Marxism a rejected idealogy
Al-Risala, September 1999, pp. 17–50
By Maulana Wahiduddin Khan
پنڈت جواہر لال نہرو اس وقت پورے ملک کے واحد سب سے بڑے لیڈر تھے۔ نے اپنی پوری طاقت اس تجویز کو زیر عمل لانے میں لگادی۔ پانچ سالہ منصوبے وضع کئے گئے۔ پبلک سکٹر ( صحیح تر لفظ میں گورنمنٹ سکٹر ) کے نام سے دیو پیکر صنعتی ادارے قائم ہوئے۔ ہزاروں کی تعداد میں ایکٹ اور ضابطے بنائے گئے۔ یوجنا بھون اور وکاس بھون جیسے ناموں سے بہت سی ہمالیائی عمارتیں کھڑی کی گئیں۔ ملک کی پوری اقتصادیات کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر گورنمنٹ کے کنٹرول میں لے لیا گیا۔ ان سارے رومانی منصوبوں کو وقوع میں لانے کے لئے ملک کے اوپر بھاری ٹیکس لاد دیئے گئے۔ اس نام نہاد ”سوشلسٹ ماڈل“ کے اوپر ملک ۴۰ سال سے زیادہ مدت تک چلتا رہا۔
مگر اس انتہائی مہنگے منصوبے کا جو نتیجہ نکلا اس کو سی راج گوپال اچاری نے لائسنس پرمٹ
راج کا نام دیا تھا۔ تاہم راج گوپال اچاری (وفات 1972) یہ دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہے کہ نہرو کا لائسنس پر مٹ راج مزید ترقی کر کے لیتھار جی اور کرپشن کا راج بن گیا۔ نام نہاد نیشنلائزیشن کے نظام نے لوگوں کو عمومی طور پر کاہل بنا دیا۔ زندگی کے تمام شعبوں کو سرکاری آدمیوں کے ہاتھ میں دینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر طرف ناقابل بیان حد تک رشوت اور کرپشن کا بازار گرم ہو گیا۔ نہرو کے سوشلسٹ نظام نے ملک میں بے شمار کلرکوں کی ایک فوج بنائی اور پھر قوم کو کلرکوں کی اس بے رحم فوج کے حوالہ کر دیا۔ نئے نظام کے تحت ان کو اتنے اختیارات حاصل تھے کہ ہر کلرک گویا کہ ایک گورنر تھا۔
اس سوشلسٹ نظام نے ملک کو طرح طرح کے مہلک نقصان پہنچائے۔ مثلاً اس نظام کے نتیجہ میں ٹریڈ یونین جیسی تحریکیں وجود میں آئیں جنھوں نے پورے کارکن طبقہ کو اور آخر کار پورے سماج کو ڈیوٹی کے بجائے حقوق پر نظر رکھنے والا بنا دیا۔ اس طرح ملکی صنعت کی ترقی کے نام پر اس کو غیر فطری تحفظ دیا گیا۔ اس کے نتیجہ میں ملک کا مارکیٹ غیر معیاری سامانوسے بھر گیا۔ اس نے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسمگلنگ کا جال سارے ملک میں پھیل گیا۔ سسٹم کی صورت میں کرنسی کی ایک ایسی غیر قانونی تجارت وجود میں آگئی جو قانونی مالیاتی اداروں کے حجم سے بھی زیادہ بڑی تھی اس کے نتیجہ میں کھربوں کی بیرونی کرنسی ملک میں داخل ہوئے بغیر باہر ہی باہر فرخت ہو گئی۔
۲ جولائی 1998 کو حبیب محمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ حیدر آباد کے ایک تاجر ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں ایک صنعتی ادارہ چلاتا ہوں۔ اس کو چلانے کے لئے مجھے تقریباً ۴۵ سرکاری کھڑکیوں (windows) پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ ان میں سے ہر دندو کو مجھے پر سیکیونٹ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس صورت حال نے مجھے اتنا پریشان کیا کہ اب میں نے اپنا کاروبار تقریباً ختم کر دیا ہے۔
اس کے بعد انھوں نے کہا کہ حال ہی میں امریکہ گیا تھا۔ وہاں میں ایک مہینہ رہ کر واپس وہاں میں نے دیکھا کہ حکومت نے اپنے شہریوں کو ہر قسم کی سہولت دے رکھی ہے آپ
