ایک سیاسی جائز ہ
Al-Risala, July 1999, pp. 46–363
By Maulana Wahiduddin Khan
1947 سے پہلے ہندوستان میں مسلم قائدین نے جو تحریکیں چلائیں وہ وسیع تر تقسیم میں دو تھیں۔ ایک کو عام فہم زبان میں اتحادِ ہند کی تحریک اور دوسری کو تقسیم ہند کی تحریک کہہ سکتے ہیں۔ بظاہر یہ دونوں تحریکیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ بتاتا ہے کہ دونوں کے اندر ایک مشترک خامی موجود تھی۔ اور وہ تھی حقیقی حالات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ نہ کرنا۔
جن قائدین نے اتحادِ ہند کی تحریک چلائی وہ سارے معاملے کو انگریز اور ہندوستانی کا مسئلہ سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سارے مسئلے کی جڑ انگریز ہے۔ ہندو اور مسلمان دونوں ایک جان دو قالب ہیں۔ ان کے درمیان جھگڑے کا کوئی امکان ہی نہیں۔ یہ صرف انگریز ہیں جنھوں نے ایک کو دو میں بانٹ کر لڑا رکھا ہے۔ اسی تصور کو اقبال احمد سہیل نے 1947 سے پہلے ان الفاظ میں نظم کیا تھا۔
یوں شیشہ و ساغر ٹکرائیں منہ دیکھتے میکش رہ جائیں اس فن کو جہاں میں اور کوئی جز ساقی دانا کیا جانے یہ اصل صورت حال کا نہایت سرسری اندازہ تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز ہی میں مختلف اسباب سے برادرانِ وطن میں ہندو انتہا پسندی کی تحریک شروع ہو گئی تھی جو دن بدن طاقتور ہوتی چلی گئی۔ 1947 سے پہلے یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد یقینی طور پر مسلمانوں کو ایک شدید تر خطرہ پیش آئے گا۔ یہ ہندو قوم پرستی یا ہندو انتہا پسندی کا خطرہ تھا۔
مگر اتحاد پسند مسلم قائدین نے اس خطرہ کے مقابلہ کے لئے کوئی تیاری نہیں کی۔ حتیٰ کہ انھوں نے یہ بھی نہیں کیا کہ مسلمانوں کو پیشگی طور پر اس خطرہ سے آگاہ کر دیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۴۷ کے بعد جب مسلمانوں کو یہ خطرہ پیش آیا تو وہ صرف احتجاج یا منفی رد عمل کے درجہ میں اپنی کارروائیاں کرتے رہے۔ انھوں نے اس خطرہ کے مقابلہ میں نہ تو کوئی گہری منصوبہ بندی کی اور نہ اس کے مقابلہ میں وہ کوئی حقیقی عملی تدبیر کر سکے۔ ہندوستان میں سماجی اتحاد کے لئے سیکولر فارمولا استعمال کرنا تھا۔ مگر اصل صورت حال یہ تھی کہ یہاں مختلف مذہبی گروہ موجود تھے اور ہر گروہ کے لیڈروں نے ان کے اندر پر شور طور پر یہ مزاج بنایا تھا کہ ۔ میں ہندو ہوں، میں مسلمان ہوں، میں سکھ ہوں، میں عیسائی ہوں وغیرہ۔ اس طرح یہاں کا مذہبی طبقہ شدت کی حد تک اس احساس میں مبتلا تھا کہ ہم ایک الگ مذہبی گروہ ہیں اور یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی علیحدہ شناخت (identity) کو سختی کے ساتھ قائم رکھیں۔
اس طرح کے سماج میں سیکولرزم کا اتحادی فارمولا کامیاب نہیں ہو سکتا تھا۔ کامیابی کی لازمی شرط یہ تھی کہ یا تو لوگوں کے اندر گروہی تفریق کے مزاج کو ختم کیا جائے یا ان کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ اپنی علیحدہ مذہبی حیثیت کو باقی رکھتے ہوئے انہیں دوسروں کا بھی پورا احترام کرنا چاہئے۔ مگر ذہنی اور فکری تربیت کا یہ کام انجام نہیں دیا گیا۔ نعروں اور تقریروں کے ذریعہ یہ امید کر لی گئی کہ لوگوں کے درمیان سیکولر اتحاد قائم ہو جائے گا۔ حقیقی حالات کے اعتبار سے یہ ناممکن تھا اس لئے وہ حاصل بھی نہ ہو سکا۔ یہی معاملہ نئے مسلم ملک (پاکستان) میں ایک اور شکل میں پیش آیا۔ جس خطہ میں پاکستان بنا وہاں مختلف بنیادوں پر زبردست گروہی احساسات موجود تھے۔ یہاں کے لوگ
