Al-Risala · September 1999

زیر سرپرستی

Al-Risala, September 1999, pp. 55–11

By Maulana Wahiduddin Khan

صدر اسلامی مرکز 1, Nizamuddin West Market, Tel. 4625454, 4611128 Fax 4697333, 4647980 Single copy Rs. 9 One year Rs. 100. Two years Rs. 195 Three years Rs. 290. Five years Rs. 480 Abroad: One year $ 10/£6 (Air mall) مولا نا وحید الدین خاں DISTRIBUTED IN ENGLAND BY IPCI: ISLAMIC VISION 481, Coventry Road, Birmingham B10 OJS Tel. 0121-773 0137, Fax: 0121-766 8577 DISTRIBUTED IN USA BY AL-RISALA FORUM INTERNATIONAL 1439 Ocean Ave., 4C Brooklyn New York NY 11230 Tel./Fax 718-2583435 Printed and published by Saniyasnain Khan on behalf of The Islamic Centre, New Delhi. Printed at Nice Printing Press, Delhi.

میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں میری بیشتر زندگی تنہائی میں گزری ہے۔ تاہم تاریخی اعتبار سے میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کو تقسیم (۱۹۴۷) سے پہلے کے ہندوستان کو سن شعور میں دیکھنے کا موقع ملا۔ جس نے مولانا حسین احمد مدنی، پنڈت جواہر لال نہرو، سباش چندر بوس جیسے قومی رہنماؤں کی تقریریں اس وقت سنیں۔ جب کہ ہندوستان کی آزادی ابھی بہت دور دکھائی دے رہی تھی۔ جس نے ۱۹۳۶ کے پہلے الیکشن کو براہ راست دیکھا، جس نے ۱۹۴۷ سے پہلے بابری مسجد (ایودھیا) میں داخل ہو کر وہاں نماز پڑھی۔ جس نے اس ہندوستان کو دیکھا جب کہ ریلوے اسٹیشنوں پر ہندو پانی اور مسلم پانی کے الگ الگ بورڈ ہوا کرتے تھے۔ اور اس ہندوستان کو بھی جہاں اس قسم کے بورڈ ختم کر دیئے گئے ہیں۔ اس وقت کو بھی دیکھا جب کہ میرے وطن اعظم گڑھ میں صرف ایک موٹر کار تھی۔ اور آج کو بھی جب کہ اعظم گڑھ میں (اور اسی طرح ہر مقام پر) کثیر تعداد میں کاریں رات دن سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جس نے ”غلامی“ کے زمانہ کو بھی دیکھا اور ”آزادی“ کے زمانہ کو بھی۔

براہ راست اور بالواسطہ مشاہدہ کی یہ مدت تقریبا سو سال کے دائرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس طویل مدت میں میں نے جو کچھ دیکھا اور جو پڑھا اور جانا وہ ایک لمبی کہانی ہے جو انشا ءاللہ میری سوانح عمری میں جگہ پاسکے گی۔ یہاں اس کے بعض اجزا درج کئے جاتے ہیں جو موجودہ حالات کو سمجھنے میں شاید رہنما بن سکیں۔

اس کا نام میں نے ”ہند پاک ڈائری“ رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تحریریں کسی تاریخی ترتیب پر مشتمل ہیں۔ یہ حقیقۃً مختلف تاثرات اور مشاہدات ہیں جو تاریخی ترتیب سے زیادہ ذوقی ترتیب پر مشتمل ہیں۔ ان تحریروں کو میں نے حوالوں سے بوجھل کرنا پسند نہیں کیا ہے بلکہ زیادہ تر تاثراتی انداز کو اختیار کیا ہے، اور میرا خیال ہے کہ دونوں ہی انداز کی اپنی الگ الگ

اس مجموعہ کا مقصد یہ جاننے کی کوشش کرنا ہے کہ پچھلے سو سال کی ہنگامہ خیز جدوجہد کے

باوجود کیا وجہ ہے کہ ہماری تباہی کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ اس معاملہ میں راقم الحروف کا جو نقطۂ نظر ہے اس کو واضح کرنے کے لئے یہاں ایک مثال درج کی جاتی ہے۔

۱۹۴۷ء کے بعد پیش آنے والے واقعات میں شاید سب سے زیادہ ہنگامہ خیز واقعہ وہ ہے جو بابری مسجد (ایودھیا) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مسئلہ میں ہند و اور مسلمان دونوں گہرے طور پر شامل ہوئے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مسئلہ اپنی ذات میں بہت زیادہ اہم ہے۔ اس کا اصل سبب یہ تھا کہ اس مسئلہ کو انتہائی غیر متناسب طور پر ابھارا گیا۔ اور اس ابھارنے میں ہند و اور مسلمان دونوں یکساں طور پر شریک تھے۔

