I love Gandhi but I love India more than Gandhi
Al-Risala, September 1999, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
میری یہ بات سن کر پروفیسر صاحب خاموش ہوگئے۔ اس کے بعد کسی نے بھی میری تنقیدی تقریر کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ میری یہ تقریر مکمل طور پر انگریزی اخبار پائینر (نئی دہلی) کے شمارہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۷ میں چھپ چکی ہے۔
انگریزی میگزین سنڈے کے شمارہ ۱۹ تا ۲۵ نومبر ۱۹۹۵ میں مسٹر ارن شوری کا ایک تفصیلی اس کے انٹرویو ر منی شنکر ایر تھے۔ اس انٹرویو میں مسٹر ارن شوری نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ایک اچھے مسلمان (good muslim) کا ایک اچھا انڈین (good Indian) ہونا بہت مشکل ہے۔ میں نے اس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد مسٹر ارن شوری کو
ٹیلی فون کیا۔ میں نے کہا: یہ بتائیے کہ میں گڈ مسلم ہوں یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ کون کہہ سکتا ہے کہ آپ گڈ مسلم نہیں ہیں۔ میں نے کہا کہ پھر سن لیجیے کہ میں ایک گڈ مسلم بھی ہوں اور گڈ انڈین بھی ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میری زبان سے نکلا: اگر میں گڈ انڈین نہیں ہوں تو مہاتما گاندھی بھی گڈ انڈین نہیں تھے۔
اس واقعہ کے چند روز بعد ڈاکٹر مہیش چندر شرما (ممبر پارلیمنٹ) میرے دفتر میں ملاقات کے لئے آئے۔ میں نے ان سے مذکورہ گفتگو نقل کی۔ انھوں نے اس کو سن کر کہا: مولانا صاحب، آپ کے گڈ انڈین ہونے کے لئے کسی ارن شوری کے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں۔ کسی سرٹیفکٹ کے بغیر ہی گڈ انڈین ہیں۔
میری بعض تنقیدوں کو سن کر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ ہمارے قومی لیڈروں کی اتنی سخت آلوچنا کرتے ہیں۔ آخر کس نے آپ کو اس کا ادھیکار دیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ میری دیش بھکتی (حب الوطنی) سے مجھ کو یہ ادھیکار پراپت ہوا ہے۔ یہ سن کر وہ چپ ہو گئے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے کسی ہندوستانی کی دیش بھکتی کا ثبوت یہ ہوتا تھا کہ وہ انگریزوں کے خلاف بولتا ہو، یہ بہت ستا معیار تھا۔ کیوں کہ اس زمانہ کے حالات میں کسی آدمی کو انگریز کے خلاف بولنے کا یہ شاندار انعام ملتا تھا کہ وہ اچانک ملک کے اندر ہیرو بن جائے۔ مگر ۱۹۴۷ کے بعد قومی تعمیر کا مسئلہ تھا۔ اور قومی تعمیر میں آدمی کو خود اپنی قوم کے خلاف بولنا پڑتا ہے۔ معیار پر صرف مہاتما گاندھی ہی پورے اترتے ہیں۔ تقسیم کے بعد پاکستان کو ۵۵ کروڑ روپیہ دینے کا سوال ایک انتہائی نازک اور حساس سوال تھا۔ اس حساس سوال پر مہاتما گاندھی واحد شخص تھے جو نازک قومی جذبات کے خلاف بولے۔ مہاتما گاندھی کے سوانح نگار لوئی فشر کے مطابق، مہاتما گاندھی کو جو گولی ماری گئی وہ اس معاملہ میں ان کے موقف کی قیمت تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے پچاس سال کے دوران دیش کے لئے اس قسم کی نازک قربانی کی دوسری مثال صرف وہ ہے جس کی توفیق مجھے اللہ کی خصوصی مدد سے حاصل ہوئی۔ بابری مسجد کا سوال تمام مسلمانوں کے لئے وقار کا سوال تھا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب مشتعل ہندوؤں کی ایک
بھِیٹر نے بابری مسجد کو ڈھا دیا تو تمام مسلمانوں کے اندر غصہ کی آگ بھڑک اُٹھی ۔ بے قابو ہو کر وہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ یہ ایک انتہائی نازک صورت حال لوگوں کے جذبات اتنے زیادہ بھڑکے ہوئے تھے کہ ملک کے دونوں بڑے فرقوں کے درمیان خونی ٹکراؤ کی حالت پیدا ہوگئی۔ اس وقت اپنی زندگی کا مشکل ترین رسک(risk) لے کر میں لوگوں کے سامنے آیا اور دونوں فرقوں کے سامنے یہ دو نکاتی فارمولا پیش کیا کہ ---- مسلمان ایک مسجد کے سوال پر چپ ہو جائیں، اور ہندو بقیہ مسجدوں کے سوال پر چپ ہو جائیں۔ یہ بات اس وقت کے ماحول میں آگ پر پٹرول ڈالنے کے ہم معنی تھی۔ وقتی طور پر لوگ میری جان کے دشمن ہوگئے قوم کی طرف سے مجھے سخت غضبناکی کا شکار ہونا پڑا مگر دھیرے دھیرے حالات بدلے اور لوگوں نے جان لیا کہ یہی واحد فارمولا تھا جس سے ملک کو ایک عظیم تباہی سے بچانا ممکن ہو سکا۔
میرے وطن اعظم گڑھ میں سب سے پہلی موٹر کار راجہ ہرکھ چند نے منگوائی تھی۔ تقریباً ستر سال پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد شہر کی دوسری کار وہ تھی جو ہمارے خاندان نے یہ فورڈ کا پرانا ماڈل تھا۔ جس کے اوپر موجودہ تھری ویلر کے مانند کپڑا ہوا کرتا تھا۔ زمانہ میں اس موٹر کار کو دیکھتا تھا اور اس پر بیٹھتا تھا۔ اس کار کی حیثیت گویا ایک سائنسی واقعہ کی مگر اس نے میرے اندر کسی بھی درجہ میں کوئی سائنٹفک تھنکنگ پیدا نہیں کی۔ یہ کار کیا تھی، وہ امرِیکا کے ہنری فورڈ (وفات ۱۹۴۷) کی سرتاپا سائنسی زندگی کا ایک صنعتی نمونہ تھا۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک سائنسی انسان کی یاد دلاتی تھی۔ اس کے ساتھ وہ فورڈ سے پہلے کے ان انسانوں کی یاد دلاتی تھی جنھوں نے اپنی زندگیاں سائنسی میدان میں وقف یہاں تک کہ وہ اس قابل ہوئے کہ وہ فطرت کے اس راز کو دریافت کرسکیں کہ جامد مادہ کو کس طرح متحرک مشین میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ کار گویا ان باتوں کا ایک خاموش مگر میرے ذہن میں کبھی اس قسم کے سوالات نہیں ابھرے اور نہ میں نے کبھی ان
کے بارے میں جاننے کی کوئی کوشش کی۔ آج میں سوچتا ہوں کہ مجھ میں اور ہنری فورڈ میں یہ فرق کیوں تھا۔ ہنری فورڈ نے اپنی پوری زندگی سائنس اور ٹکنالوجی کے مطالعہ میں صرف کردی اس نے اپنے رات دن کے تمام لمحات کو انہیں تجربات میں گزار دیا یہاں تک کہ وہ پہلی سب سے بڑی موٹر کمپنی بنانے میں کامیاب ہوا۔ جب کہ میرا یہ حال تھا کہ جزئی طور پر فورڈ کا ہم عصر ہوتے ہوئے میں اس قسم کے شعور تک سے بالکل خالی تھا۔ اس فرق کا سبب دونوں کے ماحول کا فرق
ہنری فورڈ ۱۸۶۳ء میں امریکا کے ایک شہر میں پیدا ہوا۔ اس وقت امریکا میں ہر طرف سائنس اور طبیعیاتی علوم کا چرچا تھا۔ اس ماحول میں پرورش پانے والا ہر نوجوان کسی ارادے کے بغیر خود بخود سائنسی باتوں سے مانوس ہو جاتا تھا۔ اس کے اندر اپنے آپ ہی سائنسی واقفیت حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو جاتا تھا۔ یہی ماحول ہے جس نے انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول کے زمانہ نے امریکا میں ہزاروں سائنسداں پیدا کئے ۔ مگر میں اپنے وطن اعظم گڑھ میں اس قسم کے ماحول سے مکمل طور پر محروم تھا۔ اس محرومی کی ذمہ داری اس زمانہ کے ان رہنماؤں پر ہے جو اپنی بے شعوری کی بنا پر اس قسم کا ماحول نہ بنا سکے۔ اس زمانہ کے رہنماؤں نے ہمارے معاشرہ کا جو ماحول بنایا وہ کیا تھا ۔ آزادی کے کھوکھلے نعرے، ادب اور شاعری، داستان امیر حمزہ اور الف لیلیٰ جیسی کتابوں کو پڑھنا، فرضی قصے کہانیاں سننا اور سنانا، وغیرہ ۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، تقریباً پورا مسلم معاشرہ ہمارے رہنماؤں کے پیدا کردہ اسی قسم کے ماحول میں جی رہا تھا۔ میرے علم کے مطابق بر صغیر ہند کا کوئی بھی گوشہ ایسا نہیں جو اس زمانہ میں اس عام صورت حال سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکتا ہو۔ گھر کے ماحول سے نکل کر جب میں عربی اور دینی تعلیم کے لئے مدرسہ میں پہنچا تو وہاں بھی عین یہی ماحول تھا۔ حتیٰ کہ اس زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے جدید تعلیم کے نام سے جو ادارے بنائے وہاں بھی حقیقی معنوں میں سائنسی ماحول کا کوئی وجود نہ تھا۔ پہلی بار جب میں مسلم یونیورسٹی علیگڑھ) گیا اور وہاں "سر سید روم" کو دیکھا تو مجھے یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ سر سید (۱۸۹۸)
