Al-Risala · October 1999

زندگی ایک قیمتی موقع

Al-Risala, October 1999, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی اگر صرف وہی ہے جو موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو ملتی ہے تو بلا شبہ وہ اتنی زیادہ بے معنی ہے کہ اس سے زیادہ بے معنی چیز اور کوئی نہیں۔ انسان لا محدود صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے مگر دنیا میں وہ اپنی ان صلاحیتوں کا پانچ فیصد حصہ بھی استعمال نہیں کرپاتا کہ وہ مر جاتا ہے۔ انسان کے اندر تمناؤں اور آرزوؤں کی ایک کائنات بسی ہوئی ہے۔ مگر کوئی بھی شخص اپنی ان تمناؤں اور آرزوؤں کی تکمیل اس دنیا میں نہیں کرپاتا۔ تمام موجودات اور مخلوقات میں انسان واحد مخلوق ہے جو مستقبل کا تصور رکھتا ہے۔ مگر تمام انسان ابھی اپنے حال میں ہوتے ہیں کہ ان کی دنیوی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے، بغیر اس کے کہ انھوں نے اپنے مستقبل کو پایا ہو۔ ہر انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے کامیاب زندگی کا حریص ہے، مگر یہاں کوئی بھی انسان اپنی کامیابی کو نہیں بظاہر انسان کے لئے صرف یہ المناک انجام مقدر ہے کہ وہ اپنی کامیابی کی تاریخ بنانے سے پہلے اس دنیا سے چلا جائے۔

اسلام اس اندھیرے میں انسان کے لئے ایک روشنی ہے۔ اسلام کا جنت کا تصور آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ کس طرح وہ اپنی ناکامی کو کامیابی سے بدلے۔ کس طرح وہ اپنے خوابوں کے اس مستقبل کا مالک بنے جہاں وہ اپنی شخصیت کی تکمیل (fulfillment) کو پاسکے۔ حقیقت کا یہ انکشاف جو اسلام کے ذریعہ کیا گیا ہے وہ ہر آدمی کے لئے زندگی کو ایک قیمتی موقع بنادیتا ہے۔ اب ہر آدمی ایک مطلوب منزل دریافت کرلیتا ہے جس کی طرف وہ چل سکے۔

ہر آدمی ایک ایسے نشانہ کو جان لیتا ہے، جس کو وہ اپنی تمام سرگرمیوں کا مرکز توجّہ بنالے۔ دونوں حالتوں میں صبر حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عجبت من قضاء الله عزوجل للمؤمن ان اصابه خير حمد و شكر وان اصابته مصيبة حمد ربه وصبر المؤمن يوجر فى كل شئى (مسند الامام احمد بن حنبل ار ۱۷۳) یعنی مومن کے معاملے میں اللہ کا فیصلہ کیسا عجیب ہے۔ اگر اس کو بھلائی پہونچتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور شکر کرتا ہے اور اگر اس کو کوئی مصیبت پڑتی ہے تو وہ حمد کرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اس طرح مومن کو ہر چیز میں اجر ملتا رہتا ہے۔

مومن سے مراد وہ انسان ہے جس کا شعور پوری طرح بیدار ہو چکا ہو، جس کی سوچ اس حد تک ترقی کر چکی ہو کہ وہ ہر پیش آنے والی صورت حال پر مثبت جواب (positive response) وہ قریبی حالات سے اوپر اٹھ کر حقائق کو دیکھنے والا بن چکا ہو۔ یہی وہ انسان ہے جس کا ذکر اوپر کی حدیث میں کیا گیا ہے۔

ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو کوئی پسندیدہ چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ اس غلط فہمی میں نہیں پڑتا کہ یہ اس کی اپنی کوشش کا نتیجہ ہے بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ خدا کے قائم کردہ نظام کی بنا پر ممکن ہوا ہے۔ یہ چیز اس کو حقیقت پسند بناتی ہے اور اس کو نظام خداوندی کا اعتراف کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی طرح اگر اس کو کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آئے تب بھی اس کا ترقی یافتہ شعور اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ اس کا ذہنی سکون نہ ٹوٹے۔ وہ فریاد یا شکایات کے بجائے صبر و تحمّل کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔

موجودہ دنیا میں یہ مزاج آدمی کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ حالات کے اتار چڑھاؤ کے باوجود ہمیشہ اعتدال پر قائم رہے۔ وہ ہر نہیں میں اپنے لئے ایک ہے کاراز دریافت کرلے۔ اس کی زندگی کبھی تعطّل سے دوچار نہ ہو۔ اس کی امیدوں کا چراغ کبھی

سمجھے نہ پائے، وہ اس کو ہمیشہ روشنی اور حرارت دیتا ہے۔

Printed page