Al-Risala · August 1999

خدا کی رحمت سے دوری

Al-Risala, August 1999, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں یہود کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ...... بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے ۔ کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے بڑھ جاتے تھے ۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے برائی سے جو وہ کرتے تھے ۔ نہایت برا کام تھا جو وہ کر رہے تھے ۔ ( المائدہ ۔

لعنت کے معنی عربی زبان میں رحمت اور خیر سے دور کرنے کے ہیں (الابعاد والطرد من الخیر ، لسان العرب ) قرآن کی آیت بتاتی ہے کہ یہود جب دینی گراوٹ کا شکار ہوئے تو حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ کے ذریعہ ان پر لعنت کی گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے آکر یہ کہا کہ اے یہود تم پر لعنت ہو۔ بلکہ انہوں نے یہ کیا کہ یہود کی چھپی ہوئی بے دینی کو ظاہر (expose) کر دیا۔ انہوں نے ان کی اصل حقیقت کو بے نقاب

زوال کے دور میں کسی امت سے جو چیز رخصت ہوتی ہے وہ حقیقت دین ہے۔ جہاں تک رسوم و ظواہر کا تعلق ہے وہ اب بھی پوری دھوم کے ساتھ اس کے یہاں موجود یہی حال یہود کا اپنے دور زوال میں ہوا۔ ان کے یہاں دین کی اصل حقیقت گم ہو چکی تھی مگر لباس، وضع قطع، ظاہری عبادات، دین کے نام پر نمائش سرگر میاں، اس قسم کی چیزیں ان کے یہاں دھوم کے ساتھ جاری تھیں۔ مگر دین کے جو حقیقی تقاضے ہیں وہ ان کے یہاں موجود نہ تھے۔ ان کے پیغمبر نے اس معاملہ کو طاقتور انداز میں بیان کر کے ان کی حقیقت کھول دی۔

اس آیت میں اس سلسلہ میں ایک بنیادی چیز کی نشان دہی کی گئی ہے، اور وہ ہے نہی عن المنکر کی اہمیت ۔ یہود جزئی اور ظاہری نوعیت کی چیزوں میں دین کی خوب نمائش کرتے تھے مگر اسی کے ساتھ ان کا یہ حال تھا کہ معاشرہ میں وہ دیکھتے تھے کہ لوگ اخلاقی برائیاں کر رہے ہیں، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ زیاد تیاں کر رہے ہیں ، لوگ معاملات میں خدائی احکام کو چھوڑے ہوئے ہیں مگر وہ دیکھنے اور جاننے کے باوجود چپ رہتے تھے۔ وہ برائی کرنے والوں کی مذمت نہیں کرتے تھے۔ یہی دو عملی ان کور رحمت خدا وندی سے دور کرنے کا باعث بنی۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے اس سے اس معاملہ کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ اس کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل جب گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ان کو ان گناہوں اور برائیوں سے روکا مگر وہ ان سے نہیں رکے۔ اس کے باوجود علماء ان کی مجلسوں میں بیٹھتے رہے۔ ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے۔ پھر اللہ نے ایک کا اثر دوسرے پر ڈال دیا اور پھر داؤد اور عیسیٰ کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم کو معروف کا حکم دینا ہوگا اور تمہیں منکر سے روکنا ہوگا اور تمہیں ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہوگا تمہیں لوگوں کو حق کی طرف موڑنا ہوگا ورنہ اللہ تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح یہود پر لعنت کی ( تفسیر ابن کثیر ۲ / ۸۳ )

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد اصلاً کوئی حکومتی نظام نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں ہر مسلمان، خصوصاً علماء کے اندر یہ اسپرٹ موجود ہو کہ وہ برائی کو کسی حال میں گوارہ نہ کریں۔ معاشرہ میں خیر کی نصیحت کا ماحول ہو۔

یہ عمومی مزاج ہو کہ وہ معاشرہ کے اندر برائی اور زیادتی کو کسی حال میں برداشت نہ کریں۔ جب بھی ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر کسی قسم کی زیادتی کرتا ہوادکھائی دے تو پورا معاشرہ اس کو رد کر دے۔ ایسے مسلمان کو سمجھایا جائے۔ اگر سمجھانا کافی نہ ہو تو معاشرہ کے لوگ اس کی کھلی مذمت کریں۔ اس پر اتنا زیادہ معاشرتی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنی غلط کاری کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے۔

مسلم معاشرہ میں برائی کی مذمت کرنا اور برائی کرنے والے کو روکنا اتنا زیادہ ضروری ہے کہ اگر کوئی مسلم معاشرہ اس ذمہ داری کو ادا نہ کرے تو اس کیلئے اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی رحمت سے محروم کر دیا جائے، خواہ اس کے درمیان نمائشى مذہب پوری دھوم کے ساتھ موجود ہو۔

Printed page