Al-Risala · August 1999

فتنه امت

Al-Risala, August 1999, pp. 39–41

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ جس چیز کا ڈر ہے وہ خواہش اور لمبی آرزو ہے۔ پس خواہش حق سے روکتی ہے اور لمبی آرزو آخرت کو بھلا دیتی ہے (ان اخوف ما اتخوف علی امتی الهوی وطول الامل فاما الهوى فيصد عن الحق واما طول الامل فینسی الآخرة) مشكاة المصابيح ۳/ ۱۳۳۸ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ان لكل امة فتنة وفتنة امتی المال (المشكاة المصابيح ۳/ ۱۳۳۲) یعنی ہر امت کا ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ یہاں یہ سوال ہے کہ خواہشوں اور آرزوؤں میں جینا یا مال کا طالب بننا ایسے فتنے ہیں جن میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسی حالت میں کیا وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے ان چیزوں کو اپنی امت کا فتنہ بتایا اور خصوصی طور پر امت کو ان سے آگاہ کیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امت مسلمہ کا زمانہ آخری زمانہ ہے، یعنی وہ زمانہ جب کہ جدید صنعتی انقلاب ظہور میں آیا۔ اس صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں لاکھوں نئی چیزیں وجود میں آئیں اس طرح موجودہ دنیا انسان کے لئے زیادہ حسین ہو گئی جیسی حسین وہ اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ آج کا انسان جب اس نئی دنیا کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں آرزوؤں اور تمناؤں کا ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے اس کے اندر اس بات کی لامحدود خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مال حاصل کرے تاکہ وہ جدید دنیا کی رونقوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے گرد اکٹھا کر سکے۔

اس نئی صورت حال نے آدمی کی خواہشوں اور آرزوؤں کو بے پناہ حد تک بڑھا دیا

ان میں سے ہر خواہش یا ہر آرزو اپنی تکمیل کے لئے مال چاہتی ہے اس لئے ہر آدمی بس مال و دولت کے پیچھے دوڑ رہا ہے ہر آدمی بس کمانے والا جانور (حیوان کاسب) بن گیا ہے جدید پر کشش سامانوس کی کوئی حد نہیں ، اس لئے مادی دنیا کی طرف انسان کی دوڑ کی بھی کوئی حد

اس نئے دور نے ساری صورت حال کو بدل ڈالا ہے۔ اخلاقی اور روحانی قدروں کی جگہ مادی قدروں کا غلبہ ہے۔ وقت کا بہترین استعمال صرف یہ ہے کہ اس کو دولت کمانے میں لگایا جائے۔ مقصدی زندگی کا خاتمہ ہو گیا ہے اور اس کی جگہ مکمل طور پر مفاد پرستانہ زندگی نے لے لی ہے۔ انسانی صلاحیتیں بازار کا مال بن گئی ہیں، ہر آدمی تیار رہتا ہے کہ جس دکان پر اس کی زیادہ قیمت لگے وہاں وہ اپنے آپ کو بیچ دے۔ انسانی تعلقات تمام تر دنیوی مفاد کے تابع ہو گئے ہیں۔ دنیوی اہمیت کی چیزیں آرزوؤں اور تمناؤں کا مرکز بن ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ہر آدمی اتنی زیادہ دولت اکٹھا کرنا چاہتا ہے کہ اس کے بیٹوں اور پوتوں تک کے لئے پر تعیش زندگی یقینی ہو جائے۔

یہ ہے وہ ماحول جس میں آج کا انسان جی رہا ہے۔ امت مسلمہ بھی اپنا سفر طے کرتے ہوئے اسی نئے زمانہ میں پہنچنے والی تھی اس لئے رسول کریم ﷺ نے پیشگی طور پر اپنی امت کو آگاہ فرمایا تا کہ امت جب نئے فتنوں سے بھرے ہوئے اس دور میں پہنچے تو وہ اس کے بارے میں اس حد تک باشعور ہو کہ اپنے آپ کو اس کی آلائشوں سے بچا سکے۔

آج امت مسلمہ اسی طوفانی فتنہ کے دور میں ہے۔ ہر مرد اور عورت، ہر جوان اور بوڑھا اس فتنہ کبریٰ کی زد میں ہے۔ دیہاتوں سے لے کر شہروں تک کوئی بھی اس سے بچا ہو مذکورہ حدیث کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں کسی مسلمان کو

چنانچہ کا یہی سب سے زیادہ کھلا ہوا معیار ہے۔ جو مسلمان اس نئے مادی سیلاب میں ڈوبے سے اپنے آپ کو بچا لے وہ کامیاب ہوا، اور جو مسلمان اس مادی سیلاب میں غرق ہو جائے وہ ہمیشہ کے لئے ہلاک ہو گیا۔

Printed page