قول بلا فعل
Al-Risala, August 1999, pp. 32–34
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۶۱ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ اے ایمان والو تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناراضی کی ہے کہ تم ایسی بات کہو جو تم
مسلمانوں میں جب ایمان کی کمزوری آتی ہے تو اس کمزوری کا اظہار ”قول“ کی سطح پر نہیں ہو تا بلکہ ”فعل“ کی سطح پر ہو تا ہے اب بھی لوگ اچھی اچھی باتیں بولتے ہیں، مگر وہ اپنی بات کے مطابق اچھے عمل نہیں کرتے۔ قرآن کے مطابق جن اچھے الفاظ کے ساتھ اچھا عمل شامل نہ ہو وہ آدمی کے لئے نہ کوئی قابل تعریف بات ہے نہ اس کو ایسی باتوں پر کوئی انعام ملنے والا ہے۔
مذکورہ آیت میں جس قول بلا فعل کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اپنی تقریروں میں جہاد اور اقدام کی باتیں کرے مگر وہ جہاد اور اقدام کی کارروائیوں میں عملی شرکت نہ کرے۔ اپنے الفاظ میں وہ اپنے آپ کو مجاہد ظاہر کرے مگر اپنے عمل کے اعتبار سے وہ صرف پیچھے رہنے والوں میں ہو۔ اپنی تقریر اور تحریر میں وہ عزیمت اور قربانی کا درس دے رہا ہو مگر حقیقی عمل کے اعتبار سے اس کا حال یہ ہو کہ اپنے ذاتی مفاد کے سوا کسی اور چیز سے اسے دلچسپی نہ ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو الفاظ کے اعتبار سے اپنے آپ کو اچھا انسان اور اچھا مسلمان ظاہر کریں مگر اپنی عملی زندگی کے اعتبار سے وہ صرف ایک سطحی اور خود غرض اور مفاد پرست انسان بنے ہوئے ہوں۔ خدا کی نظر میں ایسے لوگوں کی کوئی قیمت نہیں۔ ان کی اچھی باتیں صرف ان کے جرم کو بڑھانے والی ہیں، وہ کسی بھی درجہ میں ان کو انعام کا مستحق بنانے
امام مالک اپنی مؤطا میں کہتے ہیں قاسم بن محمد تابعی جنھوں نے صحابہ کو دیکھا تھا، وہ صحابہ کے بارے میں کہتے تھے کہ میں نے ان لوگوں کو دیکھا ہے اور ان کا حال یہ تھا کہ وہ قول پر خوش اور متعجب نہیں ہوتے تھے۔ امام مالک اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
کہ اس سے ان کی مراد عمل ہے۔ کیوں کہ آدمی کا عمل دیکھا جائے گانہ کہ اس کا قول۔ قال مالك وبلغنى ان القاسم بن محمد كان يقول: ادركت الناس وما يعجبون بالقول قال مالك يريد بذلك العمل انما ينظر إلى عمله ولا ينظر إلى قوله (موطا الامام مالك (۷۰۲)
صحابہ کرام دین کے مزاج کو سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ خدا کو جو چیز مطلوب ہے وہ عمل ہے، خوشنما باتوں کی خدا کے یہاں کوئی اہمیت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میں جب تک صحابہ کرام کا غلبہ تھا، ایسے لوگوں کو کوئی اہمیت نہیں ملی جو حقیقی عمل سے خالی ہوں، البتہ اچھی اچھی باتیں کر کے لوگوں کے درمیان عزت حاصل کئے ہوئے ہوں۔ مگر جب معاشرہ میں تقویٰ کی فضا باقی نہ رہے تو اسی قسم کے خوش کلام لوگ معاشرہ پر چھا جاتے ہیں وہ اپنے خوشنما الفاظ کے ذریعہ لوگوں میں عزت اور احترام کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ خدا کی نظر میں بے قیمت ہیں۔ آخرت میں ایسے لوگوں سے کہا جائے گا کہ تم عزت اور شہرت کی صورت میں پچھلی دنیا ہی میں اپنی قیمت پا چکے، آخرت کی دنیا میں اب تمہیں کچھ ملنے والا نہیں۔