مستحکم سماجی نظام
Al-Risala, October 1999, pp. 38–42
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ہندوستان میں ایک خطر ناک علامت ظاہر ہوئی ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل بعید تک کے لئے ملک میں مستحکم حکومت کا دور ختم ہو گیا حکومت کا اور پارلیمنٹ کا بار بار ٹوٹنا اب یہاں کا سالانہ معمول بنتا جا رہا ہے۔ ایسی حالت میں ملک کے لئے آخری امید صرف یہ باقی رہ گئی ہے کہ غیر مستحکم سیاسی نظام کے درمیان مستحکم سماجی نظام قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔
۱۹۹۷ میں یورپ کے ایک سفر کے دوران مجھے دو دن کے لئے روم میں ٹھہرنے کا موقع یہاں میری ملاقات ایک اٹلیین پروفیسر سے ہوئی۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اٹلی میں عرصہ سے سیاسی استحکام نہیں ہے۔ حکومتیں ہر سال ٹوٹتی رہتی ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ سروے کے مطابق اٹلی میں اقتصادی شرح ترقی (rate of growth) پورے یورپ میں سب سے زیادہ سیاسی عدم استحکام کے باوجود اس اقتصادی ترقی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ لمبے عمل کے بعد ہمارے یہاں غیر سیاسی سطح پر سسٹم بہت مضبوط ہو گیا ہے جو سیاسی تبدیلیوں کے باوجود بدستور قائم رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی انتشار کی حالت میں بھی قومی ترقی کے عمل میں خلل واقع نہیں ہوتا۔
میرا احساس یہ ہے کہ موجودہ حالات میں انڈیا میں بھی اسی ماڈل کو اختیار کیا جانا چاہئے۔ خوش قسمتی سے یہ نظام آج بھی ہمارے ملک میں تقریباً پچاس فیصد تک موجود ہے۔ تھوڑی سی محنت کے ذریعہ اس کو ایک مکمل سسٹم کے درجہ تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہاں میں کچھ مثالیں دوں گا۔ ۱۹۴۷ کے بعد انڈیا کی قسمت جن بڑے سیاسی لیڈروں کے ہاتھ میں آئی وہ تقریباً سب کے سب سوشلسٹ ذہن رکھنے والے لوگ تھے۔ انھوں نے انڈیا کی تعمیر نو کے لئے مقلدانہ طور پر روسی ماڈل کو اختیار کر لیا۔ اس میں صرف اتنا فرق تھا کہ ملکی حالات
کی بنا پر وہ یہاں اشتراکی ڈکٹیٹر شپ قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس لئے انھوں نے نام نہاد پبلک سیکٹر کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی جینے کی اجازت دے دی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ۱۹۹۱ء میں جب سوویت یونین ٹوٹا تو وہاں کی اقتصادیات کامل دیوالیہ پن کی شکار ہو گئیں۔ لیکن انڈیا میں ہم پاتے ہیں کہ اگر چہ ہمارے یہاں سوشلسٹ حکمرا نوں کا قائم کردہ پلک سیکٹر سوویت یونین ہی کی طرح مکمل طور پر ناکام ہو گیا اس کے باوجود ملک کی اقتصادیات دیوالیہ پن کا شکار ہونے سے بچی ہوئی ہیں۔ اس کا کریڈٹ کسی بھی درجہ میں ہمارے حکمرا نوں کو نہیں جاتا۔ یہ تمام تر اسی پرائیویٹ سیکٹر کا کارنامہ ہے جس کو آزادی کے بعد ہمارے سوشلسٹ حکمرانوں نے صرف ایک ناگزیر برائی کے طور پر باقی رکھا تھا۔
ہندوستان میں پچھلے کئی سو سال سے ایک مضبوط تجارتی طبقہ موجود تھا۔ وہ اس پوزیشن میں تھا کہ شہنشاہ اور نگ زیب اور ایسٹ انڈیا کمپنی کو قرض دے سکے۔ یہ بزنس کمیونٹی مسلسل قائم آزادی کے دور میں اس کی نئی نسل نے بڑے پیمانہ پر جدید تعلیم حاصل کر لی اور اس طرح اپنے تجارتی ڈھانچہ کو جدید معیار کے مطابق بنا کر اپنے آپ کو مزید مستحکم کر لیا۔ دور آزادی کے حکمرانوں نے اس معاملہ میں کوئی بھی مثبت کام نہیں کیا۔ اس مدت میں ان کا واحد کار نامہ یہ ہے کہ فلاح عامہ کے نام پر انھوں نے بے شمار مصنوعی قوانین بنائے اور اس طرح سوشلسٹ جنون کے تحت تجارتی طبقہ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ مگر یہ طبقہ اپنی سخت جانی کا ثبوت دیتے ہوئے پھر بھی زندہ رہا۔ دراصل ملک کا یہی تجارتی طبقہ (private sector) وہ سب سے بڑا عامل ہے جس نے حکمرانوں کی بد ترین نااہلی کے باوجود ملک کو اقتصادی دیوالیہ پن سے بچایا ہے۔