کو کسی سرکاری ونڈو پر لائن لگانے کی ضرورت نہیں۔ وہاں کھلا مقابلہ ہے وہاں آپ کو صرف ایک کام کرنا ہے۔ مقابلہ میں اپنے آپ کو اہل ثابت کیجئے اور جتنی چاہے ترقی کرتے چلے جائیے ۔ نے کہا کہ اب میں نے طے کیا ہے کہ اپنے بچہ کو امریکہ بھیج کر وہاں سٹل کراؤں۔ حبیب محمد صاحب کی یہ گفتگو سن کے مجھے ۳۵ سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آیا۔ عبدالعزیز خاں مرحوم جو یوپی میں ایک تجارتی ادارہ چلاتے تھے، وہ اپنے کسی کام کے لئے اسی قسم کی ایک سرکاری ونڈو پر گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ونڈو کے پیچھے بیٹھے ہوئے کلرک نے کچھ اس پر میرے بھائی نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ یہاں کے گورنر ہیں۔ ونڈو کے پیچھے سے ایک متکبرانہ آواز آئی : اس میں کیا شک ہے، اس آفس میں تو میں ہی گورنر
یہ تھا وہ پر عذاب اور ترقی شکن نظام جو جواہر لَالَ نہرو اور ان کے سوشلسٹ ساتھیوں نے اس ملک میں قائم کیا۔ نہرو کے ذہن میں نوجوانی کی عمر سے ایک سوشلسٹ خواب تھا۔ تھے کہ ہندوستان کی حکومت پر قبضہ کر کے یہاں کی تمام چیزوں کو سرکاری کنٹرول میں لے لیں اور پھر حکومتی طاقت سے ایک نیا انڈیا بنائیں ۔ اس خود ساختہ نئے انڈیا کی تعمیر کے لئے وہ اتنا زیادہ بے تاب تھے کہ اس کے قیام کا جلد موقع حاصل کرنے کے لئے انھوں نے ملک کی تقسیم کو منظور مگر آزادی کے بعد جب ان کا نام نہاد سوشلسٹ نظام قائم ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ صرف ایک ایسا مصنوعی نظام تھا جو بے رحم شکنجہ بن کر خود ترقی کے عمل ہی کوروک دیا۔ ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے سے پہلے اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے مجھے بابری مسجد کے بارے میں بات چیت کے لئے بلایا تھا۔ پرائم منسٹر ہاؤس میں جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو میں بے اختیار رو پڑا۔ میں نے کہا کہ بابری مسجد کو بچانے سے بھی بڑا مسئلہ ملک کو بچانا ہے۔ جواہر لال نہرو کے نام نہاد سوشلم نے ملک کو تباہی کے آخری کنارے پر پہنچا دیا آپ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو اس اقتصادی عذاب سے ملک کو نجات دیجئے ۔ اس کے بعد لبرلائزیشن کا وہ واقعہ وجود میں آیا جس کو عام طور پر ڈاکٹر من موہن سنگھ کی طرف منسوب کیا جاتا
ہے جو اس وقت کی نرسمہا راؤ گورنمنٹ میں وزیر مالیات تھے۔
سوشلسٹ ماڈل کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ اس عالم اسباب میں قابل بقا (sustainable) نہ تھا۔ اسکے لئے ہندوستان میں بھی اسی طرح ٹوٹنا مقدر تھا جس طرح وہ سوویت یونین میں ٹوٹ گیا۔ کسی ملک کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کو ایسے دور اندیش لیڈر ملیں جو قوم کو ایسا نظام دے سکیں جو قابل بقا ہو۔ کسی بھی نظام کا پورا نتیجہ "نصف صدی" میں اگر نصف صدی گزرنے کے بعد یہ معلوم ہو کہ چلایا جانے والا منصوبہ بے نتیجہ رہا تو نصف صدی کھو کر قوم کو اپنا سفر از سر نو پیچھے سے شروع کرنا پڑے گا۔
پاکستان کے قیام کے بعد وہاں جو نشانہ اختیار کیا گیا وہ بظاہر ایک صحیح نشانہ تھا، یعنی اسلامک پیٹرن آف سوسائٹی کا قیام مگر نتیجہ کا بر عکس صورت میں نکلنا بتاتا ہے کہ اس نعرہ میں کوئی بنیادی غلطی تھی اس لئے اس معاملہ کا بے لاگ جائزہ ضروری ہے تاکہ اس نقصان کا کم سے کم وہ فائدہ ہو جس کو فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: من نکردم شما خذ اکبنید۔ تاکہ اس تجربہ سے اگر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا تو کم از کم اس کے سبق سے بعد کے لوگ محروم نہ رہیں ۔ جیسا کہ معلوم ہے، مولانا شبیر احمد عثمانی (وفات ۱۹۴۹) پاکستان کے سرگرم حامیوں میں پاکستان کے قیام کے بعد وہ کراچی چلے گئے۔ پاکستان میں جو دستور ساز اسمبلی بنائی گئی اس کے وہ ایک اہم رکن تھے۔ دستور ساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے انہوں نے داخلی طور پر اپنا پورا زور اس پر ڈال دیا کہ پاکستان کا دستور اسلامی اصولوں پر بنایا جائے۔ داخلی اعتبار سے مولانا شبیر احمد عثمانی کی کوشش اور خارجی اعتبار سے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور دوسرے علماء کی تقریری اور تحریری مہم کا یہ نتیجہ ہوا کہ ۱۹۴۹ میں دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد (Obectives reso-) (lution کو منظوری دے دی۔ اس قرارداد مقاصد کے الفاظ شریعت کی روشنی میں وضع کئے اس کا استقبال مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے یہ کہہ کر کیا کہ پاکستان کی ریاست نے اب کلمہ پڑھ لیا ہے۔ حالانکہ زیادہ صحیح یہ تھا کہ وہ اعلان کرتے کہ ہم پاکستانیوں کے دلوں پر تو اسلام نہ
لکھ سکے البتہ ہم نے اسمبلی کے کے کاغذ پر اسلام کا نام تحریر کر دیا۔
اس کے بعد نفاذِ شریعت کے حصول کی مہم شروع ہوئی۔ اس مہم کے نتیجہ میں پاکستان دو طبقوں میں بٹ گیا۔ ایک حکمران طبقہ اور دوسرا غیر حکمران طبقہ ۔ حکمران طبقہ تقریباً سب کا سب سیکولر ذہن کا تھا۔ وہ سیکولر نظام بنانے کا حامی تھا۔ دوسری طرف غیر حکمران طبقہ اسلامی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اس کے نتیجہ میں دونوں طبقوں کے در میان زبردست ٹکراؤ وزیر اعظم لیاقت علی خان قتل کئے گئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر پھانسی جلسوں اور مظاہروں کے دوران بہت سے لوگ زخمی ہوئے یا مارے گئے۔ اس ہنگامہ خیز سیاست کے نتیجہ میں پاکستان میں اقتصادی ترقی کا عمل ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ اسلام کے نام پر جو پر شور سیاست پاکستان میں چلائی گئی اس کا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں نہ سیکولر نظام قائم ہوا اور نہ اسلامی نظام ۔ بلکہ ان دونوں کے سوا ایک تیسری چیز ظہور میں آئی ، اور وہ تھی خانہ جنگی اور انار کی ۔
کیوں ایسا ہوا کہ اسلام کے نام پر چلائی جانے والی مہم کا نتیجہ غیر اسلام کی صورت میں بر آمد ہوا۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اسلامی نظام کے نام پر پاکستان میں جو پر شور تحریک چلائی گئی وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک جذباتی ہنگامہ تھا نہ کہ صحیح معنوں میں کوئی سوچی سمجھی اور کوئی حقیقی نتیجہ ہمیشہ سوچی سمجھی تحریک کے ذریعہ نکلتا ہے نہ کہ جذباتی ہنگاموں سے۔ اکتوبر ۱۹۷۰ء میں پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی پاکستان نے بھی اس میں حصہ لیا۔
مولانا مودودی کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام الٹ ہو چکا ہے (اور شاید اسلام خود ان لوگوں کے نام) جماعت اسلامی پاکستان نے نہایت زور و شور کے ساتھ الکشن میں حصہ الکشن کے خاتمہ کے بعد ۱۹۷۱ء میں جب میں پاکستان گیا اس وقت میں نے دیکھا کہ اب بھی لاہور کی دیواروں پر ایسے پوسٹر موجود ہیں جن کے اوپر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: انشاء اللہ جیتے گی جماعت اسلامی جیتے گی۔
اس موقع پر جماعت اسلامی پاکستان نے ایک لمبا انتخابی منشور شائع کیا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ لوگ کس طرح پاکستان کو اسلامائز کریں گے ۔ اس مفصل منشور کا ایک جز یہ تھا: اتوار کے بجائے جمعہ کو تعطیل مقرر کی جائے گی (الجمعیتہ ویکلی، دہلی، ۶ مارچ ۱۹۷۰)
جماعت اسلامی پاکستان اس الیکشن میں بری طرح ہار گئی ۔ تاہم اس نے اور دوسرے پاکستانی علماء نے اتوار کے بجائے جمعہ کی چھٹی کی مانگ عوامی سطح پر بدستور جاری رکھی یہاں تک کہ پاکستان کے فوجی صدر جنرل محمد ضیاء الحق (وفات ۱۹۸۸) نے ایک صدارتی حکم کے ذریعہ اتوار کی چھٹی منسوخ کر دی اور اس کے بجائے جمعہ کے دن کو سارے پاکستان میں سرکاری تعطیل کا دن قرار دے دیا۔
”اسلامی تعطیل“ کا یہ تجربہ چند سال کے بعد سخت تنقیدوں کا شکار ہو گیا۔ خاص طور پر تاجر طبقہ اس کی کھلی مخالفت کرنے لگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس ”اسلامی تعطیل“ کے نتیجہ میں پاکستان کو ہفتہ میں دو دن کا اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑتا تھا۔ پاکستان کے تجارتی ادارے جمعہ کو چھٹی کرتے تھے جب کہ ساری دنیا اس دن تجارتی سرگرمیوں میں مشغول ہوتی تھی۔ بعد پاکستان کے تجارتی ادارے اتوار کو اپنے دفاتر کھولتے تھے جب کہ ساری دنیا اس دن اپنے دفتروں کو بند کئے ہوئے ہوتی تھی ۔ آخر کار ۱۹۹۷ میں نواز شریف کی حکومت نے ایک حکم کے ذریعہ جمعہ کی چھٹی منسوخ کر دی اور اس کے بجائے اتوار کے دن کی چھٹی کو بحال کر دیا۔ اس عجیب و غریب صورت حال کا ایک معکوس نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں وقت کا ساتھ دینے کی طاقت نہیں ۔ حالانکہ ”جمعہ کی چھٹی“ کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ یہ کچھ سیاسی ہنگامہ پسندوں کا ایک طبع زاد شوشہ تھا کہ اسلام کا کوئی حکم۔
قرآن کی سورۃ ۶۲ اس معاملہ میں ایک واضح رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سورہ میں جمعہ کے آداب بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : اے ایمان والو، جب جمعہ کے دن کی نماز کے لئے پکارا
جائے تو اللہ کی یاد کی طرف چل پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
اس آیت میں اسلامی زندگی کا جو نقشہ بتایا گیا ہے اس کے مطابق، جمعہ کا دن چھٹی کا دن یہ آیت تصدیق کرتی ہے کہ اہل ایمان جمعہ کی نماز کے مختصر وقفہ کو چھوڑ کر، جمعہ سے پہلے بھی اقتصادی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے۔ اور جمعہ کے بعد بھی دوبارہ اقتصادی عمل میں مصروف ہوں گے۔ اس آیت کے مطابق جمعہ کے دن کی تخصیص صرف یہ ہے کہ اس دن ظہر کی نماز کی جگہ جمعہ کی نماز پڑھی جائے گی۔ اس مختصر وقفہ کے علاوہ مسلمان جمعہ کے دن بھی اسی طرح مشغول رہیں گے جس طرح وہ عام دنوں میں مشغول رہتے ہیں۔
یہ ایک علامتی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نفاذِ شریعت کے نام پر چلائی جانے والی مہم محض کچھ مذہبی لیڈروں کی جذباتی ہنگامہ آرائی تھی نہ کہ حقیقتاً اسلامی نفاذ کی کوشش۔ اس طرح کی غیر سنجیدہ کوشش کا انجام خدا کی اس دنیا میں وہی ہو گا جو عملاً پاکستان میں پیش آیا۔ ("بقیہ نومبر کے شمارہ میں")