انیسویں صدی کے نصف آخر میں جب لندن گئے تو وہاں کی سب سے زیادہ قیمتی چیز جو انہوں نے ہندوستان لانے کے قابل سمجھی وہ قدیم و وضع کا ایک سوفہ سٹ تھا۔ وہاں سے وہ نہ کوئی مشین لائے اور نہ کوئی سائنسی کتاب۔
میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں بر صغیر ہند کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے۔ میں یورپ اور امریکا کے لوگ سائنسی انقلاب لانے میں مصروف تھے۔ مگر جیسا کہ عرض کیا گیا، عین اسی زمانہ میں برصغیر ہند میں اس سے بالکل مختلف چیزوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی آزادی کے کھوکھلے نعرے، نثر اور نظم میں خیالی مضمون بندیاں، مذہب کے نام پر سطحی بحثیں، ماضی پر فخر اور حال سے بے خبری، انسانوں سے محبت کرنے کے بجائے ان کو اپنا دشمن بتا کر ان سے نفرت کرنا، حقائق فطرت میں جینے کے بجائے مفروضات اور توہمات میں جینا۔ چیزیں تھیں جو اس زمانہ میں بر صغیر ہند میں عمومی طور پر چھائی ہوئی تھیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں (نیز ہندوؤں) کے تمام مسائل کی جڑان کی یہی مشترک فکری پس ماندگی ہے۔ اسی بات کو جواہر لال نہرو نے اپنے آخری زمانہ میں اس طرح کہا تھا کہ ہمارے دیش میں سب سے زیادہ جس چیز کی کمی ہے وہ سائنٹفک ٹمپر ہے۔ اگر ہمارے یہاں ایسے صاحب بصیرت لیڈر ابھرتے جو لوگوں کہ اندر صحیح سوچ پیدا کرتے تو آج ہم اس کا مثبت نتیجہ پارہے ہوتے ۔ اب بھی اگر کوئی امید کا پہلو ہے تو وہ یہی ہے کہ ہمارے درمیان آج ایسے رہنما بھریں جو دور رس نظر رکھتے ہوں اور سماج کو ایسی بنیاد پر کھڑا کریں جو مستقبل کے اعتبار سے نتیجہ خیز ہو اس کے بغیر نہ پہلے کوئی امید کی جاسکتی تھی اور نہ آئندہ کی جاسکتی ہے۔ ۱۹۴۶ میں یہ بات واضح ہو گئی کہ اب انڈیا کو انگریزوں سے آزاد ہونا ہے۔ لوئی فشر کے بیان کے مطابق، ۵ دسمبر ۱۹۴۶ میں مہاتما گاندھی نے لکھا کہ ۔ اس ملک کے ہند اور مسلمان دونوں کو امن اور میل ملاپ کے ساتھ رہنا ہے ورنہ اس کی کوشش میں میں اپنی جان دے دوں گا: Hindus and Muslmans should learn to live together in peace and amity otheriwse I should die in the attempt .(p.449)
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ بر صغیر ہند کی تقسیم نفرت کی بنیاد پر ہوئی۔ نفرت کی یہ لہر ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو اچانک ختم نہیں ہو سکتی تھی۔ فطری طور پر ایسا ہوا کہ یہ نفرت اس کے بعد بھی سرحد کے دونوں طرف جاری رہی۔ بلکہ مختلف اسباب کے تحت اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بلاشبہ ملک کے مستقبل کی تعمیر کے لئے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ دو پڑوسیوں میں اگر نفرت اور عداوت کی فضا ہو تو دونوں میں سے کوئی ایک بھی ترقی نہیں کر سکتا۔ مگر میرے علم کے مطابق پورے بر صغیر میں صرف ایک شخص تھا، یعنی مہاتما گاندھی۔ جو اس حقیقت کو شعوری طور پر جانتا اس نے اس راہ میں اپنی آخری کوششیں بھی صرف کر دیں۔ مگر مشن کی تکمیل سے پہلے آزادی کے جلد ہی بعد ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو گولی مار کر گاندھی کو ہلاک کر دیا گیا۔ اگلی صبح کو تمام اخباروں نے اس کو اپنی پہلی خبر بنایا۔ امرت بازار پتر کا کی سرخی ان الفاظ میں تھی: Gandhi sacrificed by fanaticism ہندو مسلم اتحاد، اور اسی طرح انڈیا اور پاکستان کے درمیان پر امن تعلقات بلاشبہ اس بر صغیر کی سب سے بڑی ضرورت ہیں۔ اس فضا کو پیدا کئے بغیر بر صغیر میں کوئی ترقی ممکن نہیں ہو سکتی، نہ ایک کے لئے اور نہ دوسرے کے لئے۔
مگر اس رخ پر ابھی تک کوئی مؤثر کوشش نہ کی جاسکی۔ مہاتما گاندھی نے اس کو اپنا آخری مشن بنا کر اپنی پوری زندگی اس کے لئے وقف کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر مشن کے آغاز ہی میں ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کے بعد میرے خیال کے مطابق، کوئی بھی قابل ذکر شخص اس خاص مقصد کے لئے نہ اٹھا، نہ ہندوؤں میں اور نہ مسلمانوں میں۔
ہندوؤں میں پنڈت جواہر لعل نہرو اور مسلمانوں میں مولانا ابوالکلام آزاد۔ اس قابل تھے کہ وہ گاندھی کے اس نا تمام مشن کو پورا کر سکیں۔ مگر ان لوگوں نے اس رخ پر کوئی سنجیدہ کوشش
اگر پنڈت نہرو پرائم منسٹر نہ بنتے۔ اس کے بجائے وہ گاندھی کے مذکورہ مشن کی تکمیل کے لئے ایک انگریزی میگزین نکالتے۔ اسی طرح مولانا آزاد وزیر تعلیم نہ بنتے اس کے بجائے وہ
ہندو مسلم اتحاد کے مقصد کے تحت ایک اردو میگزین جاری کرتے تو یہی دو افراد دس سال کے اندر پورے ملک میں ایک نیا فکری انقلاب لانے کے لئے کافی تھے۔
انسان کے لئے سب سے زیادہ تباہ کن نفسیات انتقام کی نفسیات ہے۔ انتقام کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کا کوئی خاتمہ نہیں۔ ہر انتقام کا دوبارہ انتقام لیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ تباہ کن سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک کہ خود انتقام لینے والوں کا خاتمہ نہ
۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو ہندوستان کا بٹوارہ ہوا۔ اس بٹوارہ کے ذمہ دار بلاشبہ ہندوستانی مسلمان ہندوستانی مسلمانوں نے مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابو الکلام آزاد جیسے اتحاد پسند قائدین کو رد کر دیا اور مسٹر محمد علی جناح کی قیادت میں ملک کے بٹوارے کا طوفانی مطالبہ کیا۔ نے تحریک کے آخری مرحلہ میں اس کو ناگزیر برائی (necessary evil) کے طور پر مان لیا۔ یہ ہندو ذہن کے لئے نہایت سخت صدمہ تھا۔ تاہم یہ عین ممکن تھا کہ فطرت کا خاموش عمل اس کو فراموشی کے خانہ میں ڈال دے۔ مگر پاکستان کی مسلسل حریفانہ پالیسی نے یہ نوبت نہ آنے دی کے ہندو ذہن بٹوارے کے صدمہ کو بھلا دے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندو قیادت نے بلا اعلان بٹوارہ کا انتقام لینے کا فیصلہ کیا۔ سابق مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں شیخ مجیب الرحمن کی علیحدگی پسند تحریک نے ہندو قیادت کو موقع دیا۔ چنانچہ اس نے شیخ مجیب الرحمن کا ساتھ دے کر ۱۹۷۱ میں پاکستان کے دو ٹکڑے کر دیے۔
ہندو و قائدین اگر دشمند ہوتے تو وہ پیشگی طور پر اس حقیقت کو جان لیتے کہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی بہترین صورت یہ ہے کہ وہ خود بنگالیوں کے ہاتھوں بنے۔ مگر اس وقت کے ہندو قائدین کی منفی ذہنیت ان کے لئے اس حقیقت کو سمجھنے میں رکاوٹ بن گئی۔ وہ یہ جاننے سے قاصر رہے کہ بنگلہ دیش کی تحریک میں ان کی شمولیت ان کے لئے ایک بوم رینگ کھیل ثابت اور دوبارہ انتقام کا انتقام لیا جائے گا۔ مگر وہ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے یہاں تک کہ انتقام
در انتقام کا ایک لامتناہی سلسلہ برصغیر ہند میں جاری ہو گیا۔
میرے بچپن کے زمانہ میں میرے وطن کے قریب مدرسۃ الاصلاح کے میدان میں ایک عمومی جلسہ ہوا اطراف کے مسلمان ہزاروں کی تعداد میں امڈ آئے۔ اس جلسہ کے خصوصی مقرر مولانا محمد علی جوہر (وفات ۱۹۳۱) تھے۔ انہوں نے اپنے مخصوص جوشیلے انداز میں تقریر کی اس وقت لاوڈاسپیکر نہیں ہوتا تھا۔ مگر مولانا محمد علی اتنے گرج دار انداز میں بولتے تھے کہ لاوڈاسپیکر کے بغیر ہی ہزاروں آدمی ان کی بات سن سکتے تھے۔ مولانا محمد علی کی تقریر ختم ہوئی تو ایک بوڑھا مسلمان اٹھا بھیڑ کو چیرتا ہوا وہ اسٹیج کے پاس پہنچا۔ اس نے مولانا محمد علی کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارتے ہوئے اپنی دیہاتی زبان میں کہا کہ : محمد علی جون تیں کہے کہو نہ کہیں (محمد علی، جو تونے کیا کسی نے نہیں کیا)
