کتاب کو پس پشت ڈالنا
Al-Risala, August 1999, pp. 29–32
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۳ میں یہود کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ ۔ جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم خدا کی کتاب کو پوری طرح ظاہر کرو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے۔ مگر اس کو انھوں نے پس پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں۔
خدا کی کتاب کی حقیقت ایک مقدس عہد نامہ کی ہے۔ خدا کی کتاب جب کسی قوم کو
دی جائے اور وہ قوم اس کتاب کو خدا کی کتاب کی حیثیت سے قبول کرلے تو ایسا کرنے کے بعد خدا اور اس قوم کے درمیان ایک پختہ عہد قائم ہو جاتا ہے۔ اس عہد کے مطابق، اس قوم کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہوتا کہ وہ خود اس کی پیرو بن جائے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہوتا ہے کہ وہ قوم خدا کے بندوں کے سامنے اس کتاب کی نمائندگی کرے ۔ اسی نمائندگی کا دوسرا نام دعوت ہے۔ دنیا کی قوموں کے سامنے خدا کے پیغام کو نہ پہنچانا گویا کتاب الہی کو چھپانا ہے۔ اور دنیا کی قوموں کو اس سے باخبر کرنے کا مطلب خدا کے دین کا اظہار کرنا ہے۔
خدا کی کتاب کا کتمان (اس سے لوگوں کو باخبر نہ کرنا) حامل کتاب گروہ کے لئے ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ کوئی بھی عذر اس فریضہ کو اس سے ساقط نہیں کرتا۔ کہ انسان چونکہ مرتے ہیں اور نئے لوگ پیدا ہوتے ہیں اس لئے اظہار دین یا دعوت حق کا یہ عمل ہر نسل میں جاری رکھنا ہے، اس کو بار بار دہراتے رہنا ہے تاکہ کوئی بھی نسل یا کوئی بھی پیدا ہونے والا انسان اس سے بے خبر نہ رہے۔
دعوت کا یہ کام سادہ طور پر صرف اعلان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کو اس کے تمام تقاضوں کے ساتھ انجام دینا ہے۔ مثلاً لوگوں کی قابل فہم زبان میں اس کو پیش کرنا، مدعو کی زیادتیوں کو یکطرفہ طور پر برداشت کرنا تاکہ دعوت کا معتدل ماحول باقی رہے، مدعو سے کسی بھی قسم کی مادی یا سیاسی کشمکش نہ کرنا تاکہ دعوت کی اخروی حیثیت مجروح نہ ہو۔ کے عمل کے ساتھ کسی بھی غیر دعوتی پہلو کو شامل نہ کرنا تا کہ اس کا خالص پن (purity) باقی رہے، وغیرہ۔
خدا کی کتاب کو کم قیمت پر بیچنے کا مطلب کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی
کتاب کو دنیوی مفادات کے تابع کر دیا جائے۔ دنیا کے کسی فائدہ کو لینے کی خاطر خدا کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ خدا کی کتاب کے نام پر خدا کی کتاب کا اس طرح استحصال کیا جائے کہ نام تو خدا کی کتاب کا لیا جائے مگر عملاً اس سے مادی فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو۔ خدا کی کتاب کا حامل کوئی گروہ جب بھی اس کی تبلیغ و اشاعت کا کام چھوڑتا ہے تو اس کا سبب ہمیشہ دنیوی اور مادی ہوتا ہے۔ حامل کتاب گروہ کے افراد پر اخروی فکر کا غلبہ ہو تو وہ لازماً اس کی تبلیغ واشاعت میں سرگرم ہوں گے۔ اس کے برعکس جب لوگوں کے اوپر دنیوی فکر کا غلبہ ہو جائے تو ان کے اندر سے وہ محرک یا داعیہ ختم ہو جاتا ہے جو انہیں تبلیغ واشاعت کے میدان میں سرگرم کرے۔
کتاب الہی کے حامل کسی گروہ پر جب اس قسم کا زوال آتا ہے تو اس کے فکری نتیجہ کے طور پر ایسے لوگوں میں خود غرضانہ نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس قسم کی نفسیات بلاشبہ دعوت کے لئے قاتل ہے۔ دعوت کا کام وہ لوگ کرتے ہیں جن کے اندر وسیع تر انسانیت کے لئے تڑپ موجود ہو گروہی عصبیت میں مبتلا لوگ دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ اسی طرح جو لوگ مذکورہ قسم کی گراوٹ کا شکار ہوں وہ مختلف قومی یا مادی اسباب کے تحت دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ اس قسم کا جذبہ بلاشبہ دعوت کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دعوت، اپنی حقیقت کے اعتبار سے دوسروں کے ساتھ محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کرنا ہے۔ جس آدمی کے دل میں دوسروں کے لئے خیر خواہی نہ ہو وہ دوسروں کے اوپر دعوت و تبلیغ کا عمل بھی نہیں کر سکتا۔
کسی گروہ کو کتاب الہی کا حامل بنانا اس کو ایک مشن کا حامل بنانا ہے۔ کتاب الہی کا ابتدائی تقاضا یہ ہے کہ اس کے حاملین اس کو اپنی زندگیوں میں اختیار کریں۔ اسی کے ساتھ
اس کا دوسرا لازمی تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے کتاب الہی کا اعلان واظہار کیا کتاب الہی کے پیغام سے لوگوں کو پوری طرح باخبر بنادیا جائے۔ مگر کتاب الہی کا حامل گروہ اپنی بعد کی نسلوں میں جب زوال کا شکار ہوتا ہے تو جس طرح اس سے دوسری مطلوب صفات گم ہو جاتی ہیں، اسی طرح یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کتاب الہی کی تبیین و تبلیغ کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
کتاب الہی کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ حاملین کتاب کے اندر دوسروں کے لئے خیر خواہی موجود ہو۔ اور دور زوال میں ایسے لوگوں سے جو چیز سب سے زیادہ رخصت ہو جاتی ہے وہ یہی انسانی خیر خواہی ہے۔ اس کام کو درست طور پر صرف وہ لوگ انجام دے سکتے ہیں جن کے اندر یہ اخلاقی بلندی ہو کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں کو نظر انداز کر سکیں۔ مگر زوال یافتہ لوگوں میں یہ اخلاقی بلندی نہیں ہوتی اس لئے وہ کتاب الہی کی دعوتی ذمہ داریوں کو بھی پورا نہیں کر پاتے۔
کتاب الہی کی تبیین کا کام انتہائی نازک کام ہے۔ اس کو صرف ایسے افراد انجام دے سکتے ہیں جو انتہائی سنجیدہ اور با اصول ہوں۔ مگر زوال یافتہ لوگوں میں یہ دونوں صفات سرے سے موجود ہی نہیں ہو تیں۔ ان میں نہ سنجیدگی ہوتی ہے اور نہ اصول پسندی۔ یہی وجہ ہے کہ اس فرض کی ادائیگی میں وہ مکمل طور پر ناکام رہتے ہیں۔ دور زوال کا یہ مظہر پچھلے حاملین کتاب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے اور بعد کے حاملین کتاب میں بھی۔