تکلیف میں راحت
Al-Risala, October 1999, pp. 28–31
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن ولا اذى ولاغم ـ حتى الشوكة يشاكها ـ الا كفر الله بها من خطاياه.
(فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۱۰/ ۷۲) یعنی جب بھی کسی مسلم پر کوئی تھکان یا دردیارنج یا حزن یا تکلیف یا غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اگر کوئی کانٹا بھی چھبتا ہے تو اللہ ضرور ان مصیبتوں کو اس کی خطاؤں کے لئے کفارہ بنا دیتا ہے۔
یہاں مسلم سے مراد وہ انسان ہے جس کو حقیقت کی پہچان ہو گئی ہو۔ جو چیزوں کو اس کے صحیح رخ سے دیکھنے کے قابل ہو جائے، جو خدا کی خدائی کو دریافت کر لے اور اسی کے ساتھ انسان کی انسانیت کو بھی۔
ایسا انسان اپنی حقیقت شناسی کی بنا پر وہ انسان بن جاتا ہے جو ہر آنے والی صورت حال کا صحیح جواب (response) دے سکے۔ ایسے انسان پر جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت آتی ہے تو وہ اس کی سوچ کو جگانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ایسے تجربات کے درمیان وہ اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصیبت کے وقت فریاد اور شکایات کرنے کے بجائے وہ قادر مطلق خدا کو یاد کرنے ان تجربات کے درمیان وہ اپنی حیثیت واقعی کا ادراک کر لیتا ہے۔ اس معاملے کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مسلم وہ ہے جو زندگی کے تلخ تجربات کو منفی معنوں میں لینے کے بجائے ان کو مثبت معنوں میں لے سکے۔ مسلم انسان کی یہ صفت اس کے لئے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کا محرک بن جاتی ہے۔ دنیا کی ہر ٹھوکر اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے معاملے پر از سر نو غور کرے۔ وہ اپنا احتساب آپ کرنے لگے۔ اصلاح خویش کے اس عمل کا دینی نام کفارہ ہے۔
اسلام کا یہ اصول انسان کے لئے ایک عظیم خوش خبری ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو بار بار مختلف قسم کی مصیبتیں پیش آتی ہیں۔ آدمی اگر باشعور نہ ہو تو دنیا کی مصیبت اس کے لئے صرف مصیبت یا تکلیف ہو گی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مگر جو انسان صاحب معرفت ہو، جس کے ایمان نے اس کو باشعور بنا دیا ہو وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ اپنی تکلیف کو بھی راحت بنا سکے، اپنے نہیں کو ہے میں تبدیل کر سکے۔ وہ کھونے کو بھی اپنے لئے پا بنا لے۔
اسلام کا یہ تصور انسان کے لئے ایک عظیم نعمت ہے، وہ تکلیف کے احساس کو بھی راحت کے احساس میں بدل دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی پر جب کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ کبھی گھبراہٹ میں مبتلا نہیں ہوتا۔ ہر مصیبت کے موقع پر وہ یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس مصیبت نے میری زندگی کی کسی غلطی کو میرے اعمال کے ریکارڈ سے مٹا دیا۔ قصور وار انسان کے مقام سے اٹھا کر بے قصور انسان کی صف میں پہونچا دیا۔ توکل اور اعتماد اسلام کی ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کو توکل علی اللہ کہا جاتا ہے۔ یعنی ہر حال میں اللہ کے اوپر بھروسہ رکھنا، اللہ کی رحمت سے کبھی نا امید نہ ہونا، قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ ”اور تم اللہ پر تو کل کرو، اور اللہ کار ساز ہونے کے لئے کافی ہے (الاحزاب (۳) دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تم اللہ پر توکل کرو اگر تم مومن ہو۔ (المائدہ (۲۳) اسی طرح قرآن میں اہل حق کی زبان سے کہا گیا ہے کہ ”اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے ہم اس پر صبر کریں گے، اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے ۔ (ابراہیم (۱۲) اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ تم اس طرح کہو کہ ”اللہ میرے لئے کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔
توکل کا عقیدہ امید اور یقین کا لازوال سر چشمہ ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ جہاں تمہاری کوششوں کی حد آجاۓ وہاں ایک اور ہستی تمہاری مدد کے لئے موجود رہتی ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ جہاں معلوم اسباب ختم ہو گئے ہوں وہاں نا معلوم اسباب کا کبھی نہ ختم ہونے والا ذریعہ تمہارا ساتھ دینے کا انتظار کر رہا ہے۔ جہاں تم اپنی طاقت سے کامیاب نہیں ہو سکتے وہاں تمہارا خذا اپنی لا محدود طاقتوں کے ساتھ تم کو کامیاب بنانے کے لئے موجود ہے۔ تو کل کا یہ عقیدہ اہلِ ایمان کا سب سے بڑا سر مایہ ہے۔ وہ آدمی کو یہ یقین عطا کرتا ہے کہ بظاہر حوصلہ شکن حالات میں بھی اس کا حوصلہ نہ ٹوٹے۔ بظاہر نا امیدی کے طوفان میں بھی وہ اپنی
امید کو پر قرار رکھے۔
اس پہلو سے غور کیجئے تو معلوم ہو گا کہ ایک شخص کا اسلام کے عقیدہ پر کھڑا ہونا کوئی سادہ یہ اٹل حوصلہ کی زمین پر کھڑا ہونا ہے۔ یہ نا قابل شکست عزم کی چٹان پر کھڑا ہوتا یہ ایک ایسی برتر امید پر کھڑا ہونا ہے جو طوفانی حالات میں بھی آدمی کو مایوسی سے بچائے جو اس کو ہر حال میں عزم و ہمت کا پیکر بنائے رہے۔