اس سلسلہ میں دوسرا دگار عامل وہ ہے جس کو زرعی سیکٹر کہا جاتا ہے۔ سیکڑوں سال سے مضبوط زرعی نظام قائم تھا۔ یہ گاؤں کے کسانوں نے اپنی ذاتی محنت سے قائم کیا سابق سوویت یونین نے وہاں کے زرعی سیکٹر کو بے دردانہر طور پر نام نہاد سرکاری کنٹرول
میں لے لیا تھا۔ ہندوستان کے سوشلسٹ حکمران اس پوزیشن میں نہ تھے کہ وہ ملک کی اسی فیصد کسان آبادی پر اپنا سوشلسٹ بلڈوزر چلا سکیں۔ چنانچہ یہ زرعی سیکٹر حکمرانوں کی مدد کے بغیر خود اپنی طاقت پر قائم رہا۔
ہندوستان سوویت یونین جیسی اقتصادی تباہی سے بچا ہوا ہے۔ اس کا دوسرا بڑا سبب اسی زرعی سیکٹر کا زندہ رہنا ہے۔ اس زرعی سیکٹر نے نہ صرف ملک کو غذائی اعتبار سے خود کفیل بنایا بلکہ بر آمدات کی صورت میں وہ ملک کے لئے قیمتی زر مبادلہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمارے ہمارے حکمراں سوشلسٹ ریفارم کے نام پر اس زرعی سیکٹر کو سرکاری سیکٹر بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو یقینی طور پر ملک کا وہی اقتصادی انجام ہوتا جو سوویت یونین کے ساتھ پیش آیا ہے۔
تیسرا شعبہ جو نسبتاً کمزور حالت میں قائم ہوا وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔ تعلیم کا رواج ہندوستان میں اگرچہ قدیم زمانہ سے تھا مگر وہ صرف خاص طبقوں تک محدود تھا۔ مسلمان جب ہندوستان میں آئے تو انہوں نے ہر مسجد کو مدرسہ کی صورت دے کر تعلیم کو کافی پھیلا دیا۔ بہت سے ہندو مثلاً ڈاکٹر راجندر پرساد نے اسی نظام کے تحت اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انگریز ملک میں جدید تعلیم لے آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ملک میں ہزاروں کی تعداد میں نئے تعلیمی ادارے قائم انھیں مختلف کوششوں کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ملک میں پچاس فیصد لوگ کم یا زیادہ تعلیم یافتہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تعلیمی ڈھانچہ ملک کو آخری تباہی سے بچانے میں بہت کامیاب ثابت ہوا ہے۔ چوتھا نظام، اقدار کے نظام (Value System) کا ہے۔ آزادی کے بعد ہمارے لیڈروں نے پولیتیکل کرپشن کا جو طوفان برپا کیا، اس کے بعد ملک کا یہ حال ہونا چاہئے تھا کہ وہ آخری حد تک اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو جائے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ آج بھی ملک میں اخلاقی اقدار کی روایات کسی نہ کسی درجہ میں زندہ اور قائم ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قومی اور سماجی زندگی کے تمام شعبے اس حد تک تباہ ہو چکے ہوتے کہ بازار میں چلنا اور ٹرینوں میں سفر کرنا بھی عام انسان
کے لئے سخت مشکل ہو جاتا۔
نا موافق سیاسی حالات کے باوجود ملک میں اخلاقی روایت کے باقی رہنے کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب دوبارہ اخلاقی تعلیم کا وہ خاموش نظام ہے جو غیر سیاسی سطح پر قائم چلا آ رہا ہے۔ پہلے کے دور میں یہ نظام زیادہ تر صوفیوں کے ذریعہ قائم تھا۔ اب اس نظام کا تسلسل اس طرح قائم ہے کہ ایک طرف ہندوؤں کے اندر بہت بڑی تعداد میں گرو اور سادھو سنت موجود ہیں جو ہر دن اپنی قوم کو امن اور پیار اور سہن شیلتا کا اپدیش دیتے رہتے ہیں۔ یہ کام بہت بڑے پیمانہ پر پورے ملک میں ہو رہا ہے۔
دوسری طرف مسلمانوں میں لاکھوں کی تعداد میں مسجد اور مدرسے اور دینی حلقے قائم مسلمانوں کی بیشتر تعداد کسی نہ کسی طور پر ان اداروں اور حلقوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کو مسلسل طور پر اخلاق اور شرافت اور انسانیت کا سبق دیا جاتا ہے۔ یہ کام ہر شہر اور گاؤں میں ہو رہا ہے، جبکہ سیاست اور حکومت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ ایک غیر سیاسی نظام ہے جس کے چار بڑے بڑے شعبے ہیں ــــ تجارت، زراعت، تعلیم اور اخلاقیات۔ موجودہ حالت میں جب کہ ہمارے نااہل لیڈروں نے ملک کو سیاسی دیوالیہ پن کی حد تک پہنچادیا ہے، یہی غیر سیاسی نظام ہے جو ملک کو آخری تباہی سے بچائے ہوئے ہے۔ لارڈ ایکٹن نے کہا تھا کہ اقتدار بگاڑتا ہے (power corrupts)۔ یہ مقولہ ہمارے ملک میں اپنی بدترین صورت میں صحیح ثابت ہوا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بگاڑ کا یہ مسئلہ صرف موجودہ سیاسی لیڈروں تک نہیں رکے گا بلکہ جو شخص بھی سیاست کے میدان میں داخل ہوگا وہ اسی مقولہ کا شکار ہو تا رہے گا۔ اس لئے کم از کم موجودہ حالت میں عقلمندی یہی ہے کہ ہم سیاسی لیڈروں سے زیادہ امید رکھنا چھوڑ دیں اور مذکورہ غیر سیاسی نظام کو مزید مکمل اور مستحکم بنانے میں
ہمارے لئے اب امید کا مقام ملک کا سیاسی ادارہ نہیں ہے بلکہ وہ غیر سیاسی ادارے ہیں جن
کا او پر ذکر ہوا۔ جو شخص بھی ملک کی تعمیر میں اپنا کچھ حصہ ادا کرنا چاہتا ہے اس کو اسی غیر سیاسی نظام کی تعمیر و تشکیل میں مصروف ہو جانا چاہئے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم صرف غیر سیاسی شعبوں میں مشغول ہو جائیں اور سیاسی شعبے کو اس کی بگڑی ہوئی حالت پر چھوڑ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر سیاسی شعبے کو بہتر بنانا بالواسطہ طور پر خود سیاسی شعبے کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔
ملک کے سیاسی شعبے کے بگاڑ کو درست کرنے کی کوشش پچھلے پچاس سال سے جاری رہی اس میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور جے پرکاش نرائن جیسے بہت سے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ مگر لمبی کوشش کے باوجود اس معاملے میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ ایسی حالت میں اس تجربہ کو مزید جاری رکھنا کوئی معقول بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اصلاح کی براہ راست کوشش پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اب ہمارے لئے جو صورت باقی ہے وہ یہی ہے کہ اس معاملے میں بالواسطہ اصلاح کے آزمودہ طریقہ کو اختیار کر لیا جائے۔
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جیسے تم ہو گے ویسے ہی تمہارے حکمراں ہوں گے ( کما تكونون، كذالك يؤمر عليكم) اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست ہمیشہ سماجی حالات کے تابع اگر سیاسی شعبہ میں تبدیلی لانا ہے تو سب سے پہلے سماجی نظام میں تبدیلی لانا چاہئے۔ دراصل سماج ہے جو سیاسی شعبہ کی تشکیل کرتا ہے، نہ کہ اس کے برعکس۔ خلاصہ یہ کہ موجودہ حالات میں ملک کے مستقبل کے لئے اگر کوئی امید ہے تو وہ الیکشن کی ہنگاموں اور سیاسی اکھٹا پچھاڑ میں نہیں ہے بلکہ سماجی شعبوں کی خاموش تعمیر میں ہے۔ بھی ملک کا سچا درد رکھتے ہیں انہیں اسی ایک کام میں مشغول ہو جانا چاہئے۔ اگر ملک میں مستحکم سماجی نظام قائم ہو جائے تو وہ غیر مستحکم سیاسی نظام کے باوجود ترقی کرتا رہے گا۔ اس کے بعد ملک کی ترقی کو کوئی روکنے والا نہیں۔