خلافت تحریک کے زمانہ میں محمد علی اور شوکت علی کی تقریروں نے پورے ملک میں غلغلہ پیدا کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ مولانا شوکت علی نے ایک موقع پر کہا کہ : گاندھی میری جیب اس زمانہ میں مولانا محمد علی کے دبدبہ کا یہ عالم تھا کہ کانپور کے محلہ مچھلی بازار کی مسجد کے ساتھ ۱۹۱۳ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اس وقت کی انگریز حکومت نے مسجد کا غسل خانہ سڑک کی توسیع کے لئے توڑ دیا۔ اس پر لیڈروں کی تقریروں نے مسلمانوں کے اندر اتنا جوش پیدا کیا کہ لوگ بغاوت پر آمادہ ہو گئے۔ پولیس نے گولی چلائی جس میں بہت سے مسلمان مارے گئے۔ جب یہ ہنگامہ جاری تھا، مولانا محمد علی ٹرین سے سفر کر کے کانپور پہنچے ریلوے اسٹیشن پر مسلمانوں کی بھیڑ ان کے استقبال کے لئے موجود تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یوپی کا انگریز گورنر اس وقت کانپور میں تھا اور کھانے کے میز پر کھانا کھا رہا تھا۔ عین اس وقت اس کو خبر دی گئی کہ مولانا محمد علی کانپور پہنچ گئے ہیں۔ انگریز گورنر نے یہ خبر سنی تو چمچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔ یہ ہے کہ مولانا محمد علی کی زلزلہ خیز قیادت نے ہندوستانی مسلمانوں کو کیا دیا۔ قیادت مستقبل کی تعمیر کے لئے ہوتی ہے نہ کہ وقتی دھوم کے لئے۔ مگر میرے علم کے مطابق مولانا محمد علی نے
اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو مثبت معنوں میں مسلمانوں کے لئے مفید ہو۔ البتہ اپنی پر جوش طبیعت کی بنا پر انھوں نے ایسی باتیں کہیں جو مسلمانوں کے لئے آج تک مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔
خلافت تحریک کے زمانہ میں مہاتما گاندھی بھی ان کے ساتھ ہو گئے تھے۔ اس زمانہ میں ایک بار ایسا ہوا کہ مولانا محمد علی نے دلی کی جامع مسجد میں مسلمانوں کا ایک جلسہ کیا۔ مہاتما گاندھی کو بھی اس جلسہ میں لے گئے۔ مہاتما گاندھی نے وہاں ممبر پر بیٹھ کر تقریر کی۔ واقعہ مسلمانوں کی برہمی کا سبب بن گیا۔ کچھ لوگوں نے اس واقعہ کو لے کر مولانا محمد علی کو بد نام کرنا شروع کر دیا۔ یہ ایک نازک صورت حال تھی۔ مولانا محمد علی نے اس موقع پر اپنا دفاع اس طرح کیا کہ انھوں نے کہا: جہاں تک سیاست کا تعلق ہے، میں مہاتما گاندھی کو اپنا لیڈر سمجھتا مگر جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو میرے نزدیک ایک فاسق و فاجر مسلمان بھی مہاتما گاندھی سے اچھا ہے۔
ایک عام آدمی اگر اس طرح کی بات کہے تو وہ نیوز (خبر) نہیں بنتی۔ مگر جب ایک مشہور لیڈر اس قسم کی بات کہے تو وہ نیوز بن کر فوراً ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ چنانچہ مولانا محمد علی کی اس بات پر ہندوئوں میں بہت زیادہ چے می گوئیاں ہو ئیں۔ میرے نزدیک مولانا محمد علی کا جواب درست نہ تھا۔ انھوں نے غیر ضروری طور پر بات کو اتنا پیچیدہ بنا دیا۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ اگر میں مہاتما گاندھی کو مسجد میں لایا ہوں تو میں نے کوئی غیر اسلامی کام نہیں کیا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ کے زمانے میں غیر مسلم مسجد کے اندر آتے تھے اور ایسے بھی واقعات موجود ہیں کہ انھوں نے مسجد کے اندر تقریر کی۔ اور اس کو کوئی برا نہیں مانا۔
اس کے مقابلہ میں مہاتما گاندھی کا انداز دیکھئے۔ اس واقعہ کے بعد غالباً کلکتہ میں کانگریس کا سالانہ اجلاس ہوا۔ وہاں مہاتما گاندھی اور مولانا محمد علی دونوں موجود تھے۔ جب اجلاس شروع ہونے والا تھا تو اچانک ایک سنسنی خیز واقعہ ہوا۔ مہادیو دیسائی اچانک اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے بلند آواز سے کہا کہ میں اجلاس کی کارروائی ہونے نہیں دوں گا۔ مولانا محمد علی نے مہاتما گاندھی کی
توہین کی ہے۔ سب سے پہلے وہ یہاں آکر معافی مانگیں ۔ اس کے بعد ہی جلسہ شروع ہوگا۔ مہادیو دیسائی کے اس پر جوش اعلان کے بعد جلسہ گاہ میں ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ نظریں مولانا محمد علی پر پڑنے لگیں مگر مولانا محمد علی اس کے لئے تیار نہیں ہوئے کہ وہ کھڑے ہو کر سرے عام معافی مانگیں۔ غالباً انہیں ڈر تھا کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو جلسہ گاہ سے نکلنے کے بعد مسلمان ان کا دامن پکڑیں گے اور ان کو مطمئن کرنا ان کے لئے سخت مشکل ہوگا۔ کچھ دیر یہ حالت طاری رہی اس کے بعد ایک انوکھا واقعہ ہوا۔ مہاتما گاندھی جو اسٹیج پر دوسری طرف موجود تھے ۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھے اور چلتے ہوئے مولانا محمد علی کے پاس پہنچے۔ انھوں نے مولانا محمد علی کے گلے میں اپنی باہیں ڈال دیں اور کہا: میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا یہ سن کر لوگ ہنس پڑے اور جو بات بے حد سنگین نظر آتی تھی وہ ایک لمحہ میں ختم ہوگئی اور اپنے معمول کے مطابق جلسہ شروع ہو گیا۔
کشمیر کی متشددانہ تحریک ۱۹۷۹ء کے آخر میں شروع ہوئی۔ چند سال بعد میری ملاقات کچھ پاکستانی دانشوروں سے ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ کیوں کشمیر میں خونی تحریک چلا رہے ہیں، جب کہ آپ یقینی طور پر جانتے ہوں گے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ کشمیر میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا ایک فیصلہ تھا، اور تاریخ کے فیصلہ کو اس قسم کے گن کلچر کے ذریعہ بدلنا ممکن نہیں۔ کہا کہ ہم بھی اس حقیقت کو جانتے نہیں مگر ہم بنگلہ دیش کو بھلا نہیں سکتے ۔ ہمیں انڈیا سے ۱۹۷۱ء کا انتقام لینا ہے۔
میں نے کہا کہ آپ لوگ مسلم دانش در سمجھے جاتے ہیں مگر آپ کے اس جواب کا دانشوری سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک جھوٹی دانشوری ہے۔ سچی دانشوری کیا ہے۔ اس کی ایک مثال میں آپ کو بتاتا ہوں۔
آپ جانتے ہیں کہ امریکہ نے ۱۹۴۵ میں جاپان کے اوپر پہلی بار ایٹم بم گرایا۔ جاپان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہیرو شیما بالکل تباہ ہو گیا ۔ یہ جاپانیوں کے لئے ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔
وہاں کے لوگوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ وہ ہیر اکری (خود کش بمباری) کی حد تک جاکر امریکہ سے انتقام لینے کے لئے تیار ہوگئے۔ اس وقت کچھ جاپانی دانشور اٹھے انھوں نے تقریر و تحریر کے ذریعہ اپنی قوم کی انتقامی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ 1935ء میں اگر امریکہ نے ہمارے ہیرو شیما کو تباہ کیا ہے تو ہم بھی اس سے پہلے 1931ء میں امریکہ کے پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے اس لئے معاملہ برابر ہو گیا۔ آؤ اب ماضی کو بھلا کر ملک کا نیا مستقبل تعمیر کرنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ مثبت رہنمائی تھی جس کا یہ شاندار نتیجہ نکلا کہ دوسری عالمی جنگ میں تباہ ہونے والا جاپان صرف چالیس سال کے اندر ایک عالمی اقتصادی طاقت بن گیا۔
یہ واقعہ بتا کر میں نے پاکستانی دانشوروں سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کے اندر حقیقی دانشوری ہوتی تو جاپانی دانشوروں کی طرح آپ بھی اپنی قوم سے یہ کہتے کہ ۔ انڈیا نے اگر 1971ء میں ہمارے ملک کو توڑا تو ہم بھی اس سے پہلے لے 1971ء میں ان کے ملک کو توڑ چکے تھے۔ معاملہ برابر ہو گیا۔ آؤ اب ماضی کی باتوں کو بھلا دیں اور مثبت ذہن کے تحت ملک کے مستقبل کی
