Al-Risala · October 1999

ناخوش گواری میں خوش گوار پہلو

Al-Risala, October 1999, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وعسی ان تكرهوا شيئاً وهو خير لكم وعسی ان تحبّوا شيئاً و هو شر لكم والله يعلم و انتم لا تعلمون ۵ (البقرۃ (۲۱۶) یعنی ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے لئے اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لئے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

انسان ایک ایسی دنیا میں جیتا ہے جہاں اس کے سوا بے شمار دوسرے اسباب ہیں جو رات دن اپنا کام کر رہے ہیں۔ موجودہ دنیا میں جو واقعات پیش آتے ہیں وہ زیادہ تر انھیں خارجی اسباب کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو اس کی خواہش یا اس کے اپنے منصوبہ کے خلاف ہو۔ اگر آدمی زیادہ باشعور نہ ہو تو وہ ایسے واقعات کو دیکھ کر گھبرا جائے گا۔ وہ اپنے کو ایک مصیبت زدہ یا نا کام انسان سمجھ لے گا۔ قرآن کے مذکورہ بیان میں ایسے انسان کے لئے ایک عظیم رہنمائی ہے۔ یہ رہنمائی انسان کو ایک مستقل سکون عطا کرتی ہے۔ وہ انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مصیبت کے لمحات میں بھی یہ سوچ کر مطمئن رہے کہ اس مصیبت میں بھی یقیناً راحت کا کوئی پہلو چھپا ہوا ہوگا۔ وہ انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ مشکل لمحات میں بھی وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ اپنے نا خوشگوار حال میں ایک خوشگوار مستقبل کا منظر پیشگی طور پر دیکھنے لگے۔

ایسا انسان اپنے مزاج کی بنا پر ایک بے پناہ انسان بن جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے وقت یا اپنے وجود کا کوئی حصہ بے فائدہ طور پر ضائع نہ ہونے دے۔ وہ اس المناک انجام سے محفوظ رہے کہ ایک ناخوشگوار صورت حال سے متاثر ہو کر وہ اپنے آپ کو ہلاک کرلے، حالانکہ آئندہ آنے والے حالات اس کے لئے ایسی خبریں لائیں جو عین اس کے حق میں ہوں اور مزید اضافے کے ساتھ ٹھیک وہی ہو جس کو وہ اپنے لئے چاہ رہا تھا۔

Printed page