Al-Risala · August 1999

غیر شرعی بنیاد

Al-Risala, August 1999, pp. 12–15

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں ارشاد ہوا ہے کہ۔ اور تم آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طور پر نہ کھاؤ اور ان کو حاکموں تک نہ پہنچاؤ تا کہ دوسروں کے مال کا کوئی حصہ تم حق تلفی کر کے کھا جاؤ۔ حالاں کہ تم اس کو جانتے ہو (البقرہ ۱۸۸)

اس سے مراد وہ صورت حال ہے جب کہ ایک چیز جو شرعی قانون کے تحت نہ مل سکتی ہو اس کو غیر شرعی قانون کے زور پر حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایک ایسا مال یا ایک ایسی جائداد جس کے متعلق معلوم ہو کہ شریعت الہی کے مطابق وہ تمہارا حق نہیں ہے اس کو غلط تدبیر کے ذریعہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو۔ ایسا نہ کرو کہ ایسے مال اور جائداد کے معاملہ کو دنیوی عدالت میں لے جاؤ اور اس کے زور پر وہ چیز حاصل کرنے کی تدبیر کرو جو از روئے شریعت تمہاری نہیں ہے۔

جب بھی کسی مال یا جائداد کا مسئلہ پیدا ہو تو عام حالات میں انسان کا ضمیر ہی یہ بتانے کے لئے کافی ہوتا ہے کہ از روئے واقعہ وہ کس کا حق ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق معاملہ کرے۔ جو اس کا حق ہے اس کو اپنے پاس رکھے اور جو

دوسرے کا حق ہے اس کو دوسرے کے حوالے کر دے۔

تاہم بعض حالات میں ضمیر کی رہنمائی واضح نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں آدمی کو چاہئے کہ شریعت کے معلوم قوانین کی روشنی میں اس کو جانچے اور شریعت کے ذریعہ جو فیصلہ مل رہا ہو اس کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اسی پر راضی ہو جائے۔ اگر معاملہ دو فریق کے درمیان نزاعی ہو اور بطور خود اس کا فیصلہ نہ کیا جا سکتا ہو تو دونوں فریقوں کا فرض ہے کہ وہ اس معاملہ کو شرعی عدالت میں لے جائیں۔ اگر باضابطہ شرعی عدالت کا نظام قائم نہ ہو تو دوسری صورت یہ ہے کہ اس معاملہ میں علماء اسلام کی طرف رجوع کیا جائے اور یہ علماء اپنے شرعی علم کے مطابق جو فیصلہ دیں اس کو بلا بحث مان لیا جائے۔ نزاعی معاملات میں یہی طریقہ خدا کا مطلوب طریقہ ہے۔ جو لوگ ایسا کریں کہ وہ اپنا مقدمہ غیر شرعی عدالتوں میں لے جائیں، جو مال یا جائیداد انہیں شرعی قانون کے تحت نہیں مل سکتا تھا اس کو غیر شرعی عدالت کے زور پر حاصل کرنے کی کوشش کریں وہ بلا شبہ خدا کی نظر میں سرکشی کے مجرم ہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ بیک وقت اپنے لئے دو خطرہ مول لے رہے ہیں۔ ایک یہ کہ غیر شرعی عدالت کے زور پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کے با وجود زیر بحث معاملہ میں ان کی حیثیت خدا کے نزدیک غاصب کی رہے گی نہ کہ مالک کی۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد جب وہ خدا کی بر تر عدالت میں پہنچیں تو وہاں ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو خدا کے نافرمانوں کے لئے مقدر ہے۔

موجودہ زمانہ میں بھی اکثر ملکوں (مثلاً ہندوستان) میں تقریباً یہی صورت حال قائم ہے یعنی ہر ملک میں بیک وقت دو مختلف قسم کے فیصلے حاصل کرنے کے انتظامات ہیں ایک طرف علمائے دین ہیں، جو لوگ اپنے مسائل میں ان علماء سے رجوع کریں، وہ شریعت کی