پاکستان کے دانشور اگر منفی سوچ سے بلند ہوتے تو وہ وہی کرتے جو جاپانی دانشوروں نے وہ اپنی قوم کو انتقام کی دلدل سے نکالتے اور لوگوں کے اندر مثبت اور تعمیری ذہن پیدا کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو آج پاکستان بلاشبہ ایشیا کا ایک انتہائی ترقی یافتہ ملک ہو تا، نہ کہ ایک تباہ شدہ ملک جیسا کہ آج وہ دکھائی دیتا ہے۔
بر صغیر ہند میں بہت پہلے سے ہندو مسلم مسئلہ موجود تھا۔ 1947ء سے پہلے مختلف نزاعات کی صورت میں اس کی مثالیں سامنے آتی رہتی تھیں۔ ہمارے رہنما برابر اس مسئلہ پر غور کرتے آخر کار اس معاملہ میں دو نظریئے زیادہ ابھرے۔ ایک، مہاتما گاندھی کا نظریہ۔ محمد علی جناح کا نظریہ۔ مہاتما گاندھی کا حل فکری نوعیت کا تھا اور مسٹر محمد علی کا حل عملی نوعیت کا۔
مہاتما گاندھی کا کہنا تھا کہ یہ نزاعات زیادہ تر مذہبی نوعیت کے ہیں۔ مذہبی اختلافات بڑھ کر جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کا حل ان کی سمجھ میں یہ آیا کہ لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ مذاہب میں کوئی اختلاف نہیں۔ اسلام بھی ایک سچا مذہب ہے اور اسی طرح ہندو ازم بھی ایک سچا مذہب ہے۔ اپنے اس نظریہ کو انھوں نے ایک جملے میں اس طرح بیان کیا کہ۔ رحیم ایک ہے۔
یہ کوئی نیا نظریہ نہیں۔ چار سو سال پہلے شہنشاہ اکبر نے سیاسی طاقت کے ذریعہ اس کو رائج ڈاکٹر بھگوان داس نے مذاہب کے بارے میں اپنے انسائیکلو پیڈیاٹی علم کے ذریعہ اس کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مہاتما گاندھی نے اپنی قائدانہ مقبولیت کے ذریعہ اس کو عام کرنا چاہا۔ و نو با بھاوے جیسی روحانی شخصیت نے اس کے لئے اپنی عمر صرف کردی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ جہاں تک اصل مقصد کا تعلق ہے وہ ایک فیصد بھی حاصل نہیں ہوا۔
”تمام مذاہب سچے ہیں“ کا نظریہ خود مذہب کی نفی ہے۔ مذہب کا مقصد انسان کو یقین کی نعمت دینا ہے۔ یقین اپنی ذات میں تو حد چاہتا ہے نہ کہ تعدد۔ یقین کسی ایک ہی چیز کو حق ماننے سے پیدا ہو سکتا ہے۔ ہر چیز کو یکساں طور پر حق ماننا کبھی آدمی کے اندر یقین کی کیفیت پیدا نہیں
اس معاملہ کی ایک مثال خود مہاتما گاندھی کی زندگی میں موجود ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے عقیدے کو ”رام رحیم ایک ہے“ کے الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ مگر ۳۰ جنوری ۱۹۴۸ کو جب انھیں گولی ماری گئی تو موت سے پہلے جو آخری لفظ ان کی زبان سے نکلا وہ ”ہے رام“ ہے رحیم بلکہ صرف ”ہے رام“ تھا۔ کئی سچائی کی بات آپ ڈپلومیسی کے طور پر کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو سچائی پر یقین ہے تو وہ لازماً صرف ایک سچائی ہو گی نہ کہ کئی سچائیاں۔ ”تمام مذاہب ایک ہیں“ کا نظریہ ایک غیر حقیقی نظریہ ہے۔ اس لئے وہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔ اس قسم کے لوگ ظاہری نوعیت کی کچھ مشترک باتوں کو لے کر یہ کہنے لگتے ہیں کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے درمیان انتہائی اساسی اختلافات پائے
مثال کے طور پر اسلام اور ہندوازم کو لیجئے رام اور رحیم یا نوح اور منو جیسے ناموں کی لفظی مشابہت سے یکسانیت ثابت کرنا کوئی علمی استدلال نہیں۔ علمی استدلال کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں کی اساسی تعلیمات کا موازنہ کیا جائے ۔ مذکورہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ ہندوستان اور کیوبا دونوں ایک ہیں کیونکہ یہاں بھی درخت ہیں اور وہاں بھی درخت، یہاں بھی سمندری ساحل ہے اور وہاں بھی سمندری ساحل۔
میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میرے دل میں ہر انسان کے لئے یکساں احترام ہے، خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان ۔ مگر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمام مذاہب ایک ہیں ، یعنی ایک مذہب کی کتاب میں جو تعلیم ہے وہی تعلیم دوسرے مذہب کی کتاب میں بھی ہے۔ اس قسم کا نظریہ یقینی طور پر ایک غیر علمی اور غیر واقعی نظریہ ہے۔
مثال کے طور پر ہندوازم میں خدا کی بابت وحدت وجود (monism) کا تصور ہے اور اسلام میں اس کے برعکس توحید (monotheism) کا تصور۔ توحید کے مطابق ، خدا مخلوقات سے الگ ہے۔ وہ ایک مستقل ہستی کی حیثیت رکھتا ہے، جب کہ وحدت وجود میں خالق اور مخلوق کی علیحدگی کا کوئی تصور نہیں۔ اس کے مطابق، ہر چیز ایک ہی غیر مشخص حقیقت کا مختلف اور متنوع چنانچہ آپ کو ایسے ہندو ملیں گے جو اپنا یہ عقیدہ بیان کرتے ہوئے نعوذ باللہ یہ کہیں گے کہ: سود بری از نوڈ فرینس بٹوین جی او ڈی اینڈ ڈی او جی۔
اسی طرح اسلام میں پیغمبر خدا کا تصور ہے اور ہندوازم میں تجسیم خدا کا تصور۔ میں موت کے بعد جنت اور جہنم کا تصور ہے اور ہندوازم میں آواگون کا تصور وغیرہ۔ کہ ”تمام مذاہب ایک ہیں“ کا نظریہ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کے مقصد کے لئے کسی بھی درجہ میں کار آمد نہیں۔ اس کا ایک تجرباتی ثبوت یہ ہے کہ کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کے درمیان عملاً آج بھی یہ اعتقادی یکسانیت موجود ہے، اس کے باوجود ان کے درمیان برابر داخلی لڑائیاں جاری رہتی ہیں۔
مہا بھارت کی لڑائی میں کورواور پانڈو دونوں ہندو دھرم کو مانتے تھے۔ اس کے باوجود ان
کے درمیان خونیں لڑائی ہوئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دونوں فریق زیادہ تر عیسائی تھے اس کے باوجود ان کے درمیان تاریخ کی سب سے زیادہ ہولناک جنگ ہوئی۔ دوسرے مسلم ملکوں میں آج جو داخلی لڑائیاں جاری ہیں اس کے دونوں فریق اسلام کو اپنا مذہب اس کے باوجود وہ دشمنوں کی طرح ایک دوسرے کے خلاف لڑرہے ہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس مسئلۂ کا حل مذہبی یکسانیت نہیں بلکہ مذہبی روواداری ہے۔ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا راز باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔ اس مسئلۂ کا حل یہ ہے کہ لوگوں میں ٹالرنس کی اسپرٹ پیدا کی جائے، نہ کہ بے فائدہ طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔
اس معاملہ میں مہاتما گاندھی کا نظریہ اگر بے فائدہ تھا تو مسٹر محمد علی جناح کا پیش کردہ حل صرف الثا نتیجہ پیدا کرنے والا تھا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے یہ مسئلہ دو بے اقتدار کمیونٹی کے درمیان تھا، کیونکہ اس وقت سیاسی اقتدار انگریزوں کو حاصل تھا جو اپنے سیاسی مصالح کے تحت ہندوؤں اور مسلمانوں میں موازنہ قائم کرنے کا رول ادا کر رہے تھے۔ مگر مسٹر محمد علی جناح کے فارمولے کے تحت جب ہندوانڈیا (بھارت) اور مسلم انڈیا (پاکستان) بنا تو دو کمیونٹی کا مسئلہ مزید اضافہ کے ساتھ دو اسٹیٹ کا مسئلہ بن گیا۔ پہلے جس اختلاف کا اظہار جلسوں اور مظاہروں کی سطح پر ہوتا تھا وہ اب مسلح مقابلہ کی سطح پر ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے وہ ’’ہندو بم‘‘ اور ’’اسلامی بم‘‘ تک
حقیقت یہ ہے کہ جغرافیائی تقسیم کسی بھی درجہ میں ہندو مسلم مسئلہ کا حل نہیں۔ اس کا حل پہلے بھی یہ تھا کہ دونوں فرقے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے باہم مل جل کر رہیں اور آج بھی اس کا حل یقینی طور پر یہی ہے۔ مزید یہ کہ اس تقسیم نے اس مساوات کو توڑ دیا جو انگریزوں نے قائم کر رکھا تھا۔ موجودہ پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستان پانچ گنا زیادہ بڑے ملک کی حیثیت رکھتا ایسی حالت میں محاذ آرائی کی پالیسی کسی بھی درجہ میں پاکستان کے لئے مفید نہیں۔
کے لئے زندگی کی واحد ضمانت یہ ہے کہ وہ نزاعی طریقہ کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان میں کوئی بھی بے ریش یا باریش قائد نہیں جو اہل پاکستان کو اس قسم کا حقیقت پسندانہ مشورہ دے رہا ہو۔
