بگاڑ کا دور
Al-Risala, August 1999, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو سعید کہتے ہیں۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ضرور اتباع کرو گے ان لوگوں کی جو تم سے پہلے تھے ، بالشت برابر بالشت اور ہاتھ برابر ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کی بل میں داخل ہوئے ہیں تو تم بھی اس میں داخل ہو جاؤ گے۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول کیا وہ یہود و نصاری ہیں۔ آپ نے جواب دیا اور کون (لتتبعن سنن من قبلكم شبر ا بشبر وذراعا بذ راع حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتمو هم قبل يارسول الله اليهو د والنصاری قال فمن) متفق عليه، بحواله مشكاة المصابيح یہ حدیث ایک اعتبار سے پیشین گوئی ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ نصیحت ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتیں زوال کے جس قانون کی زد میں آئیں، امت مسلمہ اس سے اس امت کے بعد کی نسلوں میں بھی وہی تمام بگاڑ لازمی طور پر پیدا ہوں گے جو پچھلی امتوں کی بعد کی نسلوں میں پیدا ہوئے۔
یہ بگاڑ کیا ہے۔ وہ بگاڑ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر شعوری ایمان کے بجائے نسلی ایمان پیدا ہو افراد امت میں دینی حساسیت باقی نہ رہے، اس کے بجائے لوگ دینی بے حسی میں جینے دینی مظاہر تو ان کے در میان دکھائی دیں مگر ان کے در میان دینی اسپرٹ کا فقدان ہو چکا ان کا دین قومی دین ہو نہ کہ وہ دین جو خوف خدا کے تحت پیدا ہو تا ہے۔ وہ آخرت کا نام لیتے ہوں مگر ان کی تو جہات کا مرکز صرف دنیا کے مفادات بنے ہوئے ہوں ۔ وہ عملاً غیر دینی
سرگرمیوں میں مشغول ہوں مگر انہوں نے ان غیر دینی سرگرمیوں پر دین کا لیبل لگا رکھا ہو۔ جب امت پر یہ وقت آجاۓ تو اس وقت اس کی اصلاح نو کی ضمانت یہ ہے کہ اس کے درمیان صحیح قسم کے مصلحین پیدا ہوں، ایسے مصلحین جو از سر نو ان کے اندر صحیح دینی بیداری پیدا کریں۔ وہ ان کی پسندیدہ خوراک دینے کے بجاۓ انہیں نصیحت کریں۔ کے عیوب بتا کر انہیں اپنی اصلاح پر ابھاریں۔ وہ انہیں جھنجھوڑیں نہ کہ لوریاں سنا کر ان کو دوبارہ سلا دیں۔
امت مسلمہ اپنے بعد کے زمانے میں یہود و نصاریٰ کی پیروی کرے گی ۔ مراد صرف شکلی تقلید نہیں ہے یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ باعتبار شکل انہوں نے بگاڑ کے جو جو کام کئے ہیں ان کو امت مسلمہ کے لوگ بھی اسی طرح دہرائیں گے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی بگڑا مزاج امت مسلمہ کے لوگوں میں بھی پیدا ہو جاۓ گا اس لئے وہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی سب کام کرنے لگیں گے جو یہود و نصاریٰ نے اپنے دور زوال
اصل یہ ہے کہ امت کی ابتدائی نسل میں خدا کا دین اپنی اصولی حیثیت میں ہوتا ہے۔ بعد کے زمانے میں وہ اصولی مذہب کے مقام سے گزر کر قومی مذہب کی سطح پر آجاتا ہے۔ اس کے بعد مختلف قسم کے جو بگاڑ آتے ہیں وہ سب اسی قومی مذہب کے مظاہر ہوتے ہیں۔ اصولی مذہب اصولی کردار پیدا کرتا ہے اور قومی مذہب قومی کردار۔