Prima facie it stands rejected.
Al-Risala, September 1999, pp. 11–14
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ بالفرض اگر ہر مسلمان چارشادیاں کرے تو یہ صرف اس وقت ممکن ہو گا جب کہ مسلم سماج میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلہ میں چار گنا زیادہ ہو۔ یعنی اگر ایک کرور مرد ہوں تو چار کرور عورتیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ نیچر ہمیشہ عورت اور مرد کی تعداد کے درمیان ایک توازن (equilibrium) برقرار رکھتی چنانچہ ہر سماج میں عورت اور مرد کی تعداد ہمیشہ تقریباً یکساں رہتی ہے۔ حتی کہ اگر جنگ یا کسی بڑے حادثہ کی وجہ سے وقتی طور پر یہ توازن ٹوٹ جائے تو نیچر بہت جلد اس کے مطابق افراد پیدا کر کے اس توازن کو دوبارہ قائم کر دیتی ہے۔
یہی تمام انسانی معاشروں کا حال ہے۔ اور یہی مسلم معاشرے کا حال بھی۔ ایسی حالت میں یہ بات سرے سے ممکن ہی نہیں کہ ہر مسلمان چار عورتوں سے شادیاں کرے۔ یہ ہو سکتی تھی کہ مسلمانوں کے پاس کوئی عورت ساز فیکٹری ہو جس میں وہ اپنی مطلوب تعداد کے مطابق عورتیں بنالیا کرتے ہوں۔ مگر اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ مسلمانوں کے پاس ایسی کوئی
عورت ساز فیکٹری موجود ہے۔
پھر ہر مسلمان اگر چار شادی کرے گا تو کس طرح کرے گا۔ یہ فاضل عورتیں آخر کہاں سے لائی جائیں گی۔
اس قسم کی افواہی باتیں جو ہند و اور مسلمان دونوں کے درمیان پھیلائی گئیں ۔ اس فطری تعلق کو توڑ دیا جو دونوں کے درمیان سیکڑوں سال سے قائم تھا۔ اس کا ایک نتیجہ ملک کے بٹوارہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تاہم بٹوارہ کے بعد اگر افواہوں کا یہ کارخانہ بند ہو جاتا تب بھی اس میں کوئی حرج نہیں تھا۔ ایک عارضی وقفہ کے بعد دوبارہ فطرت اپنے آپ مطلوب اعتدال کو دونوں کے درمیان قائم کر دیتی۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا بلکہ افواہوں کا یہ کارخانہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری رہا۔ یہاں تک کہ اب سرحد کے دونوں طرف اس بات پر فخر کیا جا رہا ہے کہ ہم اب ایٹمی طاقت بن چکے ہیں۔ اب ہم دشمن کو اس طرح مٹا سکتے ہیں کہ اس کا کوئی وجود ہی زمین پر باقی نہ رہے۔
یوپی کے ضلع اعظم گڑھ میں میرے گاؤں سے تقریباً ۳ کلو میٹر کے فاصلہ پر یسین پور یہاں ایک وسیع زرعی فارم کے اندر یورپی طرز کی ایک لال عمارت تھی جس کو ”صاحب کا بنگلہ“ کہا جاتا تھا۔ یہاں ایک انگریز مسٹر لاری رہا کرتا تھا جو غالباً پہلی عالمی جنگ کے بعد یہاں آکر آباد ہوا تھا۔ ۱۹۱۷ کے انقلاب کے بعد وہ اپنے وطن انگلینڈ واپس چلا گیا۔ انگریزی حکومت نے یہاں اس کو ایک بڑی زمین دی تھی۔ وہ یہاں رہتا تھا اور زمین پر کاشت کرتا تھا۔ گزرتے ہوئے میں نے کئی بار اس بنگلہ کو دیکھا تھا۔ اب نئے مالکوں نے اس کو توڑ کر وہاں کھیت بنا دیا
اس وقت یہاں سڑک نہیں تھی۔ مسٹر لاری گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے بنگلہ سے ریلوے اسٹیشن پھریا جایا کرتا تھا۔ یہ ریلوے لائن اس علاقہ میں ۱۹۰۱ میں بچھائی گئی۔ اس کا یہ راستہ ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتا تھا۔ ہمارے گھر والے اس وقت علاقہ کے بڑے زمیندار تھے اور