ملک کی تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی جھگڑے ختم ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر اس کے بعد بھی وہ مزید شدت کے ساتھ جاری رہا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل وجہ کشمیر کا مسئلہ ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ خود کشمیر کا مسئلہ کس نے پیدا کیا۔ ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس مسئلہ کو پیدا کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری پاکستان کے غیر دانشمند لیڈروں پر ہے۔ اس معاملہ کا غیر جانب دارانہ جائزہ جس نتیجہ تک پہنچتا ہے وہ یہی ہے۔ آزادی کے بعد جب یہ مسئلہ پیدا ہوا، اس وقت مسٹر مہر چند مہا جن ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعظم تھے۔ وہ اس سے پہلے ہندوستان کے چیف جسٹس رہ چکے تھے۔ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری لوکنگ بیک (Looking back) میں تفصیل کے ساتھ کشمیر کا قصہ بیان کیا ہے۔ یہ کتاب ۱۹۷۳ میں ایشیا پبلشنگ ہاؤس (بمبئی) سے شائع ہوئی ہے۔ مسٹر مہر چند مہاجن لکھتے ہیں کہ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو مہاراجہ کشمیر نے انھیں ریاست کا وزیر اعظم مقرر کیا۔ کشمیر کے لئے روانگی سے پہلے وہ نئی دہلی میں مرکزی حکومت کے ذمہ داروں سے ملے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت ہندوستانی حکمران ہندوستان سے کشمیر کے الحاق کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں تھے۔ (صفحہ ۲۷۹) جسٹس مہر چند کے اس بیان کا جو مطلب ہے اس کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں۔
اس سلسلہ میں دوسری شہادت جو پیش کرنا چاہتا ہوں وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم چودھری محمد علی کی ہے۔ ان کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے ظہور پاکستان (Emergence of Pakistan) اس کتاب میں انھوں نے کشمیر کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ ہیں کہ ۱۹۴۸ میں جب انڈیا نے ریاست جونا گڑھ میں اپنی فوجیں داخل کر دیں اور اس کو انڈیا کے
ساتھ ملایا تو پاکستانی حکومت کی درخواست پر نئی دہلی میں ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ ہندوستان کی طرف سے پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل شریک تھے۔ پاکستان کی طرف سے نواب زادہ لیاقت علی خاں اور مصنف کتاب چودھری محمد علی نے شرکت کی۔
چودھری محمد علی بتاتے ہیں کہ میٹنگ شروع ہوئی تو لیاقت علی خاں (وزیراعظم پاکستان) نے اس پر تقریر شروع کی کہ انڈیا نے ریاست جونا گڑھ میں اپنی فوجیں کیوں داخل کیں جب کہ اس نے پاکستان سے الحاق کر لیا تھا۔ ان کی لمبی تقریر پر سردار پٹیل صبر نہ کر سکے اور درمیان میں چودھری محمد علی کے بیان کے مطابق، سردار پٹیل اگرچہ متعصب تھے مگر وہ حقیقت پسند (realistic) تھے۔ چنانچہ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ جونا گڑھ کی بات چھوڑو، کشمیر اور حیدر آباد کی بات کرو۔ اور ہم با آسانی دونوں کے بارے میں ایک اگریمنٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ Why do you compare Junagarh with Kshmir ? Talk of Hydera- bad and Kashmir, and we could reach an agreement (p 300)
مگر چودھری محمد علی کے بیان کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے سردار پٹیل کی اس پیشکش پر کوئی دھیان نہیں دیا اور گفتگو بے نتیجہ طور پر ختم ہو گئی۔
اس تاریخی شہادت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ابتداء اتنا سادہ تھا کہ وہ بات چیت کی میز پر حل ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود پاکستانی لیڈر کیوں اس کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کی وجہ پاکستان کے قائدین کی سیاسی حرص تھی۔ وہ عجیب و غریب طور پر اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ حیدر آباد اور کشمیر دونوں کو پاکستان میں شامل کر لیں گے۔ حیدر آباد کو اس منطق سے کہ اس کا صدر ریاست مسلمان ہے۔ اور کشمیر کو اس منطق سے کہ اس کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہ ڈبل منطق یقینی طور پر نا قابل عمل تھی۔ چنانچہ اس معاملہ میں پاکستانی قائدین کا انجام وہی ہوا جس کو ایک جاپانی مثل میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ۔ جو آدمی بیک وقت دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑے وہ ایک کو بھی پکڑ نہیں سکتا۔
میرے والد فرید الدین خاں مرحوم اپنے علاقے کے بڑے زمیں دار تھے۔ ان کا انتقال
۱۹۲۹ میں ہوا۔ وہ نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ ہندوؤں میں بھی اتنا زیادہ مقبول تھے کہ لوگ اپنے جھگڑوں کو طے کرنے کے لئے ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ معاملہ کو سننے کے بعد وہ جو فیصلہ دے دیتے اس کو دونوں فریق بلا بحث مان لیتے ۔ اس علاقہ میں ہندوؤں کی اکثریت تھی مگر میرے والد کی نسبت سے کبھی کوئی فرقہ وارانہ مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔
والد صاحب ایک مثالی قسم کے نیک نفس اور فیاض آدمی تھے۔ علاقہ کے ہر شخص کی خاموش مدد کرتے رہتے تھے۔ مثلاً کسی شخص کا گھر بن رہا ہے اور اس کو لکڑی کی ضرورت ہے تو کہتے کہ جاؤ فلاں درخت سے اپنی ضرورت کے مطابق لکڑی کاٹ لو۔ اسی طرح اگر کسی شخص کی شادی ہے اور اس کو غلہ کی ضرورت ہے تو اس سے کہہ دیتے کہ تم کو جتنے چاول اور دال کی ضرورت ہے ہمارے یہاں سے لے جاؤ۔ ایک مرتبہ ہمارے دروازہ سے ہندوؤں کی ایک بارات گزری اس وقت رات ہو گئی تھی اور اندھیرا چھایا گیا تھا۔ والد صاحب نے کہا کہ اندھیرے میں آپ لوگ کہاں جائیں گے۔ رات کو ہمارے یہاں ٹھہریئے اور صبح کو چلے جایئے ۔ اس کے بعد پوری بارات کو ٹھہرا کر سب کے لئے کھانے پینے اور سونے کا انتظام کیا۔ جھگڑوں کو طے کرنے کے لئے ان کا طریقہ بڑا عجیب تھا۔ ہمارے گاؤں کے ایک طرف ہر یجنوں کا محلہ تھا۔ ایک دن دو ہر یجن خاندان آپس میں لڑ گئے۔ جھگڑا ہوتا رہا یہاں تک کہ شام شام کو وہ لوگ اپنا جھگڑا طے کرنے کے لئے والد صاحب کے پاس آئے والد صاحب نے کہا کہ جب دن بھر تم جھگڑتے رہے تو تم نے کچھ کھایا پیا بھی نہیں ہو گا۔ پہلے کھاؤ پیو اس کے بعد جھگڑا طے کیا جائے گا۔ یہ کہہ کر ان کو راشن اور لکڑی دی اور کہا کہ تم لوگ اپنا کھانا پکاؤ اور سیر ہو کر کھاؤ۔ جب وہ لوگ کھاپی کر فارغ ہوئے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو چکا تھا۔ اس کے بعد وہ لوگ خوش ہو کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔
یہ وہ ماحول ہے جو ہمارے ملک میں ۱۹ ویں صدی کے آخر اور ۲۰ ویں صدی کے آغاز میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت نہ صرف میرے والد صاحب بلکہ عام طور پر بستیوں کے بڑے لوگ اسی مزاج کے ہوا کرتے تھے۔ یہ ماحول مسلسل باقی رہا۔ حتی کہ ۷ ۲ ۱۹ کا انقلاب بھی اس ماحول کو برہم
نہ کر سکا۔ ۱۹۷۳ کے بعد کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہاں بطور مثال نقل کیا جاتا ہے۔ میرے گاؤں میں ایک مسلمان زمین دار تھے۔ وہ عمر میں مجھ سے چھوٹے تھے۔ ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی بہادری نے ان کو غیر مصالحت پسند بنا دیا تھا۔ ان کے پاس لائسنس یافتہ بندوق بھی تھی۔ جس کو وہ اکثر اپنے ساتھ رکھتے تھے۔