ایک طرف ہند و رہنمائوں اور دانشوروں نے، ہندوئوں کو گری لال جین (وفات ۱۹۹۳) کی زبان میں یہ کہہ کر ابھارا کہ یہ تمہارے لئے دوسری شکست (second defeat) کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۴۷ء میں بٹوارہ کے سوال پر تم کو مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی، اب ایودھیا کے سوال پر ہمیں دوسری بار شکست کو قبول نہیں کرنا ہے۔

دوسری طرف مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والوں نے، خواہ وہ بے ریش ہوں یا بار یش بیک زبان مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ صرف ایک مسجد کا سوال نہیں ہے بلکہ وہ ملت مسلمہ کی بقا کا سوال ہے۔ بابری مسجد اس ملک میں ملت کی بقا کی علامت ہے۔ بابری مسجد اگر ڈھائی گئی تو اس ملک میں مسلمانوں کا پورا ملی وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

یہ دونوں ہی باتیں سراسر بے بنیاد تھیں ۔ بابری مسجد کا مسئلہ نہ تو ہندوئوں کے لئے دوسری شکست کا مسئلہ تھا، اور نہ مسلمانوں کے لئے ملت کی بقا کا مسئلہ۔ مگر اس قسم کی سنسنی خیز باتیں کہہ کر دونوں فرقوں کو اس طرح ابھارا گیا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو یہ صف آرائی اتنی بڑھی کہ ایودھیا کا سوال دونوں فرقوں کے لئے وقار کا سوال بن گیا۔ جب کسی مسئلہ کو وقار کا مسئلہ بنا دیا جائے تو مسئلہ کے حل کے امکانات بڑھتے نہیں بلکہ خطر ناک حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ یہی مسجد مندر کے جھگڑے میں ہوا۔ جیسا کہ معلوم ہے ہندوستان میں تقسیم کے وقت سرحدی علاقوں میں ہزاروں مسجدیں ڈھائی گئیں خود مسلم دنیا میں بھی تقریباً ہر

مسلم ملک میں کثرت سے مسجدیں ڈھائی گئی ہیں۔ مگر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کا ڈھایا جانا کسی خطر ناک صورت حال کا سبب نہیں بنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مسجدوں کے نام پر مسجد والوں اور ڈھانے والوں کے درمیان ایسی تحریکیں نہیں چلائی گئیں جو اس معاملہ کو دونوں فریق کے لئے وقار کا مسئلہ بنا دیں۔

بابری مسجد کو جس چیز نے ایک خطر ناک مسئلہ بنایا وہ خود بابری مسجد کی انفرادی نوعیت بلکہ بابری مسجد کے نام پر چلائی جانے والی تحریک کی انفرادی نوعیت تھی۔ اس انداز کی جذباتی تحریک جس مسجد یا غیر مسجد کے لئے بھی چلائی جائے، وہ یقیناً اسی قسم کا منفی نتیجہ پیدا کرے

۱۹۱۳ء میں اس وقت کی انگریز حکومت نے کانپور کی ایک مسجد کے صرف غسل خانہ کو سڑک کی توسیع کے لئے ڈھایا تھا۔ اس کے نام پر اس زمانہ کے لیڈروں نے زبردست تحریک اس کے پیچھے مسجد کی حمایت سے زیادہ انگریز کی مخالفت کا جذبہ تھا۔ اس زمانہ کے مسلم لیڈروں کی جذباتی تقریروں نے مسلمانوں کو اس قدر بھڑکایا کہ وہ انگریز انتظامیہ سے لڑگئے۔ کے بعد انگریزی پولیس نے گولی چلائی جس میں بہت سے مسلمان ہلاک ہو گئے۔ مولانا شبلی نعمانی نے اس واقعہ پر ایک جذباتی نظم لکھی جو اس زمانہ میں بہت مقبول ہوئی۔ اس نظم میں لاشوں کے منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے آخر میں یہ کہا گیا تھا کہ :