اسی کے ساتھ آزادی کی تحریک سے متاثر تھے۔ چنانچہ یہ بات ان کو اپنے وقار کے خلاف معلوم ہوئی کہ ایک انگریز گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے گھر کے سامنے سے گزرے۔ ہمارے گھر والوں نے اس کو منع کیا۔ جب وہ نہیں مانا تو ایک روز اس کے گھوڑے کو روک کر اس کی پٹائی کی۔ اس نے کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی۔ اس نے صرف یہ کیا کہ آئندہ کے لئے اس نے اپنا اسٹیشن کا راستہ بدل دیا۔ اب وہ نظام آباد کے راستہ سے ریلوے اسٹیشن جانے لگا۔ اگرچہ یہ اس کے لئے ایک لمبا راستہ تھا۔
نوجوانی کی عمر میں میں اس پر فخر کرتا تھا کہ میرے خاندان والوں نے مسٹر لاری کو گھوڑے سے اتار کر مارا۔ مگر اب میں سوچتا ہوں کہ یہ بات نہ صرف غیر انسانی تھی بلکہ غیر دانشمندانہ بھی تھی۔
مسٹر لاری ایک ترقی یافتہ قوم کا فرد تھا۔ اس کے مکان کا طرز تعمیر، اس کی زراعت کا اصول، اس کے رہن سہن کا انداز، حتی کہ اس کے رد عمل کا طریقہ، ہر چیز میں لوگوں کیلئے نئی باتیں تھیں ۔ جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا تھا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس پورے علاقہ میں اس وقت غالباً وہ واحد شخص تھا جو انگریزی داں تھا۔ ہمارے خاندان کے لوگوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس انگریزی سے انگریزی زبان سیکھی جائے جو زمانہ کے لحاظ سے گویا ترقیاتی دور میں داخلہ کا دروازہ تھا۔
اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب انگریزوں کے خلاف وہ نفرت تھی جو اس زمانہ کے ہندو اور مسلم دونوں لیڈروں نے پورے ملک میں پھیلا رکھی تھی۔ اس زمانہ کے ہندو اور مسلمان دونوں کے لئے انگریز کا لفظ صرف نفرت کی ایک علامت بنا ہوا تھا۔ اس نفرت کے جذبہ کو تیز کرنے کے لئے اس زمانہ کے لیڈر نئی نئی تحریکیں چلاتے رہتے تھے۔ مثال کے طور پر انگلینڈ کے کپڑوں کو چنانچہ اس زمانہ میں انگلینڈ کے کپڑے خود ہمارے گاؤں میں بھی گھروں سے لے کر جلائے بد قسمتی سے بر صغیر ہند میں پچھلے سو سال کے اندر جتنی بڑی بڑی تحریکیں چلائی گئیں وہ تقریباً سب کی سب مبنی بر نفرت تحریکیں تھیں۔ شاید ان میں سے کوئی بھی مبنی بر محبت تحریک نہ
نفرت انسان کا سب سے زیادہ طاقتور جذبہ ہے ۔ نفرت کے جذبات کو بھڑکاکر بہت تھوڑی مدت میں بہت بڑی بڑی تحریکیں چلائی جاسکتی ہیں ۔ مگر اس قسم کی تحریکیں انسانیت کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیتیں ۔ نفرت کی بنیاد پر اٹھائی ہوئی تحریک میں لوگ انگریز سے بھی نفرت کرنے لگتے ہیں اور انگریزی سے بھی ۔
اس کے بر عکس اگر محبت کی بنیاد پر تحریک اٹھائی جائے تو لوگ ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھیں گے ۔ وہ انگریز کو سیاسی اعتبار سے غیر مطلوب سمجھتے ہوئے بھی ان سے انگریزی زبان سیکھیں گے اور انگریزی علوم کو حاصل کریں گے ۔ مگر بد قسمتی سے بر صغیر ہند میں محبت پر مبنی کوئی بڑی تحریک اٹھائی نہیں جاسکی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہنگامہ خیز تحریکوں کے باوجود ہمارے ملک میں کوئی حقیقی تعمیری کام نہ ہوسکا۔
میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوا جس کو آجکل کی اصطلاح میں فریڈم فائٹر کہا جاتا ہے۔ میرے گھر میں رات دن آزادی کا چرچار ہتا تھا۔ ہمارے خاندان کے سر پرست مولانا اقبال احمد سہیل (وفات ۱۹۵۵ء) کٹر کانگریسی تھے۔ ۱۹۴۲ میں میری شادی ہوئی تو انھوں نے سر سے پاؤں تک مجھے کھدر کے کپڑے پہنائے تھے۔ گاندھی اور نہرو نیز حب الوطنی کے بارے میں ان کے تین شعر یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