زندگی اور کائنات
Al-Risala, October 1999, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان جب اپنے گرد و پیش کو دیکھتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں ایک وسیع کائنات موجود یہ مشاہدہ اس کو اس یقین کی طرف لے جاتا ہے کہ جب یہاں ایک وجود ہے تو اس کا ایک موجد بھی ضرور ہونا چاہئے۔ اس طرح وجود کو ماننا اسے خالق وجود کو ماننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ وہ مزید غور کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ کائنات کا کار خانہ انتہائی با معنی کار خانہ ہے۔ ہر چیز میں حکمت اور معنویت ہے۔ یہ احساس اس کے یقین کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔ وہ یہ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کائنات کا جو خالق ہے وہ اس اعلیٰ صفت سے متصف ہے جس کو ذہن کہا جاتا کائنات کی معنویت یہ ماننے پر مجبور کر دیتی ہے کہ اس کے پیچھے ایک اعلیٰ ذہانت کی کار فرمائی
اب انسان کے سامنے ایک اور سوال آ جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اس تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ انسان اس زمین پر کیوں بسایا گیا ہے۔ انسان مر کر ختم ہو جاتا ہے یا موت کے بعد بھی کوئی زندگی انسان محسوس کرتا ہے کہ یہاں وہ عاجز ہے۔ ان سوالات کے جوابات کے لئے جو معلومات درکار ہیں، وہ اس کے پاس موجود نہیں۔ اس سوال کا حقیقی جواب وہی شخص دے سکتا ہے جو دکھائی دینے والی دنیا سے آگے دیکھتا ہو۔ جس کا ادراک محسوس سے گزر کر غیر محسوس تک پہنچ گیا ہو۔ انسان اپنی محدودیت کی بنا پر اس سوال کا صحیح جواب متعین نہیں کر سکتا۔ یہاں پیغمبر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ تمام پیغمبر انسان کو یہی رہنمائی دینے کے لئے تاہم پچھلے پیغمبروں کی تعلیمات محفوظ نہ رہ سکیں ۔ اب پیغمبر آخر الزماں ﷺ ہی پیغمبرانہ رہنمائی کا واحد مستند ذریعہ ہیں۔ جو آدمی اپنی زندگی اور اس کے انجام کے بارہ میں سنجیدہ ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ آپ کی تعلیمات کا مطالعہ کرے اور اس پر غور کر کے اپنے لئے راہ عمل کا تعین کرے۔