کمزور اور طاقتور
Al-Risala, October 1999, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص کے یہاں دو بھائی تھے۔ ایک بھائی گھر کا کاروبار سنبھالتا تھا اور دوسرا بھائی دینی کاموں میں مصروف رہتا تھا۔ پہلے بھائی نے رسول اللہ ﷺ سے دوسرے بھائی کی شکایت کی اور کہا کہ وہ گھر کے کاروبار میں حصہ نہیں لیتے۔ آپ نے فرمایا کہ شاید تم کو اسی کی وجہ سے روزی مل رہی ہو۔ (لعلك ترزق به) اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: إناماتنصرون و ترزقون بضعفائکم (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ۶/ ۱۰۵- ۱۰۲) یعنی تم کو جو مدد ملتی ہے یا جو رزق ملتا ہے وہ صرف تمہارے کمزوروں کی وجہ سے ملتا
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر گھر میں اور ہر سماج میں ایسے افراد ہوتے ہیں جو بظاہر کمزور ہوتے ہیں، ترقیاتی سرگرمیوں میں بظاہر ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ ایسے افراد عام طور پر گھر میں بھی اور سماج میں بھی حقیر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو اجتماعی زندگی میں عزت کا مقام نہیں ملتا۔ لوگ خود بھی مایوسی کا شکار رہتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی ان کو شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک بوجھ سمجھ لیتے ہیں نہ کہ اپنے حق میں مفید اثاثہ۔
ایسے حالات میں مذکورہ اسلامی تعلیم ایک عظیم سماجی نعمت ہے۔ یہ تعلیم بتاتی ہے کہ خدائی منصوبے کے مطابق، سماج کی ترقیاتی سرگرمیوں میں ان کمزوروں کا بھی ایک عظیم حصہ ہے۔ سماج میں ان کا وجود خدا کی رحمتوں کو اس کی طرف مائل کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بظاہر نہ کرنے کے
با وجود وہ سماج میں بہت بڑی خدمت انجام دیتے ہیں۔
یہ سادہ طور پر صرف ایک اخلاقی تعلیم نہیں، یہ فطرت کا اٹل قانون ہے، یہ خدا و ند عالم کا تخلیقی منصوبہ ہے۔ اس حقیقت کا شعور جب کسی سماج کے افراد میں پیدا ہو جائے تو ایسا سماج اپنے کمزوروں کے بارے میں آخری حد تک مہربان ہو جائے گا۔ وہ اپنے کمزوروں کو اپنے معاملات میں برابر کا حصہ دار سمجھے گانہ کہ محض ایک بے فائدہ بوجھ۔