بعد کی نسلیں
Al-Risala, August 1999, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۷ میں سابق اہل کتاب کے بارے میں ارشاد ہوا ہے۔ کے پیچھے ناخلف لوگ آئے جو کتاب کے وارث بنے، وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دیئے جائیں گے۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو اس کو لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں۔ اور انھوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے کیا تم سمجھتے نہیں۔
کسی امت کو جب خدا کی کتاب ملتی ہے تو اس کی پہلی نسل کے لوگوں کے لئے اس کی حیثیت ایک عہد نامہ کی ہوتی ہے۔ وہ اس کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ لیتے ہیں۔ ان کو یقین ہوتا ہے کہ یہ کتاب ایک خدائی گائیڈ بک ہے اور اس لئے ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو اس کے وہ اس کو اپنے حق میں ایک سنگین عہد و پیمان کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ مگر امت کی اگلی نسلوں میں یہ شعور زندہ حالت میں باقی نہیں رہتا۔ خدا کی کتاب ان کے بعد کے لوگوں کو بطور وراثت ملتی ہے، وہ ان کے لئے ذاتی دریافت کے ہم معنی نہیں
جب یہ مرحلہ آتا ہے تو امت کے لوگ ایمانی گراوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اس گراوٹ کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ ان کے عمل کا نشانہ بدل جاتا ہے۔ ابتدائی نسلوں میں دین اگر ان کا نشانہ عمل تھا تو بعد کی نسلوں میں دنیا ان کا نشانہ عمل بن جاتی ہے۔
رسمی اور ظاہری اعتبار سے دین اب بھی ان کے یہاں دکھائی دیتا ہے مگر حقیقی اسپرٹ کے اعتبار سے وہ ان کے درمیان موجود نہیں ہوتا۔ اب ان کی عملی زندگی پوری طرح دنیا طلبی کے راستہ پر چل پڑتی ہے۔ مادی ترقی ان کا اصل مقصود بن جاتا ہے۔ تک کہ اگر ظاہری پہلوؤں کو ہٹا کر دیکھا جائے تو ان میں اور دوسری قوموں میں کوئی حقیقی فرق باقی نہیں رہتا۔
اس غیر دینی روش کو ہمہ تن اختیار کرنے کے باوجود وہ اپنی آخرت کی کامیابی کے معاملے میں پوری طرح مطمئن رہتے ہیں۔ اس اطمینانِ کاراز ان کا یہ خود ساختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ ہمارا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے۔ ہم ہر حال میں بخش دیئے جائیں گے : ہمارے پیغمبر اور ہمارے بزرگ ہر حال میں ہم کو آخرت کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس قسم کا عقیدہ سراسر فریب ہے۔ قرآن کے مطابق وہ کسی کے کچھ کام آنے والا نہیں اس قسم کا خود ساختہ عقیدہ نہ پچھلی امت کے لوگوں کے لئے کار آمد ہو سکتا ہے اور نہ بعد کی امت کے لوگوں کے لئے۔