فرضی کریڈٹ
Al-Risala, August 1999, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں اہل کتاب کے بارے میں ارشاد ہوا ہے ---- جو لوگ اپنے کئے ہوئے پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے (آل عمران۔ آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خدا اور رسول کا نام لینا چھوڑ دے یا خدا کی کتاب سے اپنی بے تعلقی کا اعلان کر دے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی روایات میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہ اس کا پر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔ اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہو جائے اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لئے ممکن نہیں تاہم اس کا یہ تعلق محض رسمی تعلق ہوتا ہے نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقی تعلق۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری کرتے ہیں، وہ بے دین ہو کر بھی اپنے کو دیندار کہلانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ان کو اس کا کریڈیٹ دیا جائے جس کو
انھوں نے کیا ہی نہیں۔ وہ نجات اخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اسی کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جس کے مطابق ان کو اپنی نجات بالکل محفوظ نظر وہ اپنے خود ساختہ دین پر چلتے ہیں مگر وہ اپنے کو دین خداوندی کا علم بردار بتاتے وہ دنیوی مقاصد کے لئے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان وہ خود ساختہ سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت کرتے ہیں۔ قومی مفادات کے لئے اٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیر امت کا کردار ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔
مگر کوئی شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا ... آدمی دنیا کی طرف دوڑے اور آخرت سے بے پرواہ ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار کو خدا اور رسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر سرکشی کا کیوں کہ یہ ایسے کام پر انعام چاہنا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔ حال امت مسلمہ کے افراد کا بھی اس وقت ہو جاتا ہے جب کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ
امت کے افراد میں زندہ ایمان موجود ہو تو ان کی حساسیت پوری طرح بیدار رہتی ہے ان کی یہ حساسیت اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ ایسے کام کا کریڈیٹ لینا چاہیں جس کو حقیقی اعتبار سے انھوں نے انجام ہی نہیں دیا مگر جب قوم پر زوال آتا ہے تو اس میں یہ حساسیت زندہ نہیں رہتی۔ اب ان کے افراد بے حسی کا شکار ہو جاتے ہیں یہی بے حسی وہ چیز ہے جو انھیں آمادہ کرتی ہے کہ وہ ایسے عمل کا انعام لینے کے لئے دوڑ پڑے جس کو زروئے واقعہ انھوں نے انجام ہی نہ دیا ہو۔