پوچھا جو میں نے کون ہو تم آئی یہ صدا ہم کشتگان معرکہ کانپور ہیں یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اکثر عرب ملکوں میں سڑک کی توسیع کے لئے نہ صرف غسل خانہ بلکہ پوری کی پوری مسجدیں ڈھادی گئیں۔ مگر وہاں مسلمانوں کی لاشوں کا یہ درد ناک منظر کبھی دکھائی نہیں دیا۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہاں اس قسم کے جذباتی لیڈر موجود نہ تھے جو مسلمانوں کو اشتعال دلا کر ان کو انتظامیہ سے ٹکرائیں۔ اس کے نتیجہ میں پولیس گولی چلائے اور مسلمانوں کی خونی لاشیں زمیں پر دکھائی دینے لگیں۔

آج بر صغیر ہند میں ہر سوچنے والے انسان کے سامنے ایک ہی سوال ہے۔ وہ یہ کہ پچھلے تقریباً سو سال کے درمیان یہاں بہت سی بڑی بڑی تحریکیں چلائی گئیں اور بے شمار قربانیاں دی گئیں مگر نتیجہ صفر رہا۔

ہماری تمام کوششیں اور قربانیاں عملارایگاں ہو کر رہ گئیں۔ کچھ نئی چیزوں کا حوالہ دے کر کہا جاتا ہے کہ آزادی کے بعد انڈیا نے یہ اور یہ ترقیاں کی ہیں۔ مگر یہ حوالے درست نہیں کیونکہ یہ تمام جدید چیزیں زمانہ کی پیداوار ہیں۔ وہ صنعتی انفجار (industrial explosion) کا نتیجہ ہیں۔ وہ سیاسی آزادی یا ملکی حکومت کی دین نہیں۔ ہندوستان میں اگر انگریزوں کی حکومت باقی رہتی تب بھی یہ نئی ترقیاں ہمیں اسی طرح حاصل ہو تیں جیسے کہ وہ آج حاصل ہیں۔ ایک مثال ملک میں جدید کمیونی کیشن (مثلاً ریلوے) کا نظام ہے جو زیادہ تر انگریزوں ہی کے زمانے میں قائم ہوا۔

اس المیہ کا سبب اصلاً صرف ایک ہے۔ پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ بر صغیر ہند میں ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان جو لیڈر اٹھے وہ تقریباً سب کے سب ایک ہی غلطی کا شکار ہوئے۔ اس غلطی نے ان کی ہمالیائی کوششوں کو بے نتیجہ بنا دیا۔ ترجیحات (priorities) کا غلط تعین ہے۔

۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں مہاتما گاندھی نے سیاسی آزادی کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ حالانکہ زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ تعلیم کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ آزادی کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو نے سوسلشٹ اکانومی (زیادہ صحیح لفظوں میں سرکاری اکانومی) قائم کرنے کو اپنی پہلی ترجیح بنایا۔ حالانکہ ان کے لئے صحیح یہ تھا کہ وہ ملک میں انفراسٹکچر (infrastructure) وجود میں لانے کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ اٹل بہاری باجپئی نے ایٹم بم بنانے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا۔ حالانکہ ان کے لئے صحیح یہ تھا کہ وہ سرکاری بھر شٹا چار ختم کرنے کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ یہی معاملہ سرحد کے دوسری طرف پاکستان میں ہوا۔ مسٹر محمد علی جناح نے دو قومی دنیا

وجود میں لانے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ حالانکہ ان کے لئے صحیح یہ تھا کہ وہ ایک قومی دنیا وجود میں لانے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں ۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلامائزیشن آف اسٹیٹ کو اپنی پہلی حالانکہ ان کے لئے صحیح یہ تھا کہ وہ اسلامائزیشن آف مین کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں ۔ نواز شریف کو چاہئے تھا کہ وہ اقتصادی خود کفالتی کو پاکستان کی پہلی ترجیح بنائیں جو کہ تقریباً پچاس بلین ڈالر کا مقروض ہو چکا ہے۔ مگر انھوں نے شاہین بم اور غوری مزائل بنانے کو اپنی پہلی ترجیح

صحیح ترجیح اختیار کرنے والی قوم وقت پر اپنی منزل پر پہنچتی ہے۔ اور غلط ترجیح اختیار کرنے والی قوم کہیں بھی نہیں پہنچتی خواہ بظاہر وہ کتنی ہی زیادہ لمبی مدت تک سرگرمی دکھاتی رہے۔ بد قسمتی سے یہی دوسری صورت انڈیا اور پاکستان کے حصہ میں آئی ہے۔

