Al-Risala · August 1999

اضاعت صلاۃ

Al-Risala, August 1999, pp. 41–45

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۱۹ میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ پھر ان کے بعد ایسے نا خلف جانشین ہوئے جنھوں نے نماز کو کھو دیا اور وہ خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے۔ پس عنقریب وہ اپنی خرابی کو دیکھیں گے، البتہ جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کیا تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی (مریم ۶۰-۵۹) اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد امت مسلمہ کے بعد کے زمانے کے لوگ ہیں، یا تو اس کے مفہوم اول کے طور پر، ورنہ اس کے مفہوم ثانی کے بعد کی نسلوں میں جب امت پر زوال آئے گا تو اس کے ایک گروہ کا وہ حال ہو جائے گا جو اس آیت میں بیان ہوا ہے ( هم قوم من امة محمد ﷺ فى آخر الزمان) تفسیر القرطبی ۱۱/ ۱۲۲ اس آیت میں اضاعت صلاۃ سے مراد ترک صلاۃ نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ سرے سے نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے اور مسجدیں نمازیوں سے خالی ہو ایسا نہ کسی سابقہ امت میں ہوا اور نہ امت محمد میں ایسا کبھی ہو سکتا۔ ہے کہ نماز کو ضائع کرنے سے مراد نماز کی روح کا ضائع ہونا ہے نہ کہ نماز کی شکل کا باقی نہ (هی عدم القيام بحقوقها) القرطبی ۱۱/ ۱۲۲ یہ بات حدیث میں زیادہ واضح لفظوں میں آئی ہے۔ مسند احمد اور الترمذی (کتاب

(العلم) میں روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ بعد کے زمانہ میں امت کا یہ حال ہو جائے گا کہ ان کی مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوئی ہوں گی مگر ان کی نمازیں خشوع سے خالی ہوں گی حتّیٰ کہ تم ان میں ایک بھی خاشع آدمی نہیں دیکھو گے (فلاتری فیہ رجلا خشعا) دور زوال میں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ نماز کی شکل باقی رہتی ہے مگر نماز کی روح غائب ہو جاتی ہے۔ قرآن کے الفاظ میں اس کا سبب اتباع شہوات ہے۔ اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی خواہشیں ان کے اوپر غالب آ جاتی ہیں۔ وہ دنیوی اور مادی مفاد کو اولین اہمیت دے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نماز کے فارم کو اس کی اسپرٹ سے الگ کر دیتے وہ اسپرٹ کو چھوڑ کر فارم کو اختیار کر لیتے ہیں۔

اتباع شہوات کی بنا پر ان کا مزاج یہ ہو جاتا ہے کہ ان کے مادی مفادات محفوظ رہیں اور اسی کے ساتھ وہ نمازی بھی بنے رہیں۔ یہ مقصد نماز کو باعتبار فارم لینے سے حاصل ہو نماز کو اگر اس کی اسپرٹ کے ساتھ لیا جائے تو وہ مادی مفادات کے لئے قاتل بن جائے گی لیکن جب نماز کو صرف اس کی شکل کے اعتبار سے لے لیا جائے تو بیک وقت دونوں فائدے حاصل ہو جاتے ہیں۔

اب یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی کے مفادات بھی محفوظ رہیں اور اسی کے ساتھ نمازی ہونے کا کریڈٹ بھی اس کو حاصل ہو جائے۔

اس آیت میں توبہ سے کیا مراد ہے۔ یہاں توبہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی اس غلطی پر متنبہ ہو کہ اس نے خدا کے دین میں ایک عظیم جسارت کی ہے۔ اس نے نماز کی اسپرٹ کو اس کے فارم سے الگ کر دیا ہے۔ اس انتباہ کے بعد وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرے یعنی نماز کے فارم کے ساتھ اس کی اسپرٹ کو بھی اس میں شامل کرے۔ وہ اس کا مل نماز کا

نمازی بن جائے جس کو قرآن میں صلاة خشوع (المومنون۔ ۲) کہا گیا ہے۔

جب وہ ایسا کرے گا تو اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ نماز کے ساتھ اتباع شہوات کا جمع ہونا نا ممکن ہو جائے گا۔ نماز اگر اسپرٹ کے بغیر ہو تو ایسی نماز کسی آدمی کے لئے برائیوں کے خلاف چک نہیں بنتی مگر جو نماز اسپرٹ کے ساتھ ہو وہ عین اپنے مزاج کے مطابق برائیوں سے روکنے والی بن جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ "ان الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر" (العنكبوت) تحاکم الی الطاغوت قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں ارشاد ہوا ہے اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اصحاب امر کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، یہ بات اچھی ہے اور اس کا انجام بہتر ہے۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ہے تم سے پہلے، وہ چاہتے ہیں کہ اپنا قضیہ لے جائیں طاغوت کی طرف، حالانکہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کو نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر بہت دور ڈال دے

یہ آیت مدینہ کے ابتدائی دور میں اتری۔ اس وقت مشترک سماج قائم تھا۔ لوگوں کے لئے اپنے معاملات کا فیصلہ لینے کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ وہاں کے یہودی عالم کعب بن اشرف کے پاس جاکر اس کے سامنے اپنا معاملہ بیان کیا جائے اور اس سے فیصلہ یہودی علماء سے فیصلہ لینے کی یہ روایت صدیوں سے مدینہ میں چلی آہی تھی۔

دوسرا یہ کہ معاملہ کے دونوں فریق رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کرائیں رسول اللہ ﷺ معاملات کا فیصلہ خدائی شریعت کے مطابق اس کے مقابلے میں کعب بن اشرف خدائی شریعت کا پابند نہ تھا۔ اس کے یہاں یہ امید ہوتی تھی کہ کوئی لفظی یا عملی تدبیر کر کے غلط طور پر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا

مدینہ کے مخلص مسلمانوں کے درمیان جب بھی کوئی نزاع پیدا ہوتی تو وہ ہمیشہ اس کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے۔ ان لوگوں کے پیش نظر یہ نہیں ہوتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اپنے حق میں فیصلہ حاصل کر لیں ۔ بلکہ ان کا جذبہ یہ ہوتا تھا کہ زیر بحث معاملہ میں خدائی شریعت کا جو حکم ہے اس کو معلوم کریں اور پھر اس کو پوری آمادگی کے ساتھ قبول کر لیں ۔

تا ہم مدینہ میں کچھ غیر مخلص اور مفاد پرست مسلمان بھی تھے جن کو منافق کہا جاتا غیر مخلص یا منافق مسلمان زیادہ تر وہ لوگ تھے جو یہودی قبائل سے نکل کر مسلمان اس زمانہ کے یہودی چونکہ اپنے دور زوال میں تھے ان میں ہر قسم کی اخلاقی کمزوریاں آچکی تھیں۔ اس لئے جو لوگ ان یہودی نسلوں سے نکل کر اسلام میں آئے وہ اپنی قومی کمزوریاں بھی اپنے ساتھ لائے۔ انھوں نے اسلام تو قبول کر لیا تھا مگر اخلاقی اعتبار سے وہ انھیں کمزوریوں کا شکار تھے جو اس زمانہ کے یہودیوں میں عام طور پر پائی جارہی تھیں۔ مذکورہ قسم کے کمزور ایمان والے مسلمانوں سے جب کسی شخص کی نزاع پیش آتی تو وہ اپنے مفاد پرستانہ مزاج کے تحت یہ چاہتے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے موافق فیصلہ حاصل کرے ۔ چونکہ اس طرح کا ناحق فیصلہ رسول اللہ ﷺ سے نہیں مل سکتا تھا اس لئے

وہ اپنا مقدمہ لے کر کعب ابن اشرف کے پاس جاتے، کیونکہ ان کو امید ہوتی تھی کہ اس یہودی عالم کے یہاں سے وہ اپنے موافق فیصلہ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مذکورہ آیت میں اس قسم کے غیر مخلص مسلمانوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ ہے کہ تم اپنے معاملہ کا فیصلہ لینے کے لئے طاغوت (یہودی عالم) کے یہاں جاتے ہو۔ صرف اس لئے کہ اپنی خواہش کے مطابق وہاں سے فیصلہ حاصل کرو مگر اس قسم کا فعل خدا کی نظر میں سخت گناہ ہے۔ یہ شیطان کی پیروی ہے نہ کہ حق کی پیروی۔ جو چیز شرعی طور پر آپ کا حق نہ ہو اس کو غیر شرعی ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا ایک جرم ہے۔ مزید یہ کہ غیر شرعی ذریعہ سے ایسی چیز کسی کو مل جائے تب بھی وہ اس کی نہیں ہوگی۔ پھر بھی خدا کی نظر میں وہ غاصب قرار پائے گا۔ اور آخرت میں سخت سزا کا مستحق ہوگا۔

Printed page