آخری بات
Al-Risala, July 1999, pp. 37–39
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۴۷ سے پہلے ہندوستان کی سیاسی آزادی کی جو پرجوش تحریک اٹھی اس کے ساتھ کس قسم کی بڑی بڑی امیدیں شامل تھیں اور کیسے رومانی خیالات کے سایہ میں وہ آگے بڑھ رہی تھی، اس کا اندازہ ایک شعر سے ہوتا ہے۔ ایک شاعر انقلاب کا یہ شعر اس زمانہ میں ہر گاؤں اور ہر شہر میں گونج رہا تھا:
آج ہمالہ کی چوٹی سے پھر ہم نے للکارا ہے دور ہٹواے دنیا والو ہندوستان ہمارا ہے۔ مگر آزادی ملنے کے بعد جلد ہی یہ سارا جوش و خروش جاتا رہا۔ آج ملک کے اہل فکر عام طور پر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری ہمالیائی تحریک نے ملک سے بیرونی قوم کے سیاسی غلبہ کو تو ختم کیا مگر اس کے جلد ہی بعد بیرونی قو میں اپنی تہذیبی برتری اور اقتصادی طاقت کی بنا پر دوبارہ ہندوستان میں داخل ہو گئیں ۔ آج ہر شعبہ میں دوبارہ انھیں کا غلبہ ہو گیا ہے۔ سے ملک کی قومی زبان ہندی ہے مگر عملی طور پر ملک میں جس زبان کا راج ہے وہ ہندی نہیں ہے
بلکہ انگریزی ہے۔
اسی طرح آج ہندوستان کے سماج میں مغربی کلچر تیزی سے چھایا جا رہا ہے۔ مارکیٹ پر بیرونی کمپنیاں اپنی برتر حیثیت کے ساتھ داخل ہو گئی ہیں۔ یہاں کا پریس اور یہاں کا میڈیا ان کا خادم بنتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ یہاں کی سیاست بھی بالواسطہ طور پر انھیں کے زیر اثر کام کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
یہ المناک واقعہ ہندوستانی لیڈر شپ کی ایک عظیم کو تاہی کو بتاتا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ لوگ ملک کے مسئلہ کو ہندوستانی ورسس انگریز (ہندوستانی بمقابلہ انگریز) کا مسئلہ سمجھ رہے تھے۔ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ انگریزوں کے سیاسی اقتدار کا خاتمہ ملک کی عظمت کو قائم کرنے کے ہم معنی مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ مسئلہ ہندوستان ورسس برٹش راج نہ تھا بلکہ وہ ہندوستان ورسس عالمی سیلاب تھا۔ پہلے تصور کے تحت یہ مسئلہ بظاہر طاقت ور ہندوستان کے مقابلہ میں کمزور انگریز کا مسئلہ تھا۔ مگر دوسرے پہلو سے یہ مسئلہ کمزور ہندوستان بمقابلہ طاقتور عالمی سیلاب اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں نشانہ کے مطابق سیاسی آزادی حاصل کرنے کے باوجود ہندوستان بدستور بیرونی طاقتوں کے مقابلہ میں مغلوب بنا ہوا ہے۔
یہی معاملہ اس مسئلہ کا بھی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ قدیم مسئلہ کو ایک لفظ میں آزادی سے تعبیر کیا گیا تھا، اب جدید مسئلہ کو ایک لفظ میں ہند تو سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہند تو آندولن کی لیڈر شپ دوبارہ وہی غلطی کر رہی ہے جو آزادی آندولن کی لیڈر شپ نے کی تھی۔ ہماری قدیم لیڈر شپ نے معاملہ کو دو ایسے فریقوں کے درمیان کا معاملہ فرض کر لیا تھا جس میں وہ بظاہر طاقتور دکھائی دے رہے تھے۔ اور فریق ثانی کمزور نظر آتا تھا جب کہ معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اسی طرح ہند تو لیڈر شپ اپنے معاملہ کو ہند و ورسس مسلم معاملہ سمجھ رہی ہے۔ اس تقسیم میں اس کو یہ سارا معاملہ اکثریتی فرقہ اور اقلیتی فرقہ کے درمیان کا معاملہ نظر آتا ہے۔
اس تقسیم کے تحت وہ سمجھتے ہیں کہ ہم طاقتور پوزیشن میں ہیں اور ہماری کامیابی یقینی ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ دوبارہ ہندوستان در س عالمی زمانی سیلاب کا ہے۔ یعنی یہ ہندوستان کے قدیم کلچر اور جدید سائنٹفک کلچر کے درمیان کا معاملہ ہے۔ اس معاملہ میں یقینی طور پر ہند تو اندولن فریق ثانی کے مقابلہ میں بیحد کمزور ہے۔ اس معاملہ میں عالمی دھارے کی حیثیت اگر سیلاب کی ہے تو ہند تو دھارے کی حیثیت محض ایک تنکے کی۔ یہ یقینی ہے کہ اس جدید مقابلہ میں ہند تو لیڈر شپ اس سے بھی زیادہ کمزور ثابت ہوگی جتنا کہ قدیم مقابلہ میں آزادی کی لیڈر شپ ثابت ہوئی تھی۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے، اور تاریخ کے فیصلہ کو بدلنا کسی بھی شخص کے لئے ممکن نہیں، خواہ وہ کوئی لیڈر ہو یا کوئی حکومت۔ اقی کمال کی سنٹرل استان قرآن دیانت اور انسان کی روشنی میں مولانا وحید الدین خان طبعت اسلامی مرکز مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان حدیث اور اس کے نام کی روشنی میں مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان حیات بشری کا ربانی طریقہ مولانا وحید الدین خان