Al-Risala · November 1999

نئی کتابیں

Al-Risala, November 1999, pp. 55–20

By Maulana Wahiduddin Khan

جلال آباد نئی دہلی

۱۹۴۷ کے بعد کے انڈیا میں مسلمانوں کے درمیان کم از کم دو شخصیتیں ایسی تھیں جو پورے معنوں میں قائدانہ اوصاف کی حامل تھیں ۔ ایک مولانا سید حسین احمد مدنی ، دوسرے مولانا ابوالکلام آزاد۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ دونوں ۱۹۴۷ سے پہلے کے ہندوستان میں سراپا سرگرم بنے ہوئے تھے ۱۹۴۷ کے بعد کے ہندوستان میں وہ تقریباً خاموش ہو کر رہ گئے۔ قائدانہ اوصاف کا کوئی فائدہ ۱۹۴۷ کے بعد کے ہندوستان کو نہیں ملا۔

ان کے بعد اگرچہ بہت سے لوگ مسلم قیادت کے میدان میں سرگرمی دکھانے کے لئے اٹھے مگر وہ حقیقۃً اس عربی مثل کا مصداق تھے کہ : کبرنی موت الکبراء (بڑوں کی موت نے مجھ کو بڑا بنا دیا)

آزادی کے بعد کے دور میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی قیادتیں اٹھیں مگر وہ سب کی سب بے نتیجہ اچھل کود کے ہم معنی بن گئیں۔ اس سلسلہ میں غالباً پہلی نمایاں تحریک وہ ہے جو اتر پردیش میں اٹھی۔ اس کا مقصد ریاست میں اردو کو ثانوی درجہ دلانا تھا۔ یہ ایک طوفان خیز تحریک تھی۔ کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شہر شہر اور گاؤں گاؤں گھوم کر چودہ لاکھ دستخطوں کا ایک ڈھیر اکٹھا کیا۔ کاغذوں کا یہ ڈھیر ٹرکوں پر لاد کر دہلی لایا گیا تاکہ اس کو صدر جمہوریہ ہند کی خدمت میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔

یہ تحریک اپنے سارے جوش وخروش کے باوجود کتنی زیادہ بے حقیقت تھی اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی طور پر کیا جا سکتا ہے۔ پریذیڈنٹ آف انڈیا کے سامنے اردو کی درخواست پیش کرنے کی یہ مہم جس کمیٹی کے تحت چلائی گئی اس کے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین (وفات ۱۹۶۹) تھے ۔ بعد کو یہی ڈاکٹر ذاکر حسین خود پریذیڈنٹ آف انڈیا کی کرسی پر پہنچ گئے مگر وہ اردو کی اس درخواست کے بارے میں کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ صدر ذاکر حسین اس کو کر سکتے تھے اور انھوں نے نہیں کیا، اس کا سبب یہ تھا کہ یہ کام حقیقی حالات کے اعتبار سے ہونے والا ہی نہ تھا اس

لئے وہ نہیں ہوا۔

۱۹۴۷ کے بعد بار بار مسلمانوں ہند کے درمیان اس قسم کی جذباتی تحریکیں اٹھائی جاتی رہی ہیں جویا تو بے نتیجہ رہیں یا ان کا معکوس نتیجہ برآمد ہوا۔

مثلاً آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لئے اٹھی۔ ایک فی صد بھی فسادات کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ مسلم یونیورسٹی کو مسلم کردار دینے کے لئے طوفان خیز تحریک اٹھی مگر وہ ظاہری کامیابی کے باوجود مسلم یونیورسٹی کے معیار کو صرف پست کرنے کا ذریعہ بنی۔ ریزرویشن کی پر جوش تحریک نے مسلمانوں کو ریزرویشن تو نہیں دیا البتہ ان کے اندر سے اس جذبہ کو چھین لیا کہ وہ محنت کر کے آگے بڑھیں ۔ بانو تحریک کی بظاہر شاندار کامیابی کا انجام صرف یہ ہوا کہ ہندو فرقہ پرست طاقتیں از سر نو زندہ ہو گئیں ۔ بابری مسجد تحریک کا یہ بر عکس انجام ہوا کہ ہندوؤں کا انتہا پسند طبقہ شدت سے بھڑک اٹھا یہاں تک کہ آپے سے باہر ہو کر اس نے بابری مسجد کو ڈھادیا۔

جو لوگ چیزوں کو ظاہری سطح (face value) پر لینے کے عادی ہیں وہ صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ کچھ غضبناک ہندوؤں نے بابری مسجد کو ڈھادیا مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کو مسٹر ہندو نے نہیں ڈھایا بلکہ مسٹر ایگو نے ڈھایا۔ اور مسٹر ہندو کو مسٹر ایگو بنانے والے خود مسلمانوں کے نااہل قائدین تھے۔

جہاں تک میرا خیال ہے، ۱۹۴۷ کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے درمیان کوئی ایسی قابل ذکر تحریک نہیں اٹھی جس کو مثبت معنوں میں تعمیری تحریک کہا جاسکے۔ اور موجودہ حالات میں غالباً ایسا ہونا ممکن بھی نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ہندستانی مسلمانوں کی غیر حقیقت پسندانہ سوچ وہ اپنے آپ کو غیر واقعی حد تک بر تر اور اپنے ہم وطنوں کو غیر واقعی حد تک کمتر سمجھتے ہیں۔ جو لوگ اس طرح کی منفی نفسیات میں مبتلا ہوں ان کے درمیان صرف رد عمل کی تحریکیں ابھر سکتیں ہیں نہ کہ مثبت معنوں میں کوئی نتیجہ خیز تحریک۔

اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے یہاں ایک نمائندہ مثال درج کی جاتی ہے۔ دہلی کے سہ روزہ دعوت میں مولاناسید ابوالحسن علی ندوی کا ایک انٹرویو افادہ عام کی غرض سے "شائع کیا گیا ہے۔ اس انٹرویو کا ایک سوال اور جواب من وعن یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

سوال : ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی ہند وفرقہ پرستی کے تناظر میں آپ کو یہاں انسانیت کا مستقبل کیسا نظر آتا ہے خصوصاً جب کہ آنجناب ”پیام انسانیت تحریک کے داعی و علم بردار ہیں ؟

جواب : در حقیقت انسانیت کا پیغام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ ملکی سطح پر جو زبردست سیاسی، تہذیبی اور اخلاقی خلا موجود ہے، اسے صرف مسلمان ہی پر کر سکتے ہیں۔ کہ وہ کتاب وسنت اور سیرت رسول ﷺ کے وارث ہیں۔ بلکہ میں تو پورے یقین و اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسلمان نہ ہوتے تو یہ ملک عذاب الہی کا نشانہ بن جاتا اور اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہو تا۔ (سہ روزہ ۔ دعوت دہلی، ۲۵ جنوری ۱۹۹۷ء)

جس ملک کے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کی سوچ یہ ہو کہ دوسرا اگر وہ عذاب الہی کا مستحق ہو چکا ہے اور ملک میں صرف میری موجودگی اس کو اس بھیانک انجام سے بچائے ہوئے وہاں نفرت اور حقارت کا ماحول تو بن سکتا ہے مگر محبت اور احترام کا ماحول ایسے لوگوں کے درمیان کبھی نہیں بنے گا۔ اور جس ملک کے دو بڑے گروہوں کے درمیان اس قسم کا منفی ماحول ہو وہاں مثبت معنوں میں لوگوں کے درمیان معتدل انسانی تعلقات کا قیام ممکن ہی نہیں۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان میں جو پہلی پارلیمنٹ بنی اس کے ایک بنگالی ممبر پروفیسر ہیرن مکر جی تھے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے بعد وہ دہلی سے کلکتہ کے لئے بذریعہ ٹرین روانہ ہوئے۔ وہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے جب چلتی ہوئی ٹرین کے باہر نظر ڈالی تو سٹرک کے دونوں طرف جھگی جھونپڑی کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔

تاریکی کے غیر صحت مند ماحول میں عورت، مرد اور بچے اس طرح رینگ رہے تھے جیسے کہ وہ انسان نہ ہوں بلکہ جانور ہوں۔

پروفیسر ہیرن مکرجی اس منظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ واپس پہنچ کر کلکتہ سے انھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک خط روانہ کیا۔ اس خط میں انھوں نے لکھا کہ ٹرین کے فرسٹ کلاس میں بیٹھا ہوا جب میں جھگی جھونپڑی کی ان گندی بستیوں سے گذرا تو میں نے سوچا کہ اگر یہ لوگ مجھ سے پوچھیں کہ انڈیا کی آزادی سے ہم کو کیا ملا، تو میں ان کو کیا جواب دوں گا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اسکے جواب میں پروفیسر ہیرن مکرجی کو جو خط روانہ کیا اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ...... تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو: You are paying the price of being sensitive. یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ آزادی کے ابتدائی زمانہ ہی میں درد مند لوگوں نے ہمارے لیڈروں کے ضمیر کو کھٹکھٹایا۔ مگر وہ جاگنے کے بجائے خواب آور گولیاں کھا کر گہری نیند انھوں نے یاد دلانے والوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ یہ تمہاری حساسیت کا مسئلہ ہے نہ کہ کوئی حقیقی مسئلہ۔

ہمارے لیڈروں نے ایسا جواب کیوں دیا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ایک بار حکومت کا تجربہ کرنے کے بعد ان کی ساری دلچسپی اس سے ہو گئی کہ وہ اپنے اقتدار کو آخر وقت تک باقی رکھ سکیں۔ اب ان کی تو جہات کا مرکز صرف یہ تھا کہ وہ کس طرح اگلے الکشن میں اپنے آپ کو شکست سے بچائیں اور الکشن جیت کر دوبارہ سیاسی اقتدار کی گدی پر بیٹھ جائیں۔ اس خود غرضانہ طرز فکر نے ہندوستانی سیاست کو پہلے کرپٹ پالینکس بنایا، اور اس کے بعد اس کو وہ بدترین صورت دے دی جسے ممبئی کے مسٹر مدھو مہتا (وفات 1995) کریمنلائزیشن آف پالکس کہا کرتے تھے۔ شیخ سعدی شیرازی کا ایک شعر ہے کہ کسی چشمہ کا منبع ابتدا میں ایک تیلی سے بند کیا جا سکتا

ہے، مگر جب وہ بھر جائے تو اس کو ہاتھی کے ذریعہ بھی بند کرنا ممکن نہیں: سرچشمہ شاید گرفتن بہ میل چو پر شد نشاید گذشتن بہ پل آزادی کے بعد ابتدائی دور میں اگر ہمارے لیڈر صرف اتنا کرتے کہ وہ جیت کے ساتھ ہار کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے تو ملک میں اتنا بگاڑ کبھی نہیں آسکتا تھا۔ ڈیموکریسی کی بنیاد الیکشن پر ہے اور الیکشن اگر صحیح طور پر کرائے جائیں تو کبھی ایک گروہ جیتے گا اور کبھی دوسرا گروہ۔ اس لئے ڈیموکریسی کا نظام درست طور پر صرف اس وقت چل سکتا ہے جب کہ پارٹیاں ہارنے کو بھی اسی طرح قبول کریں جس طرح وہ جیتنے کو قبول کرتی ہیں۔ اگر یہ مزاج نہ ہو تو برسر اقتدار پارٹی اپنے اقتدار کو مسلسل باقی رکھنے کے لئے ایسی بد عنوانیاں کرے گی جس کے نتیجہ میں پورا ملک تباہ ہو کر رہ جائے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں یہی کچھ پیش آیا ہے۔ 1947ء سے پہلے جو لوگ آل انڈیا کانگریس میں جڑے وہ طرح طرح کی سوچ کے لوگ ان کو جس چیز نے کانگریسی اتحاد میں اکٹھا کیا وہ صرف انگریز مخالف سیاست تھی۔ پروائڈیا جذبہ سے زیادہ اینٹی برٹش جذبہ کے تحت کانگریس کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے آزادی کے بعد جب پنڈت جواہر لال نہرو کو ملک کا وزیر اعظم بنایا گیا تو کسی نے ان سے کہا کہ کانگریس میں تو طرح طرح کے لوگ اکٹھا ہیں۔ اس قسم کے مختلف لوگوں کو لے کر آپ کس طرح حکومت کا کاروبار چلائیں گے۔ پنڈت نہرو نے جواب دیا: ہر ایک کی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت میں اس کو ادا کر سکتا ہوں۔

پنڈت نہرو کا یہ فارمولا ایک مفاد پرست حکومت کو چلانے کے لئے کافی ہو سکتا تھا۔ وہ ایک با اصول اور با کردار حکومت کو چلانے کے لئے قطعی طور پر ناکافی تھا۔ چنانچہ آزادی کے بعد ملک میں جو سیاسی ڈھانچہ بنا وہ یہ تھا کہ یہاں کوئی با اصول سیاسی نظام قائم نہ ہو سکا۔ بر عکس جو کچھ پیش آیا وہ یہ تھا کہ ہر ایک اپنی ” قیمت “ وصول کرنے لگا۔ مزید یہ کہ اس کی یہ قیمت

بھی خود اس کے اپنے خود ساختہ اندازوں کی بنیاد پر تھی نہ کہ حقیقت واقعہ کی بنیاد پر۔ چنانچہ قیمت وصول کرنے کا یہ سلسلہ کہیں نہیں رکا۔ پہلے یہ قیمت ہزاروں میں وصول کی اس کے بعد لاکھوں میں قیمت لی جانے لگی۔ پھر کروڑوں میں اور مزید بڑھ کر اربوں کی مقدار میں لوگ اپنی قیمت وصول کرنے لگے۔ یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ ہندوستانی روپیہ کی شکل میں اپنی قیمت لینا لو گوں کو کم دکھائی دینے لگا۔ اب لوگ ڈالر اور پونڈ کی صورت میں اپنی قیمت وصول ملک کی دولت ہندوستان سے نکل کر بیرونی ملکوں کے بینکوں میں جمع ہو گئی۔ یہاں تک کہ قیمت وصول کرنے کا یہ معاملہ ایک مستقل فن بن گیا۔ اب سیاسی اور حکومتی شخصیتوں نے یہ کیا کہ وہ ملکی اور سماجی ترقی کے نام پر بڑے بڑے منصوبے بنائے، صرف اس لئے کہ اس کے بہانے سے اپنے گھروں کو نوٹ سے بھرے ہوئے بوروں کا گودام بنا سکیں۔ ملک بدستور بے ترقی کی حالت میں رہا مگر ملکی ترقی کے نام پر حکومتی شخصیتوں اور بڑے بڑے افسروں کا یہ حال ہوا کہ ان کے گھروں میں دولت کے انبار لگ گئے۔ ملک کی سڑکیں بدستور ٹوٹی پھوٹی حالت میں پڑی رہیں مگر انھیں سڑکوں کے نام پر لوگوں کے شاندار ذاتی محل تعمیر ہو گئے۔ یہ معاملہ یہاں بھی نہیں رہا۔ حکومتی شخصیتوں نے دیکھا کہ ملکی ترقی کے نام پر وہ صرف ہندوستانی روپیہ لوٹ سکتے ہیں۔ اب انھوں نے جنگ کا ہوّا کھڑا کیا۔ سرحدی خطرات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ صرف اس لئے تا کہ مغربی ملکوں کی اسلحہ فیکٹریوں سے نہایت مہنگی قیمت پر ہتھیاروں کی خریداری کا معاملہ کریں اور اس بہانے کروڑوں اور اربوں ڈالر باہر کی کمپنیوں سے بطور کمیشن وصول کر کے سویزر لینڈ کے بنکوں میں خفیہ کھاتے کے طور پر جمع کر سکیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو کا سوشلسٹ فارمولا ابتدائی طور پر ایک سادہ فار مولا دکھائی دیتا مگر اپنی انتہا کو پہنچ کر ان کا سوشلسٹ فارمولا ایک ایسالوٹ فار مولا بن گیا جس کی کوئی مثال ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔

آزادی کے بعد ہندوستان میں لا قانونیت کی جو صورت پیش آئی وہ کوئی اتفاقی بات نہ

حقیقت یہ ہے کہ اس کا بیج ۱۹۷۴ سے پہلے آزادی کی تحریک کے دوران ہی ڈال دیا گیا تھا۔ آزادی کے بعد جو لا قانونیت کا مزاج ملک میں پایا جاتا ہے وہ آزادی سے پہلے کے حالات ہی کا ایک براہ راست نتیجہ ہے۔

سبھاش چندر بوس نے کہا تھا کہ تم مجھ کو خون دو میں تم کو آزادی دوں گا۔ اس کے مقابلہ میں مہاتما گاندھی نے کہا کہ تم انگریزی قانون کو توڑو اور پھر تم کو آزادی مل جائے گی۔ چندر بوس کے انقلاب میں اگر انسان قتل ہوتے تھے تو گاندھی کے انقلاب میں روایات قتل اور تاریخ بتاتی ہے کہ قتل انسان کے مقابلہ میں قتل روایات کا طریقہ زیادہ سخت ہے۔ مہاتما گاندھی کی پوری تحریک گویا پر امن قانون شکنی تھی ۔ حکومت کو ماننے کے بجائے حکومت کو نہ ماننا، اسکولوں اور کالجوں سے لوگوں کو نکالنا، اس قسم کی بہت سی خلاف روایت چیزیں تھیں جن کو مہاتما گاندھی نے ملک میں رواج دیا۔ ان کی اس تدبیر کا ایک جزو تھا جس کو سول نافرمانی (civil disobedience) کہا جاتا ہے۔

مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ قانون شکنی کی اس تحریک کے ذریعہ وہ برٹش اقتدار کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ ہمارا سماج صدیوں سے کچھ اخلاقی روایات پر قائم تھا۔ ید ھشٹر کا قصہ ان اخلاقی روایات کی ایک علامتی مثال ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ ید ھشٹر ایک سچے اس بنا پر ان کار تھ زمین کے اوپر اوپر چلتا تھا۔ مگر ایک جنگ کے موقع پر انھوں نے بظاہر ایک جھوٹ بات کہہ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کار تھ زمین پر آ گیا اس کے بعد پھر وہ کبھی زمین سے اوپر اٹھ کر نہیں چلا۔

قدیم ہندوستانی سماج اس قسم کی بہت سی اخلاقی روایات کے اوپر قائم تھا۔ اس وقت کے سماج میں اس اخلاقی روایات کے ڈھانچہ کو توڑنا بہت زیادہ برا سمجھا جاتا تھا۔ ان روایات کا غلبہ ذہنوں پر اتنا زیادہ تھا کہ کوئی بھی شخص ان کو توڑنے کی ہمت نہیں کرتا تھا مہاتما گاندھی کی عوامی تحریک نے پہلی بار اس کا خاتمہ کیا۔

روایت شکنی اور قانون کی پامالی کے اس طریقہ کار نشانہ نے 1947 سے پہلے برٹش اقتدار تھا، 1947 کے بعد اس کا نشانہ خود ہندوستانی سماج بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی سماج ایک ایسا سماج بن گیا جس میں قانون اور اقتدار کا احترام ختم ہو گیا تھا۔ جہاں لوگوں کے لئے قانون اور اخلاقی روایات کے خلاف عمل کرنا کوئی سنگین بات نہ تھی۔ آج ہندوستانی سماج میں لوٹ اور انار کی کی جو کیفیت پائی جاتی ہے اس کا کم از کم ایک بڑا سبب یہی ہے۔

دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس تعداد کا تقریباً تہائی حصہ صرف بر صغیر ہند میں آباد ہے۔ اسی طرح انڈیا میں ہندو ستر کروڑ سے زیادہ ہیں۔ کمیونٹی اتنی بڑی تعداد میں کسی ایک ملک میں نہیں پائی جاتی۔ اس طرح ہندو اور مسلمان دونوں اس خطہ ارضی میں غیر معمولی امکانات کے حامل ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ پچھلے سو سال کی ہنگامہ خیز سرگرمیوں کے باوجود دونوں میں سے کوئی بھی کمیونٹی کوئی قابلِ لحاظ کارنامہ انجام نہ دے

اس المیہ کا سبب کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا واحد سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اس پوری مدت میں کوئی دانش مند قیادت بر صغیر ہند میں ابھر نہ سکی۔ اس مدت میں کچھ ایسے لیڈر ضرور دکھائی دیتے ہیں جن کو قوم کے حق میں مخلص کہا جا سکتا ہے۔ مگر دور اندیشی اور گہرے تدبر سے تقریباً ہر ایک خطر ناک حد تک خالی تھا۔ اس لئے ان میں سے کوئی بھی پورے معنوں میں نتیجہ خیز تحریک وجود میں نہ لا سکا۔

قائد کی مثال باغبان جیسی ہے۔ باغ کے درخت آج لگائے جاتے ہیں مگر ان کا پھل بہت سال بعد مستقبل میں حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے قائد کی صحیح پہچان یہ ہے کہ وہ ایسی تحریک اٹھاسکے جو مستقبل کے اعتبار سے نتیجہ خیز ثابت ہو۔ مگر بد قسمتی سے ایسا کوئی لیڈر نہ ہندوؤں میں پیدا ہو اور نہ مسلمانوں میں۔

امریکہ کے ابتدائی لیڈروں نے امریکہ کو سائنسی تعلیم کے میدان میں ڈالا تھا۔ بعد کو جاپان نے کیا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد ہندوستان کے لیڈر اپنی سیاسی تحریک کو تیز کرنے کے لئے ہندوستانی نوجوانوں کو اسکولوں اور کالجوں سے باہر لار ہے تھے ، اسی زمانہ میں جاپانی لیڈر اپنے نوجوانوں کو اسکول اور کالج میں داخل کر کے انھیں بہترین تعلیم دلوارہے تھے۔ یہ عمل لمبی مدت تک امریکہ اور جاپان میں جاری رہا۔ ان کی اگلی نسلوں کو اس نشانہ میں تبدیلی کی ضرورت محسوس اس کے برعکس روس میں ۷۵ سال تک اسٹیٹ اکانمی کا غلبہ رہا۔ اس کے بعد اس کو ترک کر کے لبرل اکانومی کے اصول پر قوم کو چلایا جانے لگا۔ یہی معاملہ چھوٹے پیمانے پر ہندوستان میں پیش آیا۔

یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہیں اور روس اور ہندوستان دونوں غیر ترقی یافتہ ملک۔ ترقی مسلسل طور پر جاری رہنے والا عمل ہے۔ لئے ترقی کے لئے وہی اسکیم کار آمد ہے جو قابل بقا (sustainable) ہو۔ جو اسکیم قابل بقانہ ہو وہ ترقی کا ذریعہ بھی نہیں بن سکتی۔

اس معیار کی روشنی میں دیکھیے تو ہندوؤں اور مسلمانوں کے تمام بڑے بڑے لیڈر اس پر پورے اترتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ مثال کے طور پر مہاتما گاندھی نے چر خاپر مبنی اکانمی کا نظریہ پیش کیا مگر وہ کچھ انفرادی لوگوں میں وقتی طور پر رہا اور اس کے بعد اس کا خاتمہ ہو گیا۔ پنڈت نہرو نے سرکاری اکانومی کو رائج کیا مگر چالیس سال بعد اس کو پیٹ کر رکھ دینا پڑا۔ مولانا محمد علی جو ہر نے خلافت تحریک کے نام پر تھوڑے دنوں کے لئے پورے بر صغیر کو ہلا دیا مگر ۱۹۲۴ء میں ان کی زندگی ہی میں اس طوفانی تحریک کا اس طرح خاتمہ ہو گیا جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اسی طرح مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے طاغوتی نظام کا نظریہ پیش کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان انسانی ساخت کے تمام نظاموں سے قطع تعلق کریں اور ان سے لڑ کر دنیا

بھر میں ان کا خاتمہ کر دیں۔ ورنہ اس دنیا میں ان کی زندگی ہی جائز زندگی نہ ہوگی۔ اس بے بنیاد نظریہ نے بھی ایک محدود عرصہ کے لئے وقتی جوش و خروش دکھایا اس کے بعد وہ کتابوں کے صفحات میں دفن ہو کر رہ گیا۔ اس کی وجہ بھی دوبارہ یہی تھی کہ اس عالم اسباب میں اس قسم کا انتہا پسندانہ تصور قابل بقا ہی نہ تھا۔

۱۹۳۸ میں عربی تعلیم کے لئے میں نے مدرسہ الاصلاح (اعظم گڑھ) میں داخلہ لیا اس مدرسہ میں اس وقت ہندوستان کی دو شخصیتوں کا زیادہ چرچا تھا۔ اردو میں مولانا ابوالکلام آزاد (وفات ۱۹۵۸) اور عربی میں مولانا حمید الدین فراہی (وفات ۱۹۳۰) اس زمانہ میں یہاں کے کتب خانہ (دار المعلومات) میں مولانا آزاد کے الہلال کے پرچے مجلد صورت میں نہایت اہتمام کے ساتھ رکھے گئے تھے۔ عام کتابوں کی طرح یہ جلد میں ایشو نہیں کی جاتی تھیں۔ ان کو صرف کتب خانہ میں ہی بیٹھ کر پڑھا جا سکتا تھا۔

الہلال کو پڑھ کر جو ذہن بنتا تھا وہ صرف استعمار سے نفرت کا ذھن تھا۔ اس کا ہر شمارہ گویا انگریزوں کے خلاف ایک بغاوت نمبر ہوتا تھا۔ اس کو پڑھ کر آدمی کے اندر صرف یہ ذہن پیدا ہوتا تھا کہ انگریز ایک قابل نفرت قوم ہے۔ ان کا مقصد حیات یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو وہ نقصان پہنچائیں اور اگر ممکن ہو تو ان کو دنیا سے مٹا دیں۔

مولانا حمید الدین فراہی کوئی سیاسی آدمی نہ تھے۔ ان کا موضوع اصلا تفسیر قرآن تھا۔ انگریزوں کے معاملے میں ان کے خیالات وہی تھے جو اس زمانے کے دوسرے علماء کے یہاں پائے اس زمانہ کے علماء عام طور پر انگریزوں سے سخت بیزار تھے۔ وہ انگریزوں کو اسلام کا دشمن نمبر ایک سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس زمانہ کے علماء کے حالات میں عام طور یہ لکھا ہو املے گا کہ ”حضرت کو انگریزوں سے بہت نفرت تھی“ یہی حال خود مولانا حمید الدین فراہی کا بھی تھا۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی قرآن کے مطالعہ میں گزاری۔ مگر قرآن سے انھیں آیتوں اور

سورتوں میں نظم کا مسئلہ تو ملا مگر انسان سے محبت کا مسئلہ انھیں شاید اس میں نہیں۔ انگریز پروفیسر آرنلڈ (T.W. Arnold) کتاب دعوتِ اسلام (The Preaching of Islam) پہلی بار ۱۸۹۶ میں چھپی۔ اس وقت مولانا حمید الدین فراہی علی گڑھ میں تھے۔ کتاب کے انگریز مصنف بھی اس وقت استاذ کی حیثیت سے علی گڑھ میں موجود تھے۔ آرنلڈ (وفات ۱۹۳۱) نے ۵۰۰ صفحہ کی اس کتاب میں کامیابی کے ساتھ یہ دیکھایا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا بلکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ پھیلا۔

یہ کتاب لندن سے چھپ کر جب علی گڑھ آئی تو مولانا حمید الدین فراہی نے اس کو پسند ان کے نزدیک یہ کتاب انگریزوں کی سازش کا ایک حصہ تھی۔ انگریز اپنے استعماری مفاد کے تحت مسلمانوں سے جہاد کا جذبہ ختم کرنا چاہتے ہیں، اس لئے انھوں نے پروفیسر آرنلڈ سے اس قسم کی کتاب لکھوائی ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی کا یہ احساس اتنا زیادہ بڑھا ہوا تھا کہ ایک انگریز ان کو اپنے عربی ترجمان کی حیثیت سے عرب لے جانا چاہتا تھا۔ انھوں نے اس کو دشمن اسلام کے ساتھ تعاون سمجھ کر اس سے انکار کر دیا۔ بعد کو اپنے استاذ مولانا شبلی نعمانی (وفات ۱۹۱۴) کے کہنے پر بادل نخواستہ وہ مذکورہ انگریز کے ساتھ جانے پر راضی ہوئے۔ اس طرح مدرسہ میں مجھ کو جو ذہن ملا وہ نفرت انگریز (یا نفرت انسان) کا ذہن اسلام کا مطلوب ذہن محبت انسان کا ذہن ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے سو سال کے درمیان ہمارے رہنماؤں نے مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنایا وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر نفرت انسان کا ذہن تھا۔ نہ کہ محبت انسان کا ذہن۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت کے مشہور مسلم شاعر انور صابری ہمارے مدرسہ میں آئے انھوں نے وہاں اپنی کچھ نظمیں سنائیں ان کا ایک شعر بہت مقبول ہوا جواب تک مجھے یاد ہے:

تمنا ہے کہ دنیائے غلامی کو بدل ڈالوں شہنشاہوں کا سر پائے بغاوت سے کچل ڈالوں مدرسۃ الاصلاح میں میرے استاذ مولانا امین احسن اصلاحی (وفات ۱۹۹۸) سیاسی اعتبار

سے کانگریسی تھے تاہم تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد وہ پاکستان چلے گئے۔ وہاں وہ لاہور میں مقیم رہے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ غالباً ۱۹۵۰ء میں وہ کچھ دنوں کے لئے ہندوستان آئے تھے اور اپنے وطن بمہور (اعظم گڑھ) میں قیام کیا تھا۔ میں بھی چند دوسرے نوجوانوں کے ساتھ بمہور گیا۔ جب یہاں آئے تو ان کو حسب قاعدہ پولیس اسٹیشن جا کر اپنی آمد کا اندراج کرانا پڑا۔ اس قسم کی چیز ان کے مزاج کے خلاف تھی۔ چنانچہ ہم لوگوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: پاکستان میں میں وزیر اعظم کو ڈانٹ سکتا ہوں، مگر انڈیا میں میں نمبر ۱۰ کا مجرم ہوں۔ استاذ کی زبان سے یہ جملہ سن کر اس وقت میرے اندر یہ تاثر پیدا ہوا کہ انڈیا بہت خراب ملک ہے اور پاکستان اس کے مقابلے میں بہت اچھا ملک ہے۔ اس کے ایک عرصہ بعد اے ۱۹ میں خود پاکستان گیا اور وہاں لاہور میں چند دن قیام کیا۔ اس سفر میں میرے ساتھ ٹھیک وہی واقعہ پاکستان میں پیش آیا جو مولانا امین احسن اصلاحی کے ساتھ انڈیا میں پیش آیا تھا۔ مجھ کو بھی وہاں پہنچ کر پہلے ہی دن پولیس اسٹیشن جانا پڑا اور وہاں اپنی آمد کی تفصیل پولیس کے رجسٹر میں درج کرانی پڑی۔ ان چند متفرق واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے سو سال کے اندر کس قسم کے خیالات چھائے رہے ہیں اور ہمارے اداروں اور ہماری شخصیتوں کے ذریعہ لوگوں کو کس قسم کا ذہن ملتا رہا ہے۔ مثلاً اس پورے دور میں ہم نے انگریز کے مسئلہ کو ’’غلامی‘‘ کا مسئلہ سمجھا حالانکہ زیادہ صحیح لفظوں میں وہ نو آبادیات (Colonialism) کا مسئلہ تھا۔ غلامی کا لفظ صرف نفرت اور حقارت پیدا کرتا ہے۔ وہ انگریزوں کا تعارف صرف ایک ظالم کے روپ میں کرتا ہے۔ برعکس نو آبادیات کا لفظ یہ بتاتا ہے کہ انگریزوں نے علم اور صنعت کے میدان میں ترقی کر کے ہمارے اوپر برتری حاصل کرلی۔ اسی برتری کے بنا پر وہ اس قابل ہو گئے کہ سات سمندر پار کر کے وہ ہمارے ملک میں آئیں اور یہاں حکومت کریں۔

اس طرح نو آبادیات کا لفظ نئی سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہ ترغیب دیتا ہے کہ ہم بھی علم اور صنعت کے میدان میں ترقی کریں اور صحت مند مقابلہ کر کے ان سے آگے بڑھ جائیں۔

غلامی کے لفظ سے اس قسم کا کوئی مثبت ذہن نہیں بنتا۔

اسی طرح لوگوں کے اندر ایک عام کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے قریبی حالات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں اس بنا پر ان کی رائے اکثر غلط ہو جاتی ہے۔ ایک پاکستانی مسلمان کو انڈیا میں پولیس کے دفتر میں حاضری دینی پڑے تو انڈیا کے بارے میں اس کی رائے خراب ہو جاتی کیونکہ اس نے معاملہ کو صرف اپنے محدود تجربہ کے دائرے میں دیکھا۔ اگر وہ اس کے اس حقیقت کو سامنے رکھے کہ انڈیا کا ایک مسلمان جب پاکستان جاتا ہے تو وہاں بھی اس کو پولیس اسٹیشن میں اسی طرح حاضری دینی پڑتی ہے۔ اگر وہ دونوں قسم کے واقعات کو ملا کر سوچے تو اس کی رائے میں توازن پیدا ہو جائے گا۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ سوچا جائے کہ یورپ میں لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک میں ویزا کے بغیر آسانی کے ساتھ آتے جاتے رہتے ہیں۔ پھر انڈیا میں اس کے خلاف صورت حال کیوں۔ اس پر غور کرنے کے بعد معلوم ہو گا کہ اس کا سبب ہمارے لیڈروں کی غلط سیاست ہے۔ یورپ میں ایک ملک اور دوسرے ملک کے درمیان نفرت کی سیاست نہیں اس لئے وہاں مختلف ملکوں کے درمیان معتدل حالات موجود ہیں۔ انڈیا اور پاکستان میں اس کے برعکس نفرت اور کشاکش کی سیاست چلائی گئی۔ دراصل یہی منفی سیاست ہے جس کا انجام آج بر صغیر ہند کے لوگ بھگت رہے ہیں۔

۱۹۶۶ میں لکھنؤ مسلم سیاست کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد منظور نعمانی، ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی وغیرہ، نہایت جوش و خروش کے ساتھ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی ”نان کانگریس ازم‘‘ کی مہم میں شریک تھے۔ اس زمانے میں ایسی تقریریں کی جا رہی تھیں جیسے کہ کانگریس کو ہرانا مسلمانوں کا مستقبل بنانے کے ہم معنی ہے۔

میں اس سیاست کو سراسر ایک بے فائدہ سیاست سمجھتا تھا۔ میں نے اس تحریک کے

اکثر رہنماؤں سے تبادلہ خیال کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس وقت وہ اتنے جوش میں تھے کہ کوئی بھی شخص کچھ سننے کے لئے تیار نہ ہوا۔ آخر کار میں ۱۶ / اپریل ۱۹۷۲ کو ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی سے یہ گفتگو لکھنؤ میں (فریدی بلڈنگ، حضرت گنج) میں ہوئی۔ پون گھنٹہ تک گفتگو جاری میں نے ان کے تمام دلائل کو رد کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ کسی پولیٹیکل پارٹی کو ہرانا مسلمانوں کے لئے کسی مثبت نتیجہ کو پیدا کرنے والا نہیں بن سکتا۔ جب ڈاکٹر فریدی کے پاس میری دلیلوں کا کوئی جواب نہ رہا تو آخر میں انھوں نے کہا: اسٹیٹس کو میں چینج تو ہوگا (یعنی موجودہ سیاسی صورتحال میں تبدیلی تو ہوگی) اس کے بعد گفتگو ختم ہو گئی۔

ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (وفات ۱۹۷۲) کا یہ جواب علامتی طور پر موجودہ زمانہ کی پوری مسلم قیادت پر صادق آتا ہے۔ اس زمانہ میں تقریباً ہر مسلم قائد (نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں) بس پولیٹیکل اسٹیٹس کو میں چینج لانے کی سیاست چلتا رہا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کسی نے شعوری طور پر ایسا کیا اور کسی نے غیر شعوری طور پر۔

موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کی ہنگامہ خیز کوششیں کوئی مثبت نتیجہ پیدا کئے بغیر ختم اس کی واحد مشترک وجہ یہ تھی کہ انھوں نے سیاسی اسٹیٹس کو میں چینج کو کام سمجھ لیا۔ بار بار اس اسٹیٹس کو میں تبدیلی لانے کے لئے دھواں دار تحریکیں چلاتے رہے، صرف اس لئے کہ جو کچھ پہلے حاصل تھا وہ بھی ان سے چھن جائے۔

اصل یہ ہے کہ اسٹیٹس کو میں چینج لانے کے لئے تحریک چلانا کوئی تحریک ہی کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ جو اسٹیٹس کو بن گیا ہے اس کو وقتی طور پر تسلیم کرتے ہوئے حاصل شدہ مواقع کار کو مثبت تعمیر کے لئے استعمال کیا جائے جو سیاسی اسٹیٹس کو آپ کو یہ موقع دیتا ہے کہ آپ اس کے خلاف تحریک چلائیں وہ مزید اضافہ کے ساتھ آپ کو یہ موقع دے گا اس کو چھیڑے بغیر غیر نزاعی دائرے میں خاموش تعمیر کی کامیاب جدوجہد کریں۔ اسٹیٹس کو میں چینج ایک سلبی عمل ہے اور اسٹیٹس کو سے ٹکرائے بغیر غیر سیاسی میدان

میں کوشش کرنا ایک ایجابی عمل۔

اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف اسباب سے ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان ایک اسٹیٹس کو قائم ہو جاتا ہے۔ اگر کام کا آغاز اس اسٹیٹس کو بدلنے سے کیا جائے تو پہلے ہی مرحلے میں فریق ثانی سے ٹکراؤ پیش آجائے گا۔ مزید یہ سراسر غیر یقینی ہوتا ہے کہ اگر اسٹیٹس کو بدل بھی جائے تو اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہوگی وہ کس کے حق میں ہوگی۔ کے طور مصر کے اسلام پسندوں نے شاہ فاروق کے زمانے میں پولیٹیکل اسٹیٹس کو بدلنے کی کوشش کی مگر جب وہ بدلا تو وہ اسلام پسندوں کے بجائے فوجی افسروں کے حق میں چلا گیا۔ کے اسلام پسندوں نے صدر ایوب خاں کے زمانہ میں پولیٹیکل اسٹیٹس کو میں تبدیلی کی کوشش کی مگر جب وہ بدلا تو وہ اسلام پسندوں کے بجائے سیکولر لیڈروں کے حق میں چلا گیا۔ ہندوستان میں انگریزوں کے زمانے میں جو پولیٹیکل اسٹیٹس کو تھا اس کو نیشنلٹ مسلمانوں نے بدلنے کی کوشش کی مگر جب وہ بدلا تو نیشنلٹ مسلمانوں کے بجائے دوسری پارٹیوں کے حق میں اس لئے صحیح اور مفید طریقہ کار یہ ہے کہ اسٹیٹس کو کو عملاً قبول کرتے ہوئے بقیہ دائروں میں اپنے تعمیر واستحکام کی جد و جہد جاری کی جائے۔ بالفاظ دیگر مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کیا جائے۔ یہی طریقہ درست ہے اور یہی طریقہ نتیجہ خیز بھی۔ بی بی سی لندن سے ۳۱ مئی ۱۹۹۸ کو ایک ادبی پروگرام نشر ہوا۔ یہ سعادت حسن منٹو کے بارے میں تھا۔ وہ اردو کے مشہور افسانہ نگار تھے۔ ان کی پیدائش انڈیا میں ہوئی۔ کے وقت وہ بمبئی میں تھے۔ اس کے بعد وہ پاکستان چلے گئے۔ ۱۹۵۵ میں لاہور میں ان کا انتقال انھوں نے کیوں ایسا کیا کہ وہ انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔ نشر یہ میں بتایا گیا تھا کہ اس سوال کا جواب سعادت حسن منٹو نے عصمت چغتائی کو ان الفاظ میں دیا تھا: پاکستان میں مسلمانوں کا مستقبل روشن ہے وہاں ہر طرف ہم ہی ہم ہوں گے۔ خوب ترقی کریں گے۔

یہی ذہن ان لوگوں کا تھا جو پاکستان کے حامی تھے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ پچاس سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کا مسلمان مطلوب ترقی حاصل نہ کر سکا۔ حتی کہ خود پاکستان کے لوگ اپنے ملک کے حالات سے اتنا زیادہ غیر مطمئن ہوئے کہ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد باہر کے ملکوں میں چلی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ بذات خود غلط تھا کہ جس ملک میں صرف ایک قوم کے لوگ بستے ہوں وہاں خوب ترقی ہوگی۔ بلکہ اصل معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ترقی کے لئے فطرت کا ایک اٹل قانون ہے اور جب بھی کوئی قوم ترقی کرتی ہے تو وہ اسی قانون کے مطابق کرتی کوئی خود ساختہ نظریہ کبھی کسی قوم کو ترقی کی طرف نہیں لے جاتا۔ فطرت کے قانون کے مطابق، ترقی کا تعلق چیلنج اور مسابقت پر ہے نہ کہ یکسانیت پر۔ کوئی قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب کہ وہ مسابقت کے ماحول میں ہو، جب کہ اسے دوسرے دل کی طرف سے چیلنج پیش آرہا ہو۔ جہاں چیلنج نہ ہو وہاں یقینی طور پر ترقی بھی نہ ہوگی۔ مسلمانوں کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ غیر منقسم ہندوستان میں ہندوؤں کے درمیان مثبت ذہن کے ساتھ رہتے۔ طرح دونوں کے درمیان صحت مند مقابلہ (Healthy competition) جاری ہوتا۔ دونوں کے لئے ترقی کا ضامن بن جاتا۔

جب بھی مختلف گروہ ملکر ساتھ رہیں تو ان کے درمیان مختلف قسم کے ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں جو ایک دوسرے کے لئے شکایت کا باعث بنتے ہیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ایسا ہی معاملہ غیر منقسم ہندوستان میں پیش آیا۔ یہاں ہندو اور مسلم دونوں طرف کے قائدین صحیح رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ ہندی اخبارات مسلمانوں کی باتوں کو زیادتی کا روپ دے کر پیش دوسری طرف اردو اخبارات مزید اضافہ کے ساتھ ہندوؤں کے واقعات کو تعصب اور ظلم کی شکل میں چھاپتے رہے۔ حالانکہ دونوں طرف کے لکھنے اور بولنے والوں کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ اپنی اپنی قوم کو بتائیں کہ اس طرح کی ناخوشگوار باتیں ہر سماج میں پیش آتی ہیں۔

ایسے ماحول میں بھی جہاں تمام لوگ ایک ہی مذہب اور ایک ہی کلچر کے ماننے والے ہوں۔ چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کے اندر یہ ذہن بنائیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کو چیلنج کے روپ میں لیں نہ کہ زیادتی کے روپ میں۔

اگر بروقت لوگوں کو یہ رہنمائی دی جاتی تو وہ جانتے کہ غیر منقسم انڈیاترقیاتی امکان کے اعتبار سے موزوں ترین ملک ہے۔ یہاں وہ حالات پوری طرح موجود ہیں کہ آزاد ماحول میں دونوں فرقوں کے درمیان صحت مند مقابلہ جاری ہو۔ اور پھر فطرت کے قانون کے مطابق، دونوں تیزی کے ساتھ ترقی کا سفر طے کریں۔ مگر بروقت صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے دونوں میں سے کوئی بھی حقیقی ترقی حاصل نہ کر سکا۔

میرا احساس یہ ہے کہ ۱۹۷۲ نے پہلے ملک میں جو ہندو ر ہنما یا مسلم رہنما ابھرے۔ میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں کسی کریڈٹ کا مستحق نہیں۔ دونوں نے یکساں طور پر حریفانہ قسم کی تحریکیں چلائیں ایک طرف ظفر علی خان نے کہا:

دنیا میں بلائیں دو ہی ہیں اک ساور کر اک گاندھی ہے اک کفر کا چلتا جھگڑ ہے اک ظلم کی چلتی آندھی ہے دوسری طرف گرو گولوالکر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ بھارت میں صرف ہندو ہی سچے کیوں کہ یہ صرف ہندو ہیں جو انڈیا کو ہولی لینڈ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس سر زمین کا ہر ذرہ ان کے لئے مقدس ہے۔ مسلمان چون کہ نیشنلٹی کے ٹسٹ پر پورے نہیں اترتے اس لئے وہ نیشنلٹ نہیں ہیں (پنچ آف تھاٹ از گرو گولوالکر)

عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے محبوب شاعر اقبال نے بھی یہی بات ان لفظوں میں

Printed page