آئند بھون سے کیا غرض اب ہر دل ہے نشیمن جواہر
Al-Risala, September 1999, pp. 14–17
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط ہے یہ کہ فقط ہندوؤں کا لیڈر تھا کہ تھا تمام جہاں بھر کا رہنما گاندھی محبت ہے وطن کی گل زمیں سے ہمیں اب کیا غرض خلد بریں سے اس زمانہ کے دوسرے بہت سے نوجوانوں کی طرح میں بھی آزادی کے سنہرے خواب دیکھا کرتا تھا۔ لوگوں کی باتیں سن کر آزاد ہندوستان کا عجیب و غریب طلسماتی تصور میرے ذہن میں بسا ہوا تھا۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو جب ہندوستان آزاد ہوا، اس وقت میں یوپی کے شہر اعظم گڑھ رات کو میں اپنے گھر سے نکل کر شہر کے چوک کی طرف روانہ ہوا۔ چاروں طرف ایک
عجیب رومانی ماحول تھا۔ ۱۵ اگست کی اس رات کو جب میں اعظم گڑھ کی سڑک پر چل رہا تھا تو مجھے وہ انوکھا تجربہ ہوا جس کو اب تک میں نے صرف افسانوں میں پڑھا تھا۔ ... خوشی سے میرے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔
اس رات کو میں نے دیکھا کہ پورا شہر (اور اسی طرح پورا ملک ) چراغوں کی روشنی سے مگر جب صبح ہوئی تو یہ تمام چراغ بجھ چکے تھے اور اس کے بعد وہ پھر کبھی نہیں جلائے اب ۱۵ اگست صرف ایک سرکاری تہوار ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی قومی تہوار۔ قوم نے سیاسی آزادی سے جو امیدیں وابستہ کی تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں۔
یہ احساس صرف میرا احساس نہیں۔ بلکہ یہی ملک کے تمام لوگوں کا احساس ہے۔ سے مستثنیٰ صرف وہ تھوڑے سے لوگ ہو سکتے ہیں جنھیں اتفاق سے یہ موقع ملا کہ وہ ملک کی دولت کو لوٹ کر اپنے گھروں اور بینکوں میں بھر لیں۔ جن کا مسئلہ بقول ایک شخص ، انکم نہیں ہے بلکہ انکم
نوجوانی کی عمر میں میں آزادی کے مسرت بھرے انتظار میں جی رہا تھا۔ اب جب کہ میری عمر ہجری کلینڈر کے اعتبار سے ۸۰ سال کے قریب پہنچ رہی ہے، میں اس انتظار میں اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہا ہوں کہ اپنی موت سے پہلے وہ دن دیکھ لوں جب کہ میرا ملک ترقی کی اس منزل میں اپنا قدم رکھ چکا ہو۔ جس کا خواب ۱۹۴۷ سے پہلے ہمارے رہمناؤں نے دیکھا تھا۔
(LOUIS) بتایا تھا، وہ مجھ کو اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایئر پورٹ سے پولیس اسٹیشن لے گیا۔ واپسی کے جہاز کا وقت ہوا تو دوبارہ مجھے ایئر پورٹ پر لا کر جہاز کے اندر بٹھا دیا۔ اس نے میرا پاسپورٹ اور میرا ٹکٹ بھی مجھ کو نہیں دیا صرف یہ کہا کہ دورانِ پرواز وہ مجھ کو پائلٹ کے ذریعہ مل جائے گا۔ مسٹر لوئی جس وقت مجھ کو نیویارک ایئر پورٹ سے پولیس آفس کی طرف لے جا رہے تھے، میں نے ان سے کہا کہ مسٹر لوئی، آپ کو شاید یہ اندیشہ ہے کہ میں امریکہ میں رہ مگر میں ایک اور ڈھنگ کا آدمی ہوں، اگر آپ مجھے امریکہ کا صدر بنا دیں تب بھی میں یہاں رہنے والا نہیں ہوں۔ مجھے اپنے وطن جانا ہے۔ اور وہاں اپنے اس تعمیری مشن کو پورا کرنا ہے جس کے لئے میں نے اپنی ساری زندگی وقف کر رکھی ہے۔