انھیں احساسات میں جی رہے تھے۔ میں بنگالی ہوں، میں پنجابی ہوں، میں سندھی ہوں، میں بلوچی ہوں، میں سنی ہوں، میں شیعہ ہوں وغیرہ۔
ان تفریقی احساسات کو ختم کرنے یا ان کو غیر موثر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی البتہ یہ کوشش کی گئی کہ نعروں اور تقریروں کی دھوم کے ذریعہ اسلام کو پورے ملک کے لئے اتحاد کی اساس بنا دیا جائے۔ عالم اسباب میں ایسا ہونا ممکن نہ تھا اس لئے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا۔
اسلام بلاشبہ انسانوں کو متحد کرنے کی طاقت رکھتا ہے مگر اسلام کی یہ کرامت اسی وقت ظاہر ہو سکتی ہے جب کہ لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں اسلام کو پوری طرح اتار دیا خارجی نعروں اور اوپر کی تقریروں کے ذریعہ یہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک تقسیم ہند کے حامی قائدین کا تعلق ہے وہ بھی اسی طرح کے بھرم میں انھوں نے سمجھا کہ سارا معاملہ ہندو قوم اور مسلم قوم کے باہمی اختلاف کا ہے۔ اور اس کا آسان حل یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جغرافی تقسیم کر دی جائے جب ہندوالگ ہوگا اور مسلمان الگ تو اپنے آپ تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔ مگر یہ اصل صورت حال کا ایک غیر حقیقی اندازہ تھا۔ حقیقی حالات کے اعتبار سے اصل صورت حال یہ تھی کہ تقسیم کا نتیجہ صرف یہ نکلے کہ جو مسائل پہلے ہندو اور مسلمان کے درمیان تھے وہ تقسیم کے بعد نئے مسلم ملک میں مسلم اور مسلم کے درمیان مزید اضافہ کے ساتھ ابھر آئیں۔ ۱۹۴۷ کے بعد نئے مسلم ملک میں عملاً ایسا ہی پیش آیا۔ ہر وہ نزاع جس کا ذکر پہلے ہندو کی نسبت سے کیا جاتا تھا وہ نئے ملک میں خود مسلمانوں کی نسبت سے بہت بڑے پیمانے پر پیدا ہو گئی۔
۱۹۴۷ سے پہلے کچھ ایسے دانش ور موجود تھے جو دونوں گروہوں کو آنے والے خطرے سے ڈراتے تھے۔ اتحاد ہند کے قائدین کو ہندوانتہا پسندی کے خطرہ سے اور تقسیم ہند کے قائدین کو خود مسلمانوں کی نسل پسندی اور علاقہ پسندی کی ذہنیت سے۔ گروہوں نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں اس بھرم میں مبتلا تھے کہ ان کے پاس اتحاد کا ایسا فارمولا موجود ہے جو ہر افتراق کی کاٹ کے لئے کافی ہے۔ اتحاد پسند قائدین سمجھتے تھے کہ ان کے پاس سیکولرزم کا تیر بہدف فارمولا موجود ہے۔ اور سیکولرزم کے نظریہ کے تحت ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک رشتہ میں جوڑ کر متحد کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف تقسیم ہند کے قائدین یہ سمجھتے تھے کہ ان کے پاس اسلام کا معیاری نظریہ ہے جو مختلف مسلم گروہوں کو ایک رشتہ میں باندھنے کے لئے کافی ہے۔ مگر تجربات بتاتے ہیں کہ یہ دونوں ہی خوش فہمی بے بنیاد ثابت ہوئی۔ نہ ہندوستان میں سیکولرزم یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک رشتہ میں متحد کر سکا اور نہ پاکستان میں اسلام کے نعرہ کا یہ فائدہ ہوا کہ وہاں کے مختلف مسلم گروہ باہم متحد ہو کر رہیں۔
