فرضی عقیدہ
Al-Risala, August 1999, pp. 21–24
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں یہود و نصاریٰ کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ــــ اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ تم کہو کہ پھر وہ تمہارے گناہوں پر تم کو سزا کیوں دیتا ہے۔ نہیں بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے ایک آدمی ہو ۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ ہی کے لئے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (المائدہ ۱۸)
دور زوال میں امت کے افراد میں جو غلط تصورات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اس بھرم میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں سے افضل ہیں۔ ان کا معاملہ خدا کے یہاں دوسروں سے مختلف ہوگا۔ دوسرے لوگ جن باتوں پر پکڑے جائیں گے اس پر ان کی
پکڑ ہو ہونے والی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ امت جب خیر وصلاح کی حالت پر ہوتی ہے تو اس کو خدا کی طرف سے بشارتیں ملتی ہیں۔ اس کے افراد کے لئے رحمت و مغفرت کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یا بشارت تمام تر ان کے حسنِ عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے نہ کہ امت سے محض نسلی تعلق کی دور زوال میں لوگ اس فرق کو بھول جاتے ہیں۔ وہ ان بشارتوں کو نسل اور وراثت سے متعلق سمجھ لیتے ہیں جو صرف کردار اور صلاحیت سے تعلق رکھتی تھیں۔ فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کی یہی غلطی ہے جس کی بنا پر بعد کو آنے والے زوال یافتہ لوگ ایک ایسے انعام کو اپنا حصہ سمجھ لیتے ہیں جس کا استحقاق انہیں سرے سے حاصل ہی نہیں۔
خدا کے نزدیک ہر آدمی یکساں ہے۔ خدا ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان صرف کردار کی بنیاد پر فرق کرتا ہے نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ امت کے افراد میں جب دین کا حقیقی شعور زندہ ہو تو کسی اشتباہ یا مغالطہ کے بغیر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں کہ ان کا رب ان کے ساتھ دوسروں سے مختلف معاملہ صرف اس وقت کرے گا جب کہ ان کا حقیقی عمل دوسروں سے مختلف ہو۔ بصورت دیگر، خدا کے یہاں ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان کے جیسے دوسرے انسانوں کا انجام ہونے والا ہے۔
لیکن امت جب اپنے دور زوال میں پہنچ جائے تو اس کے افراد حقائق کے بجائے خوش فہمیوں میں جینے لگتے ہیں۔ اس دور زوال میں امت کے افراد میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان میں سے ایک وجہ ہے جس کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا۔
نسلی نجات یا گروہی نجات کا تصور قرآن و حدیث میں سراسر اجنبی ہے۔ خدا کی نظر میں تمام انسان یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ گروہ یا نسل جیسی چیزوں سے ایک انسان اور
دوسرے انسان میں فرق نہیں ہوتا۔ فرق کا سبب صرف ایک ہے اور وہ حقیقی عمل کوئی شخص اگر اپنے قول و عمل کے اعتبار سے اپنے آپ کو دوسروں سے مختلف ثابت کرے تو وہ خدا کی نظر میں مختلف انسان قرار پائے گا اور اس کا انجام دوسروں سے مختلف
قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نسلی یا گروہی یا ملی بنیاد پر لوگوں کے درمیان جو فرق پایا جاتا ہے وہ صرف پہچان کے لئے ہے۔ اس فرق کا کوئی بھی تعلق فلاح و نجات سے نہیں۔ نجات کا معاملہ سراسر انفرادی ہے۔ کوئی شخص خواہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، وہ اگر متقی ہے تو خدا کے یہاں اس کا درجہ ہے، ورنہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح صرف ایک یہ معاملہ ایک اور آیت میں مزید واضح کیا گیا ہے۔ یہ البقرہ کی آیت نمبر ۶۲ ہے۔
اس آیت میں چار معروف مذہبی گروہوں کا ذکر ہے۔ مسلمانوں کو بھی ان چار مذہبی گروہوں میں سے ایک مذہبی گروہ کی حیثیت دی گئی ہے۔ گویا کہ مذہبی گروہ یا مذہب ہی ملت ہونے کے اعتبار سے مسلمانوں کا معاملہ کچھ بھی دوسروں سے مختلف نہیں ہے۔ میں سے کوئی بھی گروہ (بشمول مسلمان) محض ایک خاص گروہ ہونے کی حیثیت سے فلاح و نجات کا مستحق نہیں ہو سکتا۔
آیت کے مطابق خدا کے یہاں انعام کا استحقاق صرف ان افراد کے لئے ہے جو اللہ اور آخرت پر یقین دیں اور اپنی زندگیوں میں عمل صالح کا طریقہ اختیار کریں۔ نجات آخرت کا تعلق اس بات سے ہے کہ کسی فرد نے اپنے آپ کو کیسا بنایا، نہ یہ کہ وہ کس خاص گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