Al-Risala · February 1999

دین کے نام پر بے دینی

Al-Risala, February 1999, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

مدنی دور میں ایک بار ایک خلاف عادت واقعہ پیش آیا۔ اس کا تعلق حضرت عائشہ صدیقہؓ سے تھا۔ اس واقعہ کو خود ساختہ مفہوم دے کر کچھ لوگوں نے ایک بیہودہ افسانہ بنایا۔ افسانہ فوراً ہی سارے مدینہ میں پھیل گیا۔ اپنے خیال میں وہ اشاعت حق کر رہے تھے مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف اشاعت باطل تھی۔ چنانچہ وہ کیفیت ہو گئی جس کو قرآن (النور ۱۵) میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: جب کہ تم اس جھوٹ کو اپنی زبانوں سے نقل در نقل کر رہے تھے (ترجمہ مولاناشرف علی تھانوی) یہ فتنہ صرف اس وقت ختم ہوا جب کہ سورہ النور اتری اور براہ راست آسمانی وحی کے ذریعہ اس کی تردید کر دی گئی۔

اس سلسلہ میں سورہ النور میں مسلمانوں کو کچھ ہدایات دی گئیں تاکہ وہ آئندہ اس قسم کی مجرمانہ غلطی کا اعادہ نہ کریں۔ ان میں سے ایک خاص ہدایت یہ تھی۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بات سنی تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کی بابت خیر کا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا بہتان ہے (النور ۱۲) اس کی تفسیر میں ابن کثیر نے لکھا ہے۔ بات کو وہ خود اپنے اوپر قیاس کرتے۔ پس اگر وہ خود ان کے لئے مناسب نہ تھا تو ام المومنین زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس سے بری ہوں (تفسیر ابن کثیر ۳ ۲۷۳)

جب کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں کوئی بدگمانی پیدا ہو تو پہلے ہی مرحلہ میں یہ سوچ کر اس کو رد کر دینا چاہیے کہ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں اور جب اس کا ضمیر یہ کہے کہ میں تو ایسا نہیں کروں گا تو اسی پر قیاس کر کے سمجھ لینا چاہیے کہ دوسرے مسلمان نے بھی یقیناً ایسا نہیں کیا ہو گا۔ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کون واقعی صاحب ایمان ہے اور کون ایمان کا صرف کسی کے دین پر قائم ہونے کا ثبوت یہ نہیں ہے کہ وہ انقلاب خیر کا نعرہ لگاتا ہو۔ کا اصل ثبوت یہ ہے کہ وہ خود عملاً ظن خیر کے مذکورہ قرآنی اصول پر قائم ہو۔ انقلاب خیر کا نعرہ لگانا

صرف دین کے نام پر لیڈری ہے اور ظن خیر کے اصول پر خود قائم ہونا حقیقی معنوں میں دین خداوندی کی پیروی حضرت عائشہ صدیقہ کا یہ قصہ تذکیر القرآن یا تفسیر کی دوسری کتابوں میں سورہ النور کی تفسیر کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں اس کی تفصیلات نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ حضرت عائشہ معروف طور پر مدینہ کی ایک باعزت خاتون ان کی پوری زندگی اسلام کی خدمت میں گزری تھی۔ مدینہ کے کچھ لوگوں نے آپ کے ایک واقعہ کو لے کر اس کو شوشہ بنایا اور اسے آپ کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا۔ مگر انھیں لوگوں نے کبھی یہ نہیں کیا تھا کہ وہ حضرت عائشہ کی اعلیٰ دینی خدمات کا چرچا کریں۔ ان کی مجلسیں حضرت عائشہ کے تذکرہ سے اس طرح خالی تھیں جیسے کہ مدینہ میں نہ کوئی عائشہ ہیں اور نہ ان کی کوئی دینی خدمات۔ مگر جیسے ہی انھیں حضرت عائشہ کے بارہ میں ایک ایسی بات ملی جس کو خود ساختہ مفہوم دے کر وہ اس کو آپ کے خلاف استعمال کر سکیں تو بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ان کا پورا گروہ متحرک ہو گیا۔ اس نے اپنے تمام ذرائع کو استعمال کر کے اس جھوٹے قصہ کو پھیلایا۔ ایک ایک شخص کے کان میں اس کو ڈال کر اسے حضرت عائشہ سے بدگمان کرنے کی کوشش کی۔ حتیٰ کہ پورے مدینہ کو ان کے خلاف بدگمانیوں اور افواہوں سے بھر دیا۔ اپنے خیال کے مطابق، یہ لوگ ایک ’’واقعہ‘‘ کی اشاعت کر رہے تھے مگر اللہ کے نزدیک وہ بدترین قسم کے مجرم تھے۔ ایسا کر کے وہ خدا کے دین کی کوئی خدمت نہیں کر رہے تھے بلکہ صرف شیطان کے مقصد کو پورا کر رہے تھے۔ ایک شخص جو اللہ کی پکڑ سے ڈرتا ہو، اس پر فرض کے درجہ میں لازم ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرے نہ کہ شوشوں کی بنیاد پر۔ اگر کبھی کوئی غلط فہمی ہو جائے تو متعلقہ شخص سے مل کر اپنی غلط فہمی کورفع کیا جائے نہ کہ اس کو حقیقت سمجھ کر اس کا عمومی چرچا کیا جانے لگے۔ اسی قسم کے کردار کا نام منافقانہ کردار ہے اور قرآن کے مطابق، منافقانہ کردار والے لوگوں کے لئے کافروں سے بھی زیادہ سخت سزا مقرر ہے، الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور کھلے طور پر اپنی مجرمانہ روش کا اقرار کر کے متعلقہ اشخاص سے معافی مانگیں ۔

Printed page