اس تلخ انجام کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ سیکولرزم یا اسلام میں لوگوں کو متحد کرنے کی طاقت نہیں۔ سیکولرزم اور اسلام دونوں ہی کسی سماج میں اتحادی فورس بن سکتے ہیں۔ مگر وہ اتحادی طاقت اسی وقت بنیں گے جب کہ انہیں استعمال کیا ہندوستان اور پاکستان کے اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دونوں میں سے کسی نظریہ کو صحیح طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔
ہندوستان پاکستان دونوں ملکوں میں جو ہوا وہ یہ تھا کہ یہاں سیکولرزم کے نعرے
لگائے گئے اور پاکستان میں اسلام کے نعرے۔ اور کسی نعرہ کو سماجی اتحاد کے لئے استعمال کرنا صرف اس وقت ممکن تھا جب کہ وہاں لمبی مدت تک فکری تحریک کا کام کیا جائے، سماج کے افراد اس سے متاثر ہوں۔ اور سماج میں پیش نظر منصوبہ کے موافق ضروری ذہنی فضا تیار
یہ کام اس حد تک ہو کہ پورا سماج مطلوب اسکیم کو قبول کرنے کے لئے فکری اور مزاجی طور پر تیار ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں فطرت کے مطابق اصلاح کا اصول یہ ہے پہلے ایجوکیشن، اس کے بعد اقدام۔ یہی کسی اصلاح کی صحیح ترتیب ہے۔ مگر انڈیا اور پاکستان میں جو ہوا وہ انگریزی مثل کے مطابق، گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھنے کے ہم اور جو لوگ اپنی گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھیں۔ ان کی گاڑی اس عالم اسباب میں کبھی چلنے والی نہیں۔
The Qur'an Rs. 295.00 Tr. T.B. Irving The Koran 195.00 Tr. M.H. Shakir Heart of the Koran 195.00 by Lex Hixon The Moral Values of the Quran by Harun Yahya 125.00 The Essential Arabic 200.00 by Rafi'el-Imad Faynan Presenting the Qur'an 125.00 by Saniyasnain Khan The Wonderful Universe of Allah 85.00 by Saniyasnain Khan The Soul of the Qur'an 145.00 by Saniyasnain Khan Tell Me About Hajj 295.00 by Saniyasnain Khan The Muslim Prayer Encyclopaedia 325.00 Ruqaiyyah Waris Maqsood After Death, Life! Ruqaiyyah Waris Maqsood Living Islam: 295.00 Ruqaiyyah Waris Maqsood A Basic Dictionary of Islam 295.00 Ruqaiyyah Waris Maqsood The Muslim Marriage Guide 250.00 Ruqaiyyah Waris Maqsood The Beautiful Commands of Allah 125.00 Ruqaiyyah Waris Maqsood The Beautiful Promises of Allah 175.00 Ruqaiyyah Waris Maqsood Muslim Travel Guide (Forthcoming) — Ruqaiyyah Waris Maqsood Muhammad: A Mercy to all 250.00 the Nations by Q. A. Jairazbhoy A-Z Steps to Leadership 95.00 by Abdul Ghani Ahmed Barrie The Sayings of Muhammad 75.00 by Sir Abdullah Suhrwardy The Life of the Prophet by Mohd. Marmaduke Pickthall
August 1999 • No. 273 • Rs. 9 سوچے سمجھے بغیر اقدام کرنا ایسا ہی ہے جیسے آنکھیں بند کر کے کانٹوں اور پتھروں سے بھرے ہوئے راستہ میں گھس پڑنا۔