Al-Risala · August 1999

خدائی قانون

Al-Risala, August 1999, pp. 4–7

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں اہل اسلام کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں نہ تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی برا کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔ اور وہ نہ پائے گا اللہ کے سوا اپنا کوئی حمایتی اور نہ مددگار۔ اور جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشر طیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان پر ذرہ برابر بھی ظلم نہ ہو گا (النساء ۱۲۲۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاح و نجات کا خدائی قانون ایک ہی قانون ہے۔ مسلمان اور غیر مسلمان دونوں اسی قانون کے ماتحت ہیں۔ جو اس خدائی معیار پر پورا اترے گا اس کے لئے کامیابی ہے اور جو اس معیار پر پورا نہ اترے اس کے لئے ناکامی۔ کسی گروہ سے نسلی تعلق کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔

نجات کی یہ بنیاد دو چیزوں پر قائم ہے، ایمان اور عمل صالح۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ نجات کا انحصار تمام تر کچھ صفات پر ہے نہ کہ کسی گروہ سے نسلی تعلق پر۔ اس سلسلہ میں پہلی مطلوب صفت اللہ پر ایمان ہے۔ ایمان سے مراد کچھ الفاظ کو زبان سے بول دینا نہیں بلکہ اس سے مراد معرفت اور یقین کی وہ حالت ہے جب کہ آدمی خدا کے وجود کو اس طرح دریافت کرے کہ وہی اس کے لئے سب سے بڑی حقیقت بن خدا اس کی یادوں کا سب سے بڑا سرمایہ ہو۔ خدا کی عظمت کا احساس اس کو ہلا دے۔ خدا کے انعامات کا تصور اس کے اندر شکر کا چشمہ جاری کر دے۔ وہ سب سے زیادہ خدا سے

ڈرے اور سب سے زیادہ خدا سے محبت کرے۔ خدا کی ذات ہی اس کی سوچ اور اس کے جذبات کا مرکز و محور بن جائے۔

اس قسم کا ایمان جب کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے تو اس کی عملی زندگی بھی اس کے مطابق تشکیل پانے لگتی ہے۔ اس کی روز مرہ کی زندگی کا نقشہ بھی اس کی اندرونی تڑپ کے مطابق بننا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ صحیح فکر لازمی طور پر صحیح عمل پیدا کرتی ہے۔ فکر اور عمل کے درمیان اسی مطابقت کا شرعی نام عمل صالح ہے۔ اس عمل صالح کا تعلق زندگی کے ان تمام معاملات سے ہے جس سے آدمی کا سابقہ آدمی جب بولے تو اس کا ہر بول اسی ایمان کی خوشبو میں بساہو ہو۔ جب وہ کسی سے معاملہ کرے تو اس کے ہر معاملہ میں اسی ایمان کا رنگ دکھائی دے۔ جب کسی کے ساتھ اختلاف یا نزاع پیش آئے تو یہاں بھی اس کا ایمان اس کے لئے رہنما بن جائے۔ لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی محبت اور نفرت، اس کی دوستی اور دشمنی، اس کا جڑنا اور اس کا کٹنا، سب اس کے ایمان کے تابع بن جائے۔ یہی عمل صالح ہے، اور اس عمل صالح کے بغیر کسی کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔

امت کے افراد میں جب زندہ شعور موجود ہو، تو وہ اسی معنی میں صاحب ایمان ہوتے ہیں اور اسی معنی میں صاحب عمل بھی۔ مگر جب امت پر دور زوال آتا ہے تو اس کے افراد میں اس قسم کا زندہ ایمان اور زندہ عمل باقی نہیں رہتا۔ وہ اب بھی ایمان اور عمل صالح کا نام لیتے ہیں مگر اس کی حقیقی اسپرٹ ان کے یہاں پائی نہیں جاتی۔ ان کے یہاں الفاظ ہوتے ہیں مگر وہ معانی سے خالی ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں بظاہر عمل ہوتا ہے مگر حقیقی روح کے بغیر۔ تنزل کے اس دور میں جو خرابی پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ لوگ امانی پر جینے لگتے ہیں۔

کی تشریح اس روایت سے ہوتی ہے جس کو اس آیت کا سبب نزول بتایا گیا ہے۔ مطابق، یہود و نصاری نے کہا کہ جنت میں صرف وہ شخص جائے گا جو ہمارے گروہ سے ہو (قالت اليهود والنصارى لن يدخل الجنة الا من كان منا) اس پر یہ آیت اتری۔ ایک اور روایت کے مطابق مسلمانوں نے اور اہل کتاب نے ایک دوسرے پر فخر اہل کتاب نے کہا کہ ہمارا پیغمبر تمہارے پیغمبر سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے۔ پس ہم تمہارے مقابلہ میں اللہ کے یہاں زیادہ حق دار ہیں۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہمارا نبی آخری نبی ہے۔ اور ہماری کتاب دوسری کتابوں پر فیصلہ کرنے والی ہے۔ اس پر یہ آیت اتری (تفاخر المؤمنون واهل الكتاب فقال اهل الكتاب: نبينا قبل نبيكم وكتابنا قبل كتابكم ونحن احق بالله منكم وقال المؤمنون نبينا خاتم النبيين وكتابنا يقضى على سائر الكتب فنزلت الآية) تفسیر اس روایت سے امانی کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے بجائے آرزوؤں اور خوش فہمیوں پر نجات کی بنیاد رکھ لینا۔ اس کی ایک صورت فخر ہے یعنی ذاتی صفات کے بجائے کچھ ظاہری چیزوں کو بنیاد بنانا اور اس سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کر لینا۔

کون شریعت پہلے آئی اور کون شریعت بعد کو آئی، یہ خدا کے یہاں افضلیت کی بنیاد اسی طرح یہ بھی اصل اہمیت کی چیز نہیں کہ کون اس رسول کے نام پر بننے والے گروہ سے وابستہ تھا اور کون اس رسول کے نام پر بننے والے گروہ سے۔ اسی طرح یہ بھی فیصلہ کی بنیاد نہیں کہ کس کا دین افضل ہے اور کس کا دین غیر افضل۔ یہ سب خدا کے

نزدیک غیر متعلق باتیں ہیں۔ خدا ہر ایک کو اس کی ذاتی صفات کے اعتبار سے جانچے گانہ کہ کسی اور اعتبار سے۔

Printed page