Al-Risala · October 1999

مشکل میں آسانی

Al-Risala, October 1999, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۹۴ میں بتایا گیا ہے کہ __ پس مشکل کے بعد آسانی ہے ... بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے (الانشراح ۵-۶) ان الفاظ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے جس کو خدا نے ابدی طور پر پوری دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ آدمی خواہ کسی بھی ملک میں ہو، خواہ وہ کسی بھی زمانے میں ہو، خواہ وہ کسی بھی حالت میں ہو، ہر جگہ اور ہر حال میں وہ فطرت کے اس قانون کو کارفرما پائے گا۔

موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں کسی بھی شخص کے لئے ہمیشہ یکساں حالات مگر قرآن میں بیان کردہ مذکورہ فطری قانون بتاتا ہے کہ کسی بھی حال میں انسان کو بددل یا پست ہمت نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں کہ خود خالق عالم کے قائم کردہ اصول کی بنا پر ہر ناموافق صورت حال میں ایک موافق امکان چھپا ہوا ہے۔

مثلاً ایک شخص کا باپ اس کی کم عمری میں انتقال کر جائے تو یہ بظاہر اس کے لئے ایک ناموافق بات ہے۔ مگر اس حادثے کا موافق پہلو یہ ہے کہ باپ کے سائے سے محرومی اس کے اندر خود اعتمادی کی صفت جگانے والی ثابت ہوگی۔ ایک شخص غریب گھر میں پیدا ہو تو بظاہر یہ محرومی کی بات ہے مگر اس کا روشن پہلو یہ ہے کہ ایسا آدمی اپنے حالات کی بنا پر زیادہ محنت کرے گا اور زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا، وغیرہ۔

اسی طرح ہر مشکل، ہر محرومی اور ہر حادثے میں ہمیشہ ایک نیا اور بہتر امکان چھپا ہوتا

نا موافق حالات چیلنج بن کر آدمی کو جھنجھوڑتے ہیں۔ وہ اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار اس طرح ہر ناموافق جھٹکا آدمی کے لئے ترقی کا زینہ بنتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ معمولی انسان سے اوپر اٹھ کر غیر معمولی انسان بن جاتا ہے۔

Printed page