قناعت ایک نعمت
Al-Risala, October 1999, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قد افلح من أسلم ورزق كفافاً وقنعه الله بما آتاه (مسند الامام احمد ۱۶۸/۲) یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدر ضرورت روزی ملی اور اللہ کی توفیق سے وہ اس پر قانع رہا جو اللہ نے اس کو دیا تھا۔
موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان اونچ نیچ رہتی ہے۔ بنا پر اکثر انسان سکون سے محروم زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو دیکھتے رہتے ہیں جن کو ان سے زیادہ ملا ہوا ہے۔ اس طرح وہ مسلسل طور پر ایک قسم کی حسرت کی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں اور اسی حال میں مرجاتے ہیں۔
اس کا حل اسلام میں قناعت بتایا گیا ہے۔ قناعت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ ملے
ہوئے پر مطمئن رہے اور نہ ملنے کے غم میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کرے۔ اسلام کی تعلیم کے مطابق دنیا میں ہر ایک کو وہی ملتا ہے جو خدا نے اس کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ جس آدمی کو کم ملاوہ بھی خدا کے حکم سے تھا اور جس کو زیادہ ملا وہ بھی خدا کے حکم سے تھا۔
یہ عقیدہ آدمی کو ابدی سکون عطا کرتا ہے۔ وہ اس یقین میں جینے لگتا ہے کہ اس کو جو کچھ ملا وہ اتفاقاً نہیں تھا بلکہ یہ عین وہی ہے جو خود اس کی بہتری کے لئے اس کو ملنا چاہئے تھا۔ شخص کو بظاہر دنیا کا رزق کم ملا ہے تو یہ اس کے حق میں خدا کی ایک عظیم مہربانی ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ وہ شخص ظاہری ساز و سامان میں زیادہ مصروف نہ ہو سکے۔ وہ خارجی ظواہر سے بلند ہو کر معنوی حقائق میں زیادہ سے زیادہ مشغول ہو۔
مادی چیزوں میں کم پر راضی ہونے کا نام قناعت ہے۔ اسی طرح مادی چیزوں میں زیادہ کا طالب بننے کا نام حرص ہے۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی قناعت کی روش پر قائم ہو اس پر ہر قسم کے علمی دروازے کھلتے چلے جائیں گے ، اس پر معرفت اور روحانیت کی بارش ہوں گی۔ کے برعکس جو آدمی حرص و ہوس کا طریقہ اختیار کرنے وہ ظواہر کی محدود دنیا میں گم ہو کر رہ حقائق کی وسیع تر دنیا اس کی دسترس سے باہر ہوگی۔ وہ ایک خوشنما حیوان کی طرح زندگی گزارے گا، وہ انسانیت کا اعلیٰ درج پانے سے محروم رہے گا۔
کم پر قناعت کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ جو آدمی مادی چیزوں میں کم پر راضی ہو جائے وہ گویا غیر مادی چیزوں میں اپنے آپ کو زیادہ کا مستحق بنا رہا ہے۔ وہ غیر اہم چیزوں میں پیچھے کی سیٹ کو قبول کر کے زیادہ اہم چیزوں میں آگے کی سیٹ پر اپنے لئے زیادہ بہتر جگہ حاصل کر رہا ہے۔