Al-Risala · August 1999

گروہی صداقت

Al-Risala, August 1999, pp. 8–10

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ اور یہود نے کہا کہ نصاریٰ کسی چیز پر نہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ یہود کسی چیز پر نہیں اور وہ سب آسمانی کتاب پڑھتے ہیں۔

اِسی طرح ان لوگوں نے کہا جن کے پاس علم نہیں، اِنہی کے جیسا قول۔ پس اللہ قیامت کے دن اس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ جھگڑ رہے تھے (البقرہ ۱۱۳) قرآن کی اس آیت میں زوال یافتہ امت کی اس خرابی کا ذکر کیا گیا ہے جس کو گروہی صداقت کہا جا سکتا ہے۔ دور زوال میں ایسا ہوتا ہے کہ امت بہت سے گروہوں میں بٹ اس کا ہر گروہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ صرف میرا گروہ حق پر ہے اور دوسرے تمام گروہ باعتبار حقیقت، ان میں سے ہر ایک کا دین گروہ پرستی ہوتا ہے مگر بطور خود ہر گروہ یہ فرض کر لیتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو حق پرستی پر قائم کر رکھا ہے۔ اس اختلاف کا سبب کیا ہے۔ اصل یہی ہے کہ امت پر جب زوال کا دور آتا ہے تو خدا کی رسی لوگوں کے ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے۔ اب وہ خدا کو چھوڑ کر کسی نہ کسی غیر خدا کو اپنی توجہیات کا مرکز بنا لیتے ہیں۔ یہی چیز اختلافات کا اصل سبب ہے۔ اگر لوگ خدا کی رسی پکڑے ہوئے ہوں تو چونکہ خدا ایک ہے اس لئے ان کی جماعت بھی ایک بنے گی۔ خدا کے بجائے دوسری چیزیں لوگوں کی عقیدہ اور توجہ کا مرکز بن جائیں تو چونکہ چیزیں متعدد ہیں اس لئے ان کی جماعتیں بھی متعدد ہو جائیں گی۔

ایک خدا کے ساتھ اعتصام امت کو ایک واحد گروہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس جب لوگوں کا تعلق خدا سے کمزور ہو جائے تو ہر طبقہ اپنے حالات کے لحاظ سے الگ الگ مرکزِ عقیدت بنا لے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امت کی وحدت کمزور ہو جائے گی اور اس کے افراد مختلف گروہوں میں بٹ کر منتشر اور منقسم ہو جائیں گے۔

اس معاملہ کی نسبت سے انسانوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو سچائی کو خدا کی نسبت اور دوسرے وہ جو سچائی کو اپنے گروہ کی نسبت سے پہچانے۔ خدا کے نزدیک پہلا

گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا گروہ ضلالت پر۔

خدا کو سچائی کی نسبت سے پہچاننے والے وہ لوگ ہیں جو حق کو ماننے کے لئے صرف اس بات کو کافی سمجھیں کہ اس کے حق میں خدا کی دلیل موجود ہو۔ خدا کی دلیل سامنے آنے کے بعد اس کا اعتراف کرنے کے لئے انہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہ ہو۔

اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہوتا ہے جو سچائی کو صرف اپنے گروہ کی نسبت سے ان کے نزدیک حق صرف وہ ہوتا ہے جو ان کے گروہ ہی مسلک کے مطابق ہو، جس کے حق میں ان کے گروہ ہی بزرگوں کا قول موجود ہو، جس کی تائید ان کی گروہ ہی کتابوں سے ہو رہی جس چیز کے حق میں یہ گروہ ہی شہادتیں نہ پائی جائیں اس کی حقانیت پر یقین کرنا ان کے لئے ممکن نہیں ہوتا، خواہ اس کے حق میں کتنی ہی زیادہ خدائی دلیلیں دے دی گئی ہوں ۔ ان دونوں جماعتوں میں پہلی جماعت خدا پرست ہے اور دوسری جماعت گروہ پرست، خواہ وہ بطور خود اپنے آپ کو خدا پرست کیوں نہ بتا رہی ہو۔

Printed page