A new India is rising.
Al-Risala, November 1999, pp. 34–37
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے کسی قدر جوش کے ساتھ کہا کہ ۱۱ مئی کو پوکھرن سے جو سفر شروع ہوادو پیچھے جانے والا نہیں، میں نے سوچا کہ اپنی نوجوانی کی عمر سے اب تک میں بار بار مختلف لفظوں میں یہ مگر آج تک یہ الفاظ واقعہ نہیں بنے۔ نہ سورج نے نکل کر ہماری تاریکیوں کو روشن کیا اور نہ نئے انڈیا کا محل تعمیر ہوسکا۔ بظاہر مستقبل قریب تک اس کی کوئی امید نہیں۔ اس ناکامی کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما ایک چیز سے ایسی امید باندھتے رہے ہیں جس سے اس کا حصول ممکن ہی نہیں تھا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے لوگوں نے جس چیز کو روشن مستقبل سمجھا تھا اس کا تعلق صرف سیاسی تبدیلی سے تھا۔ لوگ سمجھتے تھے کے انگریزی راج کا ختم ہونا ملک کے افق پر نئی صبح کا طلوع ہونا ہے۔ حالانکہ محض پولیٹیکل ٹیم کی تبدیلی کسی قوم کے لئے روشن مستقبل کی ضمانت نہیں اسی طرح اب ۱۹۹۸ میں ایٹمی دھماکہ کے بعد نئے انڈیا کی
باتیں کی جارہی ہیں۔ مگر یہ بھی محض ایک فرضی امید ہے۔ ایٹمی دھماکہ کا تعلق ایک ایسی سرگرمی سے ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے تمام تر سلبی ہے اور ایک سلبی سرگرمی سے خواہ بظاہر وہ کتنا ہی بڑی ہو، کوئی ایجابی نتیجہ بر آمد ہونے والا نہیں۔ اس قسم کی ایٹمی سرگرمی صرف وسائل کو کھانے والی ہے نہ کہ وسائل کو مفید چیزوں میں تبدیل کرنے والی۔
روشن مستقبل یا نئے انڈیا کا ظہور جس چیز پر منحصر ہے وہ وسیع تر سماجی تبدیلی ہے نہ کہ محض سیاسی تبدیلی۔ پہلے ہوئے ملک کے قدرتی ذرائع مثبت مقاصد کے لئے استعمال ہوں۔ پلاننگ کی جائے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو صاف پانی اور تازہ ہوا مل سکے۔ ملک کو ایسا ایڈمنسٹریشن دیا جائے جس کے تحت دفتروں میں رشوت کے بغیر کام ہو۔ عدالتوں میں ایک عام آدمی کو انصاف ملے، سڑک، بجلی، ٹیلی فون اور دوسری ضروری چیزیں معیاری صورت میں ریل اور ٹرانسپورٹ کے شعبے اس طرح منظم ہوں کے لوگوں کے لئے محفوظ اور بروقت سفر کرنا ممکن ہو جائے۔ اسپتالوں میں ہر آدمی بہ آسانی اپنا علاج پا سکے۔ مگر ان چیزوں کا تعلق نہ ایٹمی دھماکہ سے ہے اور نہ سیاسی گدی پر ایک کو ہٹا کر دوسرے کو بٹھانے سے۔ میرے جیسے ایک آدمی کو مذکورہ قسم کے الفاظ سے کوئی خوشی نہیں ہوتی۔ آنکھیں ملک میں تعمیر و ترقی کا ایک حقیقی عمل دیکھنا چاہتی ہیں۔ مگر بد قسمتی سے ابھی تک اس کا آغاز بھی نہیں ہوا۔
ہندوستان نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی قیادت کے تحت پانچ ایٹمی دھماکے کئے ۔ ۱۱ مئی اور ۱۳ مئی ۱۹۹۸ء کو پوکھرن (راجستھان) میں کئے گئے ۔ اس کے بعد پاکستان میں اس کا رد عمل ہوا پاکستانی عوام کی طرف سے شدید مطالبہ ہونے لگا کہ پاکستان کو بھی اس کے جواب میں ایٹمی دھماکہ کرنے چاہیے۔ یہ معاملہ پر شور طور پر عالمی میڈیا میں گونجتا رہا۔ اصرار کے ساتھ کہا کہ پاکستان خاموشی اختیار کرلے اور ہندوستان کے جواب میں ایٹمی دھماکہ نہ
امریکی حکومت نے کہا کہ دھماکہ کرنے کی صورت میں پاکستان کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی اور دھماکہ نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف اس کی اقتصادی مدد جاری رہے گی بلکہ اس کو ’’ایٹی چھتری‘‘ بھی دی جائے گی۔ تاکہ اس کے لئے ہندوستانی حملہ کا خطرہ باقی آسٹریلیا نے یہ تجویز پیش کی کہ پاکستان اگر ایٹمی دھماکہ نہ کرے تو ترقی یافتہ ممالک اس کی امداد کی رقم کو دو گنا کر دیں۔
