صبر کا فائدہ
Al-Risala, October 1999, pp. 24–27
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث قدسی کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه فصبر عوضته منهما الجنة (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۲۰/۱۰) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میں اپنے کسی بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں سے آزماتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے تو میں اس کو اس کے بدلے جنت دے دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ دو محبوب چیزوں سے مراد دو
دو آنکھوں کی محرومی پر صبر کا جو انعام کسی کو خدا کی طرف سے ملتا ہے اس کا تعلق صرف جنت سے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے انسان کا انعام موجودہ دنیا ہی سے شروع ہو جاتا ہے جس کی آخری اور تکمیلی صورت یہ ہے کہ اس کو جنت میں داخلہ مل جائے۔ ایسا انسان دنیا میں نابینا ہونے کے باوجود کامیاب رہتا ہے اور آخرت میں مزید اضافہ کے ساتھ بینا بھی اور کامیاب
دونوں آنکھوں کی محرومی پر جب ایک آدمی صبر کر لے تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کی اندرونی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اس کی داخلی شخصیت میں ایک نیا نفسیاتی عمل شروع ہو جاتا ہے جو اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کر دیتا ہے۔ اس کے دماغ کی وہ مخصوص کھڑکیاں کھل جاتی ہیں جو خالق فطرت نے صرف اس لئے اس کے اندر رکھی ہیں تا کہ وہ ایمر جنسی کے وقت اس کے کام آئیں۔
یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان کے دماغ میں بہت سے خانے ایسے ہیں جو عام حالات میں بالکل بند رہتے ہیں۔ وہ صرف اس وقت کھلتے ہیں جب کہ انسان کسی ہنگامی حالت سے دوچار ہو جائے۔ صبر انہیں بند دروازوں کو کھولنے کی کنجی ہے۔ ایسے حادثے کے موقع پر جو لوگ غم اور فریاد کا شکار ہو جائیں، ان کے دماغ کے یہ ہنگامی خانے بدستور بند پڑے رہیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ ایسے موقع پر صبر کا مثبت رسپانس(positive response) دیں وہ فطرت
کو اپنا عمل کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ظاہری آنکھوں سے محروم ہو کر وہ داخلی آنکھوں کی صورت میں اس کا بدل پا لیتے ہیں۔
راقم الحروف نے خود اپنی زندگی میں کئی ایسے افراد کو دیکھا ہے۔ مثال کے طور پر بھوپال کے جناب الطاف احمد صاحب طویل عرصے سے بینائی سے محروم ہیں مگر وہ اپنے تمام کام معمول کے مطابق اور کامیابی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے ایک سفر میں میری ملاقات ڈاکٹر ایوب لبنانی سے ہوئی۔ وہ ٹیمپل ٹن یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور اپنے تمام کام بالکل معمول کے مطابق انجام دیتے ہیں۔ حتی کہ مشین کی مدد سے وہ کتابوں کا مطالعہ بھی کرتے
آنکھ انسان کی تمام قیمتی چیزوں میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جب آنکھ جیسی قیمتی چیز سے محرومی پر صبر سے انسان کو نئی زندگی ملتی ہے تو دوسری محرومیوں پر صبر سے بدرجہ اولیٰ اس کو یہ چیز حاصل ہوگی۔ صبر ایک ایسی نعمت ہے جو کسی انسان کی ہر محرومی میں اس کا مددگار ہے۔ صبر کسی انسان کے لئے کھونے کو دوبارہ پانا بنا سکتا ہے۔ موت خاتمہ حیات نہیں موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ جو حادثات پیش آتے ہیں ان میں سب سے بڑا حادثہ موت کا حادثہ ہے۔ موت ہر شخص کی زندگی میں ایک ایسا فیصلہ کن زلزلہ ہے جس سے بچنا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ کوئی بھی تدبیر اتنی طاقتور نہیں جو موت کو ٹالنے میں کار آمد ہو سکے۔ کا شکار ہر آدمی لازمی طور پر ہوتا ہے خواہ وہ غریب ہو یا امیر، خواہ وہ بے زور ہو یا زور آور۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا انسان موت کے بارے میں انتہائی سنجیدگی سے سوچتا رہا ہے۔ موت کی یاد ہر آدمی کی خوشیوں کے چراغ کو بجھا دیتی ہے۔ ہر آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا پیدا کرنے والے نے مجھ کو اسی لئے پیدا کیا تھا کہ میں چند سال زندہ رہ کر ختم ہو جاؤں، ایک محدود مدت دنیا میں گزار کر اس طرح یہاں سے جاؤں کہ میری کوئی بھی کامیابی موت کے اس
سفر میں میرے ہمراہ نہ ہو۔
اس معاملے میں اسلام ہر انسان کے لئے امید کا ایک چراغ ہے۔ اسلام کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنا جو تخلیقی منصوبہ انسان پر منکشف کیا ہے وہ بتاتا ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، موت دراصل ایک درمیانی وقفہ ہے جس کے بعد آدمی اپنے اگلے مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا اس دوسرے مرحلہ حیات میں انسان اسی طرح ایک زیادہ کامل اور وسیع دنیا میں جئے گا جس طرح وہ موجودہ دنیا میں نسبتاً بہت مختصر اور کمتر زندگی گزار رہا تھا۔ اسلام کے ذریعہ یہ خبر جو انسان کو دی گئی ہے وہ ہر مرد و عورت کے لئے زندگی کا نیا پیغام اس خبر کی صورت میں آدمی اس امکان کو دریافت کرتا ہے کہ وہ اگلی دنیا کے قوانین کو جانے اور اس کے مطابق زندگی گزارے تا کہ وہ موت کے بعد دوبارہ ایک نئی اور زیادہ بہتر زندگی اس تخلیقی منصوبہ سے بے خبری انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں مایوسی میں مبتلا کرتی مگر جب وہ اس تخلیقی منصوبہ کو جان لے تو اس کے بعد اس کے سامنے زندگی کا نیا وسیع تر دروازہ کھل جاتا ہے۔ وہ بظاہر اپنی محرومی میں ایک نئی یافت کا راز پا لیتا ہے۔ ایک انوکھی خوشخبری قرآن کی سورہ نمبر ۳۹ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”تم کہہ دو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ “ (الزمر ۵۳) قرآن کی یہ آیت انسان کے لئے ایک عظیم خوشخبری ہے۔ موجودہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ہر آدمی سے طرح طرح کی کوتاہیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ ان گناہوں کا انجام اگر لازمی طور پر بھگتنا ہو تو انسان کے لئے زندگی کتنی بڑی مصیبت بن جائے۔ مگر خدا کی کتاب انسان پر یہ راز کھولتی ہے کہ اس کے لئے اس معاملہ میں مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ گناہوں سے معافی کا یہ راز کیا ہے۔ وہ ہے گناہ پر شرمندگی اور اللہ کی طرف دوبارہ رجوع
اللہ تعالیٰ نے جس طرح کچھ اعمال کو گناہ قرار دیا ہے اسی طرح اس نے اس دنیا میں امکان بھی رکھ دیا ہے کہ گناہ سرزد ہونے کے بعد آدمی اپنے کو اس سے پاک وصاف کر سکے۔ وہ خدا کی دنیا میں ایک بے گناہ انسان کی حیثیت سے داخل ہو۔
قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کے لئے یہ عجیب امکان بھی رکھا ہے کہ اس کا گناہ بدل کر اس کے لئے نیکی بن جائے (الفرقان ۷۰)۔ وہ اس طرح کہ گناہ کے بعد جب آدمی شرمندہ ہوتا ہے اور گریہ وزاری کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے تو یہ گویا ایک ایسا واقعہ ہوتا ہے جب کہ اس کا گناہ اس کے لئے ایک نیکی کا سبب بن گیا۔ ابتداءً اگر وہ خدا سے دور ہوا تھا تو بعد کے مرحلہ میں وہ خدا سے اور زیادہ قریب ہو گیا۔ اس کی یہ روش خدا کو اتنا زیادہ پسند آتی ہے کہ اس کے گناہ کو بھی نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ خدا کا یہ قانون جو قرآن کے ذریعہ کھولا گیا ہے انسان کے لئے ایک عجیب نعمت ہے۔ انسان کے لئے لازوال تسکین کا سرمایہ ہے۔