Al-Risala · July 1999

پیغام عمل

Al-Risala, July 1999, pp. 40–45

By Maulana Wahiduddin Khan

آزادی کے بعد ہندوستان میں جو نئے مسائل پیدا ہوئے ان میں سے غالباً سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وہ انٹر ایکشن (ملنا جلنا) تقریباً ختم ہو گیا جو آزادی سے پہلے کے دور میں بڑے پیمانے پر جاری تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ ملک کے دونوں بڑے فرقے ان مواقع سے محروم ہو گئے جب دونوں کے درمیان نارمل فضا میں اختلاط ہو اور دونوں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے ہندوستان کی فضا میں تعمیر کے لئے متحدہ کوشش کر سکیں۔ یہ بلاشبہ بے حد سنگین واقعہ تھا اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوئے۔ آزادی کے بعد ملک میں ایک نئی بات یہ ہوئی کہ ہندوؤں کے وہ انتہا پسند طبقے ابھر آئے جو اس سے پہلے بڑی حد تک دبے ہوئے تھے۔ یہ واقعہ ہندو مسلم اتحاد کی راہ میں فیصلہ کن رکاوٹ مسلمانوں اور ہندوؤں کے دھارنے ایک دوسرے سے بڑی حد تک الگ ہو گئے ۔ نقصان بیک وقت دونوں فرقوں کو پہنچا، ہندوؤں کو بھی اور مسلمانوں کو بھی۔ نئے ہندوستان میں جب مسلمانوں کا معاملہ ہندوؤں سے پیش آیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ یہاں دو قسم کے ہندو پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی نسبت سے ان دونوں قسم کے ہندوؤں کو الگ الگ نام دیا جائے تو وہ یہ ہوگا۔ نو پرابلم ہندو (بے مسئلہ ہندو) اور پرابلم ہندو (با مسئلہ ہندو) مسلمانوں نے محسوس کیا کہ نو پرابلم ہندوؤں سے تو وہ با آسانی ملنے جلنے کا سلسلہ قائم رکھ سکتے ہیں، مگر پرابلم ہندو سے بظاہر اس قسم کا سلسلہ قائم رکھنا موجودہ حالت میں سخت مشکل ہے۔ آزادی کے بعد مسلمانوں کے درمیان جو قیادت ابھری اس نے اس مسئلہ کا حل یہ سمجھا کہ نو پرابلم ہندوؤں سے تعلقات بڑھائے جائیں اور ان کو لے کر پرابلم ہندوؤں کا مقابلہ کیا جائے۔ اس نظریہ کے تحت مسلمانوں میں کئی قیادتیں ابھریں اور کئی تحریکیں اور تنظیمیں برپا ہوئیں۔

شخصیتوں اور تحریکوں کے پرشور عمل کا سلسلہ تقریباً چالیس سال تک جاری رہا۔ مگر نتیجہ بالکل بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر پرابلم ہندوؤں نے ۱۹۷۳ء کے مقابلہ میں سوگنا زیادہ طاقت حاصل کرلی۔ وہ ملک کے اکثر اجتماعی اداروں میں داخل ہوگئے۔ انہوں نے مرکزی اور ریاستی سطح پر اپنی حکومت بنالی، وغیرہ۔

نو پرابلم ہندوؤں کو لے کر پرابلم ہندوؤں کا مقابلہ کرنا، ایک غیر فطری اور غیر حکیمانہ یہ ایک منفی نقطہ نظر ہے، اور منفی نقطہ نظر کے تحت کی ہوئی کوئی بھی کوشش کبھی مثبت نتائج پیدا نہیں کر سکتی۔ مثبت نتیجہ ہمیشہ مثبت جدوجہد کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے نہ کہ منفی جدوجہد کے ذریعہ۔

اس نقطہ نظر کا مزید نقصان یہ ہوا کہ ہندوستان کے مسلمان عملاً اس ملک میں ایک احتجاجی گروہ بن کر رہ گئے۔ مذکورہ نقطہ نظر عین اپنی فطرت کے مطابق، احتجاج اور شکایت کا ذہن پیدا کرتا ہے۔ اور یہی مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔ ان کا ہر اخبار ایک احتجاج نامہ بن گیا۔ ان کے جلسے احتجاجی جلسوں میں تبدیل ہوگئے۔ ان کے درمیان ایسے لوگ قائد بن کر ابھرنے لگے جو اپنے پر شور الفاظ کے ذریعہ مسلمانوں کی احتجاجی نفسیات کو تسکین دے سکتے تھے۔ احتجاج یا شکایت، دل کی بھڑاس نکالنے کا دوسرا نام ہے۔ نئے ہندوستان میں یہاں کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے دل کی بھڑاس نکالیں، وہ اپنے اندر پائے جانے والے غم و غصہ کے لئے ایک لفظی نکاس (outlet) پالیں۔ اس ملک میں مسلمانوں کو ایک تخلیقی کردار (creative role) ادا کرنا تھا۔ اور ملک کی قسمت بنانے میں اپنا وہ تاریخی حصہ ادا کرنا تھا جو قانون فطرت کے تحت کسی زندہ اقلیت کے لئے مقدر ہے۔