ہمارے گاؤں سے ملا ہوا ایک اور گاؤں ہے جس کو بکیہ کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک راجپوت چھتر دھاری سنگھ رہتے تھے۔ مذکورہ مسلمان زمیں دار اور چھتر دھاری سنگھ کے درمیان مال یا جائیداد کا کوئی جھگڑا نہ تھا۔ مگر غالباً دونوں میں انا کا ٹکراؤ ہوا اور باہم دشمنی قائم ہو گئی۔ غالباً ۱۹۲۶ کا واقعہ ہے ۔ دونوں بذریعہ ٹرین شہر اعظم گڑھ جا رہے تھے دونوں کی ملاقات ریلوے اسٹیشن (سنجر پور) میں ہوئی ۔ یہاں کسی بات پر دونوں کے درمیان تکرار ہو گئی۔ مسلمان زمیں دار حسب معمول اپنی بندوق اپنے ساتھ لئے ہوئے تھے۔ انھوں نے جوش میں آکر بندوق اٹھائی اور بے تکلف چھتر دھاری سنگھ پر گولی چلا دی۔ وہ فوراً ہی ہلاک ہو گئے۔
یہ خبر اچانک پورے علاقہ میں پھیل گئی۔ ہندو بہت بڑی تعداد میں چھتر دھاری سنگھ کے مکان کے پاس جمع ہو گئے۔ یہ ہندو غصہ میں بھرے ہوئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ فوراً ہمارے گاؤں میں پہنچیں اور نہ صرف مذکورہ مسلمان سے بلکہ پورے گاؤں سے اس کا انتقام لیں۔ ہندوؤں کی یہ اشتعل بھیڑ اگر اس وقت ہمارے گاؤں میں داخل ہوتی جو کہ بکیہ سے بشکل ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے تو یقیناً وہ لوگ پورے گاؤں کو آگ لگا دیتے۔ اس وقت ایک غیر معمولی واقعہ ہوا مقتول چھتر دھاری سنگھ کا بھائی چتری سنگھ چٹان کی طرح ان کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ہم بدلہ ضرور لیں گے مگر سارے مسلمانوں سے نہیں بلکہ صرف اس قاتل مسلمان سے جس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے۔ بدلہ بھی یہ نہیں ہو گا کہ ہم اس کے جواب میں قاتل مسلمان کو قتل کریں۔ ہم صرف یہ کریں گے کہ اس معاملہ کو عدالت میں لے جائیں گے اور وہاں قاتل مسلمان کو قانونی سزا دلوائیں گے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ مذکورہ مسلمان پر قتل کا مقدمہ چلا ان کو عدالت سے لمبی قید کی سزا دی گئی۔
یہ حال صرف ہمارے علاقہ کا نہیں تھا بلکہ پورے بر صغیر ہند میں ہندو اور مسلمان اسی طرح مل جل کر پر امن طور پر رہتے تھے۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جس کو میری جیسی عمر کے لاکھوں لوگوں نے اس ملک میں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کا تجربہ کیا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وہ تفریقی سیاست کیسے ابھری جس کا نتیجہ ملک کا بٹوارہ
اس کا جواب یہ ہے کہ ملک کا بٹوارہ ہندوؤں اور مسلمانوں نے نہیں کروالیا۔ اور مسلمانوں کے کچھ لیڈروں نے کروالیا۔ یہ دو فرقوں کے عوام کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ کچھ لیڈروں کا مسئلہ تھا۔ جنھوں نے عوام کے نام پر اپنی لیڈری کو فروغ دیا۔ ہند و اور مسلمان ابتدا ء اپنی فطرت پر تھے۔ فطرت کی رہنمائی عین وہی ہوتی ہے جس کی ایک جھلک مذکورہ واقعات میں نظر آتی ہے۔ اس کے بعد اخبارات کا دور آیا اور اخبارات کے ساتھ قیادتیں ابھرنے لگیں۔ فطرت لوگوں کی رہنما نہ رہی بلکہ لیڈر ان کار ہنما بن گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہماری تمام سیاسی مصیبتوں کا آغاز ہوتا ہے۔
لیڈریا قائد کون بنتا ہے، یہ وہ افراد ہیں جن کے اندر عام لوگوں سے زیادہ ذہانت پائی جاتی اور یہ تجربہ ہے کہ جو آدمی زیادہ باصلاحیت اور زیادہ ذہین ہو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر انانیت پسند (egoist) بن جاتا ہے۔ چنانچہ ہر بڑا لیڈر لازمی طور پر انانیت پسند ہو تا ہے۔ ہند کے لیڈروں میں اس اعتبار سے غالباً صرف ایک قابل ذکر استثنا نظر آتا ہے اور وہ مہاتما گاندھی کا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر قومی المیے صرف ایک سبب سے پیدا ہوئے ۔ اور وہ دو لیڈروں کے درمیان انا کا ٹکراؤ (ego clash) ہے۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۱ء میں مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو جانا زیادہ تر ذوالفقارعلی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن کے درمیان اسی انا کے ٹکراؤ کا نتیجہ تھا۔ اسی طرح کشمیر کا مسئلہ بروقت طے نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شیخ محمد عبد اللہ اور مسٹر محمد علی جناح کے درمیان انا کا ٹکراؤ پیش آگیا وغیرہ۔
اس حیثیت سے بر صغیر ہند کی سیاست کا مطالعہ نہایت عبرت انگیز ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کا بٹوارہ ہندو مسلم عوام نے نہیں کیا بلکہ ہندو مسلم عوام کے نام پر ہندو مسلم لیڈروں یہ لیڈر اپنی انا کے خول کے باہر نہ آ سکے یہاں تک کہ ان کی انانیت پسندی کی قیمت ملک کو نہایت مہنگی صورت میں دینی پڑی۔
جب بھی کچھ آدمی مل جل کر رہیں گے تو ان کے درمیان لازمی طور پر کچھ ناخوشگوار واقعات پیش آئیں گے، ایک فرقہ اور دوسرے فرقہ میں بھی اور خود ایک فرقہ کے اندر بھی۔ اس قسم کی ناخوشگوار صورت حال سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں سماج کے اندر اتحاد قائم رکھنے کا راز کیا ہے وہ صرف ایک ہے، اور وہ اعراض (avoidance) اور ٹالرنس ناخوشگوار صورت حال پیدا ہو نہ پر اگر اعراض کا انداز اختیار کیا جائے تو اتحاد باقی رہے گا اور اگر اعراض نہ کیا جائے تو لوگوں کی انانیت بھڑک اٹھے گی اور پورا سماج اختلاف اور انتشار کا شکار ہو کر رہ
اس سلسلہ کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ مسٹر محمد علی جناح انگلینڈ جانے سے پہلے تک کانگریس میں شامل تھے ایک بار ایسا ہوا کہ کانگریس کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ مہاتما گاندھی اور دوسرے لیڈروں کے ساتھ مسٹر محمد علی جناح بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ اپنی باری پر وہ تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو عام مزاج کے مطابق، انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز اسٹیج پر بیٹھی ہوئی ممتاز شخصیتوں کے نام سے کرنا چاہا۔ چنانچہ انھوں نے کہا: مسٹر گاندھی۔ یہ سن کر بعض کانگریسی بگڑ گئے۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کہو، ہم مسٹر گاندھی نہیں سن سکتے۔ جناح صاحب ایک لمحہ کے لئے رکے۔ اس کے بعد انھوں نے دوبارہ تقریر شروع کی تو پھر یہی کہا کہ مسٹر گاندھی تھی۔ اب مذکورہ کانگریسی دوبارہ اپنی مانگ لے کر کھڑے اور انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کہو۔ اس کے بعد جناح صاحب نے اپنی تقریر روک وہ خاموشی کے ساتھ اسٹیج سے اترے اور اپنے گھر واپس آگئے۔
یہ بحران نہایت آسانی کے ساتھ ٹل سکتا تھا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ مہاتما گاندھی
کھڑے ہو کر کہتے کہ جناح صاحب مجھ سے سینئر ہیں۔ ان کو حق ہے کہ وہ مجھ کو مسٹر گاندھی کے لفظ سے خطاب کریں۔ اگر مہاتما گاندھی بروقت ایسا کرتے تو یہ تعطل فوراً ختم ہوجاتا۔ کی کارروائی معمول کے مطابق جاری ہو جاتی۔
مگر ایسا نہیں ہوا۔ مسٹر محمد علی جناح اس واقعہ کے جلدی ہی بعد لندن چلے گئے۔ بعد وہ واپس آئے۔ اب انھوں نے کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شرکت کرلی۔ جلد ہی وہ مسلم لیگ کے سب سے بڑے قائد بن گئے۔
یہ بلاشبہ ایگو کا مسئلہ تھا۔ جناح صاحب اگر رعایت کا انداز اختیار کرتے تو وہ دوسری بار مہاتما گاندھی کہہ سکتے تھے مگر جب آدمی کی انا بھڑک اٹھے تو اس کے بعد اس کے اندر سے رعایت کا ذہن ختم ہو جاتا ہے۔ وہ معاملہ کو اپنے وقار کا معاملہ بنا لیتا ہے۔ اور جہاں وہ قاری کی نفسیات بھڑک اٹھے وہاں وہی ہو تا جو عملاً ہماری تاریخ میں پیش آیا۔ (اس سلسلہ میں مہاتما گاندھی کا رویہ قابل چنانچہ انھوں نے جناح صاحب کو خط لکھا تو لوگوں کے اختلاف کے باوجود انھوں نے جناح صاحب کو قائد اعظم کے لفظ سے خطاب کیا)
