Al-Risala · October 1999

سچائی کا یقین

Al-Risala, October 1999, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اس یقین پر قائم ہو کہ اس نے سچائی کو پالیا ہے۔ وہ جس راستہ پر چل رہا ہے اس کے حق ہونے پر اسے کوئی شبہ نہ ہو۔ کا یقین آدمی کی لازمی ضرورت ہے۔ یہی یقین آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان معتدل طور پر رہے۔ اس کو ذہنی سکون حاصل ہو۔ وہ رات کو اطمینان کی نیند سوئے اور دن کو

اعتدال کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے۔ اسلام آدمی کو یقین کی یہی نعمت عطا کرتا ہے۔ ایک پہاڑ یا ایک جانور کی یہ ضرورت نہیں کہ وہ دنیا میں اپنے وجود کا جواز تلاش کرے مگر انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ وہ یہ جانے کہ وہ کیا ہے۔ اور وہ کس مقصد کے تحت دنیا میں پیدا کیا گیا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں زندگی کا نظریہ (آئیڈیالوجی) کہا جا سکتا ہے۔ فلسفہ اس نظریہ حیات کی تلاش کا علم ہے۔ مگر پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت کی تلاش کے باوجودا بھی تک فلسفہ اپنی تلاش کا جواب نہ پا سکا۔ فلسفہ اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ کر انسان کو صرف تشکیل اور بے یقینیت دینے میں کامیاب ہوا ہے۔ فلسفہ کے بعد سائنس کا درجہ آتا ہے مگر سائنس نے پیشگی طور پر یہ مان لیا ہے کہ وہ حقیقت کا صرف جزئی علم دے سکتی ہے، کلی حقیقت تک پہنچنا سائنس کے لئے ممکن ہی نہیں۔

گویا سائنس نے خود ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ مقابلہ کے میدان میں اترنے کی سرے سے اہل نہیں۔ اب آخری چیز جس سے اس معاملہ میں رجوع کیا جائے وہ مذہب ہے۔ منظر زیادہ مختلف نہیں۔ بظاہر دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب پائے جاتے ہیں۔ مگر اسلام کے سوا تمام مذاہب کی حالت بلا استثناء یہ ہے کہ ان کو نہ علمی تائید حاصل ہے اور نہ تاریخی اعتبار بیت۔ ان مذاہب کی مقدس کتابیں تحریف کی بناء پر صحیح باتوں کے ساتھ غلط باتوں کا مجموعہ بن گئی ہیں۔ اسی طرح ان کے تاریخی حالات اتنے کم معلوم ہیں کہ خالص علمی اور عقلی اعتبار سے ان کی سچائی پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح یہ تمام مذاہب بھی عملی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ انسان کو وہ سچائی دے سکیں جس پر وہ کامل یقین کے ساتھ قائم ہو جائے۔ افکار کے اس جنگل میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو نہ صرف کامل سچائی کا حامل ہے بلکہ واقعاتی اعتبار سے وہ ایک ایسا مذہب ہے جس کی تاریخی اعتبار بیت میں کوئی شبہ نہیں۔ اسلام انسان کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو غیر مشتبہ سچائی کا حامل جو کلی صداقت کا سرما یہ اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے۔ جو اپنی تاریخی نوعیت کے اعتبار سے اس

قابل ہے کہ انسان اس یقین کے ساتھ اس کو اختیار کر سکے کہ اس نے اس سچائی کو پالیا ہے جس کی تلاش اس کی فطرت میں پیشگی طور پر موجود تھی۔

اسلام ایک متلاشی روح کا حقیقی جواب ہے۔ وہ انسان کی شخصیت کی تکمیل ہے۔ کو وہ غیر متزلزل یقین دیتا ہے جس کے سہارے وہ دنیا میں زندہ رہ سکے۔ اسلام آدمی کی قبل از موت زندگی کو بھی بامعنی بناتا ہے اور اس کی بعد از موت زندگی کو بھی۔

Printed page