ہے۔ ہندوستان بھی اسی اصول کی بنیاد پر ترقی کر سکتا اس کے سوا دوسرا کوئی بھی راستہ مفید یا قابل عمل نہیں۔
وندے ماترم، سرسوتی کا گیت یا اس طرح کی اور چیزیں کسی مذہب کے خلاف ہوں یا نہ ہوں مگر یہ یقینی ہے کہ وہ ترقی کے خلاف ہیں۔ وہ مستقبل کی مطلوب تعمیر میں فیصلہ کن رکاوٹ ہمارے موجودہ لیڈروں کے لئے عقل مندی یہ ہے کہ وہ اس قسم کی چیزوں کو اپنے ذاتی عقیدہ تک محدود رکھیں۔ ان کو ملک کی قومی زندگی یا اجتماعی شعبوں میں داخل کرنے پر اصرار نہ اگر انہوں نے خود سے ایسا نہ کیا تو ملک کی اگلی نسلیں جبر اُن چیزوں کو پیچھے دھکیل دیں وہ ان کو چھوڑ کر خالص سیکولر بنیاد پر ملک کی تعمیر کریں گی۔ کیونکہ ترقی اس ملک کے ہر انسان کا سب سے بڑا مطلوب ہے۔ اور ایسی مطلوب چیز کے بارے میں انسان کبھی سمجھوتہ کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔
یہ واقعہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہو چکا ہے۔ وہاں کا مذہبی طبقہ پہلے مذہبی رسومات و عقائد کو سیکولر شعبوں سے جوڑے ہوئے تھا۔ اس کے نتیجے میں ان کی ترقی صدیوں تک رکی رہی یہاں تک کہ وہاں کے عوام نے بغاوت کر کے ان مذہبی زنجیروں کو توڑ دیا۔ بعد ترقی کی طرف ان کا سفر بے روک ٹوک شروع ہو گیا۔
یہ باغیانہ تحریک ہندوستان میں بھی شروع ہو چکی ہے۔ اس کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ ہماری نئی نسل جو اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہے وہ نمستے یا نمسکار کہنے کے بجائے ہائے اور ہیلو کہنے لگی ہے۔ ایسی حالت میں ہندوستانی لیڈروں کو چاہیے کہ وہ اس تبدیلی کو اختیارانہ طور پر قبول کر لیں جس کو انھیں مستقبل میں مجبورانہ طور پر قبول کرنا پڑے گا، کیونکہ عوامی بغاوت کا مقابلہ کرنے کی طاقت کسی کے اندر بھی نہیں۔