آزادی سے پہلے غالباً ۱۹۴۳ء میں میں لاہور گیا تھا۔ اس وقت شاہ گنج (جون پور) سے لاہور تک براہ راست ٹرین جاتی تھی۔ چنانچہ میں اپنے قریبی اسٹیشن شاہ گنج میں ٹرین پر بیٹھا اور سفر کر کے لاہور اسٹیشن پر اتر گیا۔ اس وقت وہاں میرا کوئی جاننے والا نہ تھا ۔ پہلی رات میں نے ریلوے اسٹیشن سے قریب ایک مسجد میں گزاری۔ اس کے بعد دن کو میں شہر دیکھنے کے لئے نکلا۔ میں بغیر کسی منصوبہ کے لاہور کی سڑکوں پر چل رہا تھا۔ اتفاقی طور پر ایک صاحب سے ان کا پورا نام مجھے یاد نہیں۔ البتہ یہ یاد ہے کہ لوگ انہیں قریشی صاحب کہا کرتے وہ مجھ پر مہربان ہو گئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے جو صرف ایک کمرہ پر مشتمل تھا۔ دو ہفتہ ان کے ساتھ رہا۔ انھوں نے مجھ کو جن لوگوں سے ملایا ان میں سے ایک لاہور کے ہندو لاہور کے مال روڈ پر ان کی ایک بڑی دوکان تھی جس کے اوپر جلی حروف میں انگریزی میں لکھا ہوا تھا : بی لیلارام اینڈ سنز ۔ قریشی صاحب کے اس ہندو تاجر سے بہت اچھے تعلقات تھے وہ کئی بار مجھ کو وہاں لے گئے۔ اس ہندو تاجر نے میرے ساتھ نہایت عزت اور محبت کا معاملہ کیا۔ اس وقت لاہور میں بہت سے ہندو رہتے تھے۔ ان ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس وقت

نہایت خوشگوار تعلقات تھے۔ یہی حال اس پورے خطہ کا تھا جس کو اب پاکستان کہا جاتا ہے۔ یہ آزادی سے پہلے کی بات ہے۔ اب آزادی کے بعد اسی خطہ آرضی میں کیا حالات ہیں۔ اس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ یکم جون ۱۹۹۸ کو میں نے ریڈیو پاکستان پر پاکستانی وزیراعظم مسٹر محمد نواز شریف کی تقریر سنی۔ وہ پاکستانی عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ جس دن (۲۸ مئی ۱۹۹۸) ہم اپنا ایٹمی دھماکہ کرنے والے تھے، اس سے پہلے کی رات کو میں بالکل نہیں سویا۔ کہ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ دشمن کہیں ہمارے اوپر حملہ نہ کر دے۔

آزادی سے پہلے جب میں نے مذکورہ سفر کیا تواتر پر دلیس سے لے کر پنجاب تک ہر جگہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان برادرانہ ماحول کا منظر تھا۔ اس وقت دونوں میں سے کوئی بھی "دشمن" کا لفظ نہیں بولتا تھا۔ مگر آج سرحد کے دونوں طرف اس لفظ کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا اصل سبب میرے علم کے مطابق زرد صحافت اور زرد قیادت جس نے مصنوعی طور پر دوستی کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔

زرد صحافت اور زرد قیادت کا طریقہ کیا ہے۔ یہ طریقہ ایک لفظ میں منتخب رپورٹنگ (selective reporting) یعنی ایک ہزار میں سے ۹۹۹ اچھی باتوں کو چھوڑ دینا، اور صرف ایک بری بات کو مزید اضافہ کے ساتھ کثرت سے بیان کرنا۔ یہی پچھلے برسوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ دونوں طرف کے کچھ لکھنے اور بولنے والے اسی اسلوب کو اختیار کرکے دونوں گروہوں کو غیر فطری طور پر بھڑکاتے رہے۔ یہاں تک کہ دونوں کے درمیان فطرت کا قائم کردہ معتدل تعلق ٹوٹ گیا اور دونوں کے درمیان غیر معتدل تعلق قائم ہو گیا۔ زرد صحافت اور زرد قیادت کے معاملہ کو سمجھنے کے لئے دونوں طرف کی ایک ایک مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔

میرے علم کے مطابق، پچھلے تقریباً ۶۰ سال سے ایک بات مسلمانوں کے درمیان بار بار دہرائی جاتی رہی ہے۔ وہ یہ کہ ہندوؤں کا یہ منصوبہ ہے کہ آزادی کے بعد جب اکثریتی فرقہ ہونے کی حیثیت سے انھیں ملک میں اقتدار حاصل ہو تو وہ ہندوستان کو دوسرا اسپین بنانے کی کوشش

