اقلیت کے لئے خوشخبری
Al-Risala, October 1999, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله والله مع الصابرین (البقرة (۲۴۹)۔ یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں، اللہ کے اذن سے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے، اس قانون کے مطابق اس دنیا میں عددی اکثریت والا گروہ اگر بظاہر برتر دکھائی دیتا ہے تو عددی اقلیت والا گروہ امکانی طور پر اس سے بھی زیادہ برتر حیثیت رکھتا ہے۔ اس دنیا میں فطرت کا قانون اکثریت سے زیادہ اقلیت کے حق اس آیت میں اقلیتی گروہ کے لئے یہ خوشخبری ہے کہ اس کو اپنی عددی کمی کی بنا پر نا امیدی اور پست ہمتی کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اذن اللہ (قانون فطرت) پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے اندر پر امید سوچ پیدا کرے ۔ یقینی ہے کہ کامیابی آخر کار اسی کو حاصل
اقلیتی گروہ کس طرح اکثریتی گروہ پر غالب آ سکتا ہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ جس سماج میں ایسا ہوتا ہے وہاں اکثریتی گروہ اقلیتی گروہ کے خلاف ایک مسلسل چیلنج بن جاتا ہے۔ گروہ زندگی کے ہر میدان میں اقلیتی گروہ کو للکار نے لگتا ہے کہ اگر تم کو جینا ہے تو ہو شیار ہو جاؤ،
تمہاری غفلت تم کو موت کے کنارے پہونچادے گی۔ اکثریت کی طرف سے یہ چیلنج اقلیت کے لئے ایک زبردست تازیانہ کا کام کرتا ہے۔ وہ چوکس ہو کر زیادہ مستعدی اور زیادہ ہوشمندی کے ساتھ اپنا عمل کرنے لگتا ہے۔ اکثریتی گروہ کا چیلنج اقلیتی گروہ کے افراد کی فطری صلاحیتوں کو آخری حد تک جگادیتا ہے۔
آیت میں اذن اللہ کا مطلب یہی ہے۔ جہاں بھی اکثریت اور اقلیت کا فرق پایا جائے وہاں خود بخود اذن اللہ کا یہ عمل جاری ہو جائے گا اور آخر کار اس کا وہی نتیجہ نکلے گا جس کی نشاندہی قرآن کی مذکورہ آیت میں کی گئی ہے۔
مولانا وحیدالدین خاں میری اسفار (جلد سوم)
مولانا وحید الدین خاں