اسی انانیت کی ایک مثال وہ ہے جو پنڈت جواہر لعل نہرو کے یہاں پائی جاتی ہے اس مثال کو مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب آزادی ہند (India Wins Freedom) میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ۱۹۳۶ کے الیکشن میں ایک معاہدہ کے تحت مسلم لیگ نے کانگریس کی حمایت کی تھی۔ اس معاہدہ کا ایک جزء یہ تھا کہ یوپی کیبنٹ میں جو مسلمان وزیر بنایا جائے گا وہ مسلم لیگ کا آدمی ہوگا۔ الیکشن میں کانگریس کو بھاری جیت ہوئی اس وقت جواہر لعل نہرو د کا نگریس کے صدر تھے۔ انہوں نے فتح کے جوش میں یہ اعلان کر دیا کہ یوپی میں ہم خود اپنی پسند کی وزارت مسلم لیگ کا کوئی آدمی ہم اس میں شامل نہیں کریں گے۔ اس اعلان کے بعد سنجیدہ لوگوں نے جواہر لعل نہرو کو سمجھانے کی کوشش کی مگر مذکورہ اعلان کے بعد وہ ان کے لئے وقار کا مسئلہ بن گیا۔ چنانچہ وہ اپنے اعلان سے پھرنے پر راضی نہ ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم لیگ
کے نمائندہ عبد الرب نشتر کے بجائے کانگریس کے نمائندہ حافظ محمد ابراہیم کو یوپی وزارت میں مسلمان کی سیٹ دی گئی۔
جیسا کہ معلوم ہے ۱۹۳۶ میں کانگریس اور مسلم لیگ ایک دوسرے کے قریب آچکے تھے اور بظاہر بٹوارہ کا معاملہ ٹل گیا تھا مگر جواہر لال نہرو کی خودرائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم لیگی لیڈر وہ دوبارہ کانگریس سے دور ہوگئے یہاں تک کہ ملک دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور مجوسی اور نصرانی بنا دیتے ہیں (صحیح البخاری، کتاب الجنائز) اس بات کو توسیع دیتے ہوئے میں کہوں گا کہ عام انسان ہمیشہ صحیح فطرت پر ہوتے ہیں۔ پھر ان کے لیڈر ان کو بہکا کر غیر فطری راستوں پر ڈال دیتے ہیں۔
بر صغیر ہند کے مسلمانوں اور ہندوؤں میں اگر وہ لیڈر نہ ابھرتے جن کا نام بد قسمتی سے ملک کی تاریخ میں ہیرو کے طور پر لکھا ہوا ہے تو یقینی طور پر ملک کا نقشہ آج سے بہت زیادہ بہتر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مسٹر لیڈر مسٹر ایگو ہوتا ہے، اور ہر مسٹر ایگو یہ کرتا ہے کہ اپنی ذات کی خاطر وہ پوری قوم کو داؤ پر چڑھادیتا ہے۔ جس سماج میں اس قسم کے لیڈر موجود نہ ہوں وہاں خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت لوگوں کی رہنما ہوگی اور فطرت بلاشبہ صحیح ترین رہنما ہے۔ وہ رہنمائی میں کبھی غلطی نہیں کرتی۔
انڈیا میں ہندو اور مسلمان کے درمیان جو مسئلہ ہے اس کا بڑا سبب سیاسی تاریخ ہے۔ زیادہ تر مسلم حکمرانوں کی وراثت ہے جس کو بعد کی مسلم نسلیں بھگت رہی ہیں۔ اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کی یہ صورت حال زیادہ تر شمالی ہند میں ہے، جنوبی ہند کا علاقہ اس برائی سے اب تک پاک رہا ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں اور ہندو راجاؤں کے درمیان لڑائیاں زیادہ تر شمالی ہند میں ہوئیں۔ جنوبی ہند کا علاقہ بڑی حد تک اس قسم کی خونیں داستانوں سے محفوظ رہا۔
ہندوؤں کی باتیں سننے یا ان کی کتابیں پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں انھیں سب سے زیادہ شکایت مسلم حکمرانوں سے ہے، خاص طور پر اورنگ زیب سے۔ مثلاً ان حکمرانوں کا یہ فعل کہ انھوں نے اپنے دور حکومت میں کئی مندروں کو توڑا اور اس کی جگہ مساجد بنائیں۔ جہاں تک اس الزام کی تاریخی حیثیت کا تعلق ہے، تو اس سے انکار کرنا مشکل ہے۔ یہاں میں اس سلسلہ میں صرف ایک حوالہ دیتا ہوں۔
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کے والد محترم مولانا حکیم سید عبدالحی کی ایک کتاب ہے۔ یہ کتاب مجلس تحقیقات و نشریاتِ اسلام (نَدْوہ لکھنؤ) سے ۱۹۳۷ء میں شائع کی گئی ہے اس کتاب کا نام یہ ہے ”ہندوستان اسلامی عہد میں“ اس کتاب کے ساتھ مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ایک مبسوط مقدمہ شامل ہے۔ مولانا نے اپنے اس مقدمہ میں مذکورہ کتاب کو مسلم عہد کے ہندوستان کی صحیح تصویر اور مکمل دستاویز قرار دیا ہے (صفحہ ۱۷)
اس کتاب میں، بابری مسجد سمیت کئی مسجدوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مندروں کو توڑ کر عین اسی جگہ بنائی گئیں۔ مثلاً بابری مسجد کی بابت اس کتاب میں یہ الفاظ درج ہیں: کہا جاتا ہے کہ سیتا کا یہاں ایک مندر تھا، جہاں وہ رہتیں، اور اپنے شوہر کے لئے کھانا پکاتی تھیں، اسی جگہ بابر نے ۹۲۳ھ میں یہ مسجد تعمیر کی (صفحہ ۱۳۱)
اس کتاب میں اس طرح کی متعدد مسجدوں کا تذکرہ ہے جو ہندو عبادت گاہوں کی جگہ بنائی گئیں مثلاً ”عالمگیری مسجدیں“ کے زیر عنوان بتایا گیا ہے: کہا جاتا ہے کہ بنارس کی مسجد عالمگیر نے بنارس کے بیشتور مندر کی جگہ بنائی تھی۔ وہ مندر بہت بلند اور ہندوؤں میں مقدس تھا، اس نے اس کی جگہ انہی پتھروں سے بلند مسجد تعمیر کی، اور اس کے قدیم پتھر کو دیواروں میں معکوس کر کے نصب کر دیئے ۔
اس قسم کے واقعات جو مغل عہد میں پیش آئے ان کے بارے میں ہندو مصنفین اور مسلم مصنفین دونوں عام طور پر غیر منصفانہ انداز اختیار کرتے ہیں۔ ہندو مصنفین عام طور پر ان واقعات میں اضافہ کر کے ان کو مزید سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں۔ دوسری طرف مسلم مصنفین یا تو
ان کو گھٹا کر پیش کرتے ہیں یا سرے سے ان کی واقعیت کا انکار کر دیتے ہیں۔ مگر یہ دونوں ہی طریقے اس معاملہ میں غیر مفید ہیں۔
اس معاملہ کے تصفیہ کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہ ۱۹۴۷ء سے پہلے کی گئی اور نہ ۱۹۴۷ء ضرورت تھی کہ اس مسئلہ پر ایک مستقل کمیشن بنایا جاتا جو ہندو مورخین اور مسلم مورخین پر مشتمل ہوتا۔ وہ اس قسم کی نزاعی عبادت گاہوں کا جائزہ لے کر باضابطہ رپورٹ پیش کرتا اور قانون اور شریعت کی روشنی میں اس کا حل بتاتا۔ اس کے بعد ہندو اور مسلمان دونوں طرف کے ذمہ داروں کے دستخط سے ایک معاہدہ کیا جاتا اور آربٹریشن ایکٹ کے تحت اس پر عدالتی تصدیق حاصل کرلی جاتی۔ اس طرح یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکتا تھا۔ مگر بد قسمتی سے اس نوعیت کی کوئی مؤثر کوشش اس معاملہ میں نہ کی جاسکی۔
۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان ایک آزاد ملک بنا، اس وقت ملک کے باشندوں کی تعداد ۳۶ کرور تھی اس وقت وزیراعظم پنڈت جوہر لال نہرو نے کہا کہ ہندوستان کا ہر آدمی ایک مسئلہ ہے، اس طرح ہندوستان ۳۶ کرور مسائل سے دوچار ہے، پنڈت نہرو نے یہاں کے باشندوں کو مسائل کے روپ میں دیکھا۔ اس لئے ان کے بارے میں وہ صحیح منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ اگر وہ ان باشندوں کو اثاثہ (asset) کے روپ میں دیکھتے تو ان کی منصوبہ بندی بالکل مختلف ہوتی۔ ہندوستانی باشندوں کو اثاثہ کے روپ میں دیکھنے کے بعد ان کے اندر یہ سوچ ابھرتی کہ ملک میں ایسے اسباب پیدا کئے جائیں کہ یہ لوگ اس میں اپنا استعمال پاسکیں۔ ہر انسان پیدائشی طور پر ایک ہیرو ہوتا ہے لیکن اس کو اپنے ہیروانا کردار کو ادا کرنے کے لئے موافق خارجی اسباب کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر اس قسم کے خارجی اسباب حاصل ہوں تو ہر آدمی اس کے اندر عمل کرکے ہیرو بن جائے گا۔ اور اگر موافق اسباب نہ ملیں تو یہی انسان زیرو کے روپ میں دکھائی دینے لگے گا۔
اس معاملہ کی ایک عملی مثال خود ہندوستانی باشندوں کی صورت میں موجود ہے۔
جب اپنے ملک میں ہوتے ہیں تو عام طور پر وہ کوئی بڑا کام نہیں کرتے۔ لیکن جب یہی لوگ امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں میں جاتے ہیں تو اچانک وہاں وہ ہیرو کی طرح کام کرنے لگتے