یعنی اس ملک سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیں۔ یہ بات جمعیۃ علمائے ہند کے مولانا محمد میاں (۱۹۰۳-۱۹۷۵) سے لے کر ندوۃ العلماء کے مولانا علی میاں تک، لمبے عرصہ سے بار بار دہراتے مگر ان حضرات میں سے کسی نے کبھی اس کا کوئی ماخذ نہیں بتایا۔ یہ صرف ایک سنی سنائی بات ہے جس کو ہمارے علماء اور غیر علماء بلا تحقیق برابر دہراتے رہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے اندر برادران وطن کی طرف سے ایک غیر ضروری قسم کا خوف پیدا کر دیا۔ ان کے اندر وہ معتدل مزاج باقی نہ رہا جو کسی ملک میں مستحکم ترقی حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ ”دوسرے اسپین“ کا افسانہ ہر اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ نہ اس کا کوئی واقعی ثبوت موجود ہے کہ ہندوؤں کی کوئی تنظیم اس مقصد کے لئے کام کر رہی ہے۔ اور اگر بالفرض ایسے کچھ سر پھیرے ہندو ماضی میں رہے ہوں یا آج کہیں موجود ہوں تب بھی اس قسم کا تخریبی منصوبہ بلا شبہ خدا کی اس دنیا میں نا قابل عمل ہے۔ ایسی حالت میں ہمارا کام اس کو نظر انداز کرنا ہے نہ کہ اس کو ایک خطرہ بتا کر مسلمانوں کو اس سے ڈرانا (اس کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ہندستانی مسلمان کے باب ”بے بنیاد خوف“ میں دیکھی جاسکتی ہے)

زرد صحافت اور زرد قیادت کا یہی معاملہ خود ہندوؤں کے درمیان بھی پیش آیا۔ بولنے والے ہندوؤں کے ایک طبقہ نے عجیب و غریب طور پر ہندوؤں میں یہ افواہ پھیلائی کہ مسلمانوں کے لئے اپنے مذہب کے رو سے چار شادیاں کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ ہر مسلمان چار شادیاں کرتا ہے، جب کہ ہندو صرف ایک شادی کرتا ہے۔ اس طرح ایک مسلمان ایک ہندو کے مقابلہ میں چوگنا زیادہ بچے پیدا کر رہا ہے۔ گویا کہ ہندوؤں کی آبادی ۱۔ ۴ کی رفتار سے بڑھ جب کہ مسلمانوں کی آبادی ۱۔ ۱۶ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ مسلمان بہت جلد تعداد میں ہندوؤں سے زیادہ ہو جائیں گے۔

ایسی حالت میں ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اضافہ آبادی کو روکنے کیلئے سخت تدبیر اختیار کی جائے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی انتہا پسند جماعت کو سیاسی اقتدار تک پہنچانے میں اس قسم کے فرضی خطرہ کا بہت بڑا دخل ہے۔ ہندوؤں کو محسوس ہوا کہ کانگریس جیسی ”نرم“ پارٹی مسلم

نسل کی حد بندی نہیں کر سکتی۔ اس لئے ضروری ہے کہ ایک ’’سخت‘‘ پارٹی کو مرکزی اقتدار دیا جائے، ورنہ ہندو پچاس برس بعد خود اپنے ہی ملک میں اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ اس بے بنیاد افواہ کی مدلل تردید میں نے اپنے مضامین میں کی ہے۔ اس کے علاوہ خود ہندوؤں کے جلسہ میں بھی ایک سے زیادہ بار اس کی تردید کر چکا ہوں (ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب یکساں سول کوڈ) ۳ فروری ۱۹۹۷ء کو نئی دہلی کے کانسٹٹی ٹیوشن کلب میں ایک جلسہ تھا۔ میں دہلی کے آرایس ایس گروپ کے لوگ بڑی تعداد میں شریک تھے۔ یہاں مجھے تقریر کرنے کا میں نے جو باتیں کہی ہیں ان میں چار شادی کا یہ افسانہ بھی تھا۔ میں نے کہا کہ قرآن وحدیث میں کہیں بھی یہ حکم نہیں ہے کہ ہر مسلمان چار شادی تاہم اس سے قطع نظر عقل عام ہی یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ ایسا ہونا عملی طور پر ممکن یہ بات اتنی زیادہ بے بنیاد ہے کہ وہ بظاہر ہی قابلِ رد ہے :

Printed page