قساوت قلب
Al-Risala, August 1999, pp. 45–48
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کسی مسلم قوم پر جب لمبی مدت گزر جائے تو اس کے افراد کے دلوں میں قساوت پیدا ہو جاتی ہے۔ ۵۳) اس قساوت کو قرآن میں دل کا مرض بتایا گیا ہے (الحج۔ ۵۳) یہ قساوت بڑھتے بڑھتے اس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ لوگوں کے دل پتھر کی طرح غیر اثر پذیر ہو جاتے ہیں (البقرہ۔
جن لوگوں کے دلوں میں یہ قساوت آجائے وہ نہایت آسانی سے شیطان کی تزئین کی شکار ہو جاتے ہیں (الانعام۔ ۴۳) قساوت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سینے میں خدا کی یاد والی کیفیات کا پیدا ہونا ختم ہو جاتا ہے (الزمر۔ ۳۹) قساوت کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی خدا کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کو قرآن میں لعنت کہا
امام مالک نے اپنی مؤطا میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جس دل کے اندر قساوت ہو وہ اللہ سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ (فان القلب القاسى بعيد من الله) موطا الامام مالك ٦٩٨- قساوت کا مطلب ہے سخت ہونا۔ کہا جاتا ہے: حجر قاس۔ یعنی سخت پتھر۔ کہا جاتا ہے: ارض قاسية: یعنی بنجر زمین۔ سختی کی یہی صفت جب کسی دل میں پیدا ہو جائے تو اس کو قلب قاسی کہا جائے گا۔ یعنی بے حس قلب، ایسا دل جس کے اندر سے حساسیت رخصت ہو گئی ہو، جس کا حال یہ ہو جائے کہ وہ برائی کرے تو اس کی شناعت پر اس کا دل نہ گناہ کا احساس اس کی آنکھوں سے آنسو بن کر نہ نکلے۔
اسی کا نام قساوت یا بے حسی ہے۔ یہ قساوت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ نقصان یہ ہے کہ اس کے بعد آدمی کے اندر سے ایمانی حساسیت ختم ہو جاتی ہے۔ بے حسی کا مطلب ہے دل کا مر جانا، اور حساسیت کا مطلب ہے دل کا زندہ رہنا۔ جن لوگوں کے دل زندہ ہوں انھیں کے اوپر خدا کا فیضان اترتا ہے۔ انھیں فرشتوں کی صحبت نصیب ہوتی دل کی یہ زندگی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کو خدا کے پسندیدہ اعمال کی توفیق ان کی روحانی ترقی کا سلسلہ برابر جاری رہے یہاں تک کہ ان کی شخصیت وہ ربانی شخصیت بن جائے جس کو آخرت میں خدا کا پڑوس ملے گا، جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے دلوں میں قساوت آجاۓ وہ اندر سے ایک مردہ انسان کی مانند ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر وہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے جو انھیں خدا سے قریب کرے، جو انھیں فرشتوں کا ہم نشیں بنائے۔ ایسے لوگوں کا دل اس طرح سخت ہو جاتا
ہے کہ وہ کسی تڑپانے والی بات پر نہ تڑپے۔ ان کی آنکھیں اس طرح خشک ہو جاتی ہیں کہ وہ آنسوؤں کا دریا بہانے والی بات پر بھی آنسو نہ بہائیں۔
حساس آدمی کو جب شیطان بہکاتا ہے تو وہ اپنی حساسیت کی بنا پر فوراً اس سے باخبر ہو جاتا ہے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کر کے اسی وقت اپنی اصلاح کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ بے حس ہو جائیں، شیطان نہایت آسانی کے ساتھ ان کو بہکانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ان کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔
اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں، جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فورا چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے (الاعراف۔
اب سوال یہ ہے کہ جو مرد یا عورت اپنے اندر قساوت یا بے حسی کی یہ بیماری پائیں وہ اپنی اصلاح کے لئے کیا کریں۔ اور کس طرح اپنے مردہ دل کو دوبارہ وہ دل بنائیں جس کے اندر زندگی اور حساسیت موجود ہو۔ اس سوال کا جواب ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ عن عبدا لله بن عمر رضى الله عنه : قال قال رسول الله ﷺ إن هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا اصابه الماء. قيل يا رسول الله وما جلاؤها قال كثرة ذكر الموت وتلاوة القرآن (مشكاة المصابيح الجزء الاول صفحه ٦٦٦) حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دلوں کو زنگ لگتا ہے جس طرح لوہے کو پانی کے اثر سے زنگ لگتا ہے۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول اس کی جلا کیا ہے آپ نے فرمایا کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرنا اور قرآن کی بہت زیادہ تلاوت کرنا۔
حدیث میں آیا ہے کہ موت کی یاد لذتوں کو ڈھادینے والی ہے (مشکواۃ المصابیح الجزء الاول ص ۵۰۴) انسان کے اندر جب بھی بے حسی آتی ہے تو وہ اس لئے آتی ہے کہ وہ مادی چیزوں میں لذت لینے لگتا ہے۔ وہ وقتی رونقوں میں گم ہو کر زیادہ اعلیٰ اور ابدی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے۔ اس کمزوری کا سب سے زیادہ کار گر علاج موت کی یاد ہے۔ آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی لمحہ وہ موجودہ دنیا کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ لمحہ وہ وقت آجائے گا جب کہ اس کا رشتہ اس کی پسندیدہ چیزوں سے ٹوٹ جائے۔ اس طرح موت کا تصور آدمی کو ان چیزوں سے بے رغبت کر دیتا ہے جن میں پھنس کر وہ بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے موت آدمی کو متنبہ کرتی ہے کہ کسی بھی وقت وہ ایک ایسے بھونچال کی زد میں آسکتا ہے جس کو لوٹانے کی طاقت اس کے اندر نہیں۔ یہ احساس اگر کسی کو پوری شدت کے ساتھ ہو جائے تو وہ اس سے اتنا زیادہ ہل جائے گا کہ اس کا جمود ٹوٹ جائے اور اس کے سینہ میں حساسیت کا سوکھا ہوا چشمہ رواں ہو جائے۔
مردہ قلب کو از سر نو زندہ کرنے والی دوسری چیز قرآن کی تلاوت ہے۔ قرآن کیا ہے، وہ خدا کے جلال کا اظہار ہے وہ قیامت اور آخرت کے زلزلہ خیز واقعات کا بیان ہے، وہ جمود شکن الفاظ میں یہ بتاتا ہے کہ انسان کی کامیابی کس چیز میں ہے اور ناکامی کس چیز میں۔ ایک خدائی نصیحت نامہ ہے جو اپنے زلزلہ خیز انداز کی بنا پر قلب ودماغ کو ہلا دینے والا ہے۔ اس بنا پر جب کوئی شخص بار بار قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کی شخصیت ہل جاتی ہے۔ قرآن کا پر شکوہ انداز اس کو تڑپا دیتا ہے یہاں تک کہ بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں دوبارہ ربانی کیفیات کا چشمہ اہل پڑے۔ خدا کی عظمتوں کا احساس اس کی آنکھوں سے آنسو کی شکل میں بہہ نکلے۔ اس کی بے حسی آخر کار حساسیت میں تبدیل ہو جائے۔