مگر پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ کے جذباتی عوام کا یہ مطالبہ اتنا شدید تھا کہ اس کو نہ ماننے کی صورت میں یقینی طور پر اتنا ہنگامہ کھڑا ہوتا کہ نواز شریف کی حکومت ختم ہو جاتی۔ کئی دن کے متضاد خبروں کے بعد آخر کار ۲۸ مئی ۱۹۹۸ء کی شام کو پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ آج شام چار بجے ہم نے بلوچستان کے صحرا میں پانچ ایٹمی دھماکہ کئے ہیں۔ اگلے دن پاکستان نے ایک اور ایٹمی دھماکہ اس دھماکہ کے فوراً بعد امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں نے اعلان کر دیا کہ وہ پاکستان کی اقتصادی امداد کو فوری طور پر بند کر رہے ہیں۔
پاکستان کے اس دھماکہ کے بعد امریکی صدر بل کلنٹن نے شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک نہایت قیمتی موقع (Priceless opportunituy) کھو دیا۔ ہوں کہ یہ تبصرہ بالکل درست تھا بد قسمتی سے پاکستان میں جتنے بھی لیڈر پیدا ہوئے، ابتدائی قائد سے لے کر آخری قائد تک، ہر ایک پاکستانی مسلمانوں کو جذباتی شراب پلا تا رہا۔ پاکستان کے تمام علماء اور دانشور وہاں کے لوگوں کو فخر کی خوراک دیتے رہے۔ اسی بگڑے ہوئے مزاج کا یہ نتیجہ تھا کہ پاکستان کے یہ عوام و خواص اپنی تاریخ کے اس انتہائی فیصلہ کن موقع پر جذبات کی رو میں بہہ وہ معاملات میں حقیقت پسندانہ رائے قائم کرنے سے قاصر رہے۔
پاکستان کے لوگ اگر سوچ بوجھ سے کام لیتے تو یقیناً وہ جان لیتے کہ ہندوستان کے ایٹمی - دھماکہ کا جواب دوبارہ ایٹمی دھماکہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا زیادہ موثر جواب یہ ہے کہ عالمی رائے کا
احترام کیا جائے۔ اگر پاکستان کو ہندوستان کی طرف سے ایٹمی حملہ کا خطرہ تھا تو اس کا زیادہ کار گر حل یہ تھا کہ امریکہ کے پیشکش کے مطابق اس کی طرف سے فراہم کردہ ایٹمی چھتری کو قبول کر لیا جائے، جیسا کہ جاپان نے قبول کر رکھا ہے، اس کے مقامی وسائل اور عالمی ادارہ کے ذریعہ ملک کی اقتصادی اور تعلیمی ترقی کا کام پوری توجہ کے ساتھ شروع کر دیا جائے۔ پاکستان اگر اس حقیقت پسندانہ منصوبہ پر عمل کرتا تو دس سال میں وہ اتنی زیادہ ترقی کر لیتا۔ کہ ایٹمی دھماکہ کے بغیر ہی وہ ایک ناقابل تسخیر طاقتور ملک بن جاتا۔
حقیقی لیڈر شپ وہ ہے جو اپنی قوم کو حقیقت پسند بنائے۔ اس کے بر عکس جو قیادت اپنی قوم کو جذباتیت کی خوراک دے وہ سرے سے قیادت ہی نہیں۔
صاحب بصیرت لوگ جانتے ہیں کہ کسی ملک کے لئے دفاع کا مسئلہ ہو تب بھی اس کا حل عوام کو ایجوکیٹ کرنا ہے نہ کہ مہلک ہتھیاروں کا ذخیرہ اکٹھا کرنا۔ ۹ جولائی ۱۹۹۸ء کو نئی دہلی کے مالینکر ہال میں ایک جلسہ تھا۔ موجودہ ہندوستانی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی بطور چیف گیسٹ وہاں موجودہ تھے۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ہندوستان کے ایٹمی دھماکہ کو ڈیفنس کی ایک اعلیٰ تدبیر کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ پوکھرن کے ایٹمی دھما کہ نے ساری دنیا کو ہلا دیا ہے۔
پروفیسر یشپال نے بھی اس موقع پر تقریر کی انھوں نے وزیر اعظم کا حوالے دیئے بغیر کہا کہ دفاع سمیت ہر مسئلہ کا ایک ہی حل ہے، اور وہ ہے قوم کو اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانا۔ انھوں نے اس کی تفصیل کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم سب سے زیادہ اعلیٰ دفاع ہے: