اشاعت فاحشہ
Al-Risala, August 1999, pp. 34–36
By Maulana Wahiduddin Khan
غزوہ بنو المصطلق کے ۶ھ کے بعد حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ساتھ ایک واقعہ پیش مدینہ کے کمزور مسلمانوں نے اس واقعہ کو ایک فتنہ کی شکل دے دی۔ اس کو لے کر انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو بدنام کرنا شروع کر دیا۔ بدنام کرنے کی یہ مہم اتنی بڑھی کہ کچھ مخلص مسلمان بھی اس سے متاثر ہو گئے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کی سورہ نمبر ۲۴ میں ارشاد ہوا ہے:
جن لوگوں نے یہ طوفان برپا کیا وہ تمہارے اندر ہی کی ایک جماعت ہے۔ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر آدمی کے لئے وہ ہے جتنا اس نے گناہ کمایا۔ اور جس نے اس میں سب سے بڑا حصہ لیا اس کے لئے بڑا عذاب جب تم لوگوں نے اس کو سنا تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے ایک دوسرے کی بابت نیک گمان کیوں نہ کیا اور کیوں نہ کہا کہ یہ کھلا ہوا بہتان ہے۔ یہ لوگ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے۔ پس جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ ، آیت: ۱۲)
پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں مدینہ میں بہت سے کمزور ایمان والے تھے۔ کوتاہیاں ظاہر ہوتی تھیں جن پر قرآن کی آیتیں اترتی تھیں، اس طرح کے واقعات بعد کے دور کے مسلمانوں کے لئے عبرت و نصیحت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مذکورہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی مسلم سماج میں کوئی شخص ایک بری خبر سنائے تو سننے والے ہرگز ایسا نہ کریں کہ وہ محض سن کر اس پر یقین کر لیں۔ ان کو اس معاملے میں حسن ظن سے کام لینا چاہئے۔ خبر یا واقعہ کی کوئی اچھی توجیہہ کرنی چاہئے تاکہ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی کی فضا پیدا نہ ہو۔ بالفرض اگر اس خبر کو ماننا ہو تو ایسی صورت میں لازم ہے کہ سننے والے اس خبر کی وہ خبر سنانے والے سے گواہی کا مطالبہ کریں۔ وہ اس سے کہیں کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کا باقاعدہ ثبوت پیش کرو۔ اگر وہ آدمی اپنی خبر کے حق میں باقاعدہ شرعی ثبوت پیش کرے تو اس کو مانا جائے ورنہ اس کو قطعی طور پر رد کر دیا جائے۔ کسی شخص کے خلاف ایک بری بات سن کر اس کو دوسروں سے بیان کرنا ایک نا قابل
معافی جرم ہے۔ اس کو قرآن میں اشاعت فاحشہ کہا گیا ہے (النور۔ ۱۹) یعنی ایسی بات کا چرچا کرنا جو کسی شخص کو سماج میں بدنام کرنے والی ہو۔ زوال یافتہ سماج میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے بارے میں بری باتوں کو سننے سے بہت دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ الزام اور حقیقی واقعہ میں فرق نہیں کرتے۔ ایک بے ثبوت الزام کو بھی وہ اسی طرح مان لیتے اور بیان کرتے ہیں جس طرح ثابت شدہ واقعہ ہو۔ یہ کسی سماج کی بدترین حالت ہے ایسے لوگوں کے بارے میں سخت اندیشہ ہے کہ وہ خدا کے غضب کا شکار ہو جائیں۔