۱۹۷۱ء کے نصف اول میں میں نے بذریعہ ٹرین پاکستان کا سفر کیا جب میں بارڈر کے دوسری طرف پہنچا تو میرے قلی نے کہا کہ آپ کو وہ میجر صاحب بلا رہے ہیں۔ اس کے بعد قلی نے مجھے ایک فوجی خیمے کے اندر پہنچادیا۔ وہاں ایک پاکستانی فوجی افسر بیٹھا ہوا تھا۔ اس خیمے میں صرف ہم دو آدمی تھے یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ بنگلہ دیش کی جنگ کی تیاریاں ہو رہی باوردی فوجی افسر نے مجھ سے کہا کہ انڈیا کے کچھ فوجی راز بتائیے۔ یہ سنتے ہی مجھے غصہ
میں نے کہا میجر صاحب، آپ مجھ سے یہ سمجھ کر بات کیجئے کہ میں انڈیا کا ایک وفادار شہری ہوں (یہ بات میں نے پاکستان کی سرزمین پر ایک فوجی خیمے میں اس وقت کہی جب کہ اگر وہ فوجی افسر مجھے گولی مار دیتا تو شاید میری موت اس طرح واقع ہو جاتی کہ اس کی کوئی خبر بھی نہ بنتی) پھر میں نے کہا کہ اگر انڈیا کے ساتھ آپ کی لڑائی کا انحصار ہمارے جیسے لوگوں سے فوجی راز حاصل کرنے پر ہے تو آپ اپنی لڑائی جیت چکے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں جنگی راز اتنا ٹاپ سیکریٹ ہوتا ہے کہ بعض اوقات وزیر دفاع کو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک میں اس قسم کی باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد سلام کئے بغیر خیمے کے باہر نکل آیا۔ مذکورہ میجر مکمل خاموشی کے ساتھ میری باتوں کو سنتا رہا۔ جب میں باہر نکلا تو وہ بھی میرے پیچھے پیچھے باہر
اس نے کہا: مولانا صاحب، ہم کو آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔
میری زندگی کے سیکڑوں واقعات میں سے یہ صرف چند واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ مجھے اپنے وطن سے کتنا زیادہ لگاؤ ہے۔ جو ہندو مجھے قریب سے جانتے ہیں، مثلاً سوامی اوم پورن سو تنتر (نئی دہلی) یا سوامی چید آنند (رشی کیش) وہ کہتے ہیں کہ تمہارے اندر جو دیش بھکتی ہے اس کی مثال ہم نے مہاتما گاندھی کے بعد کسی اور کے اندر نہیں دیکھی۔ میرے دل کی یہی تڑپ ہے جو مجھ کو ند کورہ قسم کی باتیں کہنے پر مجبور کرتی ہے۔
۲۰ جنوری ۱۹۹۷ کو نئی دہلی میں پائینر ہاؤس میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں شہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے۔ اس میٹنگ کا موضوع تھا: کیا گاندھی آج کے ہندوستان میں کامیاب میں نے اس موقع پر ایک لمبی تقریر کی اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ گاندھی پچھلے انڈیا میں بھی کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ ۱۹۴۷ میں انھیں خود یہ کہنا پڑا کہ: اب میری کون سنے پھر گاندھی جب پچھلے انڈیا میں کامیاب نہیں ہوئے تو آج کی انڈیا میں وہ کس طرح کامیاب ایک ہندو پروفیسر نے میری بات سن کر کسی قدر برہمی کے ساتھ کہا کہ آپ مہاتما گاندھی پر تنقید کر رہے ہیں یہ سن کر میرا دل تڑپ اٹھا میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ نے درد بھرے لہجے میں کہا۔