روشنی میں ان کے معاملات کا فیصلہ دیں گے۔ دوسری طرف ملکی عدالتیں ہیں جہاں انسانی ساخت کے قوانین رائج ہیں، جہاں وکیلوں کو بڑی بڑی فیس دے کر ان کے ذریعہ غلط طور پر اپنے موافق فیصلے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

اس طرح دنیا کے اکثر ملکوں میں مسلمان دوبارہ اسی آزمائش میں مبتلا ہیں جس آزمائش میں مدینہ کے دورِ اول کے مسلمان مبتلا تھے۔ اب جو مسلمان ایسا کریں کہ جب بھی ان کے درمیان کوئی نزاع پیش آئے خواہ وہ نکاح و طلاق کا معاملہ ہو یا مال اور جائیداد کا معاملہ، وہ اس کا فیصلہ خدائی شریعت سے کرائیں، یعنی وہ اپنے اس طرح کے معاملات کو دینی علماء (یا دار الافتاء اور دار القضاء) کے پاس لے جائیں۔ معاملہ کے دونوں فریق اپنا اپنا نقطہ نظر علماء کے سامنے بیان کریں۔ اس کے بعد وہ شریعت کی روشنی میں جو فیصلہ دیں اس کو دونوں فریق پوری طرح مان لیں۔ اس کے بعد نہ وہ اپنی نزاع کو دوبارہ جاری رکھیں اور نہ ایسا کریں کہ جس فریق کے خلاف فیصلہ ہوا ہو وہ اس کو لے کر ملکی عدالت تک پہنچ جائے اور دوبارہ وہاں از سر نو اس کے خلاف مقدمہ شروع کرا دے۔

اس کے برعکس جو مسلمان اپنے نزاعی معاملات کو علماء کے پاس نہ لائیں بلکہ وہ اس کو ملکی عدالتوں میں لے جاکر ہر قیمت پر اپنے حق میں فیصلہ لینے کی کوشش کریں۔ بلا شبہ مذکورہ آیت کا مصداق ہیں۔ وہ خدا اور رسول کو چھوڑ کر شیطان (طاغوت) کے پاس

یہ صورتِ حال تمام مسلمانوں کے لئے ایک سنگین آزمائش ہے۔ جو لوگ اپنے نزاعی معاملات کا فیصلہ خدائی شریعت کے مطابق لیں اور برضاور غبت اس کو قبول کرلیں، وہ اس آزمائش میں پورے اترے۔ ایسے لوگ خدا کے یہاں مخلص مسلمان ثابت ہوں گے

اور خدائی انعامات کے مستحق قرار پائیں گے۔

اس کے برعکس جو لوگ ایسے معاملات میں خدائی شریعت کو نظر انداز کر دیں، اور مفاد پرستی اور خود غرضی کے جذبہ کے تحت اپنا مقدمہ ان عدالتوں میں لے جائیں جن کے متعلق ہندوستان کے ایک ماہر قانون نے بجاطور پر کہا ہے کہ یہ عدالتیں مبنی بر مقدمہ بازی (litigation-based) ہیں نہ کہ مبنی بر صداقت (truth-based)۔ ایسے لوگ بلاشبہ اسی مجرمانہ ذہنیت کے شکار ہیں جس کا ذکر اوپر کی آیت میں آیا ہے ان عدالتوں کے متعلق معلوم ہے کہ وہاں انصاف کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ وہاں معاملات کا فیصلہ قانونی نکتوں پر ہوتا ہے نہ کہ حقیقی واقعات پر۔ اب جو لوگ ایسا کریں کہ وہ خدائی شریعت کے مطابق فیصلہ لینے کے لئے تیار نہ ہوں۔ بلکہ مذکورہ قسم کی عدالتوں میں اپنے معاملات لے جائیں وہ بلاشبہ اللہ کے پرستار نہیں، بلکہ وہ طاغوت کے پرستار ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے سخت اندیشہ ہے کہ وہ ”نماز روزہ“ کے باوجود خدا کے نزدیک مجرم قرار پائیں اور آخرت میں ان کا انجام وہ ہو جو غیر خدا کے پرستاروں کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔

Printed page