حامل کتاب
Al-Risala, August 1999, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۶۲ میں یہود کے بارے میں کہا گیا ہے کہ...... وہ لوگ جنھیں تورات کا حامل بنایا گیا پھر انھوں نے اس کو نہیں اٹھایا۔ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو کتابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ کیا ہی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (الجمعہ۔ آسمانی کتاب کا حامل بننے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اس کو اٹھانے والا اس کو انسان کی حیثیت سے اٹھائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو اس طرح اٹھایا جائے جیسے کوئی حیوان اپنی پیٹھ پر کتابوں کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ پہلی صورت میں یہ ہوگا کہ کتاب کو اٹھانے والا انسان اپنے ذہن اور قلب کے اعتبار سے اس کا حامل بنا ہوا ہوگا۔ وہ کتاب کی تعلیمات کو اپنی حقیقی زندگی میں اور اپنے قول وعمل میں شامل کئے ہوئے ہوگا۔ اس کے برعکس حیوان کی پیٹھ پر جب کوئی کتاب لادی جائے تو وہ صرف اس کے پیٹھ کے اوپر ہو گی وہ اس کے اندرونی وجود میں داخل نہیں ہوگی۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی امت جب اس حال میں ہو کہ خدا کی کتاب
اس کے دماغ میں اتری ہو اور اس کی روح میں سرایت کئے ہوئے ہو تو ایسی حالت میں وہ حقیقی معنوں میں کتاب الٰہی کی حامل قرار پائے گی۔ لیکن جب امت زوال کا شکار ہوتی ہے تو اس کے افراد کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کی زندگیاں الگ ہوتی ہیں اور خدا کی
مذکورہ دونوں حالتوں میں سے پہلی حالت خدا کی مطلوب حالت ہے، اور دوسری حالت خدا کی غیر مطلوب حالت۔ جب کسی امت میں یہ دکھائی دے کہ اس کے افراد کی زندگیاں کتاب الٰہی کے رنگ میں رنگی ہوئی ہیں، تو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ امت اپنے معیاری دور میں ہے۔ لیکن جب امت کے افراد کی زندگیاں کتاب الٰہی سے بے تعلق نظر آئیں تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ امت اپنے دور زوال میں پہنچ چکی ہے۔ ایسی قوم کے لئے کتاب الٰہی کا حامل ہونا، ایسا ہی ہے جیسے کسی حیوان کی پیٹھ کے اوپر کتابوں کا بوجھ لاد دیا جائے اور یہ حیوان اس سے اتنا زیادہ بے خبر ہو کہ اس کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس کی پیٹھ پر کیا چیز لادی
یہی بات قرآن کی سورہ نمبر ۷ میں اس طرح بیان ہوئی ہے۔ پھر ان کے پیچھے ناخلف لوگ آئے جو کتاب کے وارث بنے، وہ اسی دنیا کی متاع لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یقیناً بخش دیئے جائیں گے۔ اور اگر ایسی ہی متاع ان کے سامنے پھر آئے تو وہ اس کو لے لیں کیا ان سے کتاب میں اس کا عہد نہیں لیا گیا ہے کہ اللہ کے نام پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ کہیں ۔ اور انھوں نے پڑھا ہے جو کچھ اس میں لکھا ہے۔ اور آخرت کا گھر بہتر ہے ڈرنے والوں کے لئے ، کیا تم سمجھتے نہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب سے وابستہ ہونے کی دو صورتیں ہیں
ایک وہ شخص ہے جو صاحب کتاب ہو، اور دوسرا شخص وہ ہے جس کو یہاں وارث کتاب کہا خدا کی کتاب سے مطلوب وابستگی صرف وہ ہے جو پہلی قسم کی وابستگی ہو۔ قسم کی وابستگی کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔
صاحب کتاب وہ ہے جو خدا کی کتاب کو اپنے ذہن میں اتارے ہوئے ہو۔ کتاب جس کے لئے زندگی کی رہنما بن جائے۔ وہ خدا کی کتاب کو اس طرح لے کہ اس کے تمام حقوق ادا کر رہا ہو۔
وارث کتاب وہ ہے جس نے خدا کی کتاب کو بذات خود شعوری طور پر دریافت نہ کیا ہو، بلکہ اس کو خدا کی کتاب نسلی وارثت کے طور پر مل جائے خدا کی کتاب اس کے گھر کا اثاثہ تو ہو مگر وہ اس کے ذہن کی روشنی اور اس کی روح کی زندگی نہ ہو۔ مذکورہ آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صاحب کتاب اور وارث کتاب کی الگ الگ پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ صاحب کتاب ایک متقی انسان ہوتا ہے اور وارث کتاب ایک غیر متقی انسان۔ جو آدمی حقیقی معنوں میں صاحب کتاب ہو اس کو خدا کی کتاب خدا سے ڈرنے والا بنا دے گی۔ وہ ایک اندیشہ ناک زندگی گزارنے لگے گا۔ خدا کا خوف ہر لمحہ اس کی رگوں میں تیر تا رہے گا۔
اس کے برعکس جو آدمی وارث کتاب ہو اس کا حال یہ ہوگا کہ اس کی زندگی الگ ہوگی اور خدا کی کتاب الگ۔ خدا کی کتاب اس کے گھر کے طاق پر تو ضرور رکھی ہوئی ہوگی مگر وہ اس کے سینہ میں داخل نہیں ہوگی، وہ قلب وروح میں بجلی بن کر نہیں تیرے اس کے اور خدا کی کتاب کے درمیان ایسا ہی تعلق ہو گا جیسے کوئی کتاب بستہ میں بند - کر کے کسی کھونٹی پر لٹکا دی جائے۔