Al-Risala · August 1999

سنت الہی

Al-Risala, August 1999, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

بنی اسرائیل (یہود) کے دور زوال کی تاریخ کا ایک واقعہ قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو دریا کے کنارے تھی۔ جب وہ سبت (سنیچر) کے بارے میں تجاوز کرتے تھے۔ جب ان کے سبت کے دن ان کی مچھلیان پانی کے اوپر آتیں اور جس دن سبت نہ ہو تا تو نہ آتیں ۔ ان کی آزمائش ہم نے اس طرح کی، اس لئے کہ وہ نافرمانی کر رہے تھے۔

اس آیت میں ایک خدائی قانون کو ایک تاریخی مثال کے ذریعہ واضح کیا گیا ہے، وہ قانون یہ ہے کہ کتاب خداوندی کی حامل قوم کو ابتدا آسان حالات میں دین پر عمل کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ مگر جب وہ اس کی تعمیل نہ کرے تو حالات میں سختی پیدا کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ آسانی کے بعد مشکل، اور مشکل کے بعد مشکل تر، حتی کہ وہ وقت آجاتا ہے جب کہ دینی تقاضے پر عمل کرنا ہی حالات کے اعتبار سے اس کے لئے ممکن نہ رہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تذکیر القرآن)

غور کیجئے تو موجودہ مسلم نسلوں کا معاملہ عالمی سطح پر ایسا ہی ہو رہا ہے۔ محمدی کی لازمی ذمہ داری ہے۔ یعنی خدا کے بندوں تک خدا کا پیغام رحمت پہنچانا۔ زمانہ کے مسلمانوں نے چونکہ یہ کام انجام نہیں دیا اس لئے ہر اگلے مرحلے میں اسی نسبت

سے ان کے لئے حالات سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے ہیں۔

اس معاملہ کی ایک نمائندہ مثال ہندوستان ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی لازمی ذمہ داری تھی کہ وہ اس ملک کے غیر مسلموں سے معتدل تعلقات قائم کر کے انھیں خدا کے دین رحمت سے باخبر کریں۔

اٹھار ہویں صدی کے آخر تک مسلمان بر صغیر میں حاکمانہ حیثیت رکھتے تھے اس طرح انھیں یہ موقع حاصل تھا کہ وہ الید العلیا بن کر پوری آزادی کے ساتھ دعوت کا کام کر سکتے تھے مگر یہ مدت گزر گئی اور انھوں نے اپنی دعوتی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا۔ انیسویں صدی میں ہندوستان میں انگریزوں کا سیاسی غلبہ ہو گیا۔ تاہم اب بھی دعوتی مواقع کسی قدر تبدیلی کے ساتھ موجود رہے۔ انگریزوں نے اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے مختلف طبقوں کے درمیان توازن برقرار رکھا تھا۔ اس نے مسلمانوں ہند کو یہ موقع دے دیا کہ وہ مساویانہ سطح پر برادران وطن کو دعوت پہنچائیں۔ مگر یہ موقع بھی انھوں نے اس موقع کو انھوں نے اس طرح برعکس طور پر استعمال کیا کہ غیر مسلموں سے مناظرہ بازی جیسے کام کر کے ان کو اسلام سے دور کر دیا یہاں تک کہ یہ موقع بھی ختم ہو گیا۔ ۱۹۴۷ کے انقلاب کے بعد ایک نیا دور آیا۔ اب سیکولرزم کے اصول کے تحت نیا دستور اس دور میں پہلا موقع توان کے لئے ختم ہو گیا۔ البتہ سیکولر دستور کے تحت انھیں ایک حقوق یافتہ اقلیت کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ ان کو دستور کی رو سے یہ حق دیا گیا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں مانیں اور ملک میں پرامن طور پر جس مذہب کی چاہیں اشاعت کریں۔ مگر پچاس سال کی مدت گزر گئی اور وہ اس امکان کو استعمال کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہے۔ ۱۹۹۸ سے ملک میں ایک نیا سیاسی دور شروع ہوا ہے۔ اس دور کے بارے میں تقریباً

یقینی ہے کہ یہ دور دعوتِی اعتبار سے ان کے لئے مشکل ترین دور ہوگا۔ نئے ہندوستانی حکمراں دستور ہند میں مذہبی آزادی کی دفعہ (آرٹیکل ۲۵) کو بدلنے کی کوشش کریں گے۔ قوانین بنائیں گے جن کے تحت دعوتی کام کرنا مشکل ہو جائے۔

یہ عین وہی سنت الہی ہے جو ہمارے حالات کے لحاظ سے ہمارے اوپر نافذ ہو رہی حاکمانہ حیثیت کے بعد مساویانہ حیثیت، مساویانہ حیثیت کے بعد حقوق یافتہ حیثیت، حقوق یافتہ حیثیت کے بعد دعوتی اعتبار سے بے حقوق حیثیت۔

Printed page