Al-Risala · August 1999

تحریفِ کتاب

Al-Risala, August 1999, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں یہود کے علماء کی بابت ارشاد ہوا ہے کہ پس خرابی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے تاکہ اس کے ذریعہ تھوڑی سی پونجی حاصل کر لیں۔ پس خرابی ہے اس چیز کی بدولت جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لئے خرابی ہے اپنی اس کمائی سے۔ کسی امت کے بعد کے لوگ جب زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ تو ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ظاہری عقیدہ کے اعتبار سے تو وہ خدا کی کتاب کو مانتے ہیں مگر ان کی عملی زندگی سر تا سر

کتاب الہی سے آزاد ہو جاتی ہے۔ وہ خدا کی کتاب کا زبانی اقرار کرنے کے باوجود اپنی زندگی کو پوری طرح خواہشات کے راستہ پر چلا دیتے ہیں۔

اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر، اب بھی وہ اپنے کو حق پرست ظاہر کرتے ہیں۔ کوشش یہ ہوتی ہے کہ خواہ وہ عملی اعتبار سے کتنا ہی زیادہ منحرف ہو جائیں مگر خدا پرست ہونے کا لیبل اب بھی ان کے اوپر لگا رہے۔ اس مقصد کے لئے وہ خدا کی کتاب کی ایسی خود ساختہ تفسیر و تعبیر کرنے لگتے ہیں جس کے تحت ان کی بگڑی ہوئی زندگی عین خدائی ، شریعت کے مطابق نظر آنے لگے۔

یہودی علماء نے خدا کی کتاب میں تحریف کا یہ کام بہت بڑے پیمانے پر کیا۔ نے اپنے فاسد خیالات اور غلط کردار کو درست ثابت کرنے کے لئے خدا کی کتاب میں تحریفات کر کے اس کو اپنے مطابق ڈھال لیا۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، یہی فعل بعد کے حامل کتاب بھی انجام دیں گے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ یہود نے کتاب کے متن میں تحریفات کیں اور بعد کے لوگ متن کی تشریح میں یہی کام انجام دیں گے۔ غلط روی ایک عام انسانی کمزوری ہے۔ مگر جب کوئی حامل کتاب گروہ غلط روی کا شکار ہو جائے تو وہ اپنی مخصوص نفسیات کی بنا پر یہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ جو کچھ کرے وہی خدا کی کتاب میں بھی لکھا ہوا ہو۔ اس قسم کی خود ساختہ تفسیر و تشریح بلا شبہ بہت بڑا جرم ہے۔ جب زوال کا دور آتا ہے تو وہ اپنے ساتھ بے حسی ضرور لے آتا ہے۔ اب لوگ خدائی معاملات میں زیادہ حساس نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ دور زوال میں حسب حال دینی تشریحات عام ہو جاتی ہیں۔ لوگ دنیا کے فائدہ کی خاطر دین کو بدل ڈالتے ہیں۔ تحریف کا یہ معاملہ ہمیشہ دور زوال میں پیش آتا ہے جب کسی حامل کتاب پر زوال

آتا ہے تو وہ اس معنی میں نہیں ہوتا کہ وہ علانیہ طور پر دین سے بے تعلق ہو جائے۔ اس معنی میں ہوتا ہے کہ لوگ بظاہر تو دین سے وابستگی کا اعلان کرتے ہیں مگر ان کا سرکش مزاج یا ان کی خود غرضانہ نفسیات دین کے تابع بننے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ یہی وہ وقت ہے جب کہ ان کے درمیان وہ عمل شروع ہو جاتا ہے جس کو قرآن میں تحریف کہا گیا اب وہ لوگ یہ کرتے ہیں کہ خدا کے کلام کو بدل کر یا اس کی خود ساختہ تشریح کر کے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہی خود خدا کے دین کا تقاضا بھی ہے۔ یہ گویا بے عملی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ بے عملی خدا کے یہاں معاف ہو سکتی ہے مگر سرکشی یقینی طور پر قابل معافی نہیں۔

Printed page