Al-Risala · October 1999

فطرت کا نظام

Al-Risala, October 1999, pp. 35–36

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر ۹۰ میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوا ہے کہ : لقد خلقنا الانسان فی کبد (ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے) اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کے بارے میں پیشگی طور پر یہ بتا دیا تھا کہ دنیا میں تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ بعضکم البعض عدو (البقره ۳۶)

قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف (suffering) موجودہ دنیا کا ایک لازمی یہ خود خالق فطرت کا مقرر کیا ہوا نظام ہے۔ اس لئے اس کو ختم کرنا کسی کے لئے ممکن یہ انسانیت کے نام قرآن کا ایک عظیم فکری تحفہ ہے۔ انسان اگر اس راز کو نہ جانے تو وہ غیر حقیقت پسند بنا رہے گا، وہ غیر ضروری طور پر ہمیشہ یہ کوشش کرے گا کہ وہ اپنے لئے ایک بے مشقت دنیا یا خرابیوں سے پاک سماج (evil-free society) بنا سکے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوگا۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جب وہ اس حقیقت کو جان لے گا تو وہ مسائل کے ساتھ جینے کی کوشش کرے گا اور پھر وہ اسی طرح اپنی پسند کی ایک دنیا بنا لے گا جس طرح ایک درخت کانٹوں کے باوجود پھولوں اور پتیوں کے

ذریعہ اپنی ایک پر کشش دنیا بنا لیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے مسائل انسان کے لئے مصیبت نہیں۔ وہ انسان کے لئے ترقی کا زینہ ہیں۔ یہ مسائل انسان کو بیدار کرتے ہیں۔ وہ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو حرکت میں وہ اس کے جمود کو توڑ کر اس کو مسلسل طور پر زندہ رکھنے کی ضمانت ہیں۔ مسائل زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ مزید یہ کہ وہ ایک مفید حصہ ہیں نہ کہ کوئی مضر حصہ۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں وہ بے فائدہ چیزوں میں اپنی طاقت کو ضائع نہیں کریں گے۔ زندگی کی اعلیٰ تعمیر میں یقینی طور پر کامیاب رہیں گے۔

Printed page