انگریز مورخ آرنلڈ ٹوائن بی نے اپنی کتاب (اسٹڈی آف ہسٹری) میں اقلیتوں کے اس رول کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ یہی بات قرآن میں اس طرح بتائی گئی ہے۔

چھوٹی جماعتیں اللہ کے اذن سے بڑی جماعتوں پر فائق ثابت ہوئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (البقرہ ۲۴۹)

اس آیت میں اذن سے مراد قانونِ فطرت ہے جو اللہ نے اپنی حکمت کے تحت اس دنیا میں قائم فرمایا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ جب بھی کوئی اقلیتی گروہ کا مقابلہ کسی اکثریتی گروہ سے پیش آتا ہے تو اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ کے اندر وہ اعلیٰ صفت پیدا ہوتی ہے جس کے مجموعہ کا نام قرآنی اصطلاح میں صبر ہے۔ یعنی چیلنج کا فائق تر سطح پر جواب دینے کا جذبہ پیدا اس طرح چیلنج اور رسپانس کا میکانزم اقلیتی گروہ کے اندر نئی اور تخلیقی صفات پیدا کرتا ہے۔ وہ مسائل کا برتر حل دریافت کرتا ہے۔ یہ عمل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اقلیت خود بھی کامیاب ہوتی ہے اور پورے سماج کے لئے بھی زندگی کا نیا تحفہ دینے کا سبب بن جاتی ہے۔ پیش آمدہ مسائل کا جواب اگر منفی انداز میں دیا جائے تو اسی کا نام بے صبری ہے۔ پیش آمدہ مسائل کا جواب مثبت انداز میں دیا جائے تو اسی کو قرآن کی اصطلاح میں صبر کہا گیا ہے۔ منفی عمل کا مثبت جواب دینا، یہی تخلیقیت کا اہم ترین عنصر ہے۔ اور یہی وہ خاص صفت ہے جو کسی اقلیتی گروہ کو اکثریتی گروہ سے بھی زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کے قابل بنا دیتی ہے۔ اب پہلا سوال یہ ہے کہ اس ملک کے مسلمان اس تاریخی کردار کو ادا کرنے کے لئے کیا کریں جو ان کے لئے فطرت کے قانون کے تحت مقدر ہے۔ اس سلسلہ کا پہلا اور ضروری کام وہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ یعنی مسلمان اپنی احتجاجی سیاست کو ختم کر دیں اور اس کے بجائے مثبت تعمیری سیاست کا طریقہ اختیار کریں۔

ہندوستان کے مسلمان اس وقت جس مقام پر ہیں اس کو ایک لفظ میں فریاد و شکایت کا مقام کہا جا سکتا ہے۔ پچاس سال سے زیادہ مدت تک اس طرز کی پالیسی کو اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھیں مسلسل مدافعت کی زبان بولنی پڑی۔ ان کا کیس اس ملک میں مظلومانہ فریاد کا کیس بن گیا

جو گروہ اس قسم کی نفسیات میں مبتلا ہو وہ کبھی کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے سکتا۔ انجام دینے کے لئے اقدامی نفسیات درکار ہوتی ہے نہ کہ دفاعانہ نفسیات۔ خوش قسمتی سے اس ملک میں وہ اسباب اور مواقع پوری طرح موجود ہیں جو مسلمانوں کو دفاعانہ مقام سے اٹھاکر اقدامی سطح پر پہنچادیں۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ مواقع کو جانیں اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کریں۔

مسلمانوں کو مظلومانہ پوزیشن سے اٹھ کر اقدامی پوزیشن تک پہنچنے کے لئے کیا کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا کام یہ ہے کہ اس رکاوٹ کو درمیان سے ہٹادیا جائے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے بڑے پیمانہ پر میل جول میں حائل ہیں۔ وہ ہے ملک کی اجتماعی سرگرمیوں میں بھارتیہ سنسکرتی کو غیر ضروری طور پر داخل کرنا۔ مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ حکیمانہ جدوجہد کے ذریعہ برادرانِ وطن کو اس پر راضی کریں کہ وہ اپنی قدیم سنسکرتی کو صرف اپنے ذاتی دائرے میں محدود رکھیں ، وہ اس کو اجتماعی پروگراموں یا سماجی سرگرمیوں میں دخیل نہ کریں۔ جس دن ایسا ہو گا اسی دن اپنے آپ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان انٹر ایکشن بڑھ جائے گا اور وہ مشترکہ جدوجہد وجود میں آجائے گی جس میں دونوں فرقے مل کر ہندوستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کریں۔ جب یہ واقعہ پیش آئے گا تو اس کے بعد خود قانونِ فطرت کے تحت ایسا ہونے لگے گا کہ جو مسلمان کے پاس ہے وہ اس کو ہندوؤں تک پہنچائیں گے۔ اور جو ہندوؤں کو حاصل ہے اس کے ثمرات مسلمانوں تک پہنچنے لگیں گے۔ اس مشترکہ عمل کے نتیجہ میں اپنے آپ ایک نیا کلچر نئی زندگی کی تشکیل پائے گی۔ اس کے بعد اپنے آپ ایک نیا نظام بنے گا جو ہندو اور مسلمان دونوں کے لئے مفید ہوگا۔

