دشمن میں دوست
Al-Risala, October 1999, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں ارشاد ہوا ہے ــــ اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ (حم السجدہ ۳۳۔ کسی سے دشمنی ہو جائے یا کسی آدمی کو ایک شخص اپنا دشمن نظر آئے تو اس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ یہ میرا دشمن ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کو تباہ کر دیا جائے۔ مگر اسلام ایسے معاملہ میں بھی ایک امید افزا پہلو کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ تمہارے دشمن کے اندر تمہارا ایک دوست چھپا ہوا ہے۔ اس دوست کو دریافت کرو، اور پھر تمہارا دشمن تمہارا قریبی ساتھی بن جائے گا۔
دوستی یا دشمنی کوئی پیدائشی صفت نہیں۔ کوئی آدمی پیدائشی طور پر کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔ اگر ایک شخص آپ کو اپنا دشمن نظر آئے تو سمجھ لیجئے کہ یہ اس کی ایک مصنوعی حالت ہے۔ اپنے میٹھے بول اور اپنے حسن سلوک سے اس کو ایک نیا انسان بنا سکتے ہیں۔ آپ اپنے دوستانہ عمل سے اس کو اس حد تک بدل سکتے ہیں کہ آپ کے خلاف اس کی ضد اور نفرت ختم ہو جائے۔ شخص اب تک بظاہر آپ کا غیر بنا ہوا تھا وہ آپ کا اپنا بن جائے۔
یہ ہر انسان کے لئے ایک عظیم خوشخبری ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بہتر امکانات کی فہرست اتنی لمبی ہے جو دشمن تک کو دوست کے خانہ میں درج کئے ہوئے ہے۔ اسلامی تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ کانٹے کو بھی پھول کے روپ میں دیکھے، وہ مخالف انسان میں بھی اپنا ایک موافق انسان پالے۔ یہ خود فطرت کا ایک اٹل قانون ہے نہ کہ سادہ طور پر محض ایک مذہبی عقیدہ۔