Al-Risala · August 1999

ناحق مال کھانا

Al-Risala, August 1999, pp. 10–12

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ایک حکم اس طرح آیا ہے۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور اپنے مال کے مقدمہ کو اس لئے حاکموں کے پاس نہ لے جاؤ تا کہ تم دوسروں کے مال کا کوئی حصہ باطل طریقہ سے کھا جاؤ۔ حالاں کہ تم اس کو جانتے ہو (البقرہ ۱۸۸) نزول قرآن کے زمانہ میں مدینہ کے بعض مسلمانوں سے ایک کمزوری ظاہر ہوئی۔ کے بعد قرآن میں یہ ہدایت اتاری گئی۔ یہ آیت خصوصی طور پر بعد کے مسلمانوں کے لئے بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، بعد کی مسلم نسلوں میں یہ خرابی عمومی طور پر پیدا ہو جائے گی جو کہ دور اول میں صرف جزئی طور پر ظاہر ہوئی تھی۔ اس آیت میں مال و جائیداد کے ایسے نزاعی معاملات کا ذکر ہے جن میں آدمی کو معلوم ہو

کہ انصاف کی رو سے وہ اس کا حقدار نہیں۔ زیر نزاع جائیداد یا مال حقیقتاً اس کے بھائی کا ہے نہ کہ لیکن اس ذاتی علم کے باوجود وہ اپنے مقدمہ کو انسانی عدالت میں لے جائے۔ جس چیز کو وہ اپنے ضمیر کی عدالت سے بجاطور پر نہیں پا سکتا تھا اس کو خارجی عدالت کے ذریعہ بے جا طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔

انسانی حاکم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ظاہر کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ وہ مقدمہ کے الفاظ کو دیکھتا ہے نہ کہ اس کی اصل حقیقت کو۔ اس لئے یہاں یہ موقع ہوتا ہے کہ اپنے مقدمہ کی ایسی لفظی تصویر بنائی جائے جو حاکم یا بنچ کو گمراہ کر دے۔ وہ ظاہری الفاظ کی بنیاد پر ایسا فیصلہ دے دے جو حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہو۔

جب لوگوں کے دلوں میں آخرت کی پکڑ کا خوف ہو تو وہ مال اور جائیداد کے ایسے مقدمات عدالت میں نہیں لے جائیں گے جن کی بابت ان کا دل پیشگی طور پر یہ کہہ رہا ہو کہ یہ میرا حق مگر جب دلوں میں آخرت کا خوف نہ رہے تو ذاتی مفادات ہی لوگوں کے رہنما بن وہ بے تکلف ایسے معاملات کو لے کر انسانی عدالت میں پہنچ جاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ مقدمہ کو عدالت کے سامنے ایسے پر فریب الفاظ میں پیش کر سکیں گے جن سے متاثر ہو کر وہ ایک ایسی چیز انہیں دے دے جو از روئے حق ان کی نہیں ہے۔ ضمیر کی عدالت کے سامنے جھک جانا اس بات کی علامت ہے کہ امت زندہ دین پر قائم ہے اور جب لوگ ضمیر کی عدالت کو نظر انداز کر کے اپنے مقدمات انسانی عدالتوں میں لے جانے لگیں تو سمجھنا چاہیے کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ گئی۔

ایک شخص جس کے سینہ میں اللہ کا ڈر ہو، جو آخرت کی پکڑ کا اندیشہ رکھتا ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ عدالت میں صرف اپنا جائز حق لینے کے لئے جاتا ہے، نہ کہ عدالت کی طاقت سے دوسروں کے حق پر اپنا قبضہ قائم کرنے کے لئے۔ عدالت کے زور پر ایک ایسی

چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا جرم ہے جو حقیقی معنوں میں اس کی نہ ہو۔ آخرت کی پکڑ سے ڈرتا ہو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک چیز اس کے قبضہ میں ہو مگر اس کا دل کہہ رہا ہو کہ وہ اس کی نہیں ہے تو عدالتی فیصلہ کا انتظار کئے بغیر وہ ایسی چیز کو اصل حقدار کے حوالہ کر دے گا۔ کیونکہ اس کو یقین ہوگا کہ جو چیز از روئے واقعہ میری نہیں وہ کسی انسانی عدالت کے فیصلہ کی بنا پر میری نہیں ہو سکتی، خواہ وہ عدالت کتنی زیادہ بڑی کیوں

Printed page