اس تاریخی عمل کو ظہور میں لانے کے سلسلہ میں دونوں ہی فرقوں کی اہم ذمہ داریاں ہندو فرقہ کو یہ جاننا ہوگا کہ وہ کسی انسانی گروہ سے تو لڑ سکتا ہے مگر وہ فطرت سے

نہیں لڑ سکتا۔ بھارتیہ سنسکرتی کو ملک کی اجتماعی زندگی میں شامل کرنے کا منصوبہ اصلاً کسی انسانی گروہ کے خلاف نہیں۔ وہ فطرت اور تاریخ اور عالمی رجحان کے خلاف ہے۔ اس بنا پر وہ یقینی طور پر ناقابل عمل ہے۔

میں ایک بار مہاراشٹر کے ایک شہر میں گیا وہاں ایک ہندو اور ایک مسلمان سے ملاقات دونوں کے درمیان پہلے دوستی تھی ، اس کے بعد دونوں میں ایک خاص مسئلہ میں نزاع ہو مہینوں کی کوشش کے باوجود جب یہ نزاع ختم نہ ہوئی تو ہندو نے مسلمان سے کہا کہ آؤ، ہم اپنے اختلاف کو بازو میں رکھ دیں اور بقیہ امور میں مل جل کر کام کریں۔ اسی قسم کا ایک قصہ بمبئی میں پیش آیا۔ یہاں ایک مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان تجارتی اشتراک ہوا۔ پہلے ہی دن اپنے مسلم پارٹنر سے کہا کہ دیکھو میرے اور تمہارے درمیان تجارتی معاملات میں کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ ایک مسئلہ ایسا ہے جس میں میرے اور تمہارے درمیان اتفاق نہیں، وہ اسرائیل کا مسئلہ ہے۔ میں اور تم دونوں یہ طے کر لیں کہ ہم اسرائیل کے مسئلہ پر کبھی بات نہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہودی اور مسلمان کا یہ تجارتی اشتراک نہایت کامیاب رہا۔ ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو وسیع تر اعتبار سے اسی فارمولے کو اختیار کرنا دونوں کے درمیان یہ امر مشترک ہے کہ ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنایا جائے۔ بعد جو چیز اختلاف کی ہے وہ صرف یہ ہے کہ اس تعمیری عمل میں غیر ضروری طور پر بھارتیہ سنسکرتی کو شامل کیا جائے۔ اب ہندو فرقہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ بھارتیہ سنسکرتی کو اپنے ذاتی دائرہ تک اس معاملہ میں ہندو فریق اگر اس تفریق پر راضی ہو جائے تو اس کے متحدہ عمل کے لئے تمام دروازے پوری طرح کھل جائیں گے۔

ایسا ہونا بے حد ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہندو مسلم تعلقات صرف نو پرابلم ہندوؤں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ وہ پرابلم ہندوؤں تک وسیع نہ ہو سکیں گے۔ جب کہ پرابلم ہندوؤں

کو شریک کے بغیر ملکی تعمیر کی کوئی بڑی جدوجہد زیر عمل نہیں لائی جاسکتی۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، انھیں بھی صرف ایک کام کرنا ہے۔ وہ یہ کہ ہندوستان میں ہندو فرقہ اکثریت میں ہے اس بنا پر فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ معاملات پیش آتے ہیں جن کو اب تک تعصب اور زیادتی کی اصطلاحوں میں بیان کیا جاتا رہا ہے۔ اس طرح کے واقعات ہر سماج میں اور ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ ان واقعات کو چیلنج کے روپ وہ ان کو کسی مخصوص فرقہ کی کارروائی سمجھنے کے بجائے فطرت کے نظام کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں۔

مطالعہ بتاتا ہے کہ کسی واقعہ کو ظلم سمجھنے سے شکایت کا مزاج بنتا ہے۔ اس کے برعکس جب واقعہ کو چیلنج سمجھا جائے تو خود فطری قانون کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں۔ اس کی خفیہ قابلیت (latent potential) ظہور میں آنے لگتی ہے۔ وہ صرف ایک انسان تھا تو اب وہ سپر انسان (superman) بن جاتا ہے۔ اس طرح وہ اس قابل بن جاتا ہے کہ اپنی بڑھی ہوئی استعداد کے ساتھ چیلنج کا مقابلہ کر کے کامیابی سے دوچار ہو۔ یہی وہ مخصوص مقام ہے جہاں لمبے تاریخی عمل کے بعد ہند اور مسلمان دونوں پہنچے اب بہترین عقل مندی یہ ہے کہ بیسویں صدی کے خاتمہ کے ساتھ قدیم غیر فطری پالیسی کو ختم کر دیا جائے۔ تاکہ جب آنے والی صدی کا سورج طلوع ہو تو وہ ہمارے لئے ایک نئے اور بہتر ہندوستان کی خوش خبری کے ہم معنی بن جائے۔

Printed page