مثال کے طور پر ہر گوند کھور انا جب ہندوستان میں تھے تو یہاں وہ کوئی کارنامہ انجام نہ دے انھوں نے دلی یونیورسٹی میں لیکچر شپ کے لئے درخواست دی مگر وہ یونیورسٹی میں اس عہدہ کے لئے نااہل سمجھے گئے۔ اس کے بعد مسٹر کھورانا امریکہ چلے گئے۔ وہاں انھیں ہر قسم کے علمی اور سائنسی مواقع ملے جس میں وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال پاسکیں۔ اب انھوں نے محنت اس کے بعد یہی ہر گوند کھورانا ممتاز سائنسی پروفیسر بن گئے۔ اور آخر کار اپنی غیر معمولی تحقیقات کے نتیجہ میں انھیں نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔
میں نے اپنے بیرونی سفروں کے درمیان کئی ہندوستانیوں سے پوچھا کہ آپ لوگ باہر آکر جس محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں اسی محنت اور لگن کے ساتھ انڈیا میں کام کریں تو وہاں بھی آپ بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ ان ہندوستانیوں میں سے تقریباً ہر ایک نے میری رائے سے اتفاق کیا۔ مگر انھوں نے کہا کہ انڈیا میں اور ان ترقی یافتہ ملکوں میں ایک بہت بڑا فرق وہ فرق یہ ہے کہ یہاں جب ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہر طرف ہمارے لئے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ ایک طرف یہ کہ جب ہم اپنا کوئی منصوبہ لے کر اٹھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی تکمیل کے تمام ضروری اسباب بہترین طور پر یہاں موجود ہیں۔ طرف یہ کہ یہاں جب ہم محنت کرتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو لگاتے ہیں تو ہم کو یقین ہوتا ہے کہ ہمیں اس کی پوری قیمت ملے گی۔ جب کہ انڈیا میں ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز موجود انھوں نے مزید کہا کہ اپنے وطن میں اگر یہ دونوں چیزیں ہمیں مل جائیں تو شاید ہم میں سے کوئی بھی شخص بد لیش میں رہنا پسند نہ کرے۔
پانی کے بہاؤ کے لئے پانی کو دھکیلنا نہیں پڑتا۔ پانی اپنے آپ بہتا ہے اگر آپ پانی کو جاری کرنا چاہیں تو صرف یہ کیجئے کہ اس کے لئے راستہ بنا دیجئے ۔ اس کے بعد پانی اپنے آپ بہنے لگے گا۔
یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان خود اپنی فطرت کے مطابق، ترقی کی طرف دوڑنا چاہتا ہے۔ اس کو نظر آئے کہ یہاں میرے لئے مواقع موجود ہیں تو وہ اپنے آپ ترقی کی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے گا۔
آزادی کے بعد ہمارے سیاسی لیڈروں کو صرف یہ کرنا تھا کہ وہ ملک میں ترقیاتی سرگرمیوں کے لئے وہ اسباب مہیا کریں جن کو موجودہ زمانہ میں انفراسٹرکچر کہا جاتا ہے---ملک میں وقت کے معیار کے مطابق اچھی سڑکیں بنائیں۔ بجلی اور ٹیلی فون کا عمدہ نظام قائم کریں، ہر بستی میں ٹرانسپورٹ کی قابل اعتماد سہولتیں مہیا کریں۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے لئے اچھے ادارے بنائیں۔ ہر جگہ معیاری لائبریریاں قائم کریں۔ دیہاتوں میں بھی کام کی وہی سہولتیں مہیا کریں جو شہروں میں پائی جاتی ہیں، وغیرہ۔
اسی کے ساتھ ان کو یہ کرنا تھا کہ وہ ملک میں ایسی انتظامیہ (ایڈمنسٹریشن) قائم کریں جہاں رشوت اور بدعنوانی کے بغیر ہر کام ہو سکے۔ ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ وہ ایک ایسے نظام کے تحت جی رہا ہے جہاں اس کا جائز حق اس کو ملے گا، اس کا حق کبھی مارا نہیں جائے گا۔ ہر ایک کو پیشگی طور پر یہ اطمینان حاصل ہو کہ اگر اس نے اہلیت اور قابلیت کا ثبوت دیا تو ضرور وہ اس کی قیمت پائے گا۔ ہر ایک کو یہ اعتماد ہو کہ اگر اس کے ساتھ کوئی بے انصافی ہوئی تو وہ عدالت میں جا کر وہاں سے بھر پور انصاف حاصل کر سکتا ہے: ہر ایک پیشگی طور پر یہ یقین رکھتا ہو کہ میں ایک ایسے نظام کے تحت جی رہا ہوں جس میں ہر ایک برابر کی حیثیت رکھتا ہے، عزت کے اعتبار سے بھی اور حقوق کے اعتبار سے بھی۔ بمبئی کے ایک تاجر مہیش بھائی شاہ نے بجا طور پر کہا: سرکار کا کام دھندا کرنا نہیں ہے، سرکار کا کام دھندا کرنے والوں کو اور سر مہیا کرنا ہے۔
اس قسم کا نظام کوئی یوٹوپیا نہیں، وہ عملاً آج بھی ان ملکوں میں قائم ہے جن کو ترقی یافتہ ملک کہا جاتا ہے۔ یہی وہ اصل کشش ہے جو لاکھوں ہندوستانیوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ اپنا وطن چھوڑ کر ان بدیسی ملکوں میں چلے جائیں۔ آزادی کے بعد ہمارے حکمرانوں کا اصل کام یہی تھا کہ وہ انڈیا کو اسی قسم کے مواقع اور انفراسٹرکچر والا ملک بنائیں۔
اس کے بعد ہمارے حکمراں دیکھتے کہ وہ کروڑوں ہندوستانی جن کو انھوں نے بطور خود مسئلہ فرض کر رکھا ہے وہ ملک کے لئے قیمتی اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔ مگر ملک کی آزادی کے بعد ہمارے حکمراں نے قیمتی پچاس سال بے فائدہ سرگرمیوں میں کھودیئے۔ مثلاً نان آئنڈ موومنٹ کھڑی کرنا، پلک سیکٹر بنانا، مالیاتی اداروں کو نیشنلائز کرنا، قوانین میں اضافہ کرنا وغیرہ۔ اسی قسم کی بے فائدہ سرگرمیوں میں مشغول رہے۔ اور آخر کار ہمارے حصہ میں ایک برباد ملک کے سوا اور کچھ نہ آیا۔
۱۸ ستمبر ۱۹۹۸ کو ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ وہ دہلی کے ایک بزنس گروپ میں بڑے انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہندوستان پچھلے پچاس سال میں بہت زیادہ ترقی کر چکا ہو تا اگر ایک چیز نے اس کی ترقی کو روک دیا اور وہ سرکاری قانون قاعدے کی بھر مار ہے۔ جو بزنس کرتے ہیں، ہمیں ایسا محسوس ہو تا ہے کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ہم کوئی بھی چھوٹایا بڑا کام سرکار کی منظوری کے بغیر نہیں کر سکتے، حتیٰ کہ لبرلائزیشن کے بعد بھی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہرو کے زمانہ میں جو سوشلسٹ اسکیم چلائی گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر کام میں سرکاری افسروں اور سرکاری اداروں کا دخل ہو گیا۔ جو لوگ ان دفتروں میں قلم لئے ہوئے بیٹھے تھے انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے دستخط کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی کچھ نہیں چنانچہ انھوں نے اپنی منظوری کی قیمت وصول کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ سارا سماج رشوت کا جنگل بن گیا۔ ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں گاندھی اور نہرو کو سب سے اونچا درجہ حاصل ہے مگر میرے نزدیک یہی دونوں شخصیات ہیں جنھوں نے ملک کی آزادی کو بربادی میں تبدیل کر دیا گاندھی کا عدم تشدد کا ہتھیار عملاً ملک میں لا قانونیت کو فروغ دینے کا سبب بنا اور نہرو کے سرکاری کنٹرول نے سارے ملک کو رشوت اور بد عنوانی کی جال میں اس طرح پھنسا دیا کہ آپ بظاہر اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔
تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد سرحد کے دونوں طرف ملک کی تعمیر نو کے نام پر دو مختلف تحریکیں چلائی گئیں۔ ہندوستان میں اس تحریک کا عنوان تھا: سوشلشک پیٹرن آف سوسائٹی۔ پاکستان میں اس تحریک کا عنوان تھا: اسلامک پیٹرن آف سوسائٹی۔ نام کے اعتبار سے دونوں تحریکیں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دونوں کا انجام ایک ہوا۔ اور وہ یہ کہ دونوں ہی تحریکیں کسی تعمیری انجام تک نہ پہنچ سکیں۔
جنوری ۱۹۵۵ میں آوڈی (مدراس) میں کانگریس کا ڈائمنڈ جوبلی سشن ہوا۔ اس سشن میں اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی قیادت میں متفقہ طور پر یہ ریزولیوشن پاس ہوا کہ ہندوستان میں سوشلسٹ طرز کا سماج بنایا جائے گا۔
میں اول دن سے اس نظریہ کا مخالف تھا۔ میں نے اس کے بعد ہی اس موضوع پر ایک کتاب کی تیاری شروع کردی۔ سوشلزم اور مارکسزم کو سمجھنے کے لئے میں نے دس ہزار سے زیادہ اس کے بعد میں نے وہ کتاب لکھی جو پہلی بار اپریل ۱۹۵۹ میں چھپی۔ اس کتاب کا مارکسزم تاریخ جس کو رد کر چکی ہے :