اکابر پرستی
Al-Risala, August 1999, pp. 27–29
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں دور زوال کے اہل کتاب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے اخبار اور اپنے رہبان کو اللہ کے سوا اپنارب بنالیا (التوبہ۔ اس آیت میں اہل کتاب کی اس گمراہی کی نشاندہی کی گئی ہے کہ انھوں نے اپنے علماء
اور مشائخ کو رب کا درجہ دے دیا تھا۔ رب بنانے سے کیا مراد ہے۔ اس کی وضاحت ایک روایت سے ہوتی ہے۔ عدی ابن حاتم جو عہد جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے۔ اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے۔ آپ نے مذکورہ آیت انھیں سنائی۔ اس کو سن کر عدی بن حاتم نے کہا کہ اے خدا کے رسول انھوں نے اپنے اخبار و رہبان کی عبادت تو نہیں کی آپ نے جواب دیا ہاں، ان کے اخبار اور رہبان نے ان پر حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا تو انھوں نے ان کی پیروی کی یہی ان کی طرف سے ان کی عبادت ہے۔
دور زوال میں کسی امت میں جو سب سے بڑی کمی پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں اس کا عقیدہ کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کا عقیدہ معرفت پر مبنی نہ ہو کر تقلید پر قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے افراد غیر محسوس خدا کی بڑائی میں نہیں جیتے بلکہ محسوس خداؤں کی بڑائی میں گم رہتے ہیں۔ یہی وہ دور ہے جب کہ امت اس خرابی میں مبتلا ہو جاتی ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر ہوا۔
اس دور زوال میں امت اپنے قومی بڑوں کو وہ درجہ دے دیتی ہے جو صرف خدا کے لئے خاص ہے خدا کا مقام یہ ہے کہ وہ جو کچھ کہے اس کو بلا بحث مان لیا جائے۔ زوال یافتہ امت اپنے قومی بڑوں کے معاملہ میں یہی کرتی ہے۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں بلا بحث ان کو تسلیم کر لیتی حتیٰ کہ اگر کوئی مصلح ان قومی بڑوں کی کسی بات پر تنقید کرے تو یہ لوگ اس پر اسی طرح برہم ہو جائیں گے جس طرح خدا کے خلاف بات پر انھیں برہم ہونا چاہئے۔ مومن وہ ہے جو خدا وند عالم کی بڑائی میں جئے۔ ایسے انسان کو خدا کے سوا ہر دوسری بڑائی چھوٹی نظر آتی ہے۔ لیکن جن لوگوں کا دین رسمی عقیدہ پر قائم ہو، جنھوں نے خدا کو
اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت نہ کیا ہو وہ اپنے خود ساختہ اکابر کو بڑا سمجھ لیتے ہیں۔ مخلوق کو وہ درجہ دیتے ہیں جو صرف خالق کے لئے خاص ہے۔
جب کسی قوم پر اس قسم کا زوال آتا ہے۔ تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کے لئے دین کا ماخذ بدل جاتا ہے۔ دین میں ماخذ کی حیثیت صرف خدا اور رسول کو مومن کو اپنا عقیدہ یا عمل براہ راست خدا سے اور اس کے رسول سے اخذ کرنا مگر جب کسی قوم پر مذکورہ قسم کا زوال آتا ہے تو اس کے یہاں دین کا ماخذ بدل جاتا ہے اب وہ اپنا دین اپنے علماء اور اپنے بزرگوں سے لینے لگتے ہیں۔ وہ اپنے مفروضہ اکابر کو وہ درجہ دے دیتے ہیں جو درجہ انھیں صرف خدا اور اس کے رسول کو دینا چاہئے۔ پرستش ایک فطری جذبہ ہے۔ وہ ہر انسان کی داخلی شخصیت میں آخری حد تک سرایت کئے ہوئے ہے۔ انسان خود اپنی فطرت کے تحت مجبور ہے کہ وہ کسی نہ کسی کو اپنی پرستش کا مرکز بنائے صاحب معرفت انسان ایک خدا کو پرستش کے اس جذبہ کا مرکز بناتا مگر جو لوگ معرفت سے خالی ہوں وہ ہر اس چیز کی پرستش کرنے لگتے ہیں جو بظاہر انھیں بڑی دکھائی دے۔