My mission is to wipe away tears from all faces.
Al-Risala, November 1999, pp. 21–34
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر آزادی کے پچاس سال بعد بھی ملک کی یہ حالت ہے کہ رونے والی آنکھوں کی تعداد پہلے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ آج ہمارا ملک اس سے بھی زیادہ مسائل سے دوچار ہے جس سے وہ ۱۹۳۷ء سے پہلے دوچار تھا۔
اس کا سبب کیا ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھے تو معلوم ہوگا کہ مہاتما گاندھی اور ان کے
ساتھیوں کا یہ اندازہ درست نہ تھا۔ انگریز کے سیاسی غلبہ کا خاتمہ ملک میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہے۔ اس معاملہ میں ہمارے لیڈر معصومانہ حد تک ایک غلط اندازہ کا شکار ہوئے۔ وقت کے بہت سے دوسرے سیاسی رہنماؤں کی طرح، مہاتما گاندھی نے یہ سمجھ لیا کہ ملک میں انگریزوں کا راج تمام خرابیوں کا منبع (Source of all evils) ہے۔ جب بدیسی راج ختم ہو گا اور دیسی راج ملک میں آئے گا تو اس کے بعد اپنے آپ سارے معاملات درست ہو جائیں مگر یہ انسانی نفسیات اور تاریخی عوامل سے معصومانہ حد تک بے خبری کا نتیجہ تھا۔ سماجی حالات خود سماج کی اصلاح سے درست ہوتے ہیں نہ کہ حکومتی افراد کی تبدیلی سے۔ ہے کہ مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں کا لایا ہوا سوراج محض ایک قسم کا (coupe) بن گیا۔ کہ وہ چیز جس کو انقلاب (revolution) کہا جاتا ہے۔ کو میں صرف حکمران افراد بدلتے ہیں، جب کہ انقلاب میں پورے سماجی حالات میں ایک نیا دور آ جاتا ہے (اس معاملہ کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، انگریزی اخبار پائیر ۲۶ جنوری ۱۹۹۷ء)
۲۰ جنوری ۱۹۹۷ء کی مذکورہ میٹنگ میں میری بات سن کر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ مہاتما گاندھی پر تنقید کر رہے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ کسی شخصیت کا نہیں ہے بلکہ ملک کا ہے:
I love Gandhi, but I love India more than Gandhi. میں نے کہا کہ یہ تنقید نہیں ہے بلکہ وہ از سر نو جائزہ (re-assessment) ہے اس قسم کا جائزہ اس لئے ضروری ہے کہ ہم بار بار اسی سابقہ غلطی کو دوہرا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ۱۹۷۷ء میں جے پرکاش نرائن نے پورن سوراج (Total revolution) کا آندولن چلایا اس کا فلسفہ بھی عین وہی تھا۔ ہمارے پچھلے لیڈروں نے برٹش راج کو تمام خرابیوں کا سر چشمہ سمجھا تھا۔ کے تحت جے پرکاش نرائن نے کانگریس راج کو ملک کی تمام خرابیوں کا سر چشمہ سمجھ لیا اور اس کے خلاف دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔
کانگریس راج ختم کرنے کی حد تک یہ تحریک صد فی صد کامیاب رہی۔ ریوولیوشن لانے میں وہ صد فی صد ناکام رہی۔ ٹوٹل ریوولیوشن تو در کنار جزئی ریوولیوشن بھی اس کے ذریعہ سے نہ آسکا۔ اس لئے انتہائی ضروری ہے کہ ماضی کی سیاسی تاریخ کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تاکہ ہم ایک ہی غلطی کو بار بار دہرانے سے بچ جائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انقلاب کا راز غیر سیاسی اداروں کی تبدیلی میں ہے نہ کہ کسی سیاسی گدی کے گدی نشین کو بدلنے میں۔
زیکو سلواکیا (Czechoslovakia) پر جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر کے قبضہ کے بعد وہاں کے بہت سے یہودی بھاگ کر دوسرے ملکوں میں چلے گئے۔ ان میں ایک یہودی جوڑا ڈاکٹر نیڈل اور مسز نیڈل ہندوستان آئے۔ یہ لوگ ایک دستکاری کے ماہر تھے جو اس وقت کے زیکو سلواکیا میں پائی جاتی تھی، وہ مخصوص تکنیک سے شیشہ کو پگھلا کر اس سے آرائشی چیزیں بناتے تھے۔ ۱۹۳۸ء کا زمانہ تھا جب کہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں کانگریس کی حکومت پہلی بار قائم ہوئی یوپی گورنمنٹ کے تکنیکل ایجوکیشن کے ڈیپارٹمنٹ نے اس یہودی جوڑے کو بنارس ہندو یونیورسٹی میں ٹھہرایا۔ اور یہ انتظام کیا کہ وہ اپنایہ فن ہندوستانیوں کو سکھائیں۔ یوپی کی کانگریس حکومت کے تعاون سے جن لوگوں نے اس صنعت کو سیکھا ان میں میرے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں (وفات ۱۹۸۸) بھی تھے۔ اس فن کو سیکھنے کے بعد انھوں نے ۱۹۴۲ء میں اعظم گڑھ میں لائٹ ایڈ کمپنی کے نام سے ایک کارخانہ کھولا جو بعد کو لائٹ اینڈ کمپنی لمٹیڈ بن گیا۔
میرے بھائی ڈاکٹر نیڈل کے بہت سے قصے سناتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر نیڈل ڈسپلن کا بہت زیادہ پابند تھا۔ ایک منٹ ادھر اُدھر ہونا اس کو گوارہ نہ تھا۔ ایک بار اس نے زیر تربیت نوجوانوں کو گورنمنٹ کی کوئی ہدایت بتائی ایک مرحلہ میں اس کو محسوس ہوا کہ لوگ سختی
سے اس ہدایت کی پابندی نہیں کر رہے ہیں۔ اس نے تقریبا چیخ کر کہا کہ یہ ایک سرکاری حکم ہے۔ It is a government rule. میرے بھائی جو سامان تیار کرتے تھے وہ زیادہ تر باہر کے علاقوں میں بھیجا جاتا تھا۔ ساؤتھ انڈیا، سری لنکا وغیرہ۔ یہ پورا کام ڈاک خانہ کے ذریعہ ہوتا تھا۔ اس زمانہ میں ڈاک خانہ نہایت صحت کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ایک بار ایک پوسٹ مین نے ہماری کوئی ڈاک گڑ بڑ کر دی۔ صاحب نے اس کی شکایت لکھ کر ڈاک خانہ بھیج دی۔ اس کے بعد ڈاک خانہ کا پورا محکمہ، حتیٰ کہ پوسٹ آفس سپرنٹنڈنٹ اس طرح سرگرم ہوگئے جیسے کہ کوئی ہنگامی صورت حال پیدا ہو گئی ہو۔ معاملہ صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ پوسٹ مین نے آکر میرے بھائی سے معافی مانگی اور انھوں نے اس کو تحریری معافی نامہ دے دیا۔
یہ ۱۹۴۷ سے پہلے کا وہ ہندوستان تھا جس کو بہت سے دوسرے دیکھنے والوں کے ساتھ میں نے بھی دیکھا اور جانا۔ آج یہ ہندوستان کہیں موجود نہیں۔ آج یہ حالت ہے کہ سرکاری ہدایات آتی ہیں اور دفتروں میں فائل کر کے رکھ دی جاتی ہیں۔ نہ کوئی ان کو سنجیدگی کے ساتھ پڑھتا اور نہ وہ ان پر عمل کرتا تھا۔
۱۹۷۷ کے بعد جب ہمارے سماج میں بگاڑ آیا اور ہر شعبہ میں گراوٹ کے آثار ظاہر ۔ ہوئے تو ہمارے نئے حکمرانوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ وہ ہر مسئلہ پر ایک قانون بنائیں انگریزوں نے اپنے دو سو سالہ حکومت کے دوران صرف پانچ سو قانون بنائے تھے۔ مگر آزادی کے بعد ہماری حکومت نے پچاس سال کے اندر پانچ ہزار سے زیادہ قوانین بنا ڈالے۔ ان کے علاوہ قاعدوں اور ضابطوں کی صورت میں روزانہ جو احکام جاری ہوتے رہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی مگر آج یہ حالت ہے کہ سرکاری دفتروں میں کوئی شخص قانون اور ضابطہ کے حوالہ سے اپنا کوئی حق نہیں پاسکتا۔ اب سرکاری دفتروں سے لے کر عدالتوں تک ہر جگہ رشوت اتنا زیادہ عام ہو چکی ہے کہ مزید پیسہ خرچ کئے بغیر کسی کا کوئی کام ہونا ممکن ہی نہیں۔
قانون کی کثرت نے موجودہ ہندوستان کو قانون کا جنگل بنادیا ہے قوانین کی یہ کثرت ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے نہ کہ معاون، نئی دہلی کے ایک سینئر وزیر نے جون ۱۹۹۸ میں اپنی ایک گفتگو کے دوران کہا کہ میں حکومت میں بڑے بڑے ارادے لے کر آیا تھا مگر یہاں حالت یہ ہے کہ میرا بیشتر وقت قانون اور ضابطہ کی خانہ پوری میں الجھار ہتا ہے۔ دفتر میں ہر روز میرا تقریبا دس گھنٹہ کاغذوں کے انبار پر دستخط کرنے میں گزر جاتا ہے۔
۱۹۴۷ سے پہلے انگریزی حکومت کے زمانہ میں موجودہ قسم کے کرپشن کا کوئی تصور ہی نہ تھا جو آج ہر جگہ پایا جارہا ہے۔ میں نے ایک میٹنگ میں کہا کہ اس صورت حال کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہمارے ان لیڈروں پر ہے جو تحریک آزادی کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے ان ہیروروں نے اس حقیقت کو کیوں نہیں جانا کہ ملک کو انگریزیوں سے آزاد کر کے وہ اس کو سماج کے حوالہ کر رہے ہیں وہ ایک دولت پرست سماج ہے۔ انگریزی دور میں محکوم ہونے کی بنا پر اس کی دولت پرستی چھپی ہوئی ہے۔ جیسے اس کو حاکمانہ حیثیت حاصل ہو گی اس کی دولت پرستی پورے طور پر ابھر آئے گی اور ملک لوٹ و بھر سٹار چار کا جنگل بن جائے گا جیسا کہ عملاً پیش آیا۔ آزادی کے بعد ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ جس چیز کی کمی ہے وہ سائنٹفک ٹمپر (سائنسی مزاج) ہے۔ یہ بلاشبہ ایک صحیح بات مگر یہ بات ان کو ۱۹۴۷ سے پہلے جاننا چاہئے تھا۔ ہمارے لیڈروں، ہند اور مسلم دونوں پر فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ سب سے پہلے یہ کام کریں کہ قوم سے دولت پرستی کا مزاج ختم کریں اور اس کے اندر صحیح معنوں میں سائنسی مزاج پیدا کریں۔ اگر وہ ۱۹۴۷ سے پہلے ذہنی تعمیر کا یہ کام کرتے تو آزادی بلاشبہ ہمارے لئے ایک نعمت ہوتی۔ مگر اس ابتدائی تیاری کے بغیر جب وہ آزادی لائے تو فطری طور پر یہ ہوا کہ ملک مالی بھر شٹا چار کا جنگل بن گیا۔ موجودہ زمانہ میں ایک لفظ کا بہت زیادہ چرچا کیا جاتا ہے، اور وہ دیش بھکتی ہے، میں دیش بھکتی کو ملک کی نئی تعمیر کے لئے بے حد اہم سمجھتا ہوں مگر دیش بھکتی کے شور میں مجھے کوئی سچا
دیش بھگت دکھائی نہیں دیتا۔ اپنے علم اور تجربہ کی بنیاد پر میرا شدید احساس ہے کہ ہمارے لیڈروں میں شاید کوئی ایک شخص بھی نہیں جو حقیقی معنوں میں دیش بھگت ہو۔ مجھے ہر ایک صرف خویش بھگت دکھائی دیتا ہے۔ نہ کہ دیش بھگت۔
یشپال ایک ہندی ناول نگار ہے انھوں نے اپنی زندگی تشدد پسند انقلابی کی حیثیت سے ۱۹۳۱ میں انگریزی حکومت نے انھیں گرفتار کر لیا۔ بعد کو وہ ایک زیرک دانشور کی حیثیت سے ابھرے۔ انھوں نے پریم چند کی روایات کو آگے بڑھایا ”جھوٹا سچ“ ان کا ایک بہت مشہور ناول ہے۔
اس ناول میں وہ بتاتے ہیں ۷ ۱۹۴ سے پہلے بر صغیر ہند کے نیتاؤں نے جن نعروں پر قوم کو سر حد کے دونوں طرف اٹھایا۔ وہ سب تباہ کن نعرے تھے۔ نعروں کی اس سیاست نے پورے بر صغیر کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ نیتاؤں کے نعرے صرف جھوٹے تھے جن کو سچ کے روپ میں پیش کیا گیا۔ ”جھوٹا سچ“ اسی کی کہانی ہے، تاہم ان کے ناول کا آخری باب پر امید الفاظ پر ختم ”دیش کا مستقبل چند نیتاؤں کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ جنتا کے ہاتھ میں ہے۔ مگر ناول نگار کے یہ الفاظ بھی موجودہ مدت میں ایک فریب کے سوا اور کچھ سوال یہ ہے کہ ہندوستان کا نظام کیا وہ سو کروڑ باشندے چلائیں گے جن کو جنتا کہا جاتا ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ عملی طور پر جو ہو گا وہ یہ کہ ملک میں الیکشن کرائیں جائیں گے۔ اس الیکشن میں جو لوگ جیتیں گے وہی حکومت بنا کر ملک کا نظام چلائیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ دوبارہ یہ نیتا ہی ہوں گے جو ملک کے حال اور مستقبل کے مالک ہوں گے نہ کہ جنتا۔ ہمارے ملک کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کی عام جنتا ایک بے شعور بھیڑ ہے۔ پس ماندگی کی بنا پر وہ نعرہ اور حقیقت کے درمیان فرق نہیں جانتے۔ وہ استحصالی الفاظ اور تعمیری الفاظ کے درمیان تمیز نہیں کر سکتے۔ جنتا کی یہی بے شعوری ہے جس نے نیتاؤں کو یہ موقع دیا کہ
وہ جھوٹ کو سچ کے روپ میں پیش کریں اور جنتا اس پر یقین کرتے ہوئے اپنا ووٹ دے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جب مہاتما گاندھی سیاسی آزادی کا اندولن چلا رہے تھے تو ان سے کہا گیا کہ آپ ملک کو آزاد کر کے اسے جن لوگوں کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں وہ ان شگھت لوگ ہیں اور آشگھت لوگ کسی ملک کا نظام درست طور پر نہیں چلا سکتے۔ مہاتما گاندھی نے اس کے جواب میں کہا کہ میرے دیش کے لوگ آشگھت ہیں، مگر وہ آگیانی نہیں۔ لیکن پچھلے پچاس سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ جو لوگ آشگھت ہوں وہ ہمیشہ آگیانی ہی ہوتے ہیں۔ گیان کے لئے شگھادینا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسم کی تندرستی کے لئے غذا، یہ فطرت کا ایک اصول ہے جس میں کوئی استثنا
جنتا کی اس کمزوری نے ہمارے لیڈروں کو یہ موقع دیا کہ وہ بڑے بڑے الفاظ بول کر ان کا سیاسی استحصال کریں۔ جو لوگ سنجیدہ طور پر قوم کی تعمیر کرنا چاہتے ہوں وہ ہمیشہ لو پروفائل میں کلام کرتے ہیں۔ لیکن بے شعور جنتا لو پروفائل کی زبان نہیں سمجھتی۔ چنانچہ وہ ان لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑتی ہے جو باقی پروفائل میں بول رہے ہوں۔ سنجیدہ قائد لوگوں کے سامنے حقیقت پسندانہ پروگرام پیش کرتا ہے۔ مگر بے شعور جنتا حقیقت پسندانہ پروگرام کی اہمیت کو سمجھ نہیں چنانچہ وہ ان لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑتی ہے جو فرضی نقشے بنا کر جذباتی تقریریں کر رہے ہوں۔ یہ ساری خرابی اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ بے شعور یا کم علم لوگ معاملات کا تجزیہ نہیں اس لئے وہ استحصال لیڈروں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مئی ۱۹۹۸ میں ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں نے فوجی خزانہ پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال کر پانچ ایٹی دھماکے کئے۔ امریکہ نے اعتراض کیا تو ہمارے لیڈروں نے کہا کہ امریکہ کو ہمارے اوپر اعتراض کرنے کا حق کیونکہ ہم نے تو صرف پانچ ایٹی دھماکے کئے ہیں، جب کہ امریکہ اب تک دو ہزار سے زیادہ ایٹی دھماکہ کر چکا ہے۔ اس طرح ہمارے لیڈروں نے عوام کو جذباتی شراب پلا کر اتنا بے خود کر دیا کہ وہ معاملہ پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچ ہی نہ سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں اصل تقابل دھماکوں کی گنتی کا نہیں ہے بلکہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی فرق کا ہے۔ امریکہ نے دو سو سال تک مسلسل تعمیری عمل کر کے اپنے ملک کو اعلیٰ ترین ترقی یافتہ ملک بنادیا۔ وہاں ہر قسم کی شہری سہولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ہندوستان سے لاکھوں لوگ حتی کہ خود ہمارے لیڈروں کے بیٹے اور بیٹیاں بھاگ بھاگ کر امریکہ پہنچ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ہمارے لیڈروں پر فرض ہے کہ پہلے وہ ملک کے شہریوں کو وہ تمام سہولتیں فراہم کریں جو امریکہ کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ ایٹمی دھماکے کر سکتے موجودہ حالت میں ایٹمی دھماکہ ایک ایسا ایتی تعیش ہے جس کا تحمل ہندوستان جیسا غریب ملک نہیں کر سکتا۔
دہلی کے ایک صاحب نے اس معاملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں میرے پاس اتنی پراپرٹی ہے کہ اگر میں ان سب کو بیچ دوں تو میں ایک ہوائی جہاز خرید سکتا ہوں۔ مگر میرا ہوائی جہاز خرید نا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ اگلے دن میں اور میرے بچے بالکل بے سہارا حالت میں سڑک پر ہوں گے۔ ہندوستان کا ایٹمی دھماکہ جس اقتصادی تباہی کی قیمت پر ہوادہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنا سارا اثاثہ بیچ کر ایک ہوائی جہاز خرید لے اور فخر سے کہے کہ فلاں شخص کی طرح میں بھی ہوائی جہاز کا مالک ہو گیا، حالانکہ اس کے بعد اس کے پاس نہ رہنے کا کوئی گھر ہو اور نہ کھانے پینے کا کوئی سامان۔
آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر چودھری خلیق الزماں (۱۹۷۳–۱۸۸۸) نے ۱۹۴۳ میں فخر کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ نہرو سے زیادہ سیاست میرا کو جوان جانتا ہے۔ چودھری خلیق الزماں اور دوسرے مسلمان لیڈر اس بھر م میں تھے کہ "مسلمان" چونکہ ہزار سال سے حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس لئے حکومت وسیاست ان کا خاندانی ہنر بن چکا ہے۔ پاکستان بن جائے گا تو اپنے آپ ہی مسلمان اس کا نظام بہتر طور پر چلانے لگیں گے۔ مگر پاکستان کی پچاس سالہ تاریخ
ثابت کر رہی ہے کہ یہ مفروضہ مکمل طور پر بے بنیاد تھا۔
قومی یا ملی تعمیر ایک لمبا عمل ہے۔ وہ حال میں شروع ہو کر مستقبل میں اپنی تکمیل تک اس لئے قومی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ اس کو ایسے صاحب بصیرت لیڈر مل جائیں جو مستقبل میں ہوں اور اپنے زمانہ میں قومی عمل کو ایسا رخ دے سکیں جو مستقبل میں مطلوب نتیجہ ظاہر کرنے والا ہو۔
۱۸۷۳ سے پہلے اس بات کی ضرورت تھی کہ قوم کو تعلیم کے رخ پر چلایا جائے کیوں کہ تعلیم ہی وہ انسان بناتی ہے جو زندگی کے کاروبار کو بہتر طور پر سنبھالنے کا اہل ہو۔ حالی (وفات ۱۹۱۴) اپنے زمانے کے مسلمانوں میں ایک بدنام شخص کی حیثیت رکھتے تھے۔ مسلمان ان کو اپنے رہنما کے طور پر قبول نہ کر سکے تاہم انھوں نے اس معاملہ میں نہایت صحیح اور سچی بات کہی تھی:
بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے مگر ۱۸۷۳ سے پہلے کے دور میں تعلیم کے بجائے سیاسی آزادی کو زیادہ اہمیت دے دی اس غلط ترجیح کا بھیانک نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عظیم ملک ایک ایسی بھیڑ کے ہاتھ میں آگیا جس کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ اس کے نظام کو کس طرح چلانا ہے۔
آزادی کے بعد سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی تھی کہ ملک میں بہترین مواقع کار پیدا کئے جائیں تاکہ ہر آدمی کو اپنے ترقیاتی حوصلوں کی تکمیل کے اسباب ملتے چلے جائیں۔ مگر آزادی کے بعد جس قیادت کے ہاتھ میں ملک کا سیاسی اختیار ملا وہ ایک بے شعور اس نے انتہائی نادانی کے ساتھ یہ کیا کہ زندگی کے تمام شعبوں کو حکومت کے کنٹرول میں لینے کو سب سے اہم کام سمجھ لیا۔ اس نے دیو پیکر پبلک سکٹر (صحیح تر لفظ میں سرکاری سکٹر) قائم کئے ۔ ہر سرگرمی کے لئے سرکاری پرمٹ اور سرکاری لائسنس کو ضروری بنا دیا۔ فلاح کے نام پر ایسے غیر فطری قوانین بنائے کہ جے آرڈی ٹاٹا کے الفاظ میں ایک کمپنی کا مالک اپنی
بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ مگر وہ اپنے ایک کارکن کو برخواست نہیں کر سکتا۔ ٹاٹا کا اشارہ اس صورت حال کی طرف تھا کہ لیبر کے حقوق کے تحفظ کے نام پر ایسے قوانین اور ضابطے بنائے گئے جو مکمل طور پر لیبر کے حق میں تھے۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنے سوشلسٹ ذہن کی بنا پر یہ فرض کر لیا کہ کمپنی کا مالک لازماً ظالم ہو گا اور کمپنی کا ملازم لازماً مظلوم۔ چنانچہ انھوں نے آزادی کے بعد ایسے قوانین اور ضابطے بنائے جو ایک طرفہ طور پر ملازمین کے موافققت میں تھے یہ قوانین ملازمین کے حق میں اندھا ہتھیار بن گئے ہیں جن کے ذریعہ وہ اقتصادی ادارہ کو اکسپلوائٹ کریں اور اقتصادی ادارے بے بسی کے ساتھ اس کا تماشہ دیکھتے مزید یہ کہ تحفظ حقوق کے اس سوشلسٹ نظریہ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتصادی عمل سے مسابقت کا عنصر ختم ہو گیا۔ ان غیر فطری قوانین نے کروڑوں لوگوں کو اس بات سے بے خوف بنا دیا کہ ان کے جاب کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ انھیں یقین ہو گیا کہ وہ ڈیوٹی ادا کئے بغیر بھی اپنے حقوق کو پا سکتے ہیں۔ اس طرح ان نام نہاد قوانین نے ملک کے کروڑوں لوگوں کو کاہل بنا دیا اور ڈیوٹی کی اہمیت کا احساس ان کے اندر سے ختم کر دیا۔
ملک کی تقسیم کی تحریک ایک غیر فطری تحریک تھی۔ مزید یہ کہ وہ انتہائی غیر فطری انداز میں چلائی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا نقصان واقعی نقصان سے کئی گنا زیادہ ہو گیا۔ تقسیم بذات خود کوئی گناہ کی بات نہیں۔ مگر کوئی کام حتی کہ کھانا اور پینا بھی اگر غلط طریقہ سے کیا جائے تو وہ آدمی کے لئے نقصان کا سبب بن جائے گا۔ یہی معاملہ تقسیم کے ساتھ
پہلی بات یہ کہ تقسیم کی تحریک کسی ایجابی سوچ کے تحت نہیں اٹھی وہ تمام تردد عمل کے تحت اٹھی۔ کچھ ہندوؤں کے فرقہ وارانہ تحریک نے مسلمانوں میں جوابی فرقہ واریت پیدا کی اور اس نے آخر کار تقسیم کی تحریک کا رخ اختیار کر لیا۔ اس تحریک کے سب سے بڑے قائد
زبردست نیشنلٹ اور لمبی مدت تک کانگریسی تھے۔ بعض واقعات کی بنا پر وہ کانگریسی قائدین سے غصہ ہو گئے اور آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو کر تقسیم کی تحریک کے علمدار بن گئے۔ رد عمل کی نفسیات کے تحت جو تحریک شروع کی جائے وہ منفی نتائج تو ضرور پیدا کر سکتی ہے مگر وہ مثبت نتائج کا سبب نہیں بن سکتی۔ یہی پاکستان کے ساتھ پیش آیا۔ تقسیم کے بعد پاکستان عملاً جہاں بننے والا تھا وہ مسلم اکثریت کا علاقہ تھا۔ مگر یہ تحریک زیادہ تر ان علاقوں میں چلائی گئی جہاں مسلمان اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اکثریتی علاقہ کے مسلمان اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ مل جل کر رہ رہے تھے۔ ان کے یہاں "ہندو مسئلہ " نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس لئے ان کے درمیان تقسیم کی تحریک پنپ نہ البتہ مسلم اقلیت والے علاقے کے مسلمان ہندو کی طرف سے عدم تحفظ کے احساس میں اس لئے یہاں اس تحریک کو مفید میدان مل گیا۔ مگر تحریک کا یہ انداز خطر ناک حد تک غیر فطری تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان عملاً مسلم اکثریت کے علاقہ میں بنا مگر اس کی قیمت تمام تر اس علاقہ کے مسلمانوں کو دینی پڑی جہاں وہ اقلیتی حیثیت رکھتے تھے کیوں کہ اسی علاقہ میں پاکستانی تحریک کی دھوم مچائی گئی تھی۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کی تحریک کی قیادت مسٹر طبقہ نے کی۔ طبقہ تقریباً 99 فیصد اس سے الگ رہا۔ بالفاظ دیگر پاکستان کی تحریک ایک قومی اور مادی تحریک وہ کسی بھی درجہ میں کوئی مذہبی یا اسلامی تحریک نہ تھی۔ مگر عوام کا استحصال کرنے کے لئے مسلسل طور پر اس کے حق میں اسلام کا نام استعمال کیا گیا۔ اس کی حمایت میں یہ لفظی نعرہ وضع کیا گیا کہ: پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الااللہ۔
ایک قومی تحریک کو اسلامی تحریک بنانا سرا سر دو عملی کا ایک فعل تھا۔ یہ وہی چیز تھی جس کو شریعت کی زبان میں منافقت کہا جاتا ہے۔ یہ منافقانہ سیاست کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال اسلام کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ منافقانہ روش پاکستان
کی تمام پالیسیوں کا اہم ترین عنصر بن گیا۔ ہر غیر دینی کام کو دینی اصطلاح میں بیان کرنا پاکستان کے دانشوروں کا کمال قرار پایا۔ اسلام کی پوری تاریخ میں میرے علم کے مطابق، کوئی بھی مسلم گروہ ایسا نہیں جس نے منافقت ہی کو اپنی تمام پالیسیوں کی بنیاد بنایا ہو۔ تقسیم کے نتیجہ میں بننے والا مسلم ملک ہی اس کی واحد تاریخی مثال ہے جس کو بر عکس طور پر پاکستان کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان جب بنا تو لیڈروں کی نا عاقبت اندیشانہ سیاست کے نتیجہ میں سرحد کے دونوں طرف بھیانک فسادات پھوٹ پڑے۔ لوٹ مار اور قتل و غار تگری کا زبردست سلسلہ شروع اس کے نتیجہ میں نفرت کی ایک خونیں فصل اگ آئی۔
تقسیم کے بعد سرحد کے دونوں طرف عرصہ دراز تک لوگ زبان اور قلم کے ذریعہ اس کی خونیں داستانیں دہراتے رہے۔ اس داستان سراعی کا بد ترین پہلو یہ تھا کہ پاکستان میں لکھی جانے والی کتابوں میں صرف ان واقعات کا تذکرہ تھا جو بوقت تقسیم ہندوؤں نے مسلمانوں پر کئے۔ اور انڈیا میں لکھی جانے والی کتابوں میں صرف ان واقعات کا تذکرہ تھا جس میں ہندو مسلمانوں کے ظلم کا شکار ہوئے۔ مکمل رپورٹنگ کی جاتی تو دونوں کے درمیان توازن رہتا مگر مذ کورہ قسم کی یکطرفہ رپورٹنگ نے سرحد کے دونوں طرف نفرت اور عداوت کی آگ بھڑکا دی جو کسی طرح ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔
پاکستان کی بنیاد اگر اسلام پر ہوتی تو وہاں اپنے پڑوسیوں کے لئے محبت اور خیر خواہی کا جذبہ ابھرتا کیونکہ اسلام دوسری قوموں کو اپنا مد غو سمجھتا ہے۔ اور مد عو کے حق میں ہمیشہ محبت کی نفسیات پیدا ہوتی ہے نہ کہ عداوت کی۔ مگر پاکستان کی بنیاد با اعتبار حقیقت اسلام تھی ہی پاکستان ہندوؤں سے قومی نفرت کی بنیاد پر بنا اسی کا یہ لازمی نتیجہ تھا کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں رات دن ہندو اور بھارت کے خلاف نفرت کا پروپیگنڈہ ہونے لگا۔ بھارت کا لفظ پاکستانی زبان میں، ایک نفرت انگیز چیز کی ہم معنی بن گیا۔ پاکستانی علماء اور دانشوروں کا ذہن یہ بن گیا کہ پاکستان - کی بقا اور اس کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ہر پاکستانی کو بھارت سے متنفر کر دیا جائے۔
پچھلے پچاس سال میں پاکستان کی ہر تقریر و تحریر بھارتی نفرت سے بھری ہوئی نظر آتی یہ بلاشبہ ایک عظیم نقصان ہے۔ کیونکہ کوئی قوم نفرت کی بنیاد پر نہ کھڑی ہو سکتی ہے اور نہ ترقی کر سکتی ہے۔
تقسیم کا مطلب علیحدگی ہے۔ دو بھائیوں میں جائداد کی تقسیم ہو تو دونوں کی فلاح اس میں ہے کہ اول دن ہی ہر چیز کا کامل بٹوارہ ہو جائے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ خاندانی بٹوارہ کے بعد اگر ایک درخت بھی متنازع رہ جائے تو اس پر بھی لڑائی شروع ہو جاتی ہے جو دونوں کو تباہ کر کے رکھ
پاکستان کے قائدین کے لئے فرض کے درجہ میں ضروری تھا کہ وہ اس حقیقت کو جانیں اور ۱۵ اگست ۱۹۴۷ ہی کو اس طرح مکمل طور پر الگ ہو جائیں کہ اس کے بعد کوئی بھی چیز غیر منقسم حالت میں باقی نہ رہے۔ مگر اس سنگین حقیقت کو نہ پاکستانی قائدین نے سمجھا اور نہ ہندوستانی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقسیم کے باوجود کشمیر کی ریاست نزاعی حالت میں پڑی رہی۔ یہ بلاشبہ دونوں طرف کے قائدین کے لئے ایک ہمالیائی غلطی تھی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ہی کے وسائل کا پچاس فیصد سے زیادہ حصہ کشمیر کے نزاع پر قربان ہو رہا ہے۔ پچاس سال گزرنے کے باوجود یہ مسلسل تباہی ختم ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ دونوں ملکوں کے قائدین کا یہ اہم ترین فرض تھا کہ تقسیم کے وقت ہی وہ کسی بھی صورت میں اس مسئلہ کا مکمل خاتمہ کر دیتے۔ مگر دونوں میں سے کسی بھی ملک کی قیادت نے اس معاملہ میں تدبر کا ثبوت نہیں دیا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بعد از خرابی بسیار ۱۹۷۲ء میں وہ معاہدہ کیا جس کو عام طور پر شملہ ایگریمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت پاکستانی وزیر اعظم نے بلا اعلان یہ مان لیا تھا کہ قبضہ کی لائن (LoC) دونوں ملکوں کے درمیان تسلیم شدہ سرحد ہوگی۔
پاکستان کے لوگوں نے اگر ۱۹۷۲ کے اس معاہدے کو دل سے مان لیا ہو تا تو پچھلے پچیس
سال میں پاکستان نے اتنی ترقی کی ہوتی کہ اس کے عوام کشمیر کو بھول جاتے۔ مگر پاکستانی حکمرانوں نے کاغذ پر تو دستخط کر دیئے مگر وہ اس کو اپنی عملی پالیسی نہ بنا سکے۔ ۱۹۴۷ کے بعد پاکستان میں ایک نئی تاریخ بننے والی تھی مگر وہ بنتے بنتے رہ گئی۔
۱۹۴۷ سے پہلے کے دور میں ایک انقلابی شاعر نے ایک نظم لکھی جس کا ایک شعر یہ تھا: برج محسن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے اس تصور کو لیکر طفیل احمد منگلوری نے ایک کتاب لکھی۔ جس کا نام انھوں نے روشن مستقبل رکھا یہ کتاب اس زمانہ میں بہت مقبول ہوئی۔ اس واقعہ کے تقریباً ۶۰ سال بعد یکم جون ۱۹۹۸ کو میں آل انڈیا نشریات سن رہا تھا۔ اس تاریخ کو بھاجپا گورنمنٹ کے وزیر مالیات مسٹر یشونت سنہا نے ۱۹۹۹-۱۹۹۸ کا بجٹ پیش کیا۔ اپنی بجٹ اسپیچ انھوں نے اس جملے سے شروع کی کہ آج ایک نیا انڈیا